اردو   हिंदी   বাংলা   ಕನ್ನಡ   മലയാളം   ଓଡ଼ିଆ   தமிழ்   తెలుగు  




.

2024-10-17

سیرت المہدی (از حضرت مرزا بشیر احمد صاحب ایم.اے.رضی اللہ عنہ )

مکتوب مکرم محمد نصیب صاحب
بسم اللہ الرحمن الرحیم
نحمدہ ونصلی علی رسولہ الکریم
بخدمت حضرت خلیفۃ المسیح الثانی ایدہ اللہ بنصرہ العزیز
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
میں اخبار بدر دیکھ رہا تھا اس میں ۲۷؍ فروری ۱۹۰۸ء کے اخبار میں حضرت مولوی نورالدین صاحب کی تقریر جو آپ نے ۱۷؍ فروری ۱۹۰۸ء کو حضرت مسیح موعودعلیہ السلام کی موجودگی میں آپ کے سامنے فرمائی، حسب ذیل پائی گئی۔ اس کی نقل پیش خدمت ہے ۔
’’ گزشتہ ہفتہ میں مختصراً نواب محمد علی خان صاحب رئیس مالیر کوٹلہ کا نکاح صاحبزادی مبارکہ بیگم کے ساتھ ۱۷؍ فروری کو ہونا ذکر کیا گیا تھا۔ حضرت مولوی نور الدین صاحب نے خطبہ نکاح میں کیا خوب فرمایا تھا ۔ کہ ایک وقت تھا جبکہ حضرت نواب صاحب موصوف کے ایک مورث اعلیٰ صدر جہان کو ایک بادشاہ نے اپنی لڑکی نکاح میں دی تھی اور وہ بزرگ بہت ہی خوش قسمت تھا مگر ہمارے دوست نواب محمد علی خان صاحب اس سے زیادہ خوش قسمت ہیں کہ ان کے نکاح میں ایک نبی اللہ کی لڑکی آئی ہے ۔
نواب صاحب موصوف کے خاندان میں حق مہر کے متعلق دستور ہوتا ہے کہ کئی کئی لاکھ مقرر کیا جاتا ہے اور انہوں نے اپنی قومی رسم کے مطابق اب بھی یہی کہا تھا مگر حضر ت اقدس علیہ السلام نے پسند نہ فرمایا۔ تاہم نواب صاحب کی وجاہت اور ریاست کے لحاظ سے چھپن ہزار روپے حق مہر مؤجل مقرر ہوا۔ ‘‘
اس عبارت کی نقل کرنے اور خدمت والا میں عرض کرنے کی غرض یہ ظاہر کرنا ہے کہ حضرت مولوی صاحب کا حضرت مسیح موعودعلیہ السلام کی نبوت کے متعلق کیا خیال تھا؟
…٭…٭…٭…
مکتوب مکرم ملک حسن محمد احمدی
بسم اللہ الرحمن الرحیم
نحمدہ ونصلی علی رسولہ الکریم
بخدمت جناب حضرت مرزا بشیر احمد صاحب سلمہ اللہ تعالیٰ
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہٗ
ایک روایت الفضل مجریہ ۲۰؍اخاء ۱۳۲۸ھش میں شائع ہوئی ہے جسکے راوی مولوی محمد احمد صاحب وکیل کپور تھلوی ہیں اور انہوں نے اپنے والد بزرگوار حضرت منشی ظفر احمد رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے سنی ہے ۔ جوخاکسار کی نظر سے بھی گذری۔ اس میں ایک فقرہ ایسا ہے جسنے مجھے بھی ایک شہادت کے بیان کرنے پر مجبور کیا۔ وہ فقرہ یہ ہے کہ
’’مرزا سلطان احمد صاحب نے ہماری تائی مرحومہ (تائی آئی الہام سیدنا مسیح موعود ؑ)کے پیچھے لگ کر ساری عمر حضرت مسیح موعودعلیہ السلام سے علیحدگی اور ایک گونہ مخالفت میں گذاری ۔
میری شہادت :خاکسار سیدنا خلیفۃ المسیح اول رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی مبارک مجلس میں بیٹھا ہوا تھا۔ یہ اس وقت کا واقعہ ہے جب سیدنا مسیح موعودعلیہ الصلوٰۃ والسلام حیات تھے اور حضرت خلیفہ اوّل حکیم الامت کے مبارک لقب سے یاد ہوتے تھے ۔ حضرت مولوی صاحب نے فرمایا ’’حضرت مرزا سلطان احمد صاحب میرے پاس آئے اور انہوںنے مجھے کہا کہ حضرت مسیح موعود ؑ سے میری صلح کروادیں اور مجھے حضرت کی خدمت میں اپنے ہمراہ لے چلیں تا میں حضرت سے معافی مانگ لوں ۔‘‘
مولوی صاحبؓنے فرمایا !’’میںنے حضرت کی خدمت میں حاضر ہوکر اس معاملہ کو پیش کیا کہ مرزا سلطان احمد صاحب حضور کی خدمت میں حاضر ہوکر معافی مانگنا چاہتے ہیں ۔ حضور کا کیاارشاد ہے۔ میں ان کو اپنے ہمراہ لے آؤں اس پر حضرت مسیح موعودعلیہ السلام نے فرمایا ’’جب تک سلطان احمد اپنے چال چلن درست نہیں کرتا اس وقت تک میرے پاس نہ آوے۔‘‘
یہ شہادت حضرت حکیم الامت خلیفۃ المسیح الاوّل رضی اللہ عنہ کی ہے جس کو مولوی صاحبؓنے اپنی مجلس میں بیان فرمایا جس کا میں شاہد ہوں ۔
دوسری شہادت خان بہادر مرزا سلطان احمد صاحب مرحوم کی بیگم صاحبہ کی ہے جو میری بیوی کے روبرو موصوفہ نے بیان فرمائی اس کے ذریعہ مجھ تک پہنچی ۔ میری بیوی کے روبرو محترمہ خورشید بیگم صاحبہ حرم مرزا سلطان احمد صاحب مرحوم نے بیان کیا کہ مرزا صاحب یعنے مرزا سلطان احمد صاحب فرماتے ہیں کہ ’’میں سلسلہ عالیہ احمدیہ کا مخالف نہیں ہوں میں مسیح موعود کو مانتا ہوں لیکن میرے اندر کچھ خامیاں کمزوریاں ہیں جن کی وجہ سے میں بیعت نہیں کرتا۔ ‘‘
تیسری شہادت :۔محترمہ مکرمہ اُم ناصر احمد صاحب حرم اوّل سیدنا امیر المومنین خلیفۃ المسیح الثانی ایدہ اللہ بنصرہ العزیز کی ہے یہ شہادت بھی میری بیوی محترمہ کے ذریعہ سے مجھ تک پہنچی ہے۔ محترمہ اُم ناصر احمد صاحب نے بیان کیا کہ ’’ حضرت مسیح موعود علیہ السلام صحن میں شہ نشین پر تشریف فرما وضو کر رہے تھے کہ خادمہ نے ایک کاغذ آپ کے حضور پیش کیا۔ حضور نے اسی وقت وہ کاغذ کھول کر پڑھنا شروع کیا اور اسی وقت پڑھ کر اس کو چاک کر دیا اور فرمایا ’’ جب بھی سلطان احمد دعا کے لئے لکھتا ہے دنیاوی ترقی کے لئے ہی لکھتا ہے دین کے لئے کبھی نہیں لکھتا۔ ‘‘ کچھ دنوں کے بعد مرزا سلطان احمد صاحب مرحوم کا عریضہ پھر حضور کی خدمت میں پیش ہوا جس میں لکھا ہوا تھا کہ حضور کی دعائوں سے اللہ تعالیٰ نے مجھے ترقی عطا فرمائی ہے ‘‘ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے فرمایا
’’ میں نے تو دعا کی ہی نہیں ‘‘
ان شہادات کو بنظر غور دیکھا جاوے تو معمولی سے تدبر کے بعد معلوم ہو جاتا ہے کہ سیدنا مسیح موعود علیہ السلام کے دعاوی پر خان بہادر مرزا سلطان احمد مرحوم کو کامل ایمان و یقین تھا۔ لیکن بعض اپنی کمزوریوں کی وجہ سے بیعت عمداً نہیں کرتے تھے کہ اس بیعت پر میں عمل پیرا نہیں ہو سکتا۔ جھوٹا اقرار کیوں کروں۔
لما تقولون مالا تفعلون
(سیرۃ المہدی ، جلد2،حصہ پنجم ،مطبوعہ قادیان 2008)
ضض ضض