دینی اورروحانی امور میں
مساوات
اس کے بعد ہم اس مساوات کی بحث کو لیتے ہیں جودینی اور روحانی امور سے تعلق رکھتی ہے سو جاننا چاہئے کہ گو لامذہب لوگوں اوردنیا داروں کو اس میدان کی اہمیت پراطلاع نہ ہو مگر قُرب الہٰی کی تڑپ رکھنے والوں اورنجات اُخروی کے متلاشیوں کے نزدیک یہ میدان دنیا کی زندگی سے بھی بہت زیادہ اہم اوربہت زیادہ قابل توجہ ہے اورالحمد للہ کہ اس میدان میں بھی اسلامی تعلیم نے صحیح مساوات کے ترازو کوپوری طرح برابر رکھا ہے۔سب سے پہلی بات تو یہ ہے کہ جہاں دوسرے مذاہب یہ تعلیم دیتے ہیں کہ خدا کے کلام کا نزول اوراس کے نبیوں اوررسولوں کاظہور صرف خاص خاص قوموں کے ساتھ ہی مخصوص رہا ہے اوردنیا کی دوسری قومیں اس عظیم الشان روحانی نعمت سے کلی طور پر محروم رہی ہیں مثلاًیہودی لوگ اپنے سوا کسی دوسری قوم کو اس روحانی انعام کا حق دار نہیں سمجھتے اوراسی طرح ہندو لوگ یہ عقیدہ رکھتے ہیں کہ خدا کا کلام صرف آریہ ورت تک محدود رہا ہے اورکسی دوسرے ملک اور دوسری قوم نے اس سے حصہ نہیں پایا اورعملاًعیسائی قوم بھی بنی اسرائیل کے باہر کسی نبی اوررسول وغیرہ کی قائل نہیں۔الغرض جہاں دنیا کی ہر قوم اس روحانی نعمت کو صرف اپنے آپ تک محدود قرار دے رہی ہے اورکسی دوسری قوم کو اس کا حق دار نہیں سمجھتی وہاں اسلام ببانگ بلند یہ تعلیم دیتا ہے کہ جس طرح خدا نے اپنی مادی نعمتوں کوہر قوم اورہر ملک پر وسیع کررکھا ہے اورکسی ایک قوم یاایک ملک کے ساتھ مخصوص نہیں کیامثلاًاس کاسورج ساری دنیا کو روشنی پہنچاتا ہے۔اس کی ہوا سارے کرۂ ارض کویکساں گھیرے ہوئے ہے۔اس کا پانی ساری دنیا کو سیراب کرتا ہے وغیرہ وغیرہ۔اسی طرح خدا نے اپنی روحانی نعمتوں کوبھی کسی خاص قوم یاخاص ملک تک محدود نہیں کیا بلکہ ہرقوم اور ہرملک کواس سے حصہ دیا ہے۔کیونکہ اسلام کی تعلیم کے مطابق دنیا کاخدا کسی خاص قوم یا خاص ملک کا خدا نہیں بلکہ ساری دنیا اورساری قوموں کا خدا ہے اوروہ ایک ایسا مُقْسِط اورعادل حکمران ہے کہ سب مخلوق کوایک نظر سے دیکھتا ہے۔چنانچہ فرماتا ہے :
وَ اِنْ مِّنْ اُمَّۃٍ اِلَّا خَلَا فِیْھَا نَذِیْرٌ
یعنی’’دنیا میں کوئی قوم ایسی نہیں گزری جس کی طرف خدا نے اپنی طرف سے کوئی رسول نہ بھیجا ہو تاکہ وہ انہیں ہوشیار کرکے نیکی بدی کارستہ دکھادے اورترقی کی راہیں بتاوے۔‘‘
یہ الفاظ کیسے مختصر ہیں مگر غور کرو تو ان کے اندر روحانی اوردینی مساوات کاایک عظیم الشان فلسفہ مخفی ہے جس نے دنیا کی ساری قوموں کوخدا کی توجہ کایکساں حق دار قرار دے کر ایک لیول پرکھڑا کردیا ہے اور اس خیال کو جڑ سے کاٹ کر رکھ دیا ہے کہ خدا صرف بنی اسرائیل کاخدا یا صرف آریہ ورت کا خدا ہے اور دوسری قوموں کے لئے اس کی محبت اورانصاف کی آنکھ بالکل بندہے۔الغرض اسلام نے روحانی مساوات کے میدان میں پہلا اصول یہ قائم کیا ہے کہ کلام الہٰی اورنبوت ورسالت کاوجود کسی خاص قوم یاخاص ملک کے ساتھ مخصوص نہیں بلکہ اپنے اپنے وقت میں ہرقوم اس عظیم الشان روحانی انعام سے حصہ پاتی رہی ہے کیونکہ ہرقوم خدا کی پیدا کردہ ہے اورخدا سے یہ بعید ہے کہ ایک ظالم باپ کی طرح اپنے ایک بیٹے کو حصہ دے اوردوسرے کو ہمیشہ کے لئے محروم کردے۔
اسی ضمن میں نجات اورقرب الہٰی کے حصول کا سوال آتا ہے ۔اکثر قوموں نے دنیوی اور اخروی امور میںبھی گویا ایک اجارہ داری کا رنگ اختیار کررکھا ہے اورایک خاص نسلی طبقہ کو خدا کا مقرب اورنجات کامستحق قرار دے کر باقی سب کو عملاًمحجوب اورملعون گردانا ہے جسے کبھی بھی نجات اور قرب الہٰی کی ٹھنڈی ہوا نہیں پہنچ سکتی۔مثلاًیہودی لوگ یہ عقیدہ رکھتے ہیں کہ صرف ایک اسرائیلی نسل کا انسان ہی نجات کا مستحق ہے اورباقی سب لوگ خواہ وہ کیسے ہی نیک ہوں جہنم کاایندھن ہیں۔ اسی طرح عیسائیوں نے گو نسلی رنگ میں نجات کومحدود نہیں کیا مگر بہت سے دینی حقوق وفرائض کو ایک خاص گروہ کے ساتھ مخصوص کردیا ہے جسے پریسٹ ہڈ کے نام سے موسوم کیا جاتا ہے چنانچہ عیسائیوں کے متعدد دینی امور بلکہ بعض تمدنی امور بھی ایک پریسٹ کی وساطت کے بغیر سرانجام نہیں پاسکتے۔اسی طرح ہندوئوں میں بعض دینی حقوق کو صرف برہمن کاورثہ قرار دیا گیا ہے اوردوسرے لوگ اس سے محروم ہیں۔گویا ان قوموں نے نہ صرف دوسری اقوام کونجس اورپلید قرار دے کر دھتکار دیا ہے بلکہ خود اپنے اندر بھی دینی اورمذہبی امور میں ناگوار طبقات کا وجود تسلیم کرکے خدائی انعامات کو بعض خاص طبقوں کے ساتھ مخصوص کردیا ہے مگراسلام کا دامن ان سب ناپاک جنبہ داریوں کے داغ سے پاک ہے بلکہ جس طرح اس نے دنیوی حقوق میں پوری پوری مساوات قائم کی ہے اسی طرح اس نے دینی امور میں بھی انصاف اورمساوات کے ترازو کوکسی طرف جھکنے نہیں دیا چنانچہ اس بارے میں ایک اصولی قرآنی آیت اوپر کی بحث میں گزر چکی ہے جویہ ہے۔
اِنَّ اَکْرَمَکُمْ عِنْدَ اللہِ اَتْقٰکُمْ
یعنی’’اے لوگو سن رکھو کہ تم میں سے خدا کے نزدیک زیادہ معزز اورزیادہ مقرب وہ شخص ہے جو زیادہ متقی اورزیادہ نیک اورزیادہ صالح ہے۔‘‘
اس آیت میںبتایا گیا ہے کہ قرب الہٰی کے حصول کے معاملہ میں کسی قوم یاکسی طبقہ کی خصوصیت نہیں بلکہ سب گورے کالے،بڑے چھوٹے، طاقتورکمزور،مردعورت خدا کا قرب حاصل کرنے کے معاملہ میں برابر ہیں اورآگے آنے کے لئے صرف ذاتی تقویٰ اورذاتی نیکی کی ضرورت ہے۔ان مختصر الفاظ میں خداتعالیٰ نے یہ اشارہ بھی کردیا ہے کہ جب ہم بادشاہوں کے بادشاہ ہوکر سب کو ایک نظر سے دیکھتے ہیں اوراپنا قرب عطا کرنے میں ذاتی تقویٰ وطہارت کے سوا کسی اوربات کاخیال نہیں کرتے توپھر دوسروں کوتوبدرجہ اولیٰ یہ چاہئے کہ ذاتی اوصاف کے سوا کسی اوربات پراپنے انتخاب کی بنیاد نہ رکھا کریں۔
پھردینی امور میں جزااورسزا اورانعام والزام کے بارے میں خداتعالیٰ فرماتا ہے:
فَمَنْ یَّعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّۃٍ خَیْرًا یَّرَہٗ
وَ مَنْ یَّعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّۃٍ شَرًّا یَّرَہٗ
یعنی’’جوشخص بھی خواہ وہ کوئی ہو ایک ذرہ بھر بھی نیکی کرتا ہے وہ ہم سے اس کا اجر پائے گا (اور اس کا کسی خاص طبقہ سے تعلق رکھنا اسے نیک عمل کے پھل سے محروم نہیں کرسکتا)اوراسی طرح جوشخص بھی کوئی بدی کرتا ہے وہ اس کا خمیازہ بھگتے گا(اوراس کا کسی خاص طبقہ سے تعلق رکھنا اسے اس کی بدی کے نتیجہ سے بچا نہیں سکتا)
پھرفرماتا ہے:
وَ قَالُوْا لَنْ یَّدْخُلَ الْجَنَّۃَ اِلَّا مَنْ کَانَ ھُوْدًا اَوْنَصٰرٰیطتِلْکَ اَمَانِیُّہُمْطقُلْ ہَاتُوْا بُرْہَانَکُمْ اِنْ کُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ بَلٰیقمَنْ اَسْلَمَ وَجْہَہٗ لِلّٰہِ وَہُوَ مُحْسِنٌ فَلَہٗٓ اَجْرُہٗ عِنْدَ رَبِّہٖصوَلَا خَوْفٌ عَلَیْہِمْ وَلَا ہُمْ یَحْزَنُوْنَ
یعنی’’یہودی اورعیسائی لوگ دعویٰ کرتے ہیں کہ کوئی شخص یہود یانصاریٰ کے سوا جنت میں نہیں جاسکتا۔یہ ان لوگوں کی محض خام خیالی ہے اورایک ہَوَس سے زیادہ حقیقت نہیں رکھتی۔توانہیں کہہ دے کہ اگر تم اس دعویٰ میں سچے ہو توکوئی دلیل لائو۔ہاں بے شک جس شخص نے اپنے تئیں خدا کے سپرد کردیا یعنی اس پر سچا ایمان لایا اورپھر نیک عمل کئے تووہ خواہ کوئی ہوخدا سے اپنا اجر پائے گا اورایسے لوگوں پر خدا کے حضور کوئی خوف وحزن نہیں آئے گا۔‘‘
اس آیت کامطلب یہ ہے کہ نجات پانے اورقرب الہٰی کے حصول کے لئے صرف قومی یارسمی رنگ میں یہودی یاعیسائی یاکسی اورمذہب کی طرف منسوب ہونا ہرگز کافی نہیں بلکہ نجات اورقرب الہٰی کے لئے سچا ایمان اورعمل صالح ضروری ہے۔پس جو شخص بھی یہ دوباتیں یعنی سچا ایمان اورعمل صالح اپنے اندر پیدا کرتا ہے تو پھرخواہ وہ قومی یانسلی رنگ میں کوئی ہو وہ خدا کی طرف سے ثواب اور انعام کامستحق ہوگا۔یہ آیت ضمناً مسلمانوں کوبھی ہوشیار کرتی ہے کہ وہ محض مسلمان کہلانے پرتسلی نہ پائیں کیونکہ خداتعالیٰ کوخالی ناموں سے سروکار نہیں بلکہ اس کی نظر حقیقت پر ہے۔
پھر دینی فرائض کی ادائیگی کے بارے میں آنحضرت ﷺفرماتے ہیں:
یَؤُمُّ الْقَوْمَ اَقْرَئُھُمْ لِکِتَابِ اللّٰہِ فَاِنْ کَانُوْافِی الْقِرَأَۃِ سَوَاءً فَاَعْلَمُھُمْ بِالسُّنَّۃِ فَاِنْ کَانُوْا بِالسُّنَّۃِ سَوَاءً فَاَقْدَمُھُمْ ھِجْرَۃً فَاِنْ کَانُوْا فِی الْھِجْرَۃِ سَوَاءً فَاَکْثَرُھُمْ سِنًّا۔ وَفِیْ رِوَایَۃٍ فَلْیَؤُمُّھُمْ اَحَدُھُمْ وَاَحَقُّھُمْ بِالْاِمَامَۃِ اَقْرَئُھُمْ۔
یعنی’’اے مسلمانو!جب تم آپس میں فریضۂ نماز کی ادائیگی کے لئے اکٹھے ہو(جواسلام میں سب سے اہم اورسب سے وقیع ترعبادت ہے)تواس وقت اپنا امام بنانے کے لئے صرف یہ دیکھا کرو کہ تم میں سے قرآن کاعلم کس شخص کوزیادہ حاصل ہے۔پس جو شخص بھی قرآنی علم میں زیادہ ہو اسے نماز میں اپنا امام بنالیا کرو اوراگر چند آدمی علم قرآن میں برابر ہوں توپھر ان میں سے جو شخص سنت رسولؐکے علم میں زیادہ ہواسے امام بنایاکرو۔اوراگر چندآدمی سنت کے علم میںبھی برابر ہوں تو پھر ان میں سے جس شخص نے خدا کی راہ میں پہلے ہجرت کی ہواسے امام بنایا کرو۔اوراگر وہ ہجرت میں بھی برابر ہوں توپھر جو شخص عمر میں زیادہ ہواسے اپنا امام بنالیاکرو۔اورایک دوسری روایت میں یہ الفاظ آتے ہیں کہ نمازوں میں مسلمانوں کاامام ہروہ شخص ہوسکتا ہے جو ان میں سے ہے اورکسی خاص طبقہ کی تخصیص نہیں۔مگر امامت کا زیادہ حق دار وہ شخص ہے جو دین کازیادہ علم رکھتا ہے۔‘‘
الغرض آنحضرت ﷺنے دین ودنیا کے ہر میدان میں حقیقی مساوات قائم فرمائی ہے اور سوسائٹی کی ہر ناواجب کش مکش کوجڑ سے کاٹ کررکھ دیا ہے اور جسم اورروح دونوں کی اصلاح کی ہے اوریہ وہ مساوات ہے جس کی نظیر یقینا کسی دوسرے مذہب میں نہیں پائی جاتی۔ اَللّٰھُّمَ صَلِّ عَلٰی مُحَمَّدٍ وَّبَارِکْ وَسَلِّمْ۔
(سیرت خاتم النّبیین، صفحہ709تا713 ، مطبوعہ قادیان 2006)