”وحی الہٰی کا یہ قاعدہ ہے کہ بعض دنوں میں تو بڑے زور سے بار بار الہام پر الہام ہوتے ہیں اور الہاموں کا ایک سلسلہ بندھ جاتا ہے اور بعض دنوں میں ایسی خاموشی ہوتی ہے کہ معلوم نہیں ہوتا کہ اس قدر خاموشی کیوں ہے اور نادان لوگ اعتراض کرتے ہیں کہ اب خدا تعالیٰ نے ان سے کلام کرنا ہی چھوڑ دیا ہے۔ نبی کریم ﷺ پر بھی ایک زمانہ ایسا ہی آیا تھا کہ لوگوں نے سمجھا کہ اب وحی بند ہو گئی۔ چنانچہ کافروں نے ہنسی شروع کی کہ اب خدا نعوذ باللہ ہمارے رسولِ کریم (ﷺ) سے ناراض ہو گیا ہے اور اب وہ کلام نہیں کرے گا۔ لیکن خدا تعالیٰ نے اس کا جواب قرآنِ شریف میں اس طرح دیا ہے کہ ’’وَالضُّحٰى- وَالَّیْلِ اِذَا سَجٰى- مَا وَدَّعَكَ رَبُّكَ وَمَا قَلٰى‘‘ (الضحیٰ: 2-4) یعنی قسم ہے دھوپ چڑھنے کے وقت کی۔ اور رات کی۔ نہ تو تیرے رب نے تجھ کو چھوڑ دیا اور نہ تجھ سے ناراض ہوا۔ اس کا یہ مطلب ہے کہ جیسے دن چڑھتا ہے اور اس کے بعد رات خود بخود آ جاتی ہے اور پھر اس کے بعد دن کی روشنی نمودار ہوتی ہے اور اس میں خدا تعالیٰ کی خوشی یا ناراضگی کی کوئی بات نہیں۔ یعنی دن چڑھنے سے یہ معلوم نہیں ہوتا کہ خدا تعالیٰ اس وقت اپنے بندوں پر خوش ہے اور نہ رات پڑنے سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ اس وقت خدا تعالیٰ اپنے بندوں پر ناراض ہے بلکہ اس اختلاف کو دیکھ کر ہر عقلمند خوب سمجھ سکتا ہے کہ یہ خدا تعالیٰ کے مقرر کردہ قوانین کے مطابق ہو رہا ہے۔ اور یہ اس کی سنت ہے کہ دن کے بعد رات اور رات کے بعد دن ہوتا ہے پس اس سلسلہ کو دیکھ کر یہ اندازہ لگانا کہ اس وقت خدا تعالیٰ خوش ہے اور اس وقت ناراض ہے غلط ہے۔“
(ملفوظات [2003 ایڈیشن] جلد 5 صفحہ 370)
اسلام کا عالمگیر مشن:
حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اپنی تحریرات میں بڑی تفصیل سے اسلام کے عالمگیر مشن کا ذکر فرمایا ہے۔ اور اس پر مختلف پہلوؤں سے روشنی ڈالی ہے۔ چند تحریرات پیش ہیں
”پہلا مقصد آنحضرت ﷺ کا عرب کی اصلاح تھی۔ اور عرب کا ملک اس زمانہ میں ایسی حالت میں تھا کہ بمشکل کہہ سکتے ہیں کہ وہ انسان تھے“
(پیغامِ صلح۔ روحانی خزائن جلد 23 صفحہ 463)
ایک جگہ فرمایا:
”رسول اللہ ﷺ کے دنیا میں آنے کی غرض وغایت تو صرف یہ تھی کہ دنیا پر اس خدا کا جلال ظاہر کریں جو مخلوق کی نظروں اور دلوں سے پوشیدہ ہو چکا تھا اور اسکی جگہ باطل اور بیہودہ معبودوں، بتوں اور پتھروں نے لے لی تھی اور یہ اس صورت میں ممکن تھا کہ اللہ تعالیٰ رسول اللہ ﷺ کی جمالی اور جلالی زندگی میں جلوہ گری فرماتا اور اپنے دستِ قدرت کا کرشمہ دکھاتا“
(ملفوظات [2003 ایڈیشن] جلد 1 صفحہ 426)
”ہمارے نبی ﷺ نے کہیں نہیں کہا کہ میں صرف عرب کے لئے بھیجا گیا ہوں بلکہ قرآنِ شریف میں یہ ہے قُلْ یٰۤاَیُّہَا النَّاسُ اِنِّیْ رَسُوْلُ اللّٰہِ اِلَیْکُمْ جَمِیْعًا (الاعراف: 159) یعنی لوگوں سے کہہ دے کہ میں تمام دنیا کے لئے بھیجا گیا ہوں“
(پیغامِ صلح، روحانی خزائن جلد 23 صفحہ 469)
”قرآنِ شریف نے ہی کھلے طور پر یہ دعویٰ کیا ہے کہ وہ دنیا کی تمام قوموں کے لئے آیا ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ قرآنِ شریف میں فرماتا ہے قُلْ یٰۤاَیُّہَا النَّاسُ اِنِّیْ رَسُوْلُ اللّٰہِ اِلَیْکُمْ جَمِیْعًا یعنی تمام لوگوں کو کہہ دے کہ میں تم سب کے لئے رسول ہو کر آیا ہوں اور پھر فرماتا ہے وَمَاۤ اَرْسَلْنٰكَ اِلَّا رَحْمَةًلِّلْعَالَمِيْنَ یعنی میں نے تمام عالموں کے لئے تجھے رحمت بنا کر بھیجا ہے۔ اور پھر فرماتا ہے لِيَكُوْنَ لِلْعَالَمِيْنَ نَذِيْرًا یعنی ہم نے اس لئے بھیجا ہے کہ تمام دنیا کو ڈراوے۔ لیکن ہم بڑے زور سے کہتے ہیں کہ قرآنِ شریف سے پہلے دنیا کی کسی الہامی کتاب نے یہ دعویٰ نہیں کیا بلکہ ہر ایک نے اپنی رسالت کو اپنی قوم تک ہی محدود رکھا۔۔۔ اور زمانہ کے حالات نے بھی گواہی دی کہ قرآنِ شریف کا یہ دعویٰ تبلیغِ عام کا عین موقعہ پر ہے کیونکہ آنحضرت ﷺ کے ظهور کے وقت تبلیغِ عام کا دروازہ کھل گیا تھا اور آنحضرت ﷺ نے خود اپنے ہاتھ سے بعدِ نزول اس آیت کے کہ قُلْ يٰٓاَيُّهَا النَّاسُ اِنِّىْ رَسُوْلُ اللّٰهِ اِلَيْكُمْ جَمِيْعًا دنیا کے بڑے بڑے بادشاہوں کی طرف خط لکھے تھے کسی اور نبی نے غیر قوموں کے بادشاہوں کی طرف دعوتِ دین کے ہرگز خط نہیں لکھے کیونکہ وہ دوسری قوموں کی دعوت کے لئے مامور نہ تھے“
(چشمہٴ معرفت، روحانی خزائن جلد 23 صفحہ 76-77)
آغازِ تبلیغ:
حضور علیہ السلام فرماتے ہیں:
”ایک دن اسی غار میں آپ پوشیدہ طور پر عبادت کر رہے تھے تب خدا تعالیٰ آپ پر ظاہر ہوا۔ اور آپ کو حکم ہوا کہ دنیا نے خدا کی راہ کو چھوڑ دیا ہے اور زمین گناہ سے آلودہ ہو گئی ہے۔ اس لئے میں تجھے اپنا رسول کر کے بھیجتا ہوں۔ اب تُو اور لوگوں کو متنبہ کر کہ وہ عذاب سے پہلے خدا کی طرف رجوع کریں“
(پیغام صلح ، روحانی خزائن جلد 23 صفحہ 466-465)
آنحضور ﷺ نے ماموریت کے بعد خدا تعالیٰ کے حکم کے مطابق تبلیغ کا آغاز فرمایا۔ لیکن یہ تبلیغ ابھی صرف اپنے قریبی رشتہ داروں اور عزیزوں تک ہی محدود تھی اور خفیہ تھی۔ اس طرح ابتدا میں قریبی رشتہ داروں اور گھر میں رہنے والے افراد نے ہی اسلام قبول کیا۔ جن میں سرِ فہرست حضرت خدیجہؓ، حضرت علیؓ، حضرت فاطمہؓ، حضرت زیدؓ شامل ہیں۔ اور حضرت ابو بکر صدیقؓ اور چند اور صحابہؓ شامل ہیں اور تبلیغ کا سلسلہ تقریباً تین سال تک محدود اور قدرے خفیہ رہا۔ اس کا ایک فائدہ یہ ہوا کہ اہل بیت اور ابتدائی صحابہؓ کی تربیت اس رنگ میں کرنے کا موقع مل گیا کہ آئندہ لوگوں کے لئے نمونہ بن سکیں۔
قریش کو دعوتِ اسلام:
آنحضورﷺنےوَاَنْذِرْ عَشِیْرَتَكَ الْاَقْرَبِیْنَ (الشعراء:215) کے حکم کے مطابق اپنے خاندان اور قبیلہ اور قوم یعنی اہل مکہ کو دعوتِ اسلام دی۔ اس کے متعلق آپ فرماتے ہیں۔
”ایک دفعہ اوائل دعوت میں آنحضرت ﷺ نے ساری قوم کو بلایا۔ ابو جہل وغیرہ سب ان میں شامل تھے۔ اہل مجمع نے سمجھا تھا کہ یہ مجمع بھی کسی دنیوی مشورہ کے لئے ہو گا۔ لیکن جب ان کو اللہ تعالیٰ کے آنے والے عذاب سے ڈرایا گیا تو ابو جہل بول اٹھا تَبًّا لَّكَ اَلِهٰذَا جَمَعْتَنَا۔ غرض باوجود اس کے کہ آنحضرتﷺ کو وہ صادق اور امین سمجھتے تھے مگر اس موقعہ پر انہوں نے خطرناک مخالفت کی اور ایک آگ مخالفت کی بھڑک اٹھی، لیکن آخر آپ کامیاب ہو گئے اور آپ کے مخالف سب نیست و نابود ہو گئے“
(ملفوظات [2003 ایڈیشن] جلد 4 صفحہ 379)
آپ نے جس واقعہ کی طرف اشارہ فرمایا ہے یہ ایک مشہور واقعہ ہے جو متعدد کتب میں مذکور ہے بیان کیا جاتا ہے کہ آنحضور ﷺ نے کوہِ صفا پر چڑھ کر ہر قبیلہ کو نام لے کر بلایا جب سب لوگ جمع ہو گئے تو آپ نے فرمایا اے قریش اگر میں تمہیں یہ خبر دوں کہ اس پہاڑ کے پیچھے ایک بڑا لشکر ہے جو تم پر حملہ کرنے کو تیار ہے تو کیا تم میری بات مانو گے سب نے کہا کہ ہم ضرور مانیں گے کیونکہ آپ صادق اور امین ہیں۔ آپ نے فرمایا تو پھر سنو میں تم کو خبر دیتا ہوں کہ اللہ کا عذاب قریب ہے خدا پر ایمان لاؤ اس عذاب سے بچ جاؤ گے۔ جب قریش نے یہ الفاظ سنے تو ہنسنے لگے اور ابو لہب نے کہا تَبًّا لَّكَ اَلِهٰذَا جَمَعْتَنَایعنی نعوذ باللہ تجھ پر ہلاکت ہو اس بات کے لئے ہمیں جمع کیا تھا۔ اور ابو لہب کے یہ الفاظ سن کے تمام لوگ منتشر ہو گئے۔ اس واقعہ کے کچھ دن بعد آپ نے اپنے گھر میں قریش والوں کو دعوت دی اور کھانے کا بھی اہتمام فرمایا کھانے کے بعد جب آپ نے لوگوں کو پیغامِ حق پہنچانا شروع کیا تو سب لوگ چلے گئے۔
ایک وضاحت:
تَبًّا لَّكَ اَلِهٰذَا جَمَعْتَنَاکے کتبِ تاریخ میں ابو لہب کے بیان کئے گئے ہیں لیکن حضور کے مذکورہ بالا ارشاد میں ابو جہل کا نام بیان کیا گیا ہے۔ اس کی وجہ سہوِ کاتب ہے۔ جیسا کہ اس صفحہ کے فٹ نوٹ میں بھی لکھا ہوا ہے کہ
”ابو لہب نے یہ بات کہی تھی۔ ڈائری نویس یا کاتب کی غلطی سے ابو جہل لکھا گیا ہے“
(فُٹ نوٹ منجانب مرتبِ ملفوظات [2003 ایڈیشن] جلد 4 صفحہ 379)
ابو لہب کو ابو لہب اس لئے کہا جاتا ہے کہ اس نے یہ الفاظ بول کر مخالفت کی آگ بھڑکائی تھی۔ یعنی مخالفت کا پہلا شعلہ یہ شخص ابو لہب تھا۔
آپ نے ابو لہب کے متعلق ایک جگہ یہ بھی فرمایا ہے کہ”ابو لہب قرآن میں عام ہے نہ خاص، مراد وہ شخص ہے جس میں التہاب واشتعال کا مادہ ہو“
(ملفوظات [2003 ایڈیشن] جلد 1 صفحہ 156)
نیز آپ نے ابو لہب اور ابو جہل میں ایک مماثلت بھی بیان فرمائی ہے اور وہ یہ کہ دونوں میں بے صبری تھی جیسا کہ فرمایا۔
”ابو جہل اور ابو لہب میں کیا تھا؟ یہی بے صبری اور بے قراری تو تھی۔ کہتے تھے تو خدا کی طرف سے آیا ہے تو کوئی قہر لے آ۔ ان کم بختوں نے صبر نہ کیا اور ہلاک ہو گئے“
(ملفوظات [2003 ایڈیشن] جلد 1 صفحہ 124)
( سیرت النبی ﷺ، صفحہ 74 تا 78 مطبوعہ کنیڈا2018)