مقدمات میں پیش ہونا
حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے والد مرحوم بہت مدبّر اور لائق آدمی تھے مگر دنیادارانہ رنگ رکھتے تھے۔ جب آپؑجوان تھے تو آپؑکے والد صاحب مرحوم کو ہمیشہ آپؑکے متعلق یہ فکر رہتی تھی کہ یہ لڑکا سارا دن مسجد میں بیٹھا رہتا ہے اور کتابیں پڑھتا رہتا ہے یہ بڑا ہو کر کیا کرے گا اور کس طرح اپنی روزی کما سکے گا؟ آپؑکے والد صاحب مرحوم آپؑکو کئی کاموں کی انجام دہی کے لئے بھیجتے مگر آپؑچھوڑ کر چلے آتے یہاں تک کہ زمین کے مقدمات کے بارہ میں ان کو آپؑکے خلاف شکایت رہتی تھی کہ وقت پر نہیں پہنچتے۔ ایک دفعہ آپؑکسی مقدمہ کی پیروی کے لئے گئے تو عین پیشی کے وقت آپؑنے نماز شروع کردی۔ جب آپؑنماز ختم کر چکے تو کسی نے آکر کہا آپؑکا مقدمہ تو آپؑکی غیر حاضری کی وجہ سے خارج ہوگیا ہے آپؑنے فرمایا اَلْحَمْدُ لِلہِ اس سے بھی جان چھوٹی۔ جب آپؑگھر پہنچے تو والد صاحب مرحوم نے ڈانٹا او رکہا تم اتنا بھی نہیں کرسکتے کہ مقدمہ کی پیشی کے وقت عدالت میں حاضر رہو۔ آپؑنے فرمایا نماز مقدمہ سے زیادہ ضروری تھی (گو مقدمہ کے متعلق میں نے سنا ہے کہ بعد میں معلوم ہوا کہ مقدمہ آپؑکے حق میں ہی ہوگیا تھا)
کاہنووان کے دو بھائی جو سکھ تھے ان کو آپؑکے ساتھ عشق تھا وہ ہمیشہ آپؑکے پاس آیا کرتے تھے اور باوجود سکھ ہونے کے وہ آپؑکے بہت زیادہ معتقد تھے ۔ آپؑکی وفات کے بعد ایک دفعہ مَیں نماز پڑھا کر اندر جانے لگا تو انہی دونوں بھائیوں میں سے ایک نے مجھے روک لیا اور کہا خدا کے لئے آپ اپنی جماعت کے لوگوں کو روکیں کہ وہ ہم پر ظلم نہ کریں۔ میں حیران ہوا کہ ہماری جماعت کے لوگوں نے آپ پر کیا ظلم کیا ہے؟ میں نے اُسے تسلی دی اور کہا کہ اگر کسی نے کوئی ایسی حرکت کی ہے تو میں اُسے سزا دوں گا تم بتاؤ کہ کس نے تمہارے ساتھ ظلم کیا ہے؟ اُس نے بتایا کہ میں بہشتی مقبرہ میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی قبر پر گیا تھا اور میں نے وہاں سجدہ کرنا چاہا لیکن آپ کے آدمیوں نے روک دیا۔ میں نے کہا یہ چیز تو ہمارے مذہب میں ناجائز ہے اسی لئے انہوں نے آپ کو روکا ہے۔ وہ کہنے لگا آپ کے مذہب میں بیشک ناجائز ہے مگر ہمارے مذہب میں تو ناجائز نہیں۔ اس سے ان کی محبت کا پتہ لگتا ہے۔ ان بھائیوں نے خود مجھے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کا ایک واقعہ سنایا اور کہا کہ حضرت مرزا صاحب کے ساتھ ہماری دوستی تھی اور ہم اکثر ان کے پاس آیا جایا کرتے تھے۔ ایک دفعہ آپ کے دادا نے جب ہم اپنے باپ کے ساتھ آئے ہمیں کہا کہ میں نے تو غلام احمد (مسیح موعود) کو بہت سمجھایا ہے مگر اس کی اصلاح نہیں ہوتی یہ سارا سارا دن مسجد میں بیٹھا رہتا ہے بڑا ہو کر کیا کرے گا؟ کیا یہ اپنے بھائی کے ٹکڑوں پر جئے گا؟ میرا خیال ہے کہ تم اس کے ہمجولی ہو اور ہم عمر ہو تم جاکر اس کو سمجھاؤ شاید تمہارے کہنے سے سمجھ جائے۔ چنانچہ ہم آپؑکے پاس گئے اور ان کو سمجھانا شروع کیا۔ جب ہم بات ختم کرچکے تو آپؑنے کہا والد صاحب تو یونہی گھبراتے ہیں میں نے جس کی نوکری کرنی تھی کرلی ہے۔ وہ سکھ سنایا کرتے تھے کہ ہم نے جب آپؑکا یہ جواب آپؑکے والد صاحب کو جاکر سنایا تو ان کی آنکھوں میں آنسو آگئے اور انہوں نے کہا غلام احمد کبھی جھوٹ نہیں بولتا اگر وہ کہتا ہے کہ میں نے جس کی نوکری کرنی تھی کرلی ہے تو وہ ضرور سچ کہتا ہوگا۔
پس مؤمن صرف اللہ کی نوکری کرتا ہے عام طور پر لوگ سَترہ اٹھارہ روپیہ پر فوجوں میں بھرتی ہوتے ہیں اور اِسی حقیر رقم کے لئے اپنی جانیں لڑا دیتے ہیں تو کیا ایک مومن اسلام کی خاطر اپنی جان کو خطرہ میں ڈالنے کے لئے تیار نہ ہوگا؟ ہوگا اور ضرور ہوگا کیونکہ مومن جانتا ہے کہ وہ خدا کا مینار ہے جس کی روشنی میں دنیا کی تمام تاریکیاں اور ظلمتیں دُور ہوجاتی ہیں۔
(انصاف پر قائم ہوجاؤ،
انوار العلوم جلد 18 صفحہ 603،604)
والد صاحب کے مقدمات کی پیروی
حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام بانی سلسلہ عالیہ احمدیہ کے والد کے دوستوں میں سے کئی ایسے تھے جو سالہا سال کی ملاقات کے بعد یہ معلوم نہ کرسکتے تھے کہ مرزا غلام قادر صاحب کے سوا ان کا کوئی اور بیٹا بھی ہے کیونکہ بانی سلسلہ عالیہ احمدیہ گوشۂ تنہائی میں رہتے اور اللہ تعالیٰ کا ذکر کرنے کے عادی تھے۔ اس وقت ہمارے ایک دوست سٹیج پر میرے پاس ہی بیٹھے ہیں۔ وہ سنایا کرتے ہیں۔
ابتدائے ایام میں یعنی اپنی ابتدائی زندگی میں
حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کو ان کے والد صاحب مقدمات کی پیروی کے لئے بھیج دیا کرتے تھے۔ ایک اہم مقدمہ چل رہا تھا جس کی کامیابی پر خاندانی عزت اور خاندان کے وقار کا انحصار تھا۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کو آپؑکے والد صاحب نے لاہور بھیج دیا کہ وہاں جا کر پیروی کریں چنانچہ آپؑلمبا عرصہ جو مہینہ ڈیڑھ مہینہ کے قریب تھا لاہور رہے۔ قادیان کے سید محمد علی شاہ صاحب لاہور میں رہتے تھے ان کے پاس آپؑٹھہرے اور انہوں نے اپنے ایک دوست کی گاڑی کا انتظام کردیا کہ جب چیف کورٹ کا وقت ہو آپؑکو وہاں پہنچا آیا کرے اور جب وقت ختم ہوجائے آپؑکو لے آئے۔ یہ بیان کرنے والے دوست کے والد صاحب کی گاڑی تھی۔ کئی دنوں کے انتظار کے بعد جب فیصلہ سنایا گیا تو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام گاڑی کے پہنچنے سے پہلے ہی سید محمد علی شاہ صاحب کے گھر آگئے۔ سید صاحب نے پوچھا۔ آج آپ گاڑی کے پہنچنے سے پہلے ہی آگئے؟ آپؑبڑے خوش خوش تھے۔ فرمانے لگے مقدمہ کا فیصلہ ہوگیا ہے اس لئے میں پہلے ہی آگیا۔ سید صاحبؓنے آپؑکی خوشی کو دیکھ کر سمجھا مقدمہ میں کامیابی ہوئی ہوگی مگر جب پوچھا کہ کیا مقدمہ جیت گئے؟ تو آپؑنے فرمایا۔ مقدمہ تو ہار گئے مگر اچھا ہؤا جھگڑا تو مٹا، اب ہم اطمینان سے خدا تعالیٰ کو یاد کرسکیں گے۔ یہ سن کر سید صاحب بہت ناراض ہوئے۔ اس وقت تک حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے دعویٰ نہیں کیا تھا اور جب آپؑنے دعویٰ کیا تو بھی کچھ عرصہ تک سید صاحبؓمخالف رہے۔ انہوں نے ناراض ہو کر کہا۔ اس مقدمہ کے ہار جانے سے تو آپ کے خاندان پر تباہی آجائے گی اور آپ خوش ہورہے ہیں اور یہ کہہ رہے ہیں کہ جو خداتعالیٰ نے کہا تھا وہ پورا ہوگیا۔ تو دعویٰ سے قبل حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی یہ حالت تھی۔ آپؑدنیا سے بالکل الگ تھلگ رہتے تھے۔ آپؑفرماتے اسی خدا کی قسم جس کے قبضہ میں میری جان ہے جب تک اس نے مجھے مجبور نہیں کردیا کہ دنیا کی اصلاح کے لئے کھڑا ہوں اس وقت تک میں نے دنیا کی طرف توجہ نہ کی۔ گویا روحانی طور پر آپؑغار حرا میں رہتے تھے جس میں رہتے ہوئے آپؑکو دنیا کی کوئی خبر نہ تھی اور دنیا کو آپؑکی کوئی خبر نہ تھی۔
(الفضل یکم جنوری 1935ء جلد 22 نمبر 79 صفحہ 3)
باقاعدہ نماز پڑھنے کی عادت
سید منظور علی شاہ صاحب کے والد حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے زمانہ اوائل کے واقف تھے۔ ان کے تعلقات ملک غلام محمد صاحب کےوالد صاحب کے ساتھ بہت گہرے تھے۔ یہی وجہ ہے کہ اس وقت ملک صاحب بھی آئے ہوئے ہیں۔ شاہ صاحبؓایام جوانی میں لاہور نوکر تھے اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام جب لاہور جاتے تو ان کےپاس ٹھہرتے۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے مقدمہ ہارنے کا جو واقعہ لکھا ہے اس میں انہی کا ذکر ہے۔ آپؑمقدمہ کا فیصلہ سننے کے لئے لاہور گئے ہوئے تھے اور روزانہ چیف کورٹ میں جاتے تھے۔ ایک دن خوش خوش واپس آئے تو شاہ صاحب نے کہا کیا مقدمہ جیت آئے؟ آپؑنے فرمایا۔ مقدمہ تو نہیں جیتا مگر اچھا ہوا حکم سنا دیا گیا کیونکہ وہاں جانے کی وجہ سے نمازیں پڑھنے میں تکلیف ہوتی تھی۔ اُس وقت حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے ابھی دعویٰ نہ کیا تھا۔ شاہ صاحبؓنے غصہ کا اظہار کرتے ہوئے کہا۔ آپؑکے باپ کا اتنا بڑا نقصان ہوگیا ہے اور آپؑخوش ہورہے ہیں۔
اس سے ظاہر ہے کہ نہایت ابتدائی زمانہ سے شاہ صاحب کے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام سے تعلقات تھے اور بہت محبت رکھتے تھے۔ آج ان کی پوتی کی شادی ہے۔‘‘
(خطبات محمود جلد سوم صفحہ 455)
(تحقیق حق کا صحیح طریق، انوار العلوم جلد 13 صفحہ 407 تا 408)
(تذکار مہدی صفحہ 45 تا 50، ایڈیشن 2020، یوکے)