اردو   हिंदी   বাংলা   ಕನ್ನಡ   മലയാളം   ଓଡ଼ିଆ   தமிழ்   తెలుగు  




.

2024-11-28

سیرت المہدی (از حضرت مرزا بشیر احمد صاحب ایم.اے.رضی اللہ عنہ )

(بقیہ)
عید قربان ۱۹۰۰ء اور خطبہ الہامیہ
حضرت بھائی عبدالرحمٰن قادیانی رضی اللہ عنہ
(5) سیدنا حضرت اقدس مسیح موعودعلیہ الصلوٰۃ والسلام نے خطبہ اردو میں پڑھا جس کے آخری حصہ میں خصوصیت سے جماعت کو باہم اتفاق واتحاد اور محبت ومودت پیدا کرنے کی نصائح فرمائیں اور پھر اس کے بعد حضورنے حضرت مولوی صاحبان کو خاص طور سے قریب بیٹھ کر لکھنے کی تاکید کی اور فرمایا کہ
اب جوکچھ میں بولوں گا وہ چونکہ ایک خاص خدائی عطا ہے لہٰذا اس کو توجہ سے لکھتے جائیں تاکہ محفوظ ہوجائے ورنہ بعد میں میں بھی نہ بتاسکوں گا کہ میں نے کیا بولا
(ماحصل بالفاظ قادیانی)
چنانچہ حضرت مولانا مولوی نور الدین صاحب رضی اللہ عنہ جو دور بیٹھے تھے اپنی جگہ سے اُٹھے اور قریب آکر سیدنا حضرت اقدس مسیح موعودعلیہ الصلوٰۃ والسلام کے دائیں جانب حضرت مولانا عبد الکریم صاحب رضی اللہ عنہ کے ساتھ بیٹھ گئے۔حضور اقدس اس وقت اصل ابتدائی مسجد اقصیٰ کے درمیانی دروازہ کے شمالی کونہ میں ایک کرسی پر مشرق رو تشریف فرماتھے اور حاضرین کا اکثر حصہ صحن مسجد میں۔ مکرمی محترم حضرت شیخ یعقوب علی صاحب حال عرفانی کبیر اور یہ عاجز راقم بھی پنسل کاغذ لے کر لکھنے کو بیٹھے کیونکہ مجھے خدا کے فضل سے حضور کی ڈائری نویسی کا ازحد شوق تھا اور حضرت شیخ صاحب اپنے اخبار کے لئے لکھنے کے عادی ومشاق تھے۔ پہلی تقریر یعنی خطبہ عید حضور نے کھڑے ہوکر فرمائی تھی جس کے بعد حضور کے لئے خاص طور سے ایک کرسی بچھائی گئی جس پر حضور تشریف فرماہوئے اور جب عرض کیا گیا کہ لکھنے والے حاضر وتیار ہیں تو :
(6) حضور پُرنور اسی کرسی پر بیٹھے گویا کسی دوسری دنیا میں چلے گئے معلوم دینے لگے۔ حضور کی نیم واچشمانِ مبارک بند تھیں اور چہرہ مبارک کچھ اس طرح منور معلوم دیتا تھا کہ انوار الہٰیہ نے ڈھانپ کر اتنا روشن اور نورانی کردیا تھا جس پر نگہ ٹک بھی نہ سکتی تھی اور پیشانی مبارک سے اتنی تیز شعاعیں نکل رہی تھیں کہ دیکھنے والی آنکھیں خیرہ ہوجاتیں ۔حضور نے گونہ دھیمی مگر دلکش اور سریلی آواز میں جو کچھ بدلی ہوئی معلوم ہوتی تھی فرمایا ۔
یَاعِبَادَ اللّٰہِ فَکِّرُ وْا فِی یَوْمِکُمْ ھٰذَا یَوْمَ الْاَضْحٰی
فَاِنَّہٗ اَوْدَعَ اَسْرَارًا لِاُولِی النُّھٰی۔۔
لکھنے والے لکھنے لگے جن میں خود میں بھی ایک تھا مگر چند ہی فقرے اور شاید وہ بھی درست نہ لکھے گئے تھے، لکھنے کے بعد چھوڑ کر حضور کے چہرہ مبارک کی طرف ٹکٹکی لگائے بیٹھا اس تبتل وانقطاع کے نظارہ اور سریلی ودلوں کے اندر گھس کر کایا پلٹ دینے والی پُر کیف آواز کالطف اٹھانے لگ گیا۔ تھوڑی دیر بعد حضرت شیخ صاحب بھی لکھنا چھوڑ کر اس خدائی نشان اور کرشمہ قدرت کالطف اٹھانے میں مصروف ہوگئے۔ لکھتے رہے تو اب صرف حضرت مولوی صاحبان دونوں جن کو خاص حکم تھا کہ وہ لکھیں۔ لکھنے میں پنسلیں استعمال کی جارہی تھیں جو جلد جلد گھس جاتی تھیں مجھے یاد ہے کہ پنسل تراشنے اور بنا بنا کر دینے کاکام بعض دوست بڑے شوق ومحبت سے کر رہے تھے مگر نام ان میں سے مجھے کسی بھی دوست کا یاد نہ رہا تھا۔ ایک روز اس مقدس خطبہ الہامیہ کے ذکر کے دوران میں مکرم محترم حضرت مولانا عبد الرحیم صاحب درد ایم اے نے بتایا کہ وہ بھی اس عید اور خطبہ الہامیہ کے نزول کے وقت موجود تھے اور کہ لکھنے والوں کو پنسلیں بنا بنا کر دیتے رہے تھے۔
(7) بعض اوقات حضرت مولوی صاحب کو لکھنے میں پیچھے رہ جانے کی وجہ سے یاکسی لفظ کے سمجھ نہ آنے کے باعث یا الفاظ کے حروف مثلا الف اور عین ۔ صاد وسین یا ثا اور ط وت وغیرہ وغیرہ کے متعلق دریافت کی ضرورت ہوتی تو دریافت کرنے پر سیدنا حضرت اقدس مسیح موعودعلیہ الصلوٰۃ والسلام کی عجب کیفیت ہوتی تھی اور حضور یوںبتاتے تھے جیسے کوئی نیند سے بیدار ہوکر یا کسی دوسرے عالم سے واپس آکر بتائے اور وہ دریافت کردہ لفظ یا حرف بتانے کے بعد پھر وہی حالت طاری ہوجاتی تھی اور انقطاع کا یہ عالم تھا کہ ہم لوگ یہ محسو س کرتے کہ حضور کا جسد اطہر صرف یہاں ہے، روح حضور پُر نور کی عالم بالا میں پہنچ کر وہاں سے پڑھ کر یا سن کر بول رہی تھی۔ زبان مبارک چلتی تو حضور ہی کی معلوم دیتی تھی۔ مگر کیفیت کچھ ایسی تھی کہ بے اختیار ہوکر کسی کے چلائے چلتی ہو۔ یہ سماں اور حالت بیان کرنا مشکل ہے ۔ انقطاع ، تبتل ، ربودگی یاحالت مجذوبیت وبے خودی ووارفتگی اور محویت تامہ وغیرہ الفاظ میں سے شاید کوئی لفظ حضور کی اس حالت کے اظہار کے لئے موزوں ہوسکے ورنہ اصل کیفیت ایک ایسا روحانی تغیر تھا جو کم ازکم میری قوت بیان سے تو باہر ہے کیونکہ سارا ہی جسم مبارک حضور کا غیر معمولی حالت میں یوں معلوم دیتا تھا جیسے ذرہ ذرہ پر اس کے کوئی نہاں در نہاں اور غیر مرئی طاقت متصرف وقابویافتہ ہو ۔
لکھنے والوں کی سہولت کے لئے حضور پُر نور فقرات آہستہ آہستہ بولتے اور دہرادہرا کر بتاتے رہے ۔ خطبہ الہامیہ کے نام سے جو کتاب حضور نے شائع فرمائی وہ بہت بڑی ہے۔۱۹۰۰ء کی عید قربان کا وہ خاص خطبہ مطبوعہ کتاب کے اڑتیس صفحات تک ہے۔ باقی حصہ حضور نے بعد میں شامل فرمایا۔
(8) یہ جلسہ اور مجلس ذکر لمبی ہوگئی اور نماز کاوقت آگیا ۔ چونکہ حضور پُرنور نے جب یہ خطبہ عربی ختم فرمایا تو دوستوں میں اس کے مضمون سے واقف ہونے کا اشتیاق اتنا بڑھا کہ حضور نے بھی آخر پسند فرمایا کہ حضرت مولانا مولوی عبد الکریم صاحب اس کا ترجمہ دوستوں کو سنا دیں ۔چنانچہ مولانا موصوف نے خوب مزے لے لے کر اس تمام خطبہ کا ترجمہ اردو میں اپنے خاص انداز اور لب ولہجہ میں سنا کر دوستوں کو محظوظ اور خوش وقت فرمایا اور یہ کیفیت بھی اپنے اندر ایک خاص لطف وسرور اور لذت روحانی رکھتی تھی۔ ترجمہ ابھی غالباً پورا بھی نہ ہواتھا کہ اچانک کسی خاص فقرے سے متاثر ہوکر یا اللہ تعالیٰ کے خاص القاء کے ماتحت سیدنا حضرت اقدس کرسی سے اٹھ کر سجدہ میں گر گئے اور اس طرح مجمع تھوڑی دیر کے لئے حضور کے ساتھ خدائے بزرگ وبرتر کے اس عظیم الشان نشان کے عطیہ کے لئے آستانہ الوہیت پر گر کر جبین نیاز ٹکائے اظہار تشکر وامتنان کرتا رہا۔
فالحمد للّٰہ ۔ الحمد للّٰہ ۔ ثم الحمد للّٰہ علٰی ذالک
(9) سیدنا حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے خواہش فرمائی کہ اس خدائی نشان کو لوگ یاد کرنے کی کوشش کریں چنانچہ حضور کے ارشاد کی تعمیل میں خطبہ الہامیہ کی اشاعت کے بعد بہت سے دوستوں نے اس کو یاد کرنا شروع کیابعض نے پورا یاد کرلیا تو بعض نے تھوڑا مگر ان دنوں اکثر یہی شغل تھا اور ہر جگہ ،ہر مجلس میں اسی خطبہ یعنی خطبہ الہامیہ کے پڑھنے اور سننے سنانے کی مشق ہو اکرتی تھی۔ بعض روز شام کے دربار میں کوئی نہ کوئی دوست بھری مجلس میں حضرت اقدس کے سامنے یاد کیا ہوا سنایا بھی کرتے تھے اور اسی طرح خد اکی اس نعمت کا چرچا رہتا تھا۔ میںنے بھی تین چار صفحات یاد کئے تھے۔
(10) سیدنا حضرت اقدس مسیح موعودعلیہ الصلوٰۃ والسلام کا وجود باجود دنیا جہان بلکہ ہفت اقالیم سے بھی کہیں بڑی نعمت، خدا کاخاص انعام اور فضل واحسان تھا کیونکہ وہ خدا نما تھا جس کو دیکھتے ہی خدا کے عظمت وجلال کا کبھی نہ مٹنے والا اثر دل ودماغ پر ہوتا اور خدا کی خدائی پر یقین پیدا ہوا کرتا تھا۔ جس کی مجلس خدا کے تازہ بتازہ کلام سننے کامقام اور اسی کلام کو پورا ہوتے دیکھنے سے خدا کے کامل علم اور اس کی کامل قدرت پر یقین پید اہونے کی جگہ اور دلوں میں نور علم وعرفان بھرنے کا ذریعہ ہوا کرتی تھی۔ روح کی تازگی ، ایمان کی مضبوطی ، قلوب کی صفائی اور اذہان کی جلاکے سامان اس مجلس میں جمع ہوا کرتے تھے۔ تزکیہ نفس کے سامان اس میں ملتے اور محبت الٰہی کی آگ پیدا ہوکر دنیا کی محبت کو سردکردیا کرتی تھی ۔ چنانچہ اس تازہ نشان نے بھی جماعت میں ایک روحانی تغیر پیدا کردیااور سالکین کے لئے منازل ایقان وعرفان کو آسان بنا دیا تھا اور ایک خاص روحانی انقلاب کا یہ نشان الٰہی پیش خیمہ تھا جس کی اہمیت گہرے غور وتدبر سے ہمیشہ نمایاں ہوتی رہے گی۔
عید کے روز حضور کے اس خطبہ یعنی خطبہ الہامیہ کے پڑھے جانے اور حضور پر نور کو نطق کی خاص طاقت وقوت عطا کئے جانے سے یوم الحج کے روز کی دعاؤں کی قبولیت کا یقین گویا مشاہدہ میں بدل گیا تھا کیونکہ یہ دونوں چیزیں باہم بطور لازم ملزوم کے تھیں۔ یہ عید اپنی بعض کیفیات کے لحاظ سے تاریخ سلسلہ کا ایک اہم ترین واقعہ اور ایک خاص باب ہے جس کی گہرائیوں میں جتنے بھی غوطے لگائے جائیں گے اتنے ہی زیادہ سے زیادہ قیمتی اور انمول اور بے مثال موتی ملیں گے۔ مبارک وہ جن کو ان کے حصول کی توفیق رفیق ہواور سلامتی ہو اُن پر جو اُن کو حاصل کر کے خدمت سلسلہ اور خدمت خلق میں صرف کریں ۔
اللہم صلّ علٰی محمد وعلٰی آل محمد وبارک وسلم انک حمید مجید
آمین ۔ آمین ۔ثم آمین
(سیرۃ المہدی ، جلد2،تتمہ ، صفحہ367 ،مطبوعہ قادیان 2008)