(بقیہ)
جلسہ اعظم مذاہب لاہور
از عبدالرحمٰن قادیانی ؓ
(9) جلسہ سے چند ہی روز قبل اللہ تعالیٰ نے حضور کو الہاماً اس مضمون کے متعلق بشارت دی کہ ’’ یہ وہ مضمون ہے جو سب پر غالب آئے گا‘‘ اور اس کی مقبولیت دلوں میں گھر کر جائے گی اور کہ یہ امر بطور ایک ’’نشان صداقت‘‘ ہو گا۔ چنانچہ حضور پرنور نے ۲۱ ؍دسمبر ۱۸۹۶ء کو ایک اشتہار بعنوان
’’سچائی کے طالبوں کے لئے
ایک عظیم الشان خوشخبری‘‘
لکھ کر کاتب کے حوالے کیا اور مجھ ناچیز غلام کو یاد فرما کر یہ اعزاز بخشا اور فرمایا کہ
’’ میاں عبدالرحمن! اس اشتہار کو چھپوا کر خود لاہور لے جائو اور خواجہ صاحب کو (جو کہ ایک ہی روز پہلے انتظامات جلسہ کے لئے لاہور بھیجے گئے تھے) کو پہنچا کر ہماری طرف سے تاکید کر دینا کہ’’ اس کی خوب اشاعت کریں ۔ ضرورت ہو تو وہیں اور چھپوا لیں۔ ہماری طرف سے ان کو اچھی طرح تاکید کرنا کیونکہ وہ بعض اوقات ڈر جایا کرتے ہیں، بار بار اور زور سے یہ پیغام پہنچا دینا کہ ڈرنے کی کوئی بات نہیں۔ لوگوں کی مخالفت کا خیال اس کام میں ہرگز روک نہ بنے۔ یہ انسانی کام نہیں کہ کسی کے روکے رک جائے بلکہ خدا کا کام ہے جو بہر حال پورا ہو کر رہے گا۔ ‘‘
(10) اشتہار قریبًاآدھی رات کو تیار ہوا اور میں اسی وقت لے کرپیدل بٹالہ کو روانہ ہو گیا۔ ۲۲؍ دسمبر ۱۸۹۶ء کی دوپہر کے قریب لاہور پہنچا۔ جناب خواجہ صاحب اس زمانہ میں لاہور کی مشہور مسجد مسجد وزیر خان کے عقب کی ایک تنگ سی گلی میں رہا کرتے تھے جہاں میں انکو تلاش کر کے جا ملا اور اشتہارات کا بنڈل اور حضور کا حکم کھول کھول کر سنا دیا بلکہ باربار دہرا بھی دیا۔ خواجہ صاحب کے ساتھ اس وقت دو اور دوست بھی وہاں موجود تھے جن کے نام مجھے یاد نہیں رہے۔ خواجہ صاحب نے بنڈل اشتہارات کا کھولا اور مضمون اشتہار پڑھا اور میں نے دیکھا کہ چہرہ اُن کا بجائے بشاش اور خوش ہونے کے افسردہ و اداس سا ہو گیا اور مجھ سے مخاطب ہو کر فرمانے لگے۔
’’ میاں! حضرت کو کیا علم کہ ہمیں یہاں کن مشکلات کا سامنا ہو رہا ہے۔ اور مخالفت کا کتنا زور ہے۔ ان حالات میں اگر یہ اشتہار شائع کیا گیا تو یہ ایک تودۂ بارود میں چنگاری کا کام دے گا اور عجب نہیں کہ نفس جلسہ کا انعقاد ہی ناممکن ہو جائے۔ موقعہ پر موجودگی اور حالات کی پیچیدگی سے آخر ہم پر بھی کوئی ذمہ واری آتی ہے۔ اچھا جو خدا کرائے ،انشاء اللہ کریں گے۔ ‘‘
آخر سوچ بچار، صلاح مشوروں اور اونچ نیچ، اتار چڑھائو کی دیکھ بھال کے بعد دوسری یا تیسری رات کے اندھیروں میں بعض غیر معروف مقامات پر چند اشتہارات چسپاں کرائے جن کا عدم و وجود یکساں تھا کیونکہ غیر معروف مقامات کے علاوہ وہ اشتہار اتنے اونچے لگائے گئے تھے کہ اوّل تو کوئی دیکھے ہی نہیں اور اگر دیکھ پائے تو پڑھ ہی نہ سکے۔
(11)میں نے دیکھا اور سنابھی کہ سیدنا حضرت اقدس کے اصل مضمون کا حصہ خواجہ صاحب قادیان سے اپنے ساتھ لاہور لائے تھے اس کا مطالعہ اور آیات قرآنی کی تلاوت کی مشق کا سلسلہ بھی جاری تھا۔ خواجہ صاحب کے لاہور چلے آنے کے بعد جو جو حصہ مضمون تیار ہوتا جاتا اس کی نقل ان کو لاہور پہنچائی جاتی رہتی اور یہ سلسلہ ۲۵؍ دسمبر ۱۸۹۶ء کی شام تک جاری رہاتھا یا شاید ۲۶؍ دسمبر کی رات تک بھی۔
(12)جلسہ خدا کے فضل سے ہوا۔ بہتر جگہ اور بہتر انتظام کے ماتحت ہوا اور واقعی سخت مخالفتوں کے طوفان اور مشکلات کی کٹھن اور خطرناک گھاٹیوں کو عبور کرنے کے بعد ہوا۔ بڑی بڑی روکیں کھڑی کی گئیں۔ طرح طرح کے حیلے اور باریک در باریک چالیں چلی گئیں مگر بالآخر ہندو و یہود اور ان کے معاون و مددگاروں کا خیبری قلعہ ٹوٹا اور بعینہٖ وہی ہوا جس کا نقشہ الہام الٰہی
’’اللّٰہ اکبر خربت خیبر ‘‘
میں بیان ہوا تھا۔ دشمنوں نے ٹاؤن ہال نہ لینے دیا تو اللہ تعالیٰ نے اس سے بھی بہتر سامان کر دیا اور اسلامیہ ہائی سکول اندرون شیرانوالہ دروازہ کی وسیع اور دو منزلہ عمارت ،لمبے چوڑے صحن، بڑے بڑے کمروں ،ہال کمرہ اور گیلریوں کو ملا کر ایک بڑی عظم الشان عمارت جو ا یک بڑے اجتماع کے لئے کافی اور موزوں تھی خدا نے دلا دی۔ ۲۶؍ دسمبر کا روز جلسہ کا پہلا دن تھا۔ حاضری حوصلہ افزا نہ تھی۔ سیدنا حضرت اقدس مسیح پاک علیہ اَلف الف صلوٰۃٍ وَالسَّلام کے مضمون کے لئے ۲۷؍ دسمبر کا دن اور ڈیڑھ بجے دوپہر کا وقت مقرر تھا۔ خدا کی قدرت کا کرشمہ اور اس کے خاص فضل کا نتیجہ تھا کہ حضرت مولانا مولوی عبدالکریم صاحب وفور عشق و محبت سے بیتاب ہو کر والہانہ رنگ میں وقت سے پہلے لاہور پہنچ گئے جن کی تشریف آوری سے ہم لوگوں کے لئے خاص تسکین اور خوشی کے سامان اللہ تعالیٰ نے بہم پہنچا دئیے۔
(13)حالات کی ناموافقت، جوش مخالفت اور قسما قسم کی مشکلات نیز وقت کی ناموزونیت کے باعث خطرہ تھا اور فکر دامنگیر کہ جلسہ شاید حسب دل خواہ بارونق نہ ہو سکے گا مگر شان ایزدی کہ خلق خدا یوں کھچی چلی آرہی تھی، جیسے فرشتوں کی فوج اسے دھکیلے لا رہی ہو اور ان کی تحریک کا اتنا گہر اثر ہوا کہ مخلوق کے دل بدل گئے اور ان کے قلوب میں بجائے عداوت و نفرت کے عشق و محبت بھر گئی۔ مخالفوں کی مخالفت نے کھاد کا کام دیا اور روکنے و شرارت کرنے والوں کے غوغا نے لوگوں کی توجہ کو جلسہ کی طرف پھیر دیا جس سے لوگ کشاں کشاں تیز قدم ہو ہو کر جلسہ گاہ کی طرف بڑھے اور ہوتے ہوتے آخر نوبت یہاں تک پہنچی کہ صحن اور اس کے تمام بغلی کمرے اور ہال بھر گیا۔ اوپر کی گیلریوں میں تِل دھرنے کو جگہ نہ رہی اور ہجوم اس قدر بڑھا کہ گنجائش نکالنے کو سمٹنا اور سکڑنا پڑا۔ دسمبر کی تعطیلات کی وجہ سے جا بجا جلسے ، کانفرنسیں اور میٹنگیں ہو رہی تھیں۔ لوگوں کی مصروفیات ان کے دنیوی کاموں میںانہماک اور مادی فوائد کے حصول کی مساعی کی موجودگی میں ایک خالص مذہبی جلسہ و کانفرنس میں اس کثرت ہجوم کو دیکھنے والا ہرکس وناکس اس منظر سے متاثر ہو کر اس حاضر ی کی کامیابی کو غیر معمولی، خاص اور خدائی تحریک و تصرّف کا نتیجہ کہنے پر مجبور تھا اور ایک ہندو کو اس سے انکار تھا نہ ہی سکھ اور آریہ سماجی کو۔ مسلمان کو اس سے اختلاف تھا نہ عیسائی یہودی یا دیو سماجی کو بلکہ ہر فرقہ و طبقہ کے لوگ آج کے اس خارق عادت جذب اور بے نظیر کشش سے متاثر اور دل ان کے سچ مچ مرعوب ہو کر نرم تھے۔ دیکھنے اور سننے میں فرق ہوتا ہے اس تقریب کی تصویر الفاظ میں ممکن نہیں۔ مختصر یہ کہ وہ اجتماع اپنے ماحول کے باعث یقینا عظیم الشان ، بے نظیر اور لاریب غیر معمولی تھا۔
(14)مضمون کا شروع ہونا تھا کہ لوگ بے اختیار جھومنے لگے اور ان کی زبانوں پر بے ساختہ سبحان اللہ! اور سبحان اللہ! کے کلمات جاری ہو گئے۔ سنا ہوا تھا کہ علم توجہ اور مسمریزم سے ایک معمول سے تو یہ کچھ ممکن ہو جاتا ہے مگر ہزاروں کے ایک ایسے مجمع پر جس میں مختلف قویٰ، عقاید اور خیال کے لوگ جمع تھے اس کیفیت کا مسلط ہو جانا یقینا خارق عادت اور معجزانہ تاثیر کا نتیجہ تھا۔ یہ درست ہے کہ حضرت مولانا مولوی عبدالکریم صاحب کو قرآن کریم سے ایک عشق تھا اور اللہ تعالیٰ نے آواز میں بھی ان کی لحن دائودی کی جھلک پیدا کر رکھی تھی نیز وہ ان آیات و مضامین کے ربط اور حقائق سے متاثر ہو کر جس رقت ،سوز اور جوش سے تلاوت فرماتے آپ کا وہ پڑھنا آپ کی قلبی کیفیات اور لذت و سرور کے ساتھ مل کر سامعین کو متاثر کئے بغیر نہ رہتا تھا مگراس مجلس کی کیفیت بالکل ہی نرالی تھی اور کچھ ایسا سماں بندھا کہ اول تا آخر آیات قرآنی کیا اور ان کی تشریح و تفسیر کیا، سارا ہی مضمون کچھ ایسا فصیح،بلیغ، مؤثر اور دلچسپ تھا کہ نہ مولانا موصوف کے لہجہ میں فرق آیا اور نہ جوش لذت ہی پھیکے پڑے۔ معارف کی فرا وانی کے ساتھ عبارت کی سلاست وروانی اور مضمون کی خوبی و ثقاہت نے حاضرین کو کچھ ایسا از خود رفتہ بنا دیا جیسے کوئی مسحور ہوں۔ میں نے کانوں سنا کہ ہندو اور سکھ بلکہ کٹڑ آریہ سماجی اور عیسائی تک بے ساختہ سبحان اللہ! سبحان اللہ ! پکار رہے تھے۔
ہزاروں انسانوں کا یہ مجمع اس طرح بے حس و حرکت بیٹھا تھا جیسے کوئی بت بے جان ہوں اور ان کے سروں پر اگر پرندے بھی آن بیٹھتے تو تعجب کی بات نہ تھی۔ مضمون کی روحانی کیفیت دلوںپر حاوی اور اس کے پڑھے جانے کی گونج کے سوا سانس تک لینے کی آواز نہ آتی تھی حتیّٰ کہ قدرت خداوندی سے اس وقت جانور تک خاموش تھے اور مضمون کے مقناطیسی اثر میں کوئی خارجی آواز رخنہ انداز نہیں ہو رہی تھی۔ کم و بیش متواتر دو گھنٹے یہی کیفیت رہی۔
افسوس کہ میں اس کیفیت کے اظہار کے قابل نہیں۔ کاش میں اس لائق ہوتا کہ جو کچھ میں نے وہاں دیکھا اور سنا اس کے عکس کا عشر عشیر ہی بیان کر سکتا جس سے اس علمی معجزہ و نشان کی عظمت دنیا پر واضح ہو کر خلق خدا کے کان حق کے سننے کو اور دل اس کے قبول کرنے کو آمادہ وتیار ہوتے جس سے دنیا جہان کے گناہ، معاصی اور غفلتیں دور ہو کر ہزاروں انسان قبول حق کی توفیق پا جاتے۔
(15)ساڑھے تین بج گئے۔ وقت ختم ہو گیا جس کی وجہ سے چند منٹ کے لئے اس پُر لذت و سرور کیفیت میں وقفہ ہوا۔ اگلا نصف گھنٹہ مولوی مبارک علی صاحب سیالکوٹی کے مضمون کے لئے تھا۔ انہوں نے جلدی سے کھڑے ہو کر پبلک کے اس تقاضا کو کہ ’’ یہی مضمون جاری رکھا جائے نیز کسی اور کی بجائے اسی مضمون کو وقت دیا جائے اسی مضمون کو مکمل و پورا کیا جائے ‘‘اپنا وقت دے کر پورا کر دیا بلکہ اعلان کیا کہ میں اپنا وقت اور اپنی خواہش اس قیمتی مضمون پر قربان کرتا ہوں۔ چنانچہ پھر وہی پیاری ، مرغوب اور دلکش و دلنشیں داستان شروع ہوئی اور پھر وہی سماں بندھ گیا۔ چار بج گئے مگر مضمون ابھی باقی تھا اور پیاس لوگوں کی بجائے کم ہونے کے بڑھی جا رہی تھی۔ سامعین کے اصرار اور خود منتظمین کی دلچسپی کی وجہ سے مضمون پڑھا جاتا رہا حتیّٰ کہ ساڑھے پانچ بج گئے۔ رات کے اندھیرے نے اپنی سیاہ چادر پھیلانی شروع کر دی۔ مجبوراً یہ نہایت ہی میٹھی اور پُر معرفت اور مسرت بخش مجلس اختتام کو پہنچی اور بقیہ مضمون ۲۹ دسمبر کے لئے ملتوی کیا گیا۔
کوئی دل نہ تھا جو اس لذت و سرور کو محسوس نہ کرتا ہو۔ کوئی زبان نہ تھی جو اس کی خوبی و برتری کا اقرارواعتراف نہ کرتی اور اس کی تعریف و توصیف میں رطب اللسان نہ تھی۔ ہر کوئی اپنے حال اور قال سے اقرار و اعتراف کر رہا تھا کہ واقعی یہ مضمون سب پر غالب رہا اور اپنی بلندی ، لطافت اور خوبی کے باعث اس جلسہ کی زینت ، روح رواں اور کامیابی کا ضامن ہے۔ نہ صرف یہی بلکہ ہم نے اپنے کانوں سنا اور آنکھوں دیکھا کہ کئی ہندو اور سکھ صاحبان مسلمانوں کو گلے لگا لگا کر کہہ رہے تھے کہ
’’ اگر یہی قرآن کی تعلیم اور یہی اسلام ہے جو آج مرزا صاحب نے بیان فرمایا ہے تو ہم لوگ آج نہیں تو کل اس کو قبول کرنے پر مجبور ہوں گے اور اگر مرزا صاحب کے اسی قسم کے ایک دو مضمون اور سنائے گئے تو اس میں کوئی شبہ نہیں کہ اسلام ہی ہمارا بھی مذہب ہو گا۔ ‘‘
(سیرۃ المہدی ، جلد2،تتمہ ، صفحہ 352 ،مطبوعہ قادیان 2008)
ضض ضض