اسلام میں دولت کی تقسیم کا نظریہ
اس کے بعد دولت کی تقسیم کاسوال آتا ہے جوآج کل کی اشتراکیت اورسرمایہ داری کی باہمی کشمکش جولانگاہ بنا ہوا ہے۔سوگواس بحث کااصل موقع توانشاء اللہ دوسری جگہ آئے گا مگر اس جگہ مختصر طورپراس قدر بیان کردینا ضروری ہے کہ اس اہم سوال کے متعلق بھی اسلام نے ایک ایسی اعلیٰ اور وسطی تعلیم دی ہے جس کی نظیر کسی دوسری جگہ نہیں ملتی۔ کیونکہ جہاں اسلام نے عام حالات میں دولت پیداکرنے کے انفرادی حق کو تسلیم کیا ہے وہاں اس نے ملکی دولت کو سمونے کے لئے ایک ایسی مشینری بھی قائم کردی ہے کہ اگر اسے اختیار کیا جائے توکسی ملک یاکسی قوم کی دولت کبھی بھی عامۃ الناس کے ہاتھوں سے نکل کر چند افراد کے ہاتھوں میں جمع نہیں ہوسکتی۔میں اس جگہ اختصار کے خیال سے اس مشین کے صرف چارپرزوں کے بیان پر اکتفا کروں گا۔
(1) سب سے اول نمبر پر اسلامی قانون ورثہ ہے جس کی رو سے ہر مرنے والے کا ترکہ صرف ایک بچے یا صرف نرینہ اولاد یا صرف اولاد کے ہاتھ میں ہی نہیں جاتابلکہ سارے لڑکوں اور ساری لڑکیوں اور بیوی اور خاوند اور ماں اور باپ اور بعض صورتوں میں بھائیوں اور بہنوں اور دوسرے رشتہ داروں میں ایک نہایت مناسب شرح کے ساتھ تقسیم ہو جاتا ہے۔ اگر کوئی مسلمان زمیندار مرتا ہے تو اس کی زمین اس کے سب وارثوں میں تقسیم ہو گی۔ اگر کوئی دوکاندار مرتا ہے تو اس کی دوکان کا مال سب وارثوں کو پہنچے گا۔اگر کوئی کارخانہ دار فوت ہوتا ہے تو اس کے کارخانے کا حصہ بھی سارے وارثوں میں بٹے گا وعلیٰ ہذالقیاس۔اس طرح گویا اسلام نے دولت کی دوڑ میں تھوڑے تھوڑے وقفہ کے بعد بعض قدرتی روکیں یعنی ہرڈلیں ( HURDLES )قائم کردی ہیں اور ہر نسل کے خاتمہ پر ایک روک (یعنی ہر ڈل)سامنے آکر اس فرق کو کم کردیتی ہے جو گذشتہ نسل کے دوران میں پیدا ہوچکا ہوتا ہے ۔تقسیم ورثہ کا یہ قانون جس کامل اور مکمل صورت میں اسلام نے قائم کیا ہے وہ کسی اور جگہ نظر نہیں آتا اور اس قانون کی تفصیلات پر نظر ڈالنے سے جس کے بیان کرنے کی اس جگہ گنجائش نہیں، صاف محسوس ہوتا ہے کہ اس نظام ورثہ میں صرف ورثاء کو ورثہ پہنچانا ہی مد نظر نہیں ہے بلکہ ملکی دولت کو سمونا بھی اس کا ایک بڑا مقصد ہے ۔یہی وجہ ہے کہ اسلام نے ہر مرنے والے کو اپنے مال کے ایک ثلث یعنی ایک تہائی کی وصیت کی اجازت بھی دی ہے اور یہ وصیت ورثاء کے حق میں جائز نہیں رکھی گئی گویا اس ذریعہ سے اسلام نے ورثہ کی جبری تقسیم کے علاوہ اس بات کا دروازہ بھی کھولا ہے کہ نیک دل لوگ اپنے اموال کو مزید مستحقین میں تقسیم کرنے کا موقع پا سکیں ۔مگر افسوس ہے کہ وصیت کے نظام سے فائدہ اٹھانا تو درکنار آجکل کے مسلمانوں نے ورثہ کی جبری تقسیم والے حصہ کو بھی پس پشت ڈال رکھا ہے ۔اور سرمایہ داری کے خمار نے لڑکیوں اور بیویوں اور ماں باپ تک کو ان کے جائز حق سے محروم کر دیا ہوا ہے۔ بہرحال اسلام کا قانون ورثہ ایک ایسا بابرکت نظام ہے کہ جس کے ذریعہ تھوڑے تھوڑے وقفہ پر ملک کی دولت کے سمونے کا عمل جاری رہتا ہے اور اس کے ساتھ ساتھ اسلام نے یہ ہدایت بھی دی ہے کہ قومی نسل کو بڑھانے کے ذرائع اختیار کرتے رہو۔ پس جب ایک طرف نسل ترقی کرے گی اور دوسری طرف ورثہ وسیع ترین صورت میں تقسیم ہو گا تو ظاہر ہے کہ ملکی دولت خود بخود بٹتی چلی جائے گی۔مگر ضرورت اس بات کی ہے کہ مسلمان اس مبارک تعلیم پر عمل کریں۔
(2) دوسرے نمبر پر اسلام کا قانون امداد باہمی ہے جسے دو حصوں میں تقسیم کیا گیا ہے ایک جبری اور دوسرے طوعی۔جبری قانون نظام زکوۃ سے تعلق رکھتا ہے جس کے ذریعہ امیر لوگوں کی دولت پر حالات کے اختلاف کے ساتھ اڑھائی فی صد شرح سے لے کر بیس فی صد شرح تک خاص ٹیکس عائد کیا گیا ہے اور اس ٹیکس کے ذریعہ جو روپیہ حاصل ہوتا ہے وہ حکومت وقت یا نظام قومی کی نگرانی کے ماتحت غریبوں اور مسکینوں وغیرہ میں تقسیم کر دیا جاتا ہے اور ہمارے آقا آنحضرت ﷺاس ٹیکس کی غرض وغایت ان الفاظ میں بیان فرماتے ہیں کہ:
تُؤْخَذُ مِنْ اَغْنِیَائِھِمْ وَتُرَدُّ عَلٰی فُقَرَائِھِمْ
یعنی’’زکوٰۃ کے نظام کا مقصد یہ ہے کہ امیروں کے اموال کا ایک حصہ کاٹ کر غریبوں کی طرف لوٹایا جائے۔‘‘
اس حدیث میں ’’لوٹایا جائے‘‘کے پُر حکمت الفاظ کے استعمال کرنے میں یہ لطیف اشارہ کرنا بھی مقصود ہے کہ زکوۃ کا ٹیکس کوئی صدقہ وخیرات نہیں ہے جو غریبوں کو بطور احسان دیا جاتا ہے بلکہ وہ امیروں کی دولت میں غریبوں کا ابدی حق ہے جو انہیں طبعی طریق پر حاصل ہے کیونکہ جیسا کہ ہر شخص سمجھ سکتا ہے، ہر مال کے پیدا کرنے میں غریبوں اور مزدوروں کا بھی کافی دخل ہوتا ہے۔
زکوٰۃ کے نظام کے متعلق یہ بات بھی یاد رکھنی چاہئے کہ خدائے حکیم نے ایسے اموال پر زکوٰۃ کی شرح زیادہ مقرر فرمائی ہے جو تجارت کے چکر میں نہیں آتے ۔چنانچہ بند ذخائر پر زکوٰۃ کی شرح بیس فی صد رکھی گئی ہے ۔اس کی وجہ بھی یہی ہے کہ جہاں تجارت یا صنعت میں لگے ہوئے روپے میں سے غریب اور مزدور پیشہ لوگ دوسرے طریق پر بھی کچھ نہ کچھ حصہ لے لیتے ہیں وہاں جمع شدہ ذخائر میں انہیں کوئی حصہ نہیں ملتا۔اس لیے ذخائر میں زکوٰۃ کی شرح بہت بڑھا کر رکھی گئی ہے۔
امداد باہمی کے نظام کا دوسرا حصہ طوعی نظام کی صورت میں قائم کیا گیا ہے اس نظام کے ماتحت اسلام نے غریبوں اور بے کس لوگوں کی امداد پر اتنا زور دیاہے کہ حق یہ ہے کہ ایک نیک اور خدا ترس انسان کے لیے یہ صورت بھی قریباً جبری نظام کا رنگ اختیار کر لیتی ہے ۔ گو ذاتی نیکی کے معیار کو بلند کرنے اور اُخوّت کے جذبات کو ترقی دینے کے لیے اسے قانون کی صورت نہیں دی گئی۔بھوکوں کو کھانا کھلانا،ننگوں کو کپڑاپہنانا،مقروضوں کو قرض کی مصیبت سے نجات دلانا،بیماروں کے لیے علاج کا انتظام کرانا، غریب مسافروں کو ان کی منزل مقصود تک پہنچانا،یتیموں اور بیواؤں کو خاک آلود ہونے سے بچانا وغیرہ وغیرہ ایسی نیکیاں ہیں جن کی تحریک وتحریص میں قرآن وحدیث بھرے پڑے ہیں اور خود آنحضرت ﷺکا ذاتی اسوہ اس معاملہ میں یہ تھا کہ رمضان کے مہینہ میں جو غریبوں کی ضروریات کا خاص زمانہ ہوتا ہے اور اس کے بعد عید بھی آنے والے ہوتی ہے آپؐکا ہاتھ غریبوں اور محتاجوں کی امداد میں اس طرح چلتا تھا جس طرح ایک تیز آندھی چلتی ہے جو کسی روک کو خیال میں نہیں لاتی ۔ الغرض زکوٰۃ کے جبری نظام اور دوسرے صدقات کے طوعی نظام کے ذریعہ اسلام نے امیروں کی دولت کو کاٹ کر غریبوں کو دینے اور اس طرح ملکی دولت کو سمونے کی ایک عظیم الشان مشینری قائم کر رکھی ہے۔
(3) تیسرے نمبر پر اسلام کا قانون تجارت ہے جس کی رو سے اسلام میں سودی لین دین ممنوع قرار دیا گیا ہے۔ آج دنیا کا سمجھدار طبقہ اس بات کو محسوس کرچکا ہے کہ سود ہی وہ چیز ہے جو ملکی دولت کے توازن کو برباد کرنے کی سب سے زیادہ ذمہ وار ہے کیونکہ اس کے ذریعہ غریبوں کا روپیہ سمٹ سمٹ کر آہستہ آہستہ امیروں کے خزانوں میں جمع ہو جاتا ہے۔ اور غور کیا جائے تو دراصل سود کی لعنت ہی سرمایہ داری کے پیدا کرنے کی بڑی موجب ہے۔ اگر آج سود بند ہو جائے تو اس کا لازمی نتیجہ یہ ہو گا کہ اول تو آہستہ آہستہ ملک کی بڑی بڑی تجارتیں یا تو حکومت کے ہاتھ میں چلی جائیں گی اور یا چھوٹی چھوٹی مناسب تجارتوں میں تقسیم ہو کر ملک کی دولت کو خود بخود سمو دیںگی اور دوسرے امیروں کے لیے غریبوں کے پسینہ کی کمائی پر ڈاکہ ڈالنے کا موقع نہیں رہے گا ۔یہ خیال کہ سودی نظام کے بند ہونے سے تجارت ناممکن ہو جائے گی بالکل غلط اور باطل ہے۔ ایسا خیال صرف موجودہ ماحول کی وجہ سے پیدا ہوتا ہے جب کہ یورپ و امریکہ کے سرمایہ داروں کی نقالی کے نتیجہ میں سود کا جال وسیع ہو چکا ہے ۔ورنہ جب سود نہیں تھا اس وقت بھی دنیا کی تجارت چلتی تھی اور انشاء اللہ آئندہ بھی چلے گی اور یہ خیال کہ اسلام میں صرف وہ سود حرام کیا گیا ہے جو بڑی شرح کے مطابق چارج کیا جائے یا جس میں سود در سود کا طریق اختیار کیا جائے محض نفس کا ایک دھوکہ ہے جو اس دلدل میں پھنس جانے کی وجہ سے کمزور لوگوں کے دل میں پیدا ہوتا ہے ورنہ اسلام نے ہر قسم کا سود منع کیا ہے اور حق بھی یہی ہے کہ جو چیز ضرر رساں ہے وہ بہر حال ضرر رساں ہے خواہ وہ تھوڑی مقدار میں ہو یا بڑی مقدار میں۔
(4) چوتھے نمبر پر اسلام نے جوئے کی قسم کی تمام آمدنیوں کو جن کی بنیاد محض اتفاق پر ہوتی ہے منع قرار دیا ہے کیونکہ اس کی وجہ سے بھی قوم اور ملک کی دولت میں ناواجب تقسیم کا رستہ کھلتا ہے چنانچہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
یٰٓاَ یُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْٓا اِنَّمَا الْخَمْرُ وَالْمَیْسِرُ وَالْاَنْصَابُ وَالْاَزْلَامُ رِجْسٌ مِّنْ عَمَلِ الشَّیْطٰنِ فَاجْتَنِبُوْہُ لَعَلَّکُمْ تُفْلِحُوْنَ
یعنی’’اے مسلمانو!شراب اور جؤا اور بتوں کے تھان اور تقسیم کے تیر یقینا ایک شیطانی عمل ہیںپس تم ان سے بالکل دور رہوتا کہ تم کامیاب و بامراد ہو سکو‘‘
اس آیت میں یہ اصول بتایا گیا ہے کہ جُؤا ان شیطانی اعمال میں سے ہے جو قوموں کی کامیاب زندگی کو تباہ کرنے والے ہیں اور اس کی یہی وجہ ہے کہ جوئے میں دولت کے حصول کو محنت اور ہنر مندی پر مبنی قرار دینے کی بجائے محض اتفاق پر مبنی قرار دیا جاتا ہے جو نہ صرف قومی اخلاق کے لیے مہلک ہے بلکہ ملک میںدولت کی ناواجب تقسیم کا ذریعہ بھی بن جاتا ہے ۔بظاہر یہ ایک معمولی سا حکم نظر آتا ہے مگر اس سے اس لطیف نظریہ پر بھاری روشنی پڑتی ہے جو اسلام اپنے اقتصادی اور اخلاقی نظام کے متعلق قائم کرنا چاہتا ہے اور وہ یہ کہ مسلمانوں کی آمدنی محنت اور ہنر مندی پر مبنی ہونی چاہئے نہ کہ اتفاقی حادثات پر۔مَیْسِرْ کا لفظ بھی جو یُسْرٌ (یعنی سہولت اور آسانی)سے نکلا ہے اس حقیقت کی طرف اشارہ کرنے کے لیے وضع کیا گیا ہے کہ جوئے کی آمدنی محنت اور ہنر مندی پر مبنی نہیں ہوتی بلکہ یونہی بیٹھے بٹھائے آسانی سے مل جاتی ہے جواسلام کے اقتصادی نظریہ کے سراسر خلاف ہے۔
اوپر کی چار اصولی باتیں صرف اختصار کے خیال سے بیان کی گئی ہیں ورنہ اسلام نے اپنے اقتصادی نظام میں دولت کے سمونے کے بہت سے ذریعے تجویز کئے ہیں اور اسلام کا منشاء یہ ہے کہ ایک طرف تو ذاتی جدوجہد کا سلسلہ جاری رہے اور ہر شخص کے لیے اپنی ذاتی محنت کے پھل کھانے کا رستہ کھلا ہو کیونکہ دنیا میں محنت اور ترقی کا یہی سب سے بڑا محرک ہے۔اور دوسری طرف ملکی دولت بھی نا واجب طور پر چند ہاتھوں میں جمع ہونے سے محفوظ رہے۔اور یہی وہ وسطی طریق ہے جس پر گامزن ہو کر مسلمان افراط و تفریط کے رستوں سے بچ سکتے ہیں۔
(سیرت خاتم النّبیین، صفحہ697تا701 ، مطبوعہ قادیان 2006)