اردو   हिंदी   বাংলা   ಕನ್ನಡ   മലയാളം   ଓଡ଼ିଆ   தமிழ்   తెలుగు  




.

2025-05-08

سیرت خاتم النّبیین ﷺ (از حضرت مرزا بشیر احمد صاحب ایم.اے.رضی اللہ عنہ )

دعا کا مسئلہ ہستی باری تعالیٰ کے مسئلہ کی فرع ہے
درحقیقت اصل سوال تو یہ ہے کہ کیا واقعی اس دنیا کا کوئی خدا ہے جس نے اسے پیدا کیا ہے اورجو اس سارے کارخانہ عالم کواپنے دست قدرت سے چلارہا ہے۔اگر توایسا خدا ہے اوروہ دنیا کو پیدا کرکے اپنے عرش الوہیت سے معزول نہیں ہوگیا اورنہ ہی اس کی طاقتیں معطل ہوئی ہیںتوپھر دعا کا مسئلہ عقل مند کے نزدیک قابل اعتراض نہیں ہوسکتا۔صرف سوال یہ رہ جاتا ہے کہ آیا کوئی مخصوص دعا عملاًقبولیت کے درجہ کوپہنچی ہے یا نہیں اورآیا اس کا کوئی معین نتیجہ نکلا ہے یا نہیں؟سو یہ بات مشاہدہ کے میدان سے تعلق رکھتی ہے جس میں استدلالی براہین کادخل نہیں۔مجھے اپنے اصل مضمون سے ہٹنا پڑتا ہے ورنہ میں سینکڑوںمثالیں دے کر ثابت کرسکتا ہوں کہ ہمارا خدا ایک نام کا بادشاہ نہیں اورنہ ہی وہ اپنے پیداکردہ قانون کاغلام ہے کہ اس میں کسی صورت میں بھی کوئی تبدیلی نہ کرسکے۔ بیشک جیسا کہ ہم آگے چل کر بیان کریں گے وہ اپنی سنت اور وعدہ کے خلاف کوئی کام نہیں کرتا مگر دوسری طرف وہ ایک زندہ اورمتصرف خدا ہے جواپنے بندوں کی دعائوں کوسنتا اوران پریقینی نتائج مترتب کرتا ہے۔ مگر ظاہر ہے کہ جس طرح وہ اپنے قانون کاغلام نہیں اسی طرح وہ اپنے بندوں کابھی غلام نہیں اورضروری نہیں کہ ہر دعا کومنظور کرےبلکہ دعا کی منظوری بعض شرائط کے ساتھ مشروط ہے جنہیں ہم انشاء اللہ آگے چل کر درج کریں گے۔
اس اصولی نوٹ کے بعد ہم مسئلہ دعا کے متعلق اپنے ناظرین کی تنویر کے لئے چند قرآنی آیات اور احادیث پیش کرتے ہیں تاکہ انہیں معلوم ہوسکے کہ اس بارے میں اسلامی تعلیم کاخلاصہ کیا ہے سو جاننا چاہئے کہ دعا ایک عربی لفظ ہے جس کے معنی کسی کو بلانے یاپکارنے کے ہیں اورگوپکارنے اور بلانے میںزیادہ غالب مفہوم سوال کرنے اورمانگنے کا ہوتا ہے مگر اپنے وسیع معنوں کے لحاظ سے دعا ہررنگ کا پکارنا شامل سمجھا جائے گا خواہ یہ پکارنا سوال یاطلب نصرت کی غرض سے ہو یاکسی اورغرض سے ہو۔ مثلاً اگرکوئی شخص خدا کومحض اپنی محبت اورعبودیت کے جذبات کے اظہار کے لئے مخاطب کرتاہے تویہ بھی ایک نوع دعا کی ہے خواہ اس میں کوئی پہلو سوال یا استعانت کا نہ پایاجائے ۔ مگر ان وسیع معنوں کے علاوہ دعا کے لفظ کواصطلاحاًایک مخصوص اورمحدود مفہوم بھی حاصل ہوگیا ہے جوسوال کرنے اورمانگنے اور طلب نصرت سے تعلق رکھتا ہے اوراس جگہ یہی مؤخر الذکر مفہوم ہمارے مدنظر ہے۔
دعا کامیابی کاایک روحانی ذریعہ ہے
سب سے پہلے اسلام مسئلہ دعا کے متعلق یہ تعلیم دیتا ہے کہ دعاصرف ایک عبادت ہی نہیں ہے بلکہ حقیقی سوال کارنگ بھی رکھتی ہے اوراللہ تعالیٰ حسب حالات اس سوال کوقبول کرتا اور اس پر نتیجہ مترتب فرماتا ہے۔ اورمسلمانوں کویہ ہدایت دی گئی ہے کہ وہ کبھی اس روحانی ہتھیار کی طرف سے غافل نہ ہوں بلکہ اسے ہمیشہ اپنے استعمال میں رکھیں۔دراصل اسلام میں دعا کے متعلق نظریہ یہ ہے کہ جس طرح خدا نے دنیا میں مختلف مقاصد کے حصول کے لئے مختلف ذرائع مقرر فرمائے ہیں اورخدا کا یہ منشا ہے کہ لوگ حسب حالات ان ذرائع اوراسباب کو اختیار کریں اوران سے فائدہ اٹھائیں اوردنیا میں ساری ترقی کاراز انہی اسباب کے استعمال میں مخفی ہے اسی طرح خداتعالیٰ نے ان مادی اسباب کے علاوہ ایک روحانی سبب بھی مقرر فرمایا ہے اور یہ روحانی سبب دعا ہے۔اور اللہ تعالیٰ کایہ منشا ہے کہ اس کے بندے اپنے کاموں میں ظاہری اور مادی ذرائع کے ساتھ ساتھ دعا یعنی روحانی ذریعہ کو بھی استعمال کریں۔اوراس منشاء الٰہی میں دوہری غرض مدنظر ہے۔
اوّل:یہ کہ تامحض مادی اسباب میں گھرے رہنے کی وجہ سے لوگوں کی نظر مادیّت کے ماحول میں محصور ہوکر نہ رہ جائے اوروہ ان مادی اسباب کوہی اپنا آخری سہارا نہ سمجھنے لگیںبلکہ ان اسباب کے ساتھ ساتھ ان اسباب کے پیدا کرنے والے خدا کوبھی یاد رکھیں جس کے سہارے پریہ سارے مادی اسباب قائم ہیں۔
دوم:یہ کہ تالوگوں کے دلوں میں یہ احساس پیدا ہوکہ جس طرح مختلف مقاصد میں کامیابی کے لئے بعض مادی اسباب مقرر ہیں اسی طرح خدا کی ازلی تقدیر نے ایک روحانی سبب بھی مقرر کررکھا ہے اور یہ روحانی سبب دعا ہے جوہمارے معاملات میں اسی طرح مؤثر ہے جس طرح کہ مادی اسباب مؤثر ہیں۔ البتہ جس طرح قانون قدرت کے ماتحت ہرمادی سبب کے استعمال کاایک طریق مقرر ہے اسی طرح روحانی سبب کے استعمال کابھی ایک طریق مقرر ہے جسے اختیار کرنے کے بغیر وہ مؤثر نہیں ہوتا،لیکن جب اس طریق کواختیار کرلیا جائے تویہ روحانی سبب مادی اسباب کی نسبت بھی زیادہ مؤثر ہوجاتا ہے کیونکہ گومادی اورروحانی اسباب ہردو کی تہ میں خدا ہی کا ہاتھ ہے اوروہی ہرچیز کی علت العلل ہے مگر چونکہ روحانی سبب میں گویا خداتعالیٰ سے براہ راست اپیل ہوتی ہے اس لئے اگر اس میں صحیح طریق کواختیار کیا جائے تووہ لازماًمادی اسباب کی نسبت بہت زیادہ قوی الاثر اور بہت زیادہ سریع الاثر اوربہت زیادہ وسیع الاثر ثابت ہوتا ہے۔
خدادعائوں کوسنتا اورقبول کرتا ہے
اس اصولی نوٹ کے بعد ہم مسئلہ دعا کے متعلق بعض قرآنی آیات اوراحادیث اس جگہ درج کرتے ہیں تاکہ یہ معلوم ہوسکے کہ اسلام اس بارے میں کیا تعلیم دیتا ہے۔ سوقرآن شریف میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
وَ قَالَ رَبُّکُمُ ادْعُوْنِیْٓ اَسْتَجِبْ لَکُمْ  اِنَّ الَّذِیْنَ یَسْتَکْبِرُوْنَ عَنْ عِبَادَتِیْ سَیَدْخُلُوْنَ جَہَنَّمَ دٰخِرِیْنَ ؁
یعنی’’تمہارا پروردگارتمہیں ہدایت فرماتا ہے کہ (جب بھی تمہیں کوئی ضرورت یاحاجت پیش آیا کرے)تم مجھے پکاراکرو۔میں تمہاری پکارکوسنوں گا اور قبول کروں گا،لیکن وہ لوگ جومیری عبادت سے تکبر کرتے ہیں (اوران کی گردنیں مجھے پکارنے کے لئے نیچی نہیں ہوسکتیں)وہ عنقریب ذلیل ورسوا ہوکر آگ کے عذاب میں داخل کئے جائیں گے۔‘‘
پھرفرماتا ہے:
وَاِذَاسَاَلَکَ عِبَادِیْ عَنِّیْ فَاِنِّیْ قَرِیْبٌط اُجِیْبُ دَعْوَۃَ الدَّاعِ اِذَا دَعَانِلا فَلْیَسْتَجِیْبُوْالِیْ وَلْیُؤْ مِنُوْا بِیْ لَعَلَّہُمْ یَرْشُدُوْنَ ؁
یعنی اے رسول!جب میرے بندے میرے متعلق تجھ سے پوچھیں تو تُو انہیں کہہ دے کہ میں (تم سب کے)قریب ہوں۔میں پکارنے والے کی آواز کوسنتا اوراس کا جواب دیتا ہوں(یعنی اسے قبول کرتا ہوں)مگر میرے بندوں کو بھی چاہئے کہ وہ میری آواز پرکان دھریں اورمجھ پر سچا ایمان لائیں تاکہ وہ(اپنی دعائوں میں)کامیابی کا منہ دیکھ سکیں۔‘‘
پھرفرماتا ہے:
اُدْ عُوْارَبَّکُمْ تَضَرُّعًا وَّخُفْیَۃًطاِنَّہٗ لَا یُحِبُّ الْمُعْتَدِیْنَ ؁ وَلَا تُفْسِدُوْافِی الْاَرْضِ بَعْدَ اِصْلَاحِہَا وَادْعُوْہُ خَوْفًا وَّطَمَعًاطاِنَّ رَحْمَتَ اللہِ قَرِیْبٌ مِّنَ الْمُحْسِنِیْنَ ؁
یعنی’’اے لوگو اپنے رب کوہر حال میں پکارا کرو خواہ تم اضطراب اورگھبراہٹ کی حالت میں آہ وپکار کررہے ہو یاضبط اورصبر کی حالت میں خاموش ہو۔ اورجانو کہ خداحداعتدال سے بڑھنے والوں کو پسند نہیں کرتا اورتمہیں چاہئے کہ بعد اس کے کہ خدا نے دنیا میں اس کی اصلاح کاسامان پیدا کردیا ہے،فساد نہ برپاکرو اوراپنے خدا کو خوف اورطمع ہرحالت میں پکارتے رہو(یعنی خواہ تمہیں کسی مصیبت سے رہائی پانے کی خواہش ہویاکسی بھلائی کے حاصل کرنے کی تمنا ہوہرحالت میں دعا کرتے رہو)یقینا خدا کی رحمت نیک لوگوں کے قریب ہے۔‘‘
اورآنحضرت ﷺحدیث میں فرماتے ہیں:
اِنَّ رَبَّکُمْ حَیِّیٌ کَرِیْمٌ یَسْتَحْیٖ مِنْ عَبْدِہٖ اِذَا رَفَعَ یَدَیْہِ اَنْ یَّرُدَّھُمَا صِفْرًا
یعنی’’اے مسلمانو!تمہارا رب شرمیلا اوربخشش کرنے والا آقا ہے۔وہ اس بات سے شرماتا ہے کہ جب کوئی بندہ اس کے سامنے دعا کے لئے ہاتھ پھیلائے تووہ اس کے ہاتھوں کو خالی لوٹا دے۔‘‘ اللہ اللہ کیا شان دلربائی ہے۔
کافروں کی دعائیں
مگر اس کے مقابل پرکافروں کی دعائوں کے متعلق فرماتا ہے:
وَمَا دُعَآءُ الْکٰفِرِیْنَ اِلَّا فِیْ ضَلٰلٍ ؁
یعنی’’بے شک خدا اپنے بندوں کی دعائیں سنتا ہے مگر اس سے یہ نہ سمجھو کہ ہر شخص کی ہر دعا ضرور قبول ہوتی ہے بلکہ خدا کا یہ قانون ہے کہ ناشکرگزار لوگوں کی دعائیں یاکافروں کی دعائیںجووہ نیک لوگوں کے خلاف مانگتے ہیں قبول نہیں ہوتیں بلکہ یونہی ادھرادھر بھٹک کرضائع ہوجاتی ہیں۔‘‘
خدا اپنے وعدے اورسنت کے خلاف
دعاقبول نہیںکرتا
اور ایک اَور جگہ فرماتا ہے:
اِنَّ اللہَ لَا یُخْلِفُ الْمِیْعَادَ ؁ وَلَنْ تَجِدَ لِسُنَّۃِ اللہِ تَبْدِیْلًا ؁
یعنی’’اللہ تعالیٰ کسی صورت میں اپنے وعدہ کے خلاف نہیں کرتا…اورتم خدا کی سنت میں کبھی کسی قسم کی تبدیلی نہیں پائو گے۔‘‘
پھرحدیث میں آنحضرت ﷺفرماتے ہیں:
اَلدُّعَاءُ مُخُّ الْعِبَادَۃِ
یعنی’’دعا کوعبادت میں وہ درجہ حاصل ہے جو ایک ہڈی میںگودے کوحاصل ہوتا ہے جو گویاہڈی کی جان ہوتا ہے۔‘‘پس جس عبادت میں دعا کاعنصر شامل نہیں وہ ایک بے جان جسم سے بڑھ کر نہیں۔
(سیرت خاتم النّبیین، صفحہ730تا734 ، مطبوعہ قادیان 2006)