اردو   हिंदी   বাংলা   ಕನ್ನಡ   മലയാളം   ଓଡ଼ିଆ   தமிழ்   తెలుగు  




.

2026-08-06

سیرت النّبیﷺ از تحریرات و فرمودات( سیّدنا حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام ) (تحقیق و ترتیب : مکرم آصف احمد خان صاحب) (قسط نمبر:14) (حصہ دوم)

(قسط نمبر:14) (حصہ دوم)

سقوطِ شہب ورجمِ شیاطین:

کتبِ تفسیر اور تاریخ و سیرت میں زمانہ بعثت نبوی ﷺ میں سقوطِ شہب کے متعلق بھی روایات درج ہیں، حضور نے سورۃ الجن کا حوالہ دیتے ہوئے سقوطِ شہب در زمانہ بعثت نبوی کی حقیقت بیان فرمائی ہے۔

"اب جاننا چاہیئے کہ عرب کے لوگ بوجہ ان خیالات کے جو کاہنوں کے ذریعہ سے ان میں پھیل گئے تھے نہایت شدید اعتقاد سے ان باتوں کو مانتے تھے کہ جس وقت کثرت سے ستارے یعنی شہب گرتے ہیں تو کوئی بڑا عظیم الشان انسان پیدا ہوتا ہے خاص کر اُن کے کاہن جو ارواحِ خبیثہ سے کچھ تعلق پیدا کر لیتے تھے اور اخبارِ غیبیہ بتلایا کرتے تھے اُن کا تو گو یا پختہ اور یقینی عقیدہ تھا کہ کثرتِ شہب یعنی تاروں کا معمولی اندازہ سے بہت زیادہ ٹوٹنا اِس بات پر دلالت کرتا ہے کہ کوئی نبی دنیا میں پیدا ہونے والا ہے اور ایسا اتفاق ہوا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت کے وقت حد سے زیادہ سقوطِ شہب ہوا جیسا کہ سورۃ الجن میں خدا تعالیٰ نے اس واقعہ کی شہادت دی ہے اوروَأَنَّا لَمَسْنَا السَّمَاءَ فَوَجَدْنَاهَا مُلِئَتْ حَرَسًا شَدِيدًا وَشُهُبًا- وَأَنَّا كُنَّا نَقْعُدُ مِنْهَا مَقَاعِدَ لِلسَّمْعِ ۖ فَمَن يَسْتَمِعِ الْآنَ يَجِدْ لَهُ شِهَابًا رَّصَدًا۔ (الجن:9)

۱۔ سورۃ الجن الجزء نمبر ۲۹۔ یعنی ہم نے آسمان کو ٹٹولا تو اس کو چوکیداروں سے یعنی فرشتوں سے اور شعلوں سے بھرا ہوا پایا اور ہم پہلے اس سے امورِ غیبیہ کے سننے کے لئے آسمان میں گھات میں بیٹھا کرتے تھے اور اب جب ہم سننا چاہتے ہیں تو گھات میں ایک شعلے کو پاتے ہیں جو ہم پر گرتا ہے۔ ان آیات کی تائید میں کثرت سے احادیث پائی جاتی ہیں۔ بخاری مسلم ابو داؤد ترمذی ابن ماجہ وغیرہ سب اس قسم کی حدیثیں اپنی تالیفات میں لائے ہیں کہ شہب کا گرنا شیاطین کے رد کرنے کے لئے ہوتا ہے اور امام احمد ابن عباس سے روایت کرتے ہیں کہ شہب جاہلیت کے زمانہ میں بھی گرتے تھے لیکن ان کی کثرت اور غلظت بعثت کے وقت میں ہوئی چنانچہ تفسیر ابنِ کثیر میں لکھا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے وقت جب کثرت سے شہب گرے تو اہل طائف بہت ہی ڈر گئے اور کہنے لگے کہ شاید آسمان کے لوگوں میں تہلکہ پڑ گیا تب ایک نے اُن میں سے کہا کہ ستاروں کی قرار گاہوں کو دیکھو اگر وہ اپنے محل اور موقعہ سے ٹل گئے ہیں تو آسمان کے لوگوں پر کوئی تباہی آئی ورنہ یہ نشان جو آسمان پر ظاہر ہوا ہے ابنِ ابی کبشہ کی وجہ سے ہے (وہ لوگ شرارت کے طور پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو ابن ابی کبشہ کہتے تھے۔) غرض عرب کے لوگوں کے دلوں میں یہ بات جمی ہوئی تھی کہ جب کوئی نبی دنیا میں آتا ہے یا کوئی اور عظیم الشان آدمی پیدا ہوتا ہے تو کثرت سے تارے ٹوٹتے ہیں۔ اِسی وجہ سے بمناسبتِ خیالاتِ عرب کے شہب کے گرنے کی خدائے تعالیٰ نے قسم کھائی جس کا مدعا یہ ہے کہ تم لوگ خود تسلیم کرتے ہو اور تمہارے کاہن اِس بات کو مانتے ہیں کہ جب کثرت سے شہب گرتے ہیں تو کوئی نبی یا ملہم من اللہ پیدا ہوتا ہے تو پھر انکار کی کیا وجہ ہے۔ چونکہ شہب کا کثرت سے گرنا عرب کے کاہنوں کی نظر میں اِس بات کے ثبوت کے لئے ایک بدیہی امر تھا۔ کہ کوئی نبی اور ملہم من اللہ پیدا ہوتا ہے اور عرب کے لوگ کاہنوں کے ایسے تابع تھے جیسا کہ ایک مرید مرشد کا تابع ہوتا ہے اِس لئے خدائے تعالیٰ نے وہی بدیہی امر اُن کے سامنے قسم کے پیرایہ میں پیش کیا تاکہ اُن کو اِس سچائی کی طرف توجہ پیدا ہو کہ یہ کاروبار خدائے تعالیٰ کی طرف سے ہے انسان کا ساختہ پرداختہ نہیں۔“

(آئینہ کمالاتِ اسلام، روحانی خزائن جلد 5۔ حاشیہ صفحہ 103 تا 107)

اِس عنوان کے تحت بخاری کتاب التفسیر تفسیر سورۃ الجن میں کچھ روایات درج ہیں۔ نیز دیگر مفسرین نے بھی اس موضوع کے تحت کئی روایات درج کی ہیں۔ جیسے تفسیر القرآن لابن کثیر، سورۃ الجن، جلد 5 صفحہ 46۔

پاکیزہ شباب:

سیّدنا حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں:-

”تاریخ کو دیکھو کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم وہی ایک یتیم لڑکا تھا جس کا باپ پیدائش سے چند دن بعد ہی فوت ہو گیا۔ اور ماں صرف چند ماہ کا بچہ چھوڑ کر مر گئی تھی تب وہ بچہ جس کے ساتھ خدا کا ہاتھ تھا بغیر کسی کے سہارے کے خدا کی پناہ میں پرورش پاتا رہا۔ اور اس مصیبت اور یتیمی کے ایام میں بعض لوگوں کی بکریاں بھی چرائیں اور بجزخدا کے کوئی متکفّل نہ تھا۔ اور پچیس برس تک پہنچ کر بھی کسی چچا نے بھی آپ کو اپنی لڑکی نہ دی۔ کیونکہ جیسا کہ بظاہر نظر آتا تھا آپ اس لائق نہ تھے کہ خانہ داری کے اخراجات کے متکفل ہو سکیں۔ اور نیز محض امّی تھے اور کوئی حرفہ اور پیشہ نہیں جانتے تھے“

(پیغامِ صلح، روحانی خزائن جلد 23، صفحہ 465)

مذکورہ بالا تحریر میں حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام نے آپ ﷺ کے مبارک زمانہ شباب پر مختصر الفاظ میں نہایت جامع تبصرہ فرمایا ہے۔ بظاہر نظر تمام حالات ناموافق تھے۔ غربت، یتیمی، امی محض، کوئی حرفہ یا فن باقاعدہ سیکھنے کا موقع نہ ملا۔ سو خاندان میں کسی ہم عمر لڑکی سے شادی بھی بظاہر ناممکن تھی۔ لیکن آپؐ کی ذات میں وہ جوہر مخفی تھے کہ جو تجربہ کے محتاج نہ تھے اور نہ ہی کسی استاد سے حرفہ و پیشہ سیکھنے سے مل سکتے تھے۔ آپؐ کو امانت و دیانت اور ہمدردیِ مخلوق سے پُر وہ قلبِ مطہر عطا ہوا تھا جس نے عظیم المرتبت رسالت کا متحمل ہونا تھا۔ خدا نے ایسے نامساعد حالات میں بھی آپ ﷺ کی حیرت انگیز خبرگیری فرمائی۔ جس کا ذکر کر کے آپ نے اپنی تحریرات میں یہ الفاظ کہ ”بظاہر نظر آتا تھا“ فرما کر یہ نکتہ بیان فرما دیا ہے کہ اوائل جوانی میں آپ ﷺ بظاہر ایک غریب اور ناتجربہ کار نظر آتے تھے لیکن بفضلہ تعالیٰ زندگی کے کسی حصہ میں بھی خدا نے آپ ﷺ کو بے یار و مددگار نہ چھوڑا۔ اور آپ پر ایک فضل یہ بھی تھا کہ فہم و فراست کے ساتھ مشاہدۂ فطرت سے بہت کچھ سیکھ لیتے تھے۔ بچپن اور نوجوانی کے پیش آمدہ حالات سے آپ ﷺ کے قلبِ مطہر نے گہرے اور دقیق در دقیق نتائج اخذ کئے جنہیں صدق و امانت کی کسوٹی پر رکھ کر زندگی کا لائحہ عمل تیار ہوا۔ بچپن اور جوانی میں آپ ﷺ جن تجرِبات میں سے گزرے اُن میں سے ایک یہ بھی ہے کہ عرب کے عام دستور کے مطابق بچپن میں چند قیراط کے عوض بکریاں چرائیں۔ اس تجربہ سے آپ نے دیگر فوائد کے علاوہ معیشت کے ابتدائی اصول سیکھے۔ آپ ﷺ کا اپنے چچا ابو طالب کے ساتھ ایک تجارتی سفر پر بچپن میں شام کی طرف جانا ثابت ہے۔ اپنے ماحول میں چچاؤں اور دیگر رشتہ داروں کو مکہ میں تجارت میں مشغول پا کر تجارت کی سمجھ بوجھ لاشعوری طور پر حاصل ہوئی ہوگی۔ اور مکہ تو تھا ہی ایک تجارتی مرکز۔ آپ ﷺ نے بیس یا اکیس برس کی عمر میں ایک یادگار تجارتی سفر کئے تھے۔ اور عمر کے اسی حصہ میں حلف الفضول میں شرکت بھی فرمائی۔ اس سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ عمر کے اس حصہ میں عملی زندگی میں قدم رکھنے شروع فرمائے۔ اور پچیس سال کی عمر تک اگرچہ سمجھ بوجھ تو حاصل ہو چکی تھی لیکن بظاہر بے تجربہ و بے مال و متاع اس لئے تھے کہ ذاتی تجارت کا موقعہ حاصل نہ ہوا تھا۔ بلکہ ایک اجیر کی حیثیت سے ہی تجارت میں دخل تھا۔ اور یہی وجہ ہے کہ اس عمر تک خاندان کی کوئی لڑکی آپ ﷺ سے بیاہی نہ گئی۔

(سیرت النبی ﷺ ، صفحہ 59تا61، مطبوعہ کینیڈا 2018)