اردو   हिंदी   বাংলা   ಕನ್ನಡ   മലയാളം   ଓଡ଼ିଆ   தமிழ்   తెలుగు  




.

2025-05-22

سیرت خاتم النّبیین ﷺ (از حضرت مرزا بشیر احمد صاحب ایم.اے.رضی اللہ عنہ )

مومن کی دعا خدائی تقدیر کوبھی بدل سکتی ہے
پھرفرماتے ہیں:
لاَ یَرُدُّ الْقَضَاءَ اِلاَّالدُّعَاءُ
یعنی’’لوگو!سن لو کہ دعا کووہ طاقت حاصل ہے کہ وہ خدائی قضاء قدر کو بھی بدل دیتی ہے۔یعنی اگر عام قانون وقدر کے ماتحت کسی فرد یا قوم پرکوئی مصیبت آنے والی ہوتی ہے تودعا کے ذریعہ اللہ تعالیٰ اپنے خاص حکم سے اس مصیبت کوٹال سکتا ہے۔‘‘اس جگہ وہ لوگ غورکریں جودعا کو محض عبادت خیال کرتے ہیں۔
دعا کی قبولیت کی تین امکانی صورتیں
پھرفرماتے ہیں:
مَامِنْ مُسْلِمٍ یَدْعُوْبِدَعْوَۃٍ لَیْسَ فِیْھَا اِثْمٌ وَلَا قَطِیْعَۃُ رِحْمٍ اِلَّا اَعْطَاہُ اللّٰہُ بِھَا اِحْدٰی ثَلَاثٍ اِمَّا یُعَجِّلُ لَہٗ دَعْوَتَہٗ وَاِمَّا اَنْ یَدْخِرَھَا لَہٗ فِی الْاٰخِرَۃِ وَاِمَّا اَنْ یَصْرِفَ عَنْہُ مِنَ السُّوئِ مِثْلَھَا
یعنی’’جب ایک مسلمان خدا سے کوئی دعا کرتا ہے توبشرطیکہ وہ دعا کسی گناہ یاقطع رحمی پرمشتمل نہ ہو خد ا اسے تین صورتوں میں سے کسی نہ کسی ایک صورت میں ضرور قبول فرمالیتا ہے یعنی(۱)یا تووہ اسے اسی صورت میں اسی دنیا میں قبول کرلیتا ہے اور(۲)یااسے آخرت کے لئے دعا کرنے والے کے واسطے ذخیرہ کرلیتا ہے اور(۳)یا(اگراس کا قبول کرنا کسی سنت الہٰی یامصلحت الہٰی کے خلاف ہو تو)اس کی وجہ سے دعا کرنے والے سے کسی ملتی جلتی تکلیف یابدی کودور فرمادیتا ہے۔‘‘ قبولیت دعا کی ان تین امکانی صورتوں کے ہوتے ہوئے کون کہہ سکتا ہے کہ دعا قبول نہیں ہوتی؟
دعا میں جلد بازی مہلک ہے
پھرفرماتے ہیں:
اِنَّہٗ یُسْتَجَابُ لِاَحَدِکُمْ مَالَمْ یُعَجِّلْ فَیَقُوْلُ قَدْدَعَوْتُ رَبِّیْ فَلَمْ یَسْتَجِبْ لِیْ وَفِی رِوَایَۃٍ مَالَمْ یَسْتَعْجِلْ قِیْلَ یَارَسُوْلَ اللّٰہِ مَاالْاِسْتِعْجَالُ قَالَ یَقُوْلُ قَدْدَعَوْتُ وَقَدْدَعَوْتُ فَلَمْ یُسْتَجَابُ لِیْ فَیَسْتَحْسِرْ عِنْدَ ذٰلِکَ وَیَدَعُ الدُّعَاءَ
یعنی’’دعا میں لمبے صبرواستقلال کی ضرورت ہوتی ہے اورجو انسان جلد بازی سے کام نہیں لیتا وہ بالآخر اپنی دعا کا پھل ضرور حاصل کرلیتا ہے۔ہاں اگر وہ خود تھک کر یہ کہنے لگ جائے کہ میں نے تو بہت دعائیں کرکے دیکھ لیا ہے خدا نے میری کوئی نہیں سنی اورپھر وہ اس خیال کے ماتحت دعا چھوڑ بیٹھے توایسے شخص کی دعا واقعی قبول نہیں ہوتی۔‘‘
غافل دل کی دعا قبول نہیں ہوتی
پھرفرماتے ہیں:
اُدْعُوا اللّٰہَ وَاَنْتُمْ مُوْقِنُوْنَ بِالْاِجَابَۃِ وَاعْلَمُوْا اَنَّ اللّٰہَ لَا یَسْتَجِیْبُ دَعَاءًمِّنْ قَلْبِ غَافِلٍ لَاہٍ
یعنی’’جب تم دعا کرو تو اس یقین کے ساتھ کرو کہ خدا تمہاری دعا کو ضرور سنے گا۔اوریاد رکھو کہ خدا ایسے دل سے نکلی ہوئی دعا ہرگز نہیںسنتا جوغافل اوربے پروا ہے۔‘‘
دعا میں معین درخواست ہونی چاہئے
پھرفرماتے ہیں:
اِذَادَعَا اَحَدُکُمْ فَلْیَعْزِمِ الْمَسْئَلَۃَ وَلاَ یَقُوْلَنَّ اللّٰھُمَّ اِنْ شِئْتَ فَاعْطِنِیْ فَاِنَّہٗ لَا مُسْتَکْرِہُ لَہٗ
یعنی’’جب تم میں سے کوئی شخص دعا کرنے لگے تواسے چاہئے کہ اپنے سوال پرپختگی سے قائم ہو اورایسے الفاظ استعمال نہ کرے کہ خدایا اگرتوپسند کرے تومیری اس دعا کو قبول کرلے کیونکہ خدا تو بہرحال اسی صورت میں قبول کرے گا کہ وہ اسے پسند کرے گا کیونکہ خدا سب کا حاکم ہے اوراس پر کسی کادبائو نہیں۔پس خواہ نخواہ مشروط یاڈھیلے ڈھالے الفاظ کہہ کر اپنی دعا کے زور اوراپنے دل کی توجہ کوکمزور نہیں کرنا چاہئے۔‘‘
آنحضرت ﷺکا یہ آخری ارشاد علم النفس کے ایک بھاری اورپختہ اصول پر مبنی ہے کیونکہ ظاہر ہے کہ دعا کے لئے توجہ اورانہماک اوراستغراق کی کیفیت ضروری ہے اوریہ کیفیت اسی صورت میں پیدا ہوسکتی ہے کہ جب دعا کرنے والا عزم اوریقین کے ساتھ ایک بات پر قائم ہو کر کسی چیزکاسوال کرے،لیکن اگر وہ اس قسم کے الفاظ کہے کہ خدایا تواگرچاہے تومیری یہ بات مان لے تو اس صورت میں اس کے اندر کبھی بھی وہ توجہ اوروہ استغراق کارنگ پیدا نہیں ہوسکتا جو دعا کی قبولیت کے لئے ضروری ہے۔ آنحضرت ﷺفرماتے ہیں کہ بہرحال خداانسان کے ماتحت تو ہے نہیں کہ ہر چیز جوانسان مانگے تووہ ضرور اسے دے دے اورانکارکی طاقت نہ رکھتا ہو بلکہ وہ ایک حکمران خدا ہے اوراپنے مصالح کے ماتحت قبول کرنے اوررد کرنے ہردو کی طاقت رکھتا ہے توپھر انسان کیوں اپنے دل میں ایک شک کی حالت پیدا کرکے اس عزم اورتوجہ اوراستغراق کے مقام سے متزلزل ہوجو سوال میں کشش اور قوت جذب پیدا کرنے کے لئے ضروری ہے۔
خدا پر ہمیشہ نیک گمان رکھو
اس اصول کی تشریح آنحضرت ﷺایک دوسری جگہ ان الفاظ میں فرماتے ہیں کہ:
اَنَاعِنْدَظَنِّ عَبْدِیْ بِیْ
یعنی’’خدا فرماتا ہے کہ میرا بندہ میرے متعلق جس طرح کا گمان رکھتا ہے میں اسی کے مطابق اس سے سلوک کرتا ہوں۔‘‘
یہ نکتہ بھی بے شمار کامیابیوں کی کلید ہے مگر افسوس ہے کہ اکثر لوگ اس کی حقیقت سے ناواقف ہیں۔بہرحال دعا کے لئے عزم اوریقین کی کیفیت ضروری ہے اورعام حالات میں شک کے الفاظ میں دعاکرنا جائز نہیں مگریہ عدم جوازاسی صورت میں ہے کہ دعا کرنے والا عدم یقین یا عدم توجہ کی وجہ سے ایسا طریق اختیار کرے لیکن اگروہ خاص حالات میں توجہ اوریقین کے مقام پر قائم رہتے ہوئے پھر کسی معاملہ میں اپنے فیصلہ کو خدا پر چھوڑ دے اوراس کی وجہ سے اس کی حالت میں بے اعتمادی یا بے توجہی یاعدم یقین کارنگ پیدا نہ ہو بلکہ توکل علی اللہ اورتفویض الی اللہ کارنگ ہوتو ایسی صورت میںاس طریق پردعا کرنا بھی ناجائز نہیں ہوگا۔
دعا کے متعلق اسلامی تعلیم کاخلاصہ
مذکورہ بالا آیات واحادیث سے مسئلہ دعا کے متعلق مندرجہ ذیل اصولی باتیں ثابت ہوتی ہیں۔
(1) ہرمسلمان کافرض ہے کہ وہ ہرحال میں خدا سے دعا کرتا رہے خواہ اسے خوف کی حالت درپیش ہویاطمع کی خواہ وہ تنگی کی حالت میں ہو یاآرام میں۔ خواہ وہ کسی مصیبت سے بچنا چاہتا ہو یاکسی بھلائی کے حاصل کرنے کاآرزومند ہو۔
(2) دعا ہرحالت میں ہونی چاہئے تضرع کی حالت میں بھی اورخفیہ حالت میںبھی۔یعنی اس وقت بھی کہ جب انسان پرافکار کاایسا ہجوم ہو کہ وہ اپنے جذبات کوقابو میں نہ رکھ سکتا ہو اور وہ پھوٹ پھوٹ کر باہر آتے ہوں اوراس وقت بھی کہ جب وہ اپنے جذبات کو قابو میں رکھ کر صبراورخاموشی کے ساتھ اپنی التجا کو پیش کرسکتاہو۔
(3) دعا کی قبولیت کے لئے سچا ایمان اورنیکی اورطہارت اوراطاعت اورعبودیت ضروری ہیں۔ جولوگ خدا کی آواز پر کان دھرتے ہیں خدا بھی ان کی آواز کو زیادہ توجہ اورزیادہ محبت کے ساتھ سنتاہے۔
(4) ناشکر لوگوں کی دعائیں جوخدا کے انعاموں پر شکرگزاری کاطریق اختیار نہیں کرتے اورنیز ان لوگوں کی دعائیں جوخدائی نظام کے باغی ہیں درجہ قبولیت کو نہیں پہنچتیں بلکہ صدائے صحرا کی طرح فضا میں گونج کر ختم ہوجاتی ہیں۔
(5) دعا میں یہ طاقت حاصل ہے کہ وہ خدائی قضا وقدرکوبھی بدل سکتی ہے یعنی اگرخدا کے عام قانون قدرت کے ماتحت کوئی بات ہونے والی ہو اورپھر اس کا کوئی پاک بندہ اس سے اس بات کے ٹل جانے کی دعا کرے توخدا تعالیٰ اپنی اس عام تقدیر کوبدل کر اپنے بندے کی دعا کے مطابق خاص تقدیر جاری کردیتا ہے۔
(6) مگر خدا کایہ ازلی فیصلہ ہے کہ وہ اپنی کسی سنت یاوعدہ کے خلاف کوئی بات نہیں کرتا۔پس ایسی دعائیں جواس کی کسی سنت یاوعدہ کے خلاف ہوں قبول نہیں ہوتیں۔اسی طرح ایسی دعائیں جوگناہ یاقطع رحمی کادروازہ کھولتی ہوں قبول نہیں ہوتیں۔
(7) دعا کے لئے جلد بازی سمِّ قاتل ہے بلکہ صبراوراستقلال کے ساتھ دعا میں لگے رہنا چاہئے جو لوگ کچھ وقت دعا کرکے پھرتھک جاتے اوراس قسم کے الفاظ بولنے لگ جاتے ہیں کہ ہم نے بہت دعائیں کرکے دیکھ لیا خدا ہماری نہیںسنتا ان کی دعائیں قبول نہیں ہوتیں۔
(8) دعا میں شک یاعدم یقین یامایوسی کے الفاظ ہرگز استعمال نہیں کرنے چاہئیں بلکہ یقین اورعزم کے ساتھ یہ امید رکھتے ہوئے کہ خدا ہماری سنے گا دعا کرنی چاہئے۔
(9) خدا دعا قبول کرنے یاردّ کرنے میں آزاد ہے ۔اس پر کسی کا دبائو یاجبر نہیں۔جب وہ کسی دعا کو قبولیت کے قابل خیال کرتا ہے تواسے قبول کرتا ہے اورجب قبولیت کے قابل نہیں سمجھتا تو اسے ردّ کردیتا ہے۔مگربظاہر ردّ کرنے کی صورت میں بھی اگر دعا کرنے والا مستحق ہے تو خدا کسی اوررنگ میں اس کی تلافی فرمادیتا ہے خواہ اسی دنیا میں خواہ آخرت میں۔
(10) دعاتمام عبادتوں کی جان اورروح رواں ہے اورجو عبادت دعا سے خالی ہے وہ اس ردّی اور کھوکھلی ہڈی کی طرح ہے جوگودے سے خالی ہو۔
اس نوٹ کو ختم کرنے سے پہلے یہ ذکربھی ضروری ہے کہ اسلام نے نہ صرف دعا کے مسئلہ کو تشریح اور تفصیل کے ساتھ بیان کرکے اس پر خاص زور دیا ہےبلکہ مسلمانوں کودعا کا عملی سبق دینے اوردعا کا عادی بنانے کے لئے انسان کی ہرحرکت وسکون کے ساتھ کوئی نہ کوئی دعامقرر کردی ہے تاکہ اس کی کوئی گھڑی خدا کی یاد سے خالی نہ رہے مثلاًکسی کے پیدا ہونے،کسی کے وفات پانے،مسجد میں داخل ہونے، مسجد سے نکلنے، سفر میںجانے،سفرسے واپس آنے،سواری پر چڑھنے، سواری سے اترنے، کھانا شروع کرنے، کھانا ختم کرنے، بستر پر جانے، بستر سے اٹھنے، پہاڑی پر چڑھنے، وادی میں اترنے، دوستوں سے ملنے، دوستوں سے جدا ہونے، شادی کرنے، بیوی سے ملنے، نیا چاند دیکھنے، بارش کے برسنے، بارش کے رکنے، آندھی کے چلنے، گھر سے نکلنے، گھر میں داخل ہونے، موسم کا پہلا پھل کھانے، بیمارکی تیمارداری کرنے،کسی مسلمان کی نعش کے پاس جانے،کسی مسلمان کو دفن کرنے، غرض زندگی کے ہرحرکت وسکون کوکسی نہ کسی دعا کے ساتھ وابستہ کردیا ہے اوریہ دعا محض رسمی دعا نہیں بلکہ دل کی گہرائیوں سے نکلنے والی زندہ چیز ہے جوایک سچا مسلمان کامل یقین اورحضور قلب کے ساتھ اختیار کرتا ہے۔کاش دنیا اس عظیم الشان خزانہ کی قدر کرے۔
(سیرت خاتم النّبیین، صفحہ734تا738 ، مطبوعہ قادیان 2006)