(قسط 12-)
سیدنا حضرت اقدس مسیح موعود
علیہ الصلوٰۃ و السلام کا سفر لاہور
اور حضور پُرنور کا وصال
سیدنا حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی حالت لحظہ بلحظہ زیادہ کمزور ،زیادہ نازک اور نڈھال ہوتی جارہی تھی۔ خاندان نبوت کے مردو زن چھوٹے بڑے سبھی جمع تھے اور اللہ تعالیٰ کے اسماء حسنہ کے واسطے دے دے کر دعا ،تضرّع اور ابتہال میں مشغول تھے۔ سیدۃ النساء حضرت اُم المومنین رضی اللہ تعالیٰ عنہا بے قرار ہو ہو کر پکار رہی تھیں۔’’اے میرے خدا! اے ہمارے پیارے اللہ! یہ تو ہمیں چھوڑے جاتے ہیں پر تُو ہمیں نہ چھوڑیو ‘‘
سیدنا صاحبزادہ حضرت مرزا بشیرالدین محمود احمد سلمہ ربہ ،ہمارے موجودہ امیر المومنین حضرت خلیفۃ المسیح الثانی آنکھیں بند کئے ایک عزم مقبلانہ لئے
یَا حَیُّ یَا قَیُّوم ۔ یَا حَیُّ یَا قَیُّوم
کہہ کہہ کر ہمیشہ ہمیش باقی رہنے والی ذات والا صفات سے دعاء والتجاء اور رازو نیاز میں مصروف تھے۔ اور یہ تو وہ بعض الفاظ ہیں جو ہمارے کانوں میں پڑ گئے اور یاد بھی رہ گئے ورنہ خاندان کے سارے ہی اراکین بڑے بوڑھے ،بیگمات اور شہزادے شہزادیاں اپنی اپنی جگہ بڑے ہی الحاح اور عجز و انکسار سے ذکر الٰہی، یاد خدا اور دعا و التجا میں مصروف تھے ۔ تسبیح وتہلیل اور ذکر واذکار کی ایک گونج تھی جس سے جَو بھرا معلوم دیتا اور فضا گونج رہی تھی۔ ان مقدسین کے دل و دماغ میں کیا عزائم ،کیا ارادے یا کیا کیا پاک خیالات تھے اور ان میں سے ہر ایک اپنے خدا سے کس کس رنگ میں راز و نیاز اور قول و قرار باندھنے میں مصروف تھا۔
کون پڑھ سکتا ہے سارا دفتر ان اسرار کا
وہ خود ہی بیان کریں تو علم ہو یا پھر ان کا خدا اظہار کرے تو پتہ چلے ورنہ ہم لوگ تو ان عزائم و خیالات کی گرد کو بھی پہنچنے کی طاقت نہیں رکھتے۔ لَارَیب ان کے چہرے ان کے عزائم اور ارادوں کے آئینہ دار تھے مگر ان کا پڑھنا یا سمجھنا ہر کسی کا کام نہ تھا۔
خدام بھی پروانوں کی طرح اس نور الٰہی اور شمع ہدایت کے گرد جمع تھے اور ہر ایک اپنے اپنے رنگ میں مصروف دعا الٰہی جبروت اور شان بے نیازی کو دیکھ رہا تھا۔ حالت حضور کی اس مرحلہ پر پہنچ چکی تھی کہ خواتین مبارکہ اور صاحبزادگان والاتبار کے علاوہ خدام و غلاموں کی نظریں حضور کے چہر ۂ مبارک پر ہی گڑ رہی تھیں۔ محترم حکیم محمد حسین صاحب قریشی اور حافظ فضل احمد صاحب حالت کی نزاکت محسوس کر کے خودبخود حضرت اقدس کی چارپائی کے پاس بیٹھے سورہ یٰسٓ پڑھتے رہے۔ حضور کے قلب مبارک کی حرکت جو کرب کی وجہ سے پہلے تیز تھی ہلکی پڑنے لگی مگر تنفس میں سُرعت اور بے قاعدگی شروع ہو گئی اور ساتھ ہی لب ہائے مبارک کی جنبش جس سے ہم اندازہ کرتے تھے کہ حضور پُرنور اس حال میں بھی ذکر الٰہی میں مصروف ہیں، میں بھی وقفے ہونے لگے۔ اور ہوتے ہوتے بالکل بے ساختہ اور نہایت ہی بے بسی کے عالم میں میرے مونہہ سے کسی قدر اونچے اِنَّا لِلّٰہِ وَاِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ نکل گیا کیونکہ میں نے حضور کے آخری سانس کی حرکت کو بند ہوتے محسوس کر لیا تھا اور اس کے ساتھ ہی ہر طرف سے اس مصیبت عظیمہ پر رضاء و تسلیم کے اظہار کے طور پر اِنَّا لِلّٰہِ وَاِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ کی درد بھری ندا بلند ہو گئی۔ اس وقت کم و بیش پچاس ساٹھ خدام اور خاندان نبوت کے اراکین و خواتین مبارکہ حضور پُرنور کے پلنگ کے گرد جمع ہوں گے۔ حضور کی روح اطہر تو اس قفس عنصری سے پرواز کر کے واصل بحق ہو کر اپنے محبوب حقیقی سے جا ملی اور اس طرح
جلد آ پیارے ساقی اب کچھ نہیں ہے باقی
دے شربت تلاقی حرص و ہوا یہی ہے
اپنے مقصد اصلی کو پا کر ابدی حیات، سچی راحت اور مقام رضاء و محمود پر سب سے اونچے بچھائے گئے تخت پر جا متمکن ہوئی مگر حضور کے غلام بحالت یُتم بالکل اس شیر خوار بچے کی مانند بلبلاتے اور سسکیاں لیتے نہایت ہی قابل رحم حالت میں رہ گئے جو بالکل چھوٹی عمر میں مہر مادری سے محروم کر دیا گیا ہو اور نقشہ اس وقت کا اس کی سچی کیفیت کے ساتھ الٰہی کلام ’’ اس دن سب پر اداسی چھا جائے گی‘‘ کے بالکل مطابق تھا۔
منگل کا دن 26؍مئی 1908ء مطابق24ربیع الثانی 1326 ہجری المقدس دس اور ساڑھے دس بجے دن کے درمیان کا وقت اس سانحہ ارتحال اور محبوب الٰہی کے وصال کی اطلاع آن واحد میں جہاں شہر بھر میں پھیل گئی وہاں خبر رساں ایجنسیوں ، پرائیویٹ خطوط ، اخباروں اور تاروں بلکہ ریل گاڑی کے مسافروں کے ذریعہ ہندوستان کے کونہ کونہ بلکہ اکناف عالم میں بجلی کی کوند کی طرح پھیل گئی اور اس اچانک حادثہ کی وجہ سے بعض ایسے مقامات کے احمدیوں نے تو اس اطلاع کو معاندانہ پراپیگنڈا یا جھوٹ و افتراء کے خیال سے تسلیم کرنے سے انکار کر دیا جو دور دراز اور علیحدہ تھے۔ حضور پُرنور کا وصال کوئی معمولی حادثہ نہ تھا بلکہ موت عالم کا ایک نقشہ تھا کیونکہ اللہ تعالیٰ کے بعض برگزیدہ بندے دنیا وما فیھا کو اپنے اندر لئے ہوتے ہیں اور ان کا وجود حقیقۃً سارے عالم کا مجموعہ ہوتا ہے۔
مَنْ اَحْیَاھَا فَکَاَ نَّمَا اَحْیَا النَّاسَ جَمِیْعًا
قول خداوندی بھی اسی حقیقت کی تفسیر ہے۔ دنیا ہماری آنکھوں میں اندھیر تھی اور زمین باوجود اپنی فراخی و کشائش کے ہم پر تنگ تھی اور گویا رنج و غم کے پہاڑ تلے دب جانے کے باعث ہم لوگ پاگل اور مجنون ہو رہے تھے اور کچھ سوجھتا تھا نہ حواس ٹھکانے تھے کیونکہ آج وہ مقدس وجود جس نے آکر خدا دکھایا، رسول منوائے اور نور ایمان دلوایا اچانک یوں ہم میں سے اٹھا لیا گیا کہ خدا کے بعض وعدوں کے باقی ہونے کے خیال سے بے وقت اٹھایا جانا سمجھا گیا۔ اور وہ وجود مقدس جس کا نام خود خدا نے
جَرِیُٔ اللہِ فِیْ حُلَلِ الْاَنْبِیَاءِ
یعنی
پہلوانِ حضرت ربّ جلیل برمیاں بستہ زشوکت خنجرے
جامع کمالات انبیاء سابقین رکھ کر نہ صرف اسے ایک عالم کا مجموعہ قرار دیاتھا بلکہ اسے مظہر صفات کل انبیاء ہونے کی وجہ سے عالمین کے فضائل و برکات اور خصائص و حسنات کا حامل و عامل ہونے کی عزت و شرف سے سرفراز فرمایا تھا۔
وہ ہم سے جدا ہو گیا
وائے بر مصیبت ما۔ فَاِنّالِلہِ وَاِنّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ
سیدۃ النساء حضرت ام المومنین رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے جس صبر اور رضا بالقضاء کا نمونہ دکھایا اور جس طرح خاندان بھر کی دردمند اور رنجور و غمزدہ بیگمات کو سنبھال کر انہیں ڈھارس دی۔ سیدہ طاہرہ کا وہ نمونہ مردوں کے لئے بھی مشعل راہ بنا۔ سیدنا حضرت صاحبزادہ مرزا بشیرالدین محمود احمد صاحب نے جس عزم و استقلال سے اس مصیبت کے پہاڑ کو برداشت کیا اور مقام شکر پر نہ
صرف خود قائم رہے بلکہ جماعت کے قیام کا بھی موجب بنے وہ آپ کی اولوالعزمی اور کوہ وقاری کی ایک زندہ اور بے نظیر مثال تھی اور نہ صرف یہی بلکہ خاندان نبوت کے ہر رکن کا نمونہ خدا کے برگزیدہ نبی کی صداقت کا ایک معیار نظر آرہا تھا۔ اور حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کی بے نظیر قوت قدسی، اعلیٰ روحانی تربیت اور کامل تعلق باللہ کا ہر فرد خاندان ایسا شاہد ناطق اور گواہ عادل ثابت ہو رہا تھا کہ بجز کاملین اور خدا کے خاص برگزیدہ بندوں کے اس کی مثال محال ہے۔ میں حضرت مولوی صاحب مولانا نورالدین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو اطلاع دینے کی غرض سے خواجہ صاحب کے مکان کی اس کوٹھڑی میں پہنچا جہاں ابھی ابھی حضرت ممدوح سیدنا حضرت اقدس کی حالت نزع کو دیکھنے کی تاب نہ لا کر چلے گئے تھے اور تنہائی میں سر نیچے ڈالے دعائوں میں مصروف تھے۔ میں نے روتے ہوئے سانحہ ارتحال کی اطلاع دی تو فرمایا :
’’تمہیں اب معلوم ہوا ؟مگر میں تو رات ہی اس نتیجہ پر پہنچ چکا تھا کیونکہ اس مرتبہ جتنا سخت حملہ حضور کو اس مرض کا ہوا اس سے قبل میں نے اتنا سخت حملہ کبھی نہ دیکھا تھا۔ ‘‘
اور فوراً اٹھ کر تشریف لے آئے۔ جبین مبارک پر بوسہ دیا۔ لوگوں کو روتے دھوتے اور غم میں نڈھال دیکھ کر نصیحت فرمائی ۔صبر کی تلقین کی۔ مولوی سید محمد احسن صاحب امروہی بھی اور دوستوں کی طرح مضطرب و بیقرار زارو نزار تھے۔ حضرت مولوی صاحب کی نصیحت سے سنبھلے اور بے ساختہ جوش میں بول اٹھے۔
انت الصدیق۔ انت الصدیق ۔ انت الصدیق
حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے بعد آپ ہی اہل اور احق ہیں کہ جس طرح آنحضرت ﷺ کے بعد حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو اللہ تعالیٰ نے اسلام کی خدمت کا مقام اور مسلمانوں کی سیادت عطا فرمائی تھی اب حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے رفع الی اللہ کے بعد آپ صدیق اکبر ہو کر جماعت کو سنبھالیں اور حضرت اقدس کے کام کی باگ ڈور تھامیں۔ وغیرہ۔ گو حضرت مولوی نورالدین رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ان کو اس قسم کی باتوں سے روک دیا۔ مگر باوجود اس کے اس وقت سے ہر کام میں آپ کی اجازت اور مرضی لی جانے لگی اور آپ ہی کے زیر ہدایت ضروری امور انجام پذیر ہونے لگے۔
(سیرۃ المہدی ، جلد2،تتمہ ،صفحہ 416 تا 420،مطبوعہ قادیان 2008)