اردو   हिंदी   বাংলা   ಕನ್ನಡ   മലയാളം   ଓଡ଼ିଆ   தமிழ்   తెలుగు  




.

2025-09-04

تذکارِمہدی سیّدنا حضرت مسیح موعود و مہدی معہود وعلیہ السلام کی سیرت طیبہ سے متعلق حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ کی روایات مرتبہ مکرم حبیب الرحمٰن زیروی صاحب

شملہ کا سفر
میں چھوٹا تھا کہ بخار سے بیمار ہوا اور ڈاکٹر نے کہا شملہ بھیج دیا جائے۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے مجھے شملہ بھیج دیا۔ میں وہاں پہنچا تو مولوی صاحب وہاں تھے۔ میرا ذکر سن کر ملنے آئے اوربتایا کہ ایک غیر احمدی کلرک مجھ سے عربی پڑھا کرتا تھا۔ اس کا دفتر گرمیوں میں شملہ آیا تو میں نے اس سے پوچھا کہ اب تو سبق رہ جائے گا۔ اس نے کہا ہاں مگر کیا ہوسکتا ہے۔ مولوی صاحب کہنے لگے اگر میں شملہ آجاؤں تو پڑھا کروگے؟ اس نے کہا ہاں ضرور پڑھوں گا۔ چنانچہ آپ اپنے خرچ پر شملہ آگئے محض اس خیال سے کہ انگریزی خوانوں میں عربی کا شوق پیدا ہو۔ اس وقت ان کی عمر ستر برس کے قریب تھی مگر ادب اور عشق کا یہ حال تھا کہ میں جہاں جاتا برابر ساتھ جاتے۔ سیر کے وقت بھی ساتھ رہتے۔ میری عمر اس وقت سترہ سال کے قریب تھی اور دوسرے دوست بھی جو سیر وغیرہ میں شریک ہوتے عام طور پر نوجوان تھے۔ سیر کے وقت دل چاہتا کہ آگے جائیں، مگر اس خیال سے کہ مولوی صاحب بوڑھے ہیں واپس آجاتے۔ میں نے دوستوں سے کہا کہ سیر کو چپکے سے چلا کریں جب مولوی صاحب باہر ہوں۔ چنانچہ اگلے روز جب مولوی صاحب باہر تھے، ہم چپکے سے دوسرے دروازے سے نکل گئے، مگر تھوڑی دور ہی گئے تھے کہ دیکھا سامنے پہاڑ پر سے مولوی صاحب ڈنڈا ہاتھ میں پکڑے اور بڑے بڑے ڈگ بھرتے ہوئے آرہے ہیں۔ آتے ہی کہنے لگے واہ جی آپ لوگ مجھے چھوڑ آئے۔ ہم نے کہا ہم تو آپ کی تکلیف کے خیال سے چھوڑ آئے تھے۔ کہنے لگے بھلا یہ کیوکنکر ہوسکتا ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے صاحبزادے آئیں اور میں ہم رکاب نہ رہوں۔
(خطبات محمود جلد 15 صفحہ 177-178)
دیوار بنا کر مسجد مبارک کا
راستہ روکے جانا
مجھے یاد ہے لالہ شرمپت رائے ایک آریہ تھے جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے پرانے دوستوں میں سے تھے انہیں ایک زخم آگیا۔ قادیان میں ایک نومسلم ڈاکٹر محمد عبداللہ صاحب تھے جو علاج معالجہ کرتے تھے۔ لالہ شرمپت بھی انہی سے علاج کرواتے رہے، جس کی وجہ سے انہیں افاقہ بھی ہوا۔ مگر بعد میں انہوں نے علاج کرانا ترک کردیا۔ اس
پر ڈاکٹر صاحب کو خداتعالیٰ نے خواب دکھائی کہ لالہ شرمپت کے پاس فیس کے لئے روپیہ نہیں۔ اس لئے وہ آتے ہوئے شرماتا ہے۔ چنانچہ ڈاکٹر صاحب نے لالہ شرمپت کو بلایا اور کہا، آپ مجھ سے باقاعدہ علاج کرائیں میں آپ سے کوئی فیس نہیں لوں گا۔ چنانچہ انہوں نے پھر علاج کرانا شروع کردیا اور اس کے نتیجہ میں وہ زخم بالکل درست ہوگیا تو دیکھو یہ خواب خداتعالیٰ نے ہی دکھائی تھی۔
لالہ شرمپت آریہ تھا لیکن رب العالمین خداکے نزدیک ایک آریہ بھی ویسا ہی اس کا بندہ ہے جیسے ایک مسلمان۔ اس نے خواب میں ڈاکٹر عبداللہ صاحب کو بتادیا کہ لالہ شرمپت سے فیس نہ لینا۔ پھر جب حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام اور آپؑکے ساتھیوں کو تنگ کرنے کے لئے مرزا نظام الدین اور مرزا امام الدین نے مسجد مبارک کے دروازے کے سامنے دیوار کھنچوائی تو عدالت میں کئی سال تک مقدمہ چلتا رہا آخر اس مقدمہ کا فیصلہ ہوا اور مقدمہ کے اخراجات جو چار پانچ سو روپیہ کے قریب تھے مرزا نظام الدین اور مرزا امام الدین وغیرہ پر ڈالے گئے۔ جب ان کے خلاف جج نے ڈگری دی تو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام گورداسپور میں تھے ۔ آپؑ کو رؤیا میں دکھایا گیا کہ مرزا نظام الدین اور مرزا امام الدین مالی لحاظ سے بہت تنگ حالت میں ہیں۔ آپؑنے فوراً ایک آدمی گورداسپور سے قادیان بھجوایا اور ان سے کہا کہ میں تم سے روپیہ نہیں لوں گا۔ اب دیکھو یہ سب کچھ رب العالمین خدا نے ہی کیا تھا۔ ان لوگوں نے ساری عمر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام پر ظلم کیئے اور ان میں سے ایک تو اتنا کٹر دہریہ تھا کہ حضرت خلیفہ اوّلؓسنایا کرتے تھے کہ ایک دفعہ مرزا امام الدین کے پیٹ میں درد ہوئی تو انہوں نے مجھے بلوایا۔ میں جب گیاتو وہ کمرے میں لوٹ پوٹ رہے تھے او رکہہ رہے تھے۔ ہائے اماں! ہائے اماں! میں نے کہا۔ مرزا صاحب آپ بوڑھے ہوگئے ہیں لیکن ابھی تک آپ اماں اماں ہی کہتے ہیں۔ خدا کو نہیں پکارتے۔ کہنے لگا ماں کو تو میں نے دیکھا ہے اور اس کی مہربانیوں کو بھی دیکھا ہے۔ لیکن خدا تعالیٰ کو میں نے نہیں دیکھا۔ پھر اس نے کہا۔ مولوی صاحب میں بچپن سے ہی بڑا سلیم الفطرت تھا۔ جب مسلمان لوگ مسجد میں جاتے اور چوتڑ اوپر کرکے اور سر نیچے کرکے سجدہ کرتے تو میں ان پر ہنسا کرتا تھا کہ یہ کیسے بیوقوف لوگ ہیں کہ اتنی عمر کے ہوکر بھی ایسے خدا کے
سامنے سجدہ کررہے ہیں جو انہیں نظر نہیں آرہا۔ غرض ان لوگوں کی یہ حالت تھی۔ مگر رب العالمین خدا نے ان کا بھی خیال رکھا اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کو دکھایا کہ ان کی حالت خراب ہے انہیں معاف کردو۔ تو ہمارا خدا رب العالمین خداہے۔ وہ ہر ایک کے لئے اپنی ربوبیت کا نمونہ دکھاتا ہے۔ پرانے زمانہ میں بھی وہ ربّ العالمین تھا اور اس زمانہ میں بھی وہ ربّ العالمین ہے اور آئندہ زمانہ میں بھی وہ ربّ العالمین رہےگا۔
(الفضل جلد 48/13 نمبر 10
مورخہ 11؍ جنوری 1959ء صفحہ 3-4)
مقدمہ دیوار
اور صبر کی تلقین
مجھے حیرت ہوتی ہے ہماری جماعت کے مومن اور مخلص افراد بھی بعض دفعہ دشمنوں کی شرارتوں کی وجہ سے گھبرا جاتے ہیں حالانکہ دشمنوں کی حیثیت ہی کیا ہے۔ میں بچہ تھا لیکن مجھے خوب یاد ہے یہاں ہمارے ہی بعض عزیز راستہ میں کیلے گاڑ دیا کرتے تھے تا کہ جب مہمان نماز پڑھنے آئیں تو رات کی تاریکی میں ان کیلوں کی وجہ سے ٹھوکر کھائیں۔ چنانچہ ایسا ہی ہوتا اور اگر کیلے اکھاڑے جاتے تو وہ لڑنے لگ جاتے۔ اسی طرح مجھے خوب یاد ہے مسجد مبارک کے سامنے دیوار مخالفوں نے کھینچ دی تھی۔ بعض احمدیوں کو جوش بھی آیا اور انہوں نے دیوار کو گرا دینا چاہا مگر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے فرمایا ہمار کام صبر کرنا اور قانون کی پابندی اختیار کرنا ہے۔ پھر مجھے یاد ہے میں بچہ تھا اور اللہ تعالیٰ کے فضل سے بچپن سے ہی مجھے رؤیائے صادقہ ہوا کرتے تھے۔ میں نے خواب میں دیکھا کہ دیوار گرائی جارہی ہے اور لوگ ایک ایک اینٹ کو اٹھا کر پھینک رہے ہیں اوریوں معلوم ہوتا ہے کہ اس سے پہلے کچھ بارش بھی ہوچکی ہے۔ اسی حالت میں میں نے دیکھا کہ مسجد کی طرف حضرت خلیفہ اوّلؓتشریف لارہے ہیں۔ جب مقدمہ کا فیصلہ ہوا اور دیوار گرائی گئی تو بعینہٖ ایسا ہی ہوا۔ اس روز کچھ بارش بھی ہوئی اوردرس کے بعد حضرت خلیفہ اوّلؓجب واپس آئے تو آگے دیوار توڑی جارہی تھی۔
میں بھی کھڑا تھا۔ چونکہ اس خواب کا میں آپ سے پہلے ذکر کرچکا تھا، اس لئے مجھے دیکھتے ہی آپؓنے فرمایا میاں دیکھو آج تمہارا خواب پورا ہوگیا۔
(خطبات محمود جلد 15 صفحہ 206-207)
دیوار گرائے جانے کی خبر
مَیں ابھی بچہ ہی تھا کہ ہمارے شرکاء نے جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے شدید مخالف تھے، مسجد کے سامنے ایک دیوار کھڑی کرکے اُس کا دروازہ بند کردیا۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کئی دفعہ گھر میں پردہ کراکے لوگوں کو مسجد میں لاتے اور کئی لوگ اُوپر سے چکر کاٹ کر اور سخت تکلیف اُٹھا کر آتے۔ اُس زمانہ میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے سب لوگوں کو دعا کرنے کے لئے کہا اور مجھے بھی دعا کا ارشاد فرمایا۔ میری عمر اُس وقت پندرہ سال کی تھی۔ میں نے دعا کی تو مجھے ایک رؤیا ہوا جس میں مَیں نے دیکھا کہ میں بڑی مسجد سے آرہا ہوں کہ دیوار گرائی جارہی ہے۔ میں نے پیچھے مُڑ کر دیکھا تو حضرت خلیفۃ المسیح الاوّلؓبھی تشریف لارہے تھے۔ میں نے اُن سے کہا کہ دیکھیں دیوار گرائی جارہی ہے۔ خداتعالیٰ کی قدرت ہے پہلے ایک مقدمہ ہوا جس میں ناکامی ہوئی ۔ پھر دوسرا مقدمہ ہوا اور اُس میں ناکامی ہوئی۔ آخر تیسرے مقدمہ میں کامیابی ہوئی اور عدالت نے دیوار گرائے جانے کا حکم دے دیا۔ مسجد اقصیٰ میں حضرت خلیفہ اوّلؓاُس روز درس دے رہے تھے۔ جب درس ختم ہوا اور میں گھر کو چلا تو دیکھا کہ دیوار گرائی جارہی ہے۔ مَیں نے پیچھے مُڑ کر دیکھا تو حضرت خلیفہ اوّلؓآرہے تھے۔ میں نے اُن سے کہا کہ دیکھیں دیوار گرائی جارہی ہے۔ گویا جس طرح میں نے خواب میں نظارہ دیکھا تھا ویسا ہی وقوع میں آگیا۔ جہاں تک مجھے یاد ہے میں نے یہ خواب حضرت خلیفہ اوّلؓکو سُنایا ہو اتھا۔ چنانچہ آپ نے اُس وقت میری بات سُن کر فرمایا لو میاں تمہاری خواب پوری ہوگئی۔ یہ دیوار اُس مقام پر تھی جہاں آج کل محاسب کا دفتر ہے۔
(الموعود۔ انوارالعلوم جلد 17 صفحہ596)
(تذکار مہدی صفحہ 96 تا 100، ایڈیشن 2020، یوکے)