قریش کے ساتھ صلح کی گفتگو کاآغاز
معجزات کے متعلق یہ مختصر اوراصولی نوٹ دینے کے بعد ہم پھر اپنے اصل مضمون کی طرف لوٹتے ہیں۔ہم بتا چکے ہیں کہ آنحضرت ﷺنے حدیبیہ کی وادی میںپہنچ کر اس وادی کے چشمہ کے پاس قیام کیا۔جب صحابہ اس جگہ ڈیرے ڈال چکے توقبیلہ خزاعہ کاایک نامور رئیس بُدَیل بن ورقا نامی جوقریب ہی کے علاقہ میں آباد تھا اپنے چند ساتھیوں کے ساتھ آنحضرت ﷺکی ملاقات کے لئے آیا اوراس نے آپؐسے عرض کیا کہ مکہ کے رئوساء جنگ کے لئے تیار کھڑے ہیں اوروہ کبھی بھی آپ کو مکہ میں داخل نہیں ہونے دیں گے۔آپؐنے فرمایا’’ہم تو جنگ کی غرض سے نہیں آئے بلکہ صرف عمرہ کی نیت سے آئے ہیں اورافسوس ہے کہ باوجود اس کے کہ قریش مکہ کو جنگ کی آگ نے جلاجلا کر خاک کررکھا ہے مگر پھر بھی یہ لوگ باز نہیں آتے اورمیں تو ان لوگوں کے ساتھ اس سمجھوتہ کے لئے بھی تیار ہوں کہ وہ میرے خلاف جنگ بند کرکے مجھے دوسرے لوگوں کے لئے آزاد چھوڑ دیں۔لیکن اگر انہوں نے میری اس تجویز کو بھی رد کردیا اوربہرصورت جنگ کی آگ کوبھڑکائے رکھا تومجھے بھی اس ذات کی قسم ہے جس کے ہاتھ میں میری جان ہے کہ پھر میں بھی اس مقابلہ سے اس وقت تک پیچھے نہیں ہٹوں گا کہ یا تو میری جان اس رستہ میں قربان ہوجائے اور یا خدامجھے فتح عطاکرے۔‘‘اگر میں ان کے مقابلہ میں آکر مٹ گیا توقصہ ختم ہوا،لیکن اگرخدا نے مجھے فتح عطا کی اورمیرے لائے ہوئے دین کوغلبہ حاصل ہوگیا توپھر مکہ والوں کوبھی ایمان لے آنے میںکوئی تامل نہیں ہونا چاہئے،بُدَیل بن ورقا پرآپؐکی اس مخلصانہ اوردردمندانہ تقریر کا بہت اثر ہوا اوراس نے آپؐسے عرض کیا کہ آپ مجھے کچھ مہلت دیں کہ میں مکہ جاکر آپ کاپیغام پہنچائوں اور مصالحت کی کوشش کروں۔ آپؐنے اجازت دی اوربُدَیل اپنے قبیلہ کے چند آدمیوں کو اپنے ساتھ لے کر مکہ کی طرف روانہ ہوگیا۔
جب بُدَیل بن ورقا مکہ میں پہنچا تواس نے قریش کو جمع کرکے ان سے کہا کہ میں اس شخص(یعنی محمدرسول اللہ ﷺ)[عرب کا دستور تھا کہ ایسے موقعوں پر جب ایک معروف شخص کے متعلق گفتگوکرنی ہوتو نام لینے کی بجائے ’’یہ شخص‘‘یا’’اس شخص‘‘وغیرہ کے لفظ استعمال کرتے تھے[ کے پاس سے آرہا ہوں اورمیرے سامنے اس نے ایک تجویز پیش کی ہے اگرآپ اجازت دیں تو میں اس کا ذکر کروں۔اس پر قریش کے جوشیلے اورغیر ذمہ دار لوگ کہنے لگے ہم اس شخص کی کوئی بات سننے کے لئے تیار نہیں مگر اہل الرائے اورثقہ لوگوں نے کہا ہاں ہاں جوتجویز بھی ہے وہ ہمیںبتائو۔ چنانچہ بُدَیل نے آنحضرت ﷺکی
بیان کردہ تجویز کااعادہ کیا۔اس پر ایک شخص عروہ بن مسعود نامی جو قبیلہ ثقیف کاایک بہت بااثر رئیس تھا اوراس وقت مکہ میں موجود تھا کھڑا ہوگیا اور قدیم عربی انداز میں قریش سے کہنے لگا ’’اے لوگو!کیا میں تمہارے باپ کی جگہ نہیں ہوں؟‘‘ انہوں نے کہا ’’ہاں‘‘۔پھر اس نے کہا’’کیا آپ لوگ میرے بیٹوں کی طرح نہیں ہیں؟‘‘انہوںنے کہا ’’ہاں‘‘۔ پھر عروہ نے کہا ’’کیا تمہیں مجھ پر کسی قسم کی بے اعتمادی ہے؟‘‘ قریش نے کہا ’’ہرگز نہیں‘‘۔ اس نے کہا ’’ تو پھر میری یہ رائے ہے کہ اس شخص محمد(ﷺ) نے آپ کے سامنے ایک عمدہ بات پیش کی ہے۔آپ کو چاہئے کہ اس تجویز کوقبول کرلیں اورمجھے اجازت دیں کہ میں آپ کی طرف سے محمد ﷺکے پاس جاکر مزید گفتگو کروں۔‘‘قریش نے کہا ’’بے شک آپ جائیں اورگفتگو کریں۔‘‘
آنحضرت ﷺکی مجلس کا
ایک روح پرورنظارہ
عروہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آیا اورآپؐکے ساتھ گفتگو شروع کی۔ آپؐنے اس کے سامنے اپنی وہی تقریر دوہرائی جواس سے قبل آپؐبُدَیل بن ورقا کے سامنے فرماچکے تھے۔عروہ اصولاً آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم کی رائے کے ساتھ متفق تھا مگر قریش کی سفارت کاحق ادا کرنے اوران کے حق میںزیادہ سے زیادہ شرائط محفوظ کرانے کی غرض سے کہنے لگا۔’’اے محمد(صلی اﷲ علیہ وسلم )اگرآپ نے اس جنگ میںاپنی قوم کو ملیا میٹ کردیا تو کیاآپ نے عربوں میں کسی ایسے آدمی کا نام سنا ہے جس نے آپ سے پہلے ایسا ظلم ڈھایا ہو۔ لیکن اگر بات دگرگوں ہوئی یعنی قریش کو غلبہ ہو گیا توخدا کی قسم مجھے آپ کے اردگرد ایسے منہ نظر آرہے ہیں کہ انہیں بھاگتے ہوئے دیر نہیں لگے گی اور یہ سب لوگ آپ کا ساتھ چھوڑ دیں گے۔‘‘حضرت ابوبکرؓ جواس وقت آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم کے پاس ہی بیٹھے تھے عروہ کے یہ الفاظ سن کر غصہ سے بھر گئے اورفرمانے لگے’’جائو جائو اورلات کی شرمگاہ کوچومتے پھرو۔کیا ہم خدا کے رسولؐکوچھوڑ جائیں گے؟ ‘‘ عروہ نے طیش میں آکر پوچھا ’’یہ کون شخص ہے جو اس طرح میری بات کاٹتا ہے؟‘‘ لوگوں نے کہا’’ یہ ابوبکرؓ ہیں‘‘۔ ابوبکرؓ کا نام سن کر عروہ کی آنکھیں شرم سے نیچی ہوگئیں۔ کہنے لگا ’’اے ابوبکر! اگر میرے سرپر تمہارا ایک بھاری احسان نہ ہوتا تو خدا کی قسم میں تمہیں اس وقت بتاتا کہ ایسی بات کاجو تم نے کہی ہے کس طرح جواب دیتے ہیں۔‘‘یہ کہہ کر عروہ پھر آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم سے مخاطب ہوا اوراپنی تقریر کو جاری رکھتے ہوئے آنحضرت صلی اﷲ علیہ
وسلم کواپنے نقطۂ نظر کی طرف کھینچ لانے کی تدبیر کرتا رہا اور گاہے گاہے عرب کے دستور کے مطابق آپؐ کی ریش مبارک کو بھی ہاتھ لگا دیتا تھا۔ مگر جب کبھی بھی وہ ایسا کرتا ایک مخلص صحابی جن کانام مغیرہ بن شعبہ تھا اورجواس وقت آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم کے پاس کھڑے تھے (اور رشتہ میں عروہ کے بھتیجے تھے) اپنی تلوار کے نیام سے عروہ کا ہاتھ جھٹک کر پرے کردیتے اور کہتے’’ اپنا ناپاک ہاتھ رسول مقبول ؐکے مبارک چہرہ سے دور رکھو۔ ‘‘ چونکہ اس وقت مغیرہ کاچہرہ ایک خود کے اندر ڈھکا ہوا تھا عروہ نے انہیں نہ پہچانتے ہوئے پوچھا۔ یہ کون شخص ہے؟ لوگوں نے کہا ’’ یہ مغیرہ بن شعبہ ہے۔‘‘ عروہ نے حقارت اور غصہ سے کہا ’’اے بے وفا! کیا تجھے میرا احسان بھول گیا ہے؟ ‘‘ اس پر مغیرہ شرم سے جھینپ گئے۔ اس وقت عروہ نے اپنے اردگرد فخر کی نگاہ ڈالی مگر یہی نگاہ اسے گھائل کرگئی کیونکہ عروہ نے اس وقت صحابہ کی جماعت کو آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم کے ارد گرد اس طرح جمع پایا جس طرح شمع کے گرد پروانے جمع ہوتے ہیں اورخود عروہ کا اپنا بیان ہے کہ اس وقت مسلمانوں کے جوش محبت واخلاص کایہ عالم تھا کہ اگر پانی پیتے ہوئے آپ کے منہ سے کوئی قطرہ گرتا تو صحابہ اسے شوق سے اپنے ہاتھوں پر لیتے اوربرکت کے خیال سے اسے اپنے چہروں اورجسموں پر مل لیتے۔ اور جب آپؐکسی چیز کا ارشاد فرماتے تولوگ آپؐکی آواز پراس طرح لپکتے کہ گویا ایک مقابلہ ہوجاتا تھا اور جب آپؐوضو کرتے تو صحابہؓ اس شوق سے آپؐکووضو کروانے کے لئے آگے بڑھتے کہ گویا اس خدمت کے حصول کے لئے ایک دوسرے سے لڑ پڑیں گے اور جب آپؐگفتگو فرماتے تو صحابہ خاموش ہوکر ہمہ تن گوش ہوجاتے اورمحبت اوررعب کی وجہ سے ان کی نظریں آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم کی طرف اٹھ نہیں سکتی تھیں۔
(سیرت خاتم النّبیین، صفحہ755 تا757 ، مطبوعہ قادیان 2006)