اردو   हिंदी   বাংলা   ಕನ್ನಡ   മലയാളം   ଓଡ଼ିଆ   தமிழ்   తెలుగు  




.

2024-11-21

سیرت المہدی (از حضرت مرزا بشیر احمد صاحب ایم.اے.رضی اللہ عنہ )

عید قربان ۱۹۰۰ء اور خطبہ الہامیہ
حضرت بھائی عبدالرحمٰن قادیانی رضی اللہ عنہ
(1) اللہ تعالیٰ کا خاص بلکہ خاص الخاص فضل ہے کہ مجھ ناکارہ ونالائق کو لطف و کرم سے نوازا اور سراسر احسان سے اُٹھا کر اپنے برگزیدہ وحبیب جری اللہ فی حلل الانبیاء کے قدموں میں لا ڈالا ۔ ۱۹۰۰عیسوی کے مندرجہ نشان کے ظہور کے وقت بھی مجھ غلام کو حضوری کا شرف میسر تھا۔ اس طرح اس روز کے علمی معجزہ کو آنکھوںدیکھنے اور کانوں سننے کی سعادت نصیب ہوئی وَذَالِکَ فَضْلُ اللّٰہِ عَلَیْنَا وَعَلَی النَّاسِ وَلٰـکِنْ اَکْثَرُ النَّاسِ لَا یَشْکُرُوْنَ ـ
(2) عید سے پہلے دن یعنی حج کے روز سیدنا حضرت اقدس کی طرف سے چاشت کے وقت یہ اعلان کرایا گیا کہ قادیان میں موجود تمام دوستوں کے نام لکھ کرحضرت کے حضور پیش کئے جائیں کیونکہ اللہ تعالیٰ نے محض (فضل) اور رحم سے یہ دن حضور انور کے لئے دعاؤں کی قبولیت کے واسطے خاص فرما کر حضور کو اذنِ دعا دیا تھا اور حضور خد اکے ا س انعام میں اپنے خدام کو بھی شریک فرما نا چاہتے تھے ۔ ورنہ پانچ چھ سالہ فیض صحبت (یعنی۱۸۹۵ء تا۱۹۰۰ء )کی سعادت سے بہرہ ور ہونے کی وجہ سے میں کہہ سکتا ہوں کہ اس دن کے سواحضور کی طرف سے اس قسم کا اعلان پہلے کبھی ہوتا میںنے دیکھا ،نہ سنا تھا۔ یوں تو دعاؤں کے لئے ہم لوگ اکثر لکھتے اور عرض کرتے رہا کرتے تھے اور بعض اصحاب ضرورت وحاجت اکثر روازنہ اور متواتر ہفتوں بھی حضرت کے حضور دعاؤں کی درخواستیں بھیجا کرتے تھے۔ حضور کی مجلس کے دوران بھی کبھی کبھی احباب التجاء دعا کیا کرتے جس کے جواب میں عموماً حضور فرمایا کرتے :
’’انشاء اللہ دعا کروں گا ۔ یاد دلاتے رہیں۔ ‘‘
اور کئی بار ایسا بھی ہوا کرتا تھا کہ ادھر کسی نے دعا کے لئے عرض کیا ادھر حضور نے دست دعا اللہ تعالیٰ کے حضور بڑھا کر اس کے لئے دعا کردی جس میں حاضرین مجلس بھی شریک ہوجایا کرتے۔ تحریری درخواست ہائے دعا کے جواب میں بعض دوستوں کو حضور خود دست مبارک سے جواب تحریراً بھی دیا کرتے تھے مگر اس یوم الحج کے روز تو ضرور کوئی خاص ہی فضل الٰہی تھا جس میں حضور نے ازراہ شفقت تمام خدام ، احباب اور مہمانوں کو شامل کرنے کے لئے خاص طور سے اعلان کرایا تھا۔
(3) اس اعلان کا ہونا تھا کہ جہاں یکجائی فہرست میں ہر کسی نے دوسرے سے پہلے اپنا نام لکھانے کی کوشش کی وہاں فرداً فرداً بھی رقعات اور عرائض بھیجنے کی سعی کی ۔ ایک فہرست حضرت مولانا مولوی نورالدین صاحب کی زیر قیادت تیار ہوئی تھی اور میرا خیال ہے کہ اسی طرح بعض دوستوں نے اور بھی دو ایک فہرستیں تیار کر کے اندر بھجوائی تھیں ۔ کتنے رقعات اور عرائض فردً افردًاحضرت کے حضور پہنچائے گئے ان کا حساب اللہ تعالیٰ کو ہے کیونکہ ہر شخص کی خواہش تھی کہ میرا عریضہ پہلے روز حضرت کے اپنے ہاتھ میں پہنچے۔ چنانچہ اس کوشش میں اس روز حضور کی ڈیوڑھی کیااور مسجد مبارک کی طرف سیڑھیاں کیا خدام سے اَٹی رہیں اور بچوں وخادمات نے بھی دوستوں کے عریضے اور خطوط پہنچانے میں جو احسان کیا وہ اپنی جگہ قابل رشک کام تھا۔
اُس زمانہ میں عیدین کے موقعہ پر دارالامان میں بیرونجات سے آنے والے احباب کی وجہ سے خاصی چہل پہل ہوجایا کرتی تھی اور جلسہ کا سا رنگ معلوم دیا کرتا تھا۔ رقعات اور عرائض کا سلسلہ کچھ زیادہ لمبا ہوگیا اور بچوں وخادمات کے بار بار کے جانے کی وجہ سے حضور کی توجہ الی اللہ میں خلل اورروک محسوس ہوئی تو کہدیا گیا کہ اب کوئی رقعہ حضرت کے حضور نہ بھیجا جاوے ۔ الغرض دن اونچا ہونے سے لے کر ظہر تک اور ظہر کے بعد سے عصر اور شام بلکہ عشاء کی نماز تک سیدنا حضرت اقدس مسیح موعودعلیہ الصلوٰۃ والسلام دروازے بندکئے دعاؤں میں مشغول اپنی جماعت کے لئے اللہ کے حضور التجائیں کرتے رہے ۔ اسلام کی فتح اور خداکے نام کے جلال وجمال کے ظہور، آنحضرت صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی صداقت اور احیاء وغلبہ اسلام
کے لئے نہ جانیں کس کس رنگ میں تنہا سوزوگداز سے دعائیں کرتے رہے اور یہ امر دعائیں کرنے والے جانتے ہیںیا جس ذات سے التجائیں کی گئیں وہ جانتا ہے ۔ لوگوں نے جو کچھ سنا وہ آگے سنا دیا یا قیاس کر لیا ورنہ حقیقت یہی تھی کہ خد اکا برگزیدہ جانتا تھا یا پھر خدا جس سے وہ مقدس کچھ مانگ رہا تھا۔
(4) دوسرا دن عید کا تھااللہ تعالیٰ نے کل کی دعاؤں کو سنا اور نوازا۔ اس روز کے تنہائی کے راز ونیاز کو قبول فرمایا اور حضور کو بشارتیں دیں جن کے نتیجہ میں حضور کی طرف سے حضرت مولانا عبد الکریم صاحب ، حضرت مولانا نور الدین صاحب اور بعض اور احبابِ خاص کو یہ ارشاد پہنچا کہ آج ہم کچھ بولیں گے اور عربی زبان میں تقریر کریں گے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے عربی میں نطق کی خاص قوت عطا فرمانے کا وعدہ فرمایا ہے۔ لہٰذا آپ لکھنے کا سامان لے کر مسجد چلیں۔ اس خبر سے قادیان بھر میں مسرت وانبساط کی ایک لہر دوڑ گئی اور ہماری عید کو چار چاند لگ گئے۔
عید کے موقع پر اکثر شیخ رحمت اللہ صاحب مرحوم حضرت کے حضور نیا لباس پیش کیا کرتے تھے اور مدت سے اُن کا یہ طریق چلا آرہا تھا ۔ اس روز اس لباس کے پہنچنے میں کچھ تاخیر ہوگئی یا سیدنا حضرت اقدس ہی خد اکے موعود فضل کے حصول کی سعی و کوشش میں ذرا جلد تشریف لے آئے وہ لباس پہنچا نہ تھا اور حضور تیار ہو کر مسجد کی سیڑھیوں کے رستے اتر کر مسجد اقصیٰ کو روانہ ہوگئے تھے۔ مسجد مبارک کی کوچہ بندی سے ایک یا دوقدم ہی حضور آگے بڑھے ہوں گے کہ وہ لباس حضرت کے حضور پیش ہوگیااور حضور پر نور خلافِ عادت شیخ صاحب کی دلجوئی کے لئے واپس الدار کو لوٹے۔ اندرون بیت تشریف لے جا کر یہ لباس زیب تن فرمایا اور پھر جلد ہی واپس مسجد اقصیٰ میں پہنچ کر حسب معمول مخدومنا حضرت مولانا مولوی عبد الکریم صاحبؓکی اقتداء میں نماز عید ایک خاصے مجمع سمیت ادا فرمائی مگر خطبہ عید حضرت اقدس نے دیا۔
(سیرۃ المہدی ، جلد2،تتمہ ، صفحہ 365 ،مطبوعہ قادیان 2008)