یہ سوال کہ قرآن شریف کی موجودہ ترتیب کسی اصول پر قائم ہے یانہیں ؟اوراگر ہے تو کس پر؟ تاریخ سے تعلق نہیں رکھتا اورنہ ہی ایک تاریخی تصنیف میں اس قسم کے سوال کاتشریحی جواب دیا جاسکتا ہے مگر اس جگہ اسکے متعلق ایک مختصر سا اشارہ کردینا غالباً بے سود نہ ہوگا۔ سوجاننا چاہئے کہ جیسا کہ دوست ودشمن میں مسلّم ہے اور تاریخ وحدیث اسکے حوالوں سے بھری پڑی ہیں کہ قرآن شریف کی موجودہ ترتیب اسکے نزول کی ترتیب کے مطابق نہیں ہے بلکہ وہ ایک جداگانہ ترتیب ہے جو آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم نے خود خدائی تفہیم کے مطابق مقرر فرمائی تھی۔چنانچہ قرآن شریف میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔اِنَّ عَلَیْنَاجَـمْعَہٗ یعنی ’’قرآن کا جمع کرنا خود ہمارے ذمہ ہے اورہم ہی اس کام کو سرانجام دیں گے۔‘‘ اورظاہر ہے کہ جمع قرآن کاکام خصوصاً جبکہ اسے نزول کی ترتیب سے ہٹا کر دوسری ترتیب میں جمع کیا گیا ہوترتیب کے ساتھ لازم وملزوم کے طور پر ہے اورجیسا کہ اوپر بیان کیا گیا ہے حدیث میں توصراحت کے ساتھ ذکر آتا ہے کہ آنحضرت ﷺ ہر آیت کے نزول پر اورہر سورۃ کے مکمل ہونے پر خود ہدایت فرماتے تھے کہ اس آیت یاسورۃ کو فلاں جگہ رکھو۔ اندریں حالات خواہ کسی شخص کو موجودہ قرآنی ترتیب سمجھ میں آئے یا نہ آئے اس بات میں کوئی شبہ نہیں کیا جاسکتا کہ قرآن میں کوئی نہ کوئی اصول ترتیب ضرور مقصود ہے۔دراصل غور کیا جاوے تواصل نزول کی ترتیب کو چھوڑنا ہی اس بات کی دلیل ہے کہ نئی ترتیب میں کوئی نہ کوئی اصول ضرور مدّنظر رکھا گیا ہے۔ورنہ کوئی وجہ نہیں تھی کہ نزول کی ترتیب کوترک کرکے کوئی اورترتیب اختیار کی جاتی۔مثلاً ایک ہال میں چند آدمی یکے بعد دیگرے داخل ہوتے ہیں۔اب اگر ہال کا منتظم ان آدمیوں کے متعلق خاص اہتمام کے ساتھ یہ انتظام کرتا ہے کہ وہ داخل ہونے کی ترتیب سے نہ بیٹھیں بلکہ انہیں کسی اور ترتیب کے ساتھ بٹھاتا ہے تو اس کا یہی فعل اس بات کی دلیل ہوگا کہ خواہ اس کا اصول ترتیب کسی کو معلوم ہویانہ ہو،مگر اس کے مدّنظر کوئی نہ کوئی اصول ضرور ہے۔ورنہ کوئی وجہ نہیں تھی کہ داخلہ کی ترتیب کو تبدیل کیا جاتاکیونکہ کوئی ہوش وحواس رکھنے والا انسان یونہی لغوطور پر بلاوجہ کوئی کام نہیں کرتا۔
اس موقع پر اکثر یورپین محققین یہ کہا کرتے ہیں کہ ہال کے منتظم نے داخلہ کی ترتیب کوبدل کر سائزنگ کے اصول پرلوگوں کوبٹھا دیا ہے۔یعنی قرآنی سورتوں کو ان کی لمبائی کے لحاظ سے ترتیب دیا گیا ہے۔مگر یہ ایک سراسربے بنیاد اورغلط خیال ہےکیونکہ اول توہم اوپر ثابت کرچکے ہیں کہ جمع وترتیب کاکام خود آنحضرت ﷺ نے خدائی تفہیم کے ماتحت سرانجام دیا تھا اور آنحضرت ﷺ جیسے انسان کی طرف اس قسم کا عبث فعل کبھی بھی منسوب نہیں کیا جا سکتا۔ایسا فعل وہی شخص کرسکتا ہے جو عقل وخرد سے بالکل عاری ہو۔نزول کی ترتیب جس سے کم از کم بعض تاریخی فوائد کے حصول میں آسانی ہوسکتی تھی اسے محض اس وجہ سے ترک کرنا کہ قرآنی سورتیں لمبے اورچھوٹے ہونے کے لحاظ سے ترتیب دی جاسکیں جس میں کوئی بھی علمی فائدہ متصوّر نہیں ہے، ایک ایسا فعل ہے کہ آنحضرتﷺ تودرکنار ایک معمولی عقل کا آدمی بھی اسکا مرتکب نہیں ہوسکتا تھا اور آنحضرت ﷺ کی ذات تواس سے بہت بالاوارفع ہے۔دوسرے سورتوں کاوجود ہی جس کی وجہ سے یہ خیال پیدا ہوا ہے کسی ترتیب کا نتیجہ ہے کیونکہ جیسا کہ ہم بیان کرچکے ہیں قرآن شریف سورتوں کی صورت میں نازل نہیں ہوا بلکہ آیات کی صورت میں بہت آہستہ آہستہ نازل ہوا ہے اورسورتیں آیات کے جمع ہونے سے عالم وجود میں آئی ہیں۔علاوہ ازیں یہ بات عملاً بھی بالکل غلط اورخلاف واقعہ ہے کہ قرآن میں سورتوں کے لمبا چھوٹا ہونے کی ترتیب مدنظر رکھی گئی ہے اورقرآنی سورتوں کی آیات کی تعداد کاایک سرسری مطالعہ بھی اس کی تردید کیلئے کافی ہے کیونکہ بیسیوں مثالیںایسی ہیں کہ بعض لمبی سورتیں ہیں جو پیچھے رکھی گئی ہیںاوربعض چھوٹی سورتیں ہیں جو پہلے آگئی ہیں اورنہ معلوم مغربی محققین اس معاملہ میں اس قدر کوتاہ نظری اورفاش غلطی کے مرتکب کس طرح ہوئے ہیں۔
الغرض اس بات میں ہرگز کسی شک وشبہ کی گنجائش نہیں کہ اوّل قرآن شریف کی موجودہ ترتیب اس کے نزول کی ترتیب کے مطابق نہیں ہے۔دوم نہ ہی یہ ترتیب سورتوں کے طول وقصر کے لحاظ سے ہے بلکہ سوم یہ کوئی اورہی ترتیب ہے جو آنحضرتﷺ نے خود خدائی ارشاد کے ماتحت مقرر فرمائی تھی۔اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ یہ ترتیب کیا ہے؟اس کے جواب میں اس جگہ صرف اس قدر اشارہ کیا جاسکتا ہے کہ قرآن شریف جو خدا کا قول ہے اس میں اسی قسم کااصول ترتیب مدنظر رکھا گیا ہے جو خدا کے فعل یعنی صحیفۂ قدرت میں پایا جاتا ہے یعنی جس طرح اس جسمانی عالم میں دنیا کی مادی زندگی اور ترقی وبہبودی کے سامان وذرائع مہیا کئے جاکر اس میں ایک ترتیب رکھی گئی ہے اسی طرح کی خداکے قول یعنی قرآن شریف میں ایک ترتیب ہے جو علم النفس کے ان ابدی اصول کے ماتحت قائم کی گئی ہے جو دنیا کی اخلاقی اورتمدنی اورروحانی زندگی اوراصلاح وترقی کیلئے بہترین اثر رکھتے ہیں اورلطف یہ ہے کہ جس طرح بعض لوگوں کواس عالم جسمانی میں کوئی ترتیب نظر نہیں آتی اسی طرح روحانی بینائی سے محروم لوگوں کو قرآنی ترتیب بھی نظر نہیں آتی۔مگر جو لوگ گہرے مطالعہ کے عادی ہیں اورروحانی کلام کی حقیقت کوسمجھنے کیلئے اپنے اندر ضروری بینائی اور تقدس وطہارت رکھتے ہیں وہ اس ترتیب کوعلیٰ قدر مراتب سمجھتے اوراس کے اثر کو اپنے نفوس میں محسوس کرتے ہیں۔
اس جگہ اگریہ سوال پیدا ہوکہ اگر موجودہ ترتیب ہی اصلاح وتربیت اورروحانی تاثیر کے لحاظ سے بہترین تھی تو پھر اسی کے مطابق قرآن کا نزول کیوں نہ ہوا تاکہ صحابہ کی جماعت بھی جو قرآنی تعلیم کی سب سے پہلی حامل بنتی تھی ان اثرات سے متمتع ہوتی۔تو اس کا جواب یہ ہے کہ صحابہ کے حالات اوربعد میں آنے والے مسلمانوں کے حالات میں اختلاف ہے۔ صحابہ کیلئے وہی ترتیب بہترین تھی جس کے مطابق قرآن شریف نازل ہوا۔مگر جب ایک ابتدائی جماعت قائم ہوگئی تو پھر آئندہ کیلئے مستقل طورپروہ ترتیب بہترین تھی جوموجودہ قرآن میں پائی جاتی ہے اور یہ اختلاف دو اصول کے ماتحت ہے۔
اوّل تو بوجہ اسکے کہ صحابہ کی جماعت وہ پہلی جماعت تھی جواسلامی شریعت کے مطابق قائم ہوئی اوراس سے پہلے کوئی جماعت اسلامی شریعت کی حامل نہیں تھی اورنہ ہی دنیا میں اسلامی شریعت کا وجود تھا۔اورقرآن کے ذریعہ سے پہلے طریق وتمدن کو مٹاکر ایک بالکل ہی نئے طریق وتمدن کی بنیاد پڑنی تھی،اس لئے ضروری تھا کہ اس وقت کے لوگوں کے سامنے ان کی ذہنیت اورماحول کے مناسبِ حال قرآنی احکامات کا نزول ہوتا تا کہ وہ اس کے مطابق اپنی زندگیوں کو بدلنے اورنئی تعلیم کو اپنے اندر جذب کرنے میں آسانی پاتے اورظاہر ہے کہ اس کیلئے بہترین صورت یہ تھی کہ سب سے پہلے اس قسم کی آیات کا نزول ہوتا جن میں صرف عقیدہ کی درستی مدنظر ہے اورمشرکانہ خیالات کو مٹا کرتوحید کو قائم کیا گیا ہے اوراسکے بعد آہستہ آہستہ اسلامی طریق عبادات اوراسلامی طریق معاملات اور اسلامی طریق تمدن اوراسلامی طریق سیاست کے متعلق اوامرونواہی نازل ہوتے۔ چنانچہ ایسا ہی کیا گیا لیکن جب ایک جماعت اسلامی شریعت کی حامل تیار ہوگئی اورآئندہ پھیلائو اورترقی کیلئے ایک وجود بطورتخم کے یعنی ایک نیوکلیئس(NUCLEUS )تیار ہوگیا تواب اس تخم یا نیوکلیئس کی آئندہ ترقی کیلئے وہ ابتدائی ترتیب نزول غیر طبعی اورناموزوں تھی۔اس لئے اسے بدل کر وہ ترتیب دے دی گئی جو اس کیلئے مناسب تھی۔چنانچہ قرآن شریف کی موجودہ ترتیب بالکل اس اصول کے ماتحت ہے جوایک تیار شدہ جماعت کے استحکام،اسکے پھیلائو اورترقی کیلئے موزوں ترین ہے۔
دوسرا اصول نزول کی ترتیب کو بدل کر دوسری ترتیب کے اختیار کرنے میں یہ مدِّ نظر تھا کہ نزول کی ترتیب زیادہ تران حالات کے مطابق چلتی تھی جو آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم اورآپؐ کے صحابہ کوپیش آتے تھے۔مثلاًچونکہ آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم کی مکی زندگی میں ابھی کفار پر اتمام حجت ہورہا تھا اورمسلمانوں کو صبر وشکیب کے سانچے میں ڈھال کر نکالنا مقصود تھا۔اس لئے مکی آیات میں جہاد کی تعلیم نہیں دی گئی بلکہ صبر وبرداشت کی تعلیم پرزور ہے۔لیکن جب اتمام حجت ہوچکا اور صحابہ بھی صبروبرداشت کے سانچے میں ڈھل چکے اور کفار کے مظالم سے مسلمانوں کواپنا وطن تک چھوڑنا پڑا اورظالم کی سزا کا وقت آگیا تواس وقت جہاد کی آیات نازل ہوئیں اسی طرح مکہ میں چونکہ مسلمانوں کی کوئی جماعت بصورت جمعیت نہیں تھی اورکفار کے مظالم نے انہیں بالکل منتشر کررکھا تھا۔ یعنی ان کی کوئی اجتماعی زندگی نہیںتھی اس لئے مکہ میں اسلامی طریق تمدن ومعاملات کے متعلق آیات نازل نہیں ہوئیں۔لیکن جب مدینہ میں مسلمانوں کو ایک اجتماعی زندگی نصیب ہوئی تو اسکے مناسب حال آیات کانزول ہوا اگر اس نزول میں حالات کی مناسبت اورمطابقت کو ملحوظ نہ رکھا جاتا تو یقینا ابتدائی مسلمانوں کیلئے نئی شریعت کو اپنے اندر جذب کرنا اوراس پر صحیح طورپر عامل ہونا سخت مشکل ہوجاتا۔لہٰذا قرآن کے نزول کوحتّی الوسع حالات پیش آمدہ کے ساتھ ساتھ چلایا گیا تھا تا کہ اسکی تعلیم صحابہ میں جذب ہوتی جاوے،لیکن جب سب نزول ہوچکا اورایک جماعت قرآنی شریعت کی حامل وجود میں آگئی توپھر اس ترتیب کو قائم رکھنا ضروری نہ تھا،بلکہ پھر اس بات کی ضرورت تھی کہ آئندہ کی مستقل ضروریات کے مطابق اسے ترتیب دی جاوے۔ چنانچہ ایسا ہی کیا گیا۔
اگر اس جگہ کسی کو یہ اعتراض پیدا ہوکہ نزول کی ترتیب بدلنے سے قرآن کی تاریخی حیثیت ضائع ہوگئی ہے تویہ ایک بودا اورفضول اعتراض ہوگا کیونکہ اوّل تو جب حدیث وتاریخ میں قرآنی آیات کی نزول کی ترتیب بیشتر طورپرمحفوظ ہے اورذرا سی محنت اورتوجہ کے ساتھ اس بات کاپتہ لگ سکتا ہے کہ کوئی آیت یاسورۃ کب نازل ہوئی تھی تواس صورت میں ہرگز یہ نہیں کہا جاسکتا کہ قرآن کی تاریخی حیثیت ضائع ہوگئی ہے بلکہ حق یہ ہے کہ وہ پوری طرح محفوظ ہے اوردوست ودشمن نے اسے تسلیم کیا ہے صرف فرق یہ پیدا ہوا ہے کہ اگر قرآن کواسکے نزول کے مطابق ترتیب دیاجاتا،تو اس کی تاریخی حیثیت بدیہی اورعیاں ہوتی اور اب وہ محنت اورتوجہ کے ساتھ نکالنی پڑتی ہے۔
دوسرے یہ بات یاد رکھنی چاہئے کہ قرآن شریف کی اصل غرض وغایت تاریخ کی حفاظت نہیں ہے بلکہ اس قانون کا بہترین صورت میں مہیا کرنا ہے جو لوگوں کی تمدنی اوراخلاقی اور روحانی ترقی کیلئے ضروری ہے اور جو بندہ کو خدا تک پہنچا سکتا ہے۔پس اس کی ترتیب میںبھی انہی اصول کا مدنظر رکھاجانا ضروری تھا جوان اغراض کو بہترین صورت میں پورا کرسکتے تھے اور اگر اسکی ترتیب میں ان اصولوں کوقربان کرکے تاریخی پہلو کو ترجیح دی جاتی تویہ ایک نہایت غیر حکیمانہ فعل ہوتا۔
اس مضمون کوختم کرنے سے پہلے یہ بتا دینا بھی ضروری ہے کہ قرآن شریف کی موجودہ ترتیب بھی اس رنگ کی ترتیب نہیں ہے جس میں عام کتب کی طرح بابوں اورفصلوں اورپیروں وغیرہ میں مضمون کوتقسیم کیا گیا ہوکیونکہ اس قسم کی ترتیب قرآن کی غرض وغایت کے منافی تھی۔قرآن کا دعویٰ ہے کہ وہ سب اقوام اور سب زمانوں کیلئے ایک شریعت لایا ہے اوراس میں علوم کے خزانے مخفی ہیں جو بقدر ضرورت ہمیشہ ظاہر ہوتے رہیں گے اور حدیث میں آتا ہے کہ قرآن کی تحقیق سے علماء کبھی سیر نہیں ہوں گے اورنہ اس کے عجائب کبھی ختم ہوں گے اورایک دوسری حدیث میں آتا ہے کہ قرآنی آیات کے صرف ظاہری معانی پر ہی حصر نہیں ہے بلکہ اس کی ہر آیت کے نیچے متعدد بطون ہیں اورہربطن آگے متعدد شاخیں رکھتا ہے۔ بالفاظ دیگر اسلام قرآن شریف کوایک روحانی عالم کے طور پر پیش کرتا ہے ٹھیک اسی طرح جس طرح یہ دنیا ایک جسمانی عالم ہے۔پس اسکی ترتیب کے اصول کو سمجھنے کیلئے بھی بہترین مثال اس دنیا کی ہوسکتی ہے جس طرح اور جس رنگ میں اس دنیا میں ترتیب پائی جاتی ہے کہ ہر چیز باوجود ایک دوسرے سے بظاہر جدا اورلاتعلق نظرآنے کے دراصل اپنی گہرائیوں میں ایک دوسرے سے پیوست اورمربوط ہے اور ایک مخفی زنجیر بلکہ مختلف جہات سے کئی مخفی زنجیریں اس کے مختلف حصوں کو ایک دوسرے سے منسلک کئے ہوئے ہیں اسی طرح قرآن کی گہرائیوں میں ربط واتحاد کی کڑیاں چلتی ہیں اورٹھیک جس طرح اس جسمانی عالم میں محققین اورسائنس دان اپنی اپنی اہلیت اوراپنی اپنی تحقیق کے مطابق علوم کے جواہر نکالتے رہتے ہیں اسی طرح قرآن کے روحانی عالم کے سمندر میں غوطہ لگانے والوں کیلئے بھی کسی زمانہ میں روحانی موتیوں کی کمی نہیں رہی اورنہ آئندہ ہوگی۔اوریہ بات قرآن کریم کے سب سے بڑے معجزوں میں سے بڑا معجزہ ہے کہ اسکے الفاظ اوراسکی ترتیب کوایسے طورپر رکھا گیا ہے کہ وہ باوجود حجم میں ساری آسمانی کتابوں میں سے چھوٹا ہونے کے اپنے اندرروحانی علوم کاایک نہ ختم ہونے والا خزانہ رکھتا ہے جو حسب تحقیق محققین اورحسب ضرورت زمانہ ہمیشہ ظاہر ہوتے رہے ہیں اور ہمیشہ ظاہر ہوتے رہیں گے اوریہی وجہ ہے کہ اسکی ترتیب کوعام کتب کی طرح معین مضمون کے ٹکڑوں میں تقسیم کرکے بابوں اورفصلوں اورپیروں وغیرہ کی صورت میں نہیں رکھاگیا کیونکہ اگرایسا کیا جاتا تو اسکے معانی کی ساری وسعت کھوئی جاتی اوراسکا مفہوم ایک محدود اورمعین صورت اختیار کرکے اپنی ظاہری اوربدیہی صورت میں بالکل مقید ہوجاتا۔خلاصۂ کلام یہ کہ قرآن شریف اس بات کا مدعی ہے کہ اسکے اندرعلوم کے بے انتہاخزانے مخفی ہیں جو ہمیشہ بقدر ضرورت ظاہر ہوتے رہیں گے اور اس کی تحقیق کامیدان کبھی ختم نہیں ہوگا اور قرآن کی یہ حیثیت اوراسکے نزول کی یہ غرض یقینا فوت ہوجاتی اگر اسکی ترتیب کوعام کتب کی طرح بابوں اورفصلوں وغیرہ میں مضمون وار تقسیم کرکے ایک ٹھوس صورت میں جکڑ دیا جاتا۔پس جہاں یہ یاد رکھنا چاہئے کہ قرآن ایک نہایت مرتّب اورمنظم کتاب ہے اوریہ بالکل غلط ہے کہ اس میں کوئی ترتیب نہیں ہے وہاں یہ بات بھی کبھی نہیں بھولنی چاہئے کہ اس کی ترتیب عام کتب کی طرح نہیں ہے بلکہ اس جسمانی عالم کے اصول پر ہے جس میں معانی کی بے شمار گہرائیاں مخفی ہیں اوران گہرائیوں میں ربط واتحاد کی لاتعداد زنجیریں ایک جال کے طور پر پھیلی ہوئی ہیں جن سے ہر شخص اورہر زمانہ اپنی کوشش اور اپنی استعداد اور اپنی ضرورت اوراپنے حالات کے مطابق فائدہ اٹھاتا اور اٹھا سکتا ہے۔ہمارا یہ مختصر نوٹ اس جگہ بے شک ایک دعویٰ سے زیادہ حیثیت نہیں رکھتامگر افسوس ہے کہ اس تاریخی تصنیف میں اس وسیع اورعلمی مضمون کیلئے اس مختصر اشارے سے زیادہ کی گنجائش نہیں ورنہ اس دعویٰ کے ثبوت میں دلائل کاایک سورج چڑھایا جاسکتا ہے۔اب ہم اپنے اصل مضمون کی طرف لوٹتے ہیں۔ (باقی آئندہ)
(سیرت خاتم النّبیین، صفحہ534تا 539،مطبوعہ قادیان2011)