(1444)بسم اللہ الرحمن الرحیم ۔ اہلیہ محترمہ قاضی عبد الرحیم صاحب بھٹی قادیان نے بواسطہ لجنہ اماء اللہ قادیان بذریعہ تحریر بیان کیا ہے کہ جب بڑی سخت طاعون پڑی تھی تو حضورؑ نے حکم دیا تھا کہ لوگ صدقہ کریں ۔ چنانچہ لوگوں نے صدقے کئے اور حضورعلیہ السلام نے بھی کئی جانور صدقہ کئے تھے۔ گوشت اس قدر ہوگیا تھا کہ کوئی کھانے والا نہیں ملتا تھا۔
انہی دنوں میں ماسٹر محمد دین صاحب جو آج کل ہیڈ ماسٹر ہیں ان کو طاعون ہو گئی تھی۔ ان کے واسطے حضور علیہ السلام نے کیمپ لگوادیا تھا۔ تیمارداری کے واسطے ڈاکٹر گوہر دین صاحب کو مقرر فرمایا تھا اور گھر میں ہم سب کو حکم دیا تھا کہ’’دعا کرو،خدا ان کو صحت دیوے۔ چنانچہ ان کو صحت ہوگئی تھی۔‘‘
(1445)بسم اللہ الرحمن الرحیم۔ اصغری بیگم صاحبہ بنت اکبر خان صاحب مرحوم دربان زوجہ مدد خان صاحب نے بواسطہ لجنہ اماء اللہ قادیان بذریعہ تحریر بیان کیا کہ ’’ایک دن میں اکیلی بیٹھی تھی۔ بادل گھرا ہو اتھا اور ترشح ہورہاتھا۔حضورؑ نے پوچھا کہ ’’تمہارا بچہ کہاں ہے ؟‘‘ میں نے عرض کی کہ حضور خادمہ اپنے گھر لے گئی ہے ۔ حضورؑ نے فرمایا کہ ’’اور تونے اس کو گھر لے جانے کی اجازت کیوں دی ؟ یہ لوگ گھر جا کر خود اپنے کاموں میں لگ جاتے ہیں اور بچوں کو زمین پر چھوڑ دیتے ہیں وہ بارش میں بھیگ رہاہوگا۔‘‘ حضور علیہ السلام نے ایک اور خادمہ سے فرمایا کہ ’’ جلدی جاکر اس کے بچہ کو لے آ۔‘‘ چنانچہ جب وہ عورت گئی تو دیکھا کہ وہ خود چکی پیس رہی تھی اور بچہ کو باہر زمین پر بارش میں بٹھایا ہوا تھا۔وہ خادمہ بھیگتے ہوئے بچہ کو اٹھا لائی تو ہم لوگ حیران ہوئے کہ جس طرح حضورؑ نے فرمایا تھا کہ بچہ بارش میں بھیگ رہاہوگا ویسا ہی ظہور میں آیا۔
((1446بسم اللہ الرحمن الرحیم ۔حضرت اُم ناصر صاحبہ حرم اوّل حضرت خلیفۃ المسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ وبنت ڈاکٹر خلیفہ رشید الدین صاحب مرحوم ومغفور نے بواسطہ لجنہ اماء اللہ قادیان بذریعہ تحریر بیان کیا کہ حضور علیہ السلام مجھ پر نہایت مہربانی اور شفقت فرمایا کرتے تھے۔ مجھے جس چیز کی ضرورت ہوتی حضورؑ سے عرض کرتی حضورؑ اس کو مہیا کردیتے اور کبھی انکار نہ کرتے۔
میرا اور سیدہ مبارکہ بیگم صاحبہ کا روز مرہ کا معمول تھا کہ عصر کے بعد ایک دن مَیں اور ایک دن مبارکہ بیگم حضورؑ کے پاس جاتے اور کہتے کہ حضورؑ بھوک لگی ہے۔ حضورؑ کے سرہانے دو لکڑی کے بکس ہوتے تھے۔ حضورؑ چابی دے دیتے۔مٹھائی یا بسکٹ جو اس میں ہوتے تھے جس قدر ضرورت ہوتی ہم نکال لیتے ،ہم کھانے والی دونوں ہوتیں تھیں مگر ہم تین یاچار یا چھ کے اندازہ کا نکال لیتیں اور حضورؑ کو دکھا دیتیں تو حضور علیہ السلام نے کبھی نہیں کہا کہ زیادہ ہے اتنا کیا کروگی۔
((1447بسم اللہ الرحمن الرحیم ۔میاں خیر الدین صاحب سیکھوانی نے بذریعہ تحریر مجھ سے بیان کیا کہ ایک دفعہ حضور علیہ السلام نے فرمایا کہ یہ جو الہام ہے کہ ’’دنیا میں ایک نذیر آیا پر دنیا نے اس کو قبول نہ کیا لیکن خدا اسے قبول کرے گا اور بڑے زور آور حملوں سے اس کی سچائی ظاہر کر دے گا۔‘‘ اس کی ایک قرأت یہ بھی ہے کہ ’’دنیا میں ایک نبی آیا‘‘ (یعنی بجائے ’’نذیر ‘‘ نبی کا لفظ الہام میں ہے )
((1448بسم اللہ الرحمن الرحیم ۔میاں خیر الدین صاحب سیکھوانی نے بیان کیا کہ ایک دفعہ حضور علیہ السلام مسجد مبارک میں بیٹھے ہوئے تھے ایک شخص نے سوال کیا کہ جبکہ اعمال محدود ہیں تو نجات ابدی کیونکر ہے؟ فرمایا کہ موت بندہ کے اپنے اختیار کی چیز نہیں ہے اگر وہ ہمیشہ زندہ رہتا تو اعمال کرتا رہتا لیکن خدا نے اس کو موت دے دی ۔ یہ اختیار سے باہر ہے لہٰذا نجات ابدی ہے ۔‘‘
((1449بسم اللہ الرحمن الرحیم ۔میاں خیر الدین صاحب سیکھوانی نے بذریعہ تحریر مجھ سے بیان کیا کہ ایک دفعہ حضورؑ نے فرمایا کہ ’’نبی جب مجلس میں بیٹھتا ہے توگویا دکانِ عَطاّری کھولتا ہے ہر ایک کو (یعنی روحانی مریضوں کو) مناسب حال نسخہ جات بتاتا ہے۔‘‘
((1450بسم اللہ الرحمن الرحیم ۔اہلیہ صاحبہ مولوی فضل الدین صاحب زمیندار کھاریاں نے بواسطہ لجنہ اماء اللہ قادیان بذریعہ تحریر بیان کیا کہ حضور علیہ السلام نے مجھے فرمایا کہ ’’طاعون کم سردی میں شروع ہوتی ہے اور جب طاعون کے آثار دیکھنا تو باہر چلی جانا۔‘‘ میں نے عرض کی کہ حضورعلیہ السلام میرے پاس باہر رہنے کاسامان نہیں ہے۔ حضور علیہ السلام نے فرمایا کہ ’’موٹے موٹے گدیلے بنا کر چلی جانا ۔‘‘ جب طاعون شروع ہوگئی تو میں ڈرتی تھی کہ حضورؑ نے فرمایا تھا کہ ’’باہر چلے جائیں ‘‘ لیکن میرے خاوند نے کہا کہ چونکہ ہمارے باہر جانے سے مسجد ویران ہو جائے گی اس لئے ہم نہیںجاتے ۔ تو خداتعالیٰ نے حضرت صاحب کی معرفت میرے خاوند کو کچھ بتلادیا اس لئے ہم باہر نہ گئے ۔
((1451بسم اللہ الرحمن الرحیم ۔اہلیہ صاحبہ مولوی فضل الدین صاحب زمیندار کھاریاں نے بواسطہ لجنہ اماء اللہ قادیان بذریعہ تحریر بیان کیا کہ حضرت نانی جان صاحبہؓ اپنے اور اپنے بچوں کے لئے اور حضرت ناناجان صاحبؓ کے لئے حضور علیہ السلام سے دعا کرایا کرتی تھیں نیز مولوی محمد علی صاحب جواَب پیغامی ہیں ان کی بیوی جن کا نام ’’فاطمہ‘‘ تھا اپنے اور اپنی بیٹی رقیہ کے لئے دعا کرایا کرتی تھی۔
مولوی فضل الدین صاحب بھی دعا کرایا کرتے تھے جو میرے شوہر ہیں ۔ جب وہ حضرت صاحب سے خاص محبت میں رخصت مانگا کرتے تھے تو حضورؑ اجازت نہ دیا کرتے تھے ایک بار جس دن ہم نے جانا تھا تو حضور علیہ السلام کو ایک الہام ہوا جو کہ خطرناک تھا۔ حضورؑ نے مجھے رقعہ لکھ کر دیا کہ مولوی صاحب کو دے آؤ۔ میں نے رقعہ پہنچا دیا اور مولوی صاحب سے کہا کہ مجھے بھی ایک رقعہ لکھ دو میںنے حضورؑ کو دعا کے لئے دینا ہے ۔ انہوں نے لکھ دیا۔ میں لے کر چلی گئی اور پوچھا۔حضور اس رقعہ کو الماری میں لگا دوں ؟ حضورؑ نے فرمایا ۔ ’’ہاں ! وہاں پر میرا بہت کام رہتا ہے ۔‘‘ اور میں حکم کی تعمیل کر کے چلی گئی۔
((1452بسم اللہ الرحمن الرحیم ۔حضرت ام ناصر صاحبہ حرم اول حضرت خلیفۃ المسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز وبنت ڈاکٹر خلیفہ رشید الدین صاحب مرحوم ومغفور نے بواسطہ لجنہ اماء اللہ قادیان بذریعہ تحریر بیان کیا کہ مجھے جب پہلا بچہ نصیر احمد پیدا ہونے والا تھا میری طبیعت خراب تھی۔ مجھے دورہ ہوگیا ۔ میں اس وقت بیت الدعا میں تھی۔خادمہ مجھے دبا رہی تھی ۔حضور علیہ السلام بار بار دریافت فرماتے تھے کہ ’’ کیا حال ہے ؟‘‘ حضورؑ نے مجھے دوا بھی بھیجی تھی۔ حضرت خلیفہ ثانی اس وقت گھر میں نہیں تھے ۔جب آئے تو حضورؑ نے فرمایا کہ ’’ محمود تم کو معلوم نہیںکہ محمودہ بیمار ہے؟ جاؤ دیکھو اور مولوی صاحب ( حکیم الامت ) کو بلا کر علاج کراؤ‘‘ حضرت میاں صاحب پہلے میرے پاس آئے، حال پوچھا اور حضرت خلیفہ اول رضی اللہ عنہ کو بلا کر علاج کرایا۔‘‘
((1453بسم اللہ الرحمن الرحیم ۔حضرت اُم ناصر صاحبہ حرم اوّل حضرت امیر المومنین خلیفۃ المسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز وبنت ڈاکٹر خلیفہ رشید الدین صاحب مرحوم نے بواسطہ لجنہ اماء اللہ قادیان بذریعہ تحریر بیان کیاکہ جب بڑا زلزلہ آیا صبح کا وقت تھا۔ یکایک شور وغل کی آوازیں آئیں اور جھٹکے شروع ہوگئے۔ہم اس وقت گھر میں وہ کمرہ جو کوئیںکے اوپر تھا اور اب گرا دیا گیا ہواہے،اس میں تھے ۔نو کریں باہر سے دروازہ کھٹکھٹا تیں کہ دروازہ کھول کر باہر نکلو۔ حضرت خلیفہ الثانی رضی اللہ تعالیٰ چارپائی پر چڑھ کر دروازہ کھولنے کی کوشش فرماتے مگر جھٹکوں کے باعث کھول نہیں سکتے تھے ۔کنڈی کُنڈے سے کچھ ہی پیچھے ہٹاتے تھے کہ زلزلہ کے جھٹکے سے ہاتھ چھوٹ جاتا اور حلقہ پیچھے ہٹ جاتا ۔کئی بار ایسا ہوا ۔بمشکل کنڈی کھولی ۔ سردی بھی لگ رہی تھی۔ میںنے پردہ کے واسطے چادر اٹھانی چاہی مگر میاں صاحب نے میرا ہاتھ پکڑ کے مجھے جلدی سے باہر کھینچ لیا۔وہاں آنگن کی کنڈی بند تھی اسے بمشکل کھولا۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام اور سب خدا کے حضور سجدہ میں گرے پڑے تھے ۔میں نے چونکہ نماز نہیں پڑھنی تھی میں کھڑی رہی ۔ حضرت میاں صاحب نے مجھے ہاتھ سے پکڑ کر سجدہ میں گرادیا۔
((1454بسم اللہ الرحمن الرحیم ۔مراد خاتون صاحبہ اہلیہ محترمہ ڈاکٹر خلیفہ رشیدالدین صاحب مرحوم ومغفور نے بواسطہ لجنہ اماء اللہ قادیان بذریعہ تحریر بیان کیا کہ جب حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کا وصال لاہور میںہو اہے توڈاکٹر صاحب خلیفہ رشید الدین صاحب ایک سال کی رخصت پر قادیان آئے ہوئے تھے۔ آپ نے بہت خواہش کی کہ حضورؑ ان کو بھی اپنے ہمرکاب لاہور جانےکی اجازت مرحمت فرمائی جاوے۔ مگر حضورؑ نے فرمایا کہ ’’تم یہاں گھر کی حفاظت کرو۔بابو شاہ دین صاحب بیمار تھے ان کاعلاج معالجہ بھی کرتے رہو۔اور کہ اپنے آدمی کا پیچھے گھر میں ہونا ضروری ہے ۔ روزانہ خبر بھیجتے رہا کرو۔‘‘ اور اپنے حجرہ میں ڈاکٹر صاحب کو اور مجھے رہنے کا حکم فرمایا ۔ میری والدہ اور بھاوجہ اس جگہ تھے جہاں اب ام ناصر احمد سلمہ ہیں ۔جب حضورؑ کو لاہور میں تکلیف تھی اور جب تک حضورؑ کے وصال کی خبر وصال کے دن عصر کے وقت تک نہ آئی تھی۔ مجھے اور ڈاکٹر صاحب کو ایسی پریشانی تھی کہ کچھ سمجھ میں نہیں آتا تھا۔ دل بیٹھا جاتا تھااور دماغ چکر اتا تھا۔ کسی پہلو قرار نہ تھا ۔جب خبر پہنچی تو حالت دگرگوں ہو گئی اور معلوم ہو اکہ پہلا قلق اس ناشدنی خبر کا پیش خیمہ تھا۔(سیرۃ المہدی ، جلد2،حصہ چہارم ،مطبوعہ قادیان 2008)
…٭…٭…٭…