ملکی عہدوں کی تقسیم میں مکمّل مساوات
عدالتی حقوق کے سوال کے بعد عہدوں اور ذمہ داریوں کی تقسیم کاسوال آتا ہے اورایک لحاظ سے یہ سوال سب سے زیادہ اہم ہے سواس کے متعلق قرآن شریف فرماتا ہے:
اِنَّ اللہَ یَاْمُرُکُمْ اَنْ تُؤَدُّوا الْاَمٰنٰتِ اِلٰٓی اَھْلِھَالاوَاِذَاحَکَمْتُمْ بَیْنَ النَّاسِ اَنْ تَحْکُمُوْا بِالْعَدْلِ۔
یعنی’’اے مسلمانو!اللہ تعالیٰ تمہیں حکم دیتا ہے کہ قومی اورملکی عہدوں کی تقسیم کے معاملہ میں جوخدا کے نزدیک ایک مقدس امانت کارنگ رکھتے ہیں صرف ذاتی قابلیت اورذاتی اہلیت کودیکھا کرو۔اور جو شخص بھی اپنے ذاتی اوصاف کے لحاظ سے کسی عہدہ کااہل ہواسے وہ عہدہ سپرد کیا کرو خواہ وہ کوئی ہو۔اورپھر اے مسلمانو!جب تم کسی عہدہ یاذمہ داری کے کام پرمقرر کئے جائو توتمہارا فرض ہے کہ لوگوںمیں کامل عدل وانصاف کامعاملہ کرو۔‘‘
یہ زریں تعلیم ہمیشہ اسلامی حکومتوں کاطُرّہ امتیاز رہی ہے اوریہی وجہ ہے کہ اسلامی سوسائٹی میں بعض بظاہر ہرادنیٰ سے ادنیٰ لوگ ترقی کرکے عروج کے کمال تک پہنچے ہیں چنانچہ ہم دیکھ چکے ہیں کہ کس طرح آنحضرت ﷺنے زید بن حارثہ کوجوایک آزاد شدہ غلام تھے کئی فوجی دستوں کاامیر مقرر فرمایا۔اورپھر زید کی وفات کے بعد آپؐنے ان کے نوجوان فرزند اسامہ بن زید کوبھی ایک بڑی فوج کاامیر مقرر فرمایا جس میں بعض بڑے بڑے صحابہ شامل تھے جوقدیم دستور کے مطابق گویاعرب سوسائٹی میں پہاڑ کی طرح سمجھے جاتے تھے اورجب اس پر بعض ناسمجھ نومسلموں میں چہ میگوئی ہوئی کہ ایک نوجوان غلام زادہ کوایسے ایسے معمر اورجلیل القدر لوگوں پرامیر مقرر کیا گیا ہے تو آنحضرت ﷺنے نہایت غصہ کے ساتھ فرمایا کہ:
اِنْ تَطْعِنُوْا فِی اَمَارَتِہٖ فَقَدْکُنْتُمْ تَطْعِنُوْنَ فِی اَمَارَۃِ اَبِیْہِ مِنْ قَبْلُ وَاَیْمُ اللّٰہِ اِنْ کَانَ لَخَلِیْقًالِلْاَمَارَۃِ وَاِنْ کَانَ لَمِنْ اَحَبِّ النَّاسِ اِلَیَّ وَاِنَّ ھٰذَالَمِنْ اَحَبِّ النَّاسِ اِلَیَّ بَعْدَہٗ۔
یعنی’’تم اسامہ کی امارت پرنکتہ چینی کرتے ہواوراس سے قبل تم اس کے باپ زید پربھی نکتہ چینی کرچکے ہو۔خدا کی قسم جس طرح اس کا باپ امارت کا اہل تھا اورمجھے بہت محبوب تھا اسی طرح اس کے بعد اسامہ بھی امارت کااہل ہے اورمجھے بہت محبوب ہے۔‘‘
یہ اسی مبارک تعلیم کا نتیجہ تھا کہ اسلام میں ہمیشہ بظاہرادنیٰ ترین لوگوں نے اعلیٰ سے اعلیٰ ترقی حاصل کی اور کبھی کسی شخص کی غربت یا نسلی پستی اس کی ترقی میں روک نہیں بنی۔چنانچہ اس کی مزید مثالیں دیکھنی ہوں تو اس کتاب کے حصہ دوم کاوہ باب ملاحظہ کیا جائے جو غلامی کی بحث سے تعلق رکھتا ہے۔
سوشل اجتماعوں میں برادرانہ اختلاط
اس جگہ یہ سوال ہوسکتا ہے کہ عہدوں اورذمہ داری کے کاموں کے متعلق توبے شک اسلام نے حقیقی مساوات کی تعلیم دی ہے اورسب کے لئے ترقی کاایک جیسارستہ کھول دیا ہے مگر ہوسکتا ہے کہ اس انتظامی مساوات کے باوجود تمدنی معاملات اورآپس کے میل ملاقات کے بارے میں مختلف قسم کے لوگوں میں خلیج باقی رہے اور اسلام نے اس خلیج کودور نہ کیا ہو۔سواس کے جواب میں یاد رکھنا چاہئے کہ اسلام نے اس رخنہ کوبھی بڑی سختی کے ساتھ بند کیا ہے۔ چنانچہ اس قرآنی ارشادکے علاوہ جو اوپرگزرچکا ہے کہ سب مسلمان آپس میں بھائی بھائی ہیں اورانہیں بھائیوں کی طرح مل کر رہنا چاہئے آنحضرت ﷺتمدنی تعلقات کے سب سے بڑے ذریعہ اورسب سے بڑے میدان یعنی آپس کی دعوتوں اورکھانے پینے کی ملاقاتوں وغیرہ کے متعلق ارشاد فرماتے ہیں کہ:
شَرُّالطَّعَامِ طَعَامُ الْوَلِیْمَۃِ یُدْعٰی لَھَاالْاَغْنِیَائُ وَیُتْرَکُ الْفُقَرَائُ وَمَنْ تَرَکَ الدَّعْوَۃَ فَقَدْ عَصَی اللّٰہَ وَرَسُوْلَہٗ۔
یعنی’’سب سے بری اورسب سے زیادہ قابل نفرت دعوت وہ دعوت ہے جس میں صرف امیر بلائے جائیں اورغریبوں کونہ بلایا جائے اور جو شخص کسی بھائی کی دعوت کاانکار کرتا ہے وہ خدا اوراس کے رسول کا نافرمان ہے۔‘‘
اس مبارک ارشاد میںآنحضرت ﷺنے اس بات کو سخت ناپسند فرمایا ہے کہ امیر لوگ اپنی دعوتوں وغیرہ میںصرف امیروں کومدعو کریں اور غریبوں کوگویا کوئی اورجنس خیال کرتے ہوئے بھول جائیںاوردراصل مساوات کی روح زیادہ ترتمدنی معاملات میں ہی بگڑنی شروع ہوتی ہے۔کیونکہ اس قسم کے تمدنی معاملات کااثر براہ راست دل پر پڑتا ہے۔اسی طرح آپ نے یہ تاکید بھی فرمائی ہے کہ اگر کوئی غریب کسی امیر کی دعوت کرے تو امیر کے لئے ہرگز مناسب نہیں کہ وہ اپنی امارت کے گھمنڈ میں آکر یایہ خیال کرکے کہ غریب کے ہاں کا کھانا اس کی عادت اورمزاج کے مطابق نہیںہوگا غریب کی دعوت قبول کرنے سے انکار کردے۔چنانچہ اس قسم کی دعوتوں کارستہ کھولنے کے لئے آنحضرت ﷺ فرماتے ہیں:
لَوْدُعِیْتُ اِلٰی کُرَاعٍ لَاَجَبْتُ
یعنی’’اگرکوئی غریب شخص کسی بکری یابھیڑکا ایک پایہ پکاکر بھی مجھے دعوت میں بلائے تو میں اس کی دعوت کوضرور قبول کروں گا۔‘‘
یاد رہے کہ اس جگہ کُراع کے معنی پائے کے نچلے حصہ کے ہیں جوٹخنوں سے نیچے ہوتا ہے اوریقینا وہ ایک ادنیٰ قسم کی غذا ہے کیونکہ ٹخنوں کے نیچے کاحصہ قریباًکُھر ہی بن جاتا ہے، لیکن اگر کُراع کے معنی پورے پائے کے بھی سمجھے جائیں توپھر بھی عربوں کی روایات سے یہ ثابت ہے کہ قدیم زمانہ میں عرب لوگ پائے کواچھی غذا نہیں سمجھتے تھے چنانچہ عربوں میں مشہور محاورہ تھا کہ:
لَا تُطْعِمِ الْعَبْدَ الْکُرَاعَ فَیَطْمَعُ فِی النَّدَاعِ
یعنی’’اپنے غلام کوپایہ بھی کھانے کو نہ دو ورنہ وہ اس سے اوپر نظراٹھا کر دست وران کے گوشت کی بھی طمع کرنے لگے گا۔‘‘
بہرحال آنحضرت ﷺنے اس حدیث میں اپنا ذاتی اسوہ پیش کرکے مسلمانوں کو تحریک فرمائی ہے کہ خواہ دعوت کرنے والا کتنا ہی غریب ہواس کی دعوت کو غربت کی وجہ سے ردّ نہ کروورنہ یاد رکھو کہ تمہاری سوسائٹی میں ایسا رخنہ پیدا ہوجائے گا جوآہستہ آہستہ سب کو تباہ کرکے رکھ دے گا۔
مجلسوں میں مل کر بیٹھنے کے متعلق بھی اسلام یہی سنہری تعلیم دیتا ہے کہ یہ نہیں ہونا چاہئے کہ اگر کوئی بڑاشخص بعد میں آئے توکسی چھوٹے شخص کو اٹھا کر اس کی جگہ اسے دے دی جائے۔چنانچہ حدیث میں آتاہے:
نَھَی النَّبِیُّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہَ وَسَلَّمَ اَنْ یُّقَامَ الرَّجُلُ مِنْ مَجْلِسِہٖ وَیُجْلَسُ فِیْہِ اٰخَرُوَلٰکِنْ تَفَسَّحُوْا وَتَوَسَّعُوْا۔
یعنی’’آنحضرت ﷺاس بات سے منع فرماتے تھے کہ کوئی شخص اپنی جگہ سے اس لئے اٹھایا جائے کہ تااس کی جگہ کوئی دوسراشخص بیٹھ جائے۔ اورفرمایا کرتے تھے کہ اگر جگہ تنگ ہو اور زیادہ آدمی آجائیںتوپھر سب سمٹ سمٹ کرآنے والوں کے لئے گنجائش نکال لیاکرو۔‘‘
یہی اصول نمازوں کے موقع پر مسجدوں میں ملحوظ رکھا گیا ہے جہاں کسی شخص کے لئے کوئی جگہ ریزرو نہیں ہوتی۔ اگرایک خادم پہلے آتا ہے تووہ پہلی صف میں جگہ پائے گا اوراگر ایک آقا پیچھے پہنچتا ہے تووہ آخری صف میںبیٹھے گا۔ غرض خدا کے گھر میں امیروغریب،خادم وآقا،حاکم ومحکوم،طاقتور اور کمزور سب برابر ہوتے ہیں اورکوئی امتیاز ملحوظ نہیںرکھا جاتا۔ یہی حال آنحضرت ﷺکی مجلس کاتھا جس میں آپؐاپنے صحابہ کے ساتھ اس طرح مل جل کر بیٹھتے تھے کہ بعض اوقات ایک اجنبی شخص کے لئے آپؐکی مجلس میں اس بات کاجاننا اورپہچاننا مشکل ہوجاتا تھا کہ آپؐکون ہیں اورکہاں بیٹھے ہیں۔
خادم وآقا کے تعلقات
خادم وآقا کے تعلقات کاسوال بھی ایک بہت اہم سوال ہے مگر چونکہ اس سوال کے متعلق کتاب ہذا کے حصہ دوم میں مسئلہ غلامی کی ذیل میں اصولی بحث گزرچکی ہے اس لئے اس جگہ زیادہ لکھنے کی ضرورت نہیں۔صرف اس قدر اشارہ کافی ہے کہ خادموں اورغلاموں کی حالت کوبہتر بنانے کے لئے بھی اسلام نے نہایت تاکیدی ہدایتیں دی ہیں۔مثلاًآقائوں کوہوشیار کرنے کے لئے آنحضرت ﷺاصولی رنگ میں فرماتے ہیں:
کُلُّکُمْ رَاعٍ وَکُلُّکُمْ مَسْئُوْلٌ عَنْ رَّعِیَّتِہٖ
یعنی’’تم میں سے ہرشخص کسی نہ کسی جہت سے بعض دوسرے لوگوں کاآقا اورافسر ہوتا ہے پس ہر شخص کوہوشیار رہنا چاہئے کیونکہ اسے اس کے سب ماتحت لوگوں کے متعلق پوچھا جائے گا۔‘‘
اورخادموں اورآقائوں کی درمیانی خلیج کواڑانے کے متعلق فرماتے ہیں کہ:
اِنَّ خَوَلَکُمْ اِخْوَانُکُمْ جَعَلَھُمُ اللّٰہُ تَحْتَ اَیْدِیْکُمْ فَمَنْ کَانَ اَخُوْہٗ تَحْتَ یَدِہ فَلْیُطْعِمْہٗ مِمَّا یَاْکُلُ وَلْیُلْبِسْہٗ مِمَّا یَلْبَسُ وَلَا تُکَلِّفُوْھُمْ مَایَغْلِبُھُمْ فَاِنْ کَلَّفْتُمُوْھُمْ مَایَغْلِبُھُمْ فَاَعِیْنُوْھُمْ۔
یعنی’’تمہارے خادم تمہارے بھائی ہیں۔پس جب کسی شخص کے ماتحت اس کا کوئی بھائی ہوتو اسے چاہئے کہ اپنے خادم بھائی کواس کھانے میں سے کچھ نہ کچھ حصہ دے جووہ خود کھاتا ہے اوراس لباس میںسے کچھ نہ کچھ حصہ دے جو وہ خود پہنتا ہے اوراے مسلمانو!تم اپنے خادموں کوکوئی ایسا کام نہ دیا کرو جوان کی طاقت سے زیادہ ہواوراگر کبھی مجبوراًانہیں کوئی ایسا کام دینا پڑے تو پھر اس کام میں خود بھی ان کی مدد کیا کرو۔‘‘
یہ حدیث جیسا کہ اس کے الفاظ اوراسلوب بیان سے ظاہر ہے ایک نہایت اہم اوراصولی حدیث ہے اور’’ان کی مدد کیا کرو‘‘کے الفاظ میں یہ اشارہ بھی ہے کہ کام ایسا نہیں ہونا چاہئے کہ اگر وہ خود آقا کوکرنا پڑے تووہ اسے اپنے لئے موجب عار سمجھے بلکہ ایسا ہونا چاہئے کہ جسے خود آقا بھی کرسکتا ہو اورکرنے کوتیار ہو۔گویا اس حدیث میں خادموں کے ساتھ حسن سلوک اوربرادرانہ برتائو کی تلقین کے علاوہ یہ تعلیم بھی دی گئی ہے کہ کسی مسلمان کے لئے زیبا نہیں کہ وہ کسی کام کو اپنے لئے موجب عار سمجھے یا یہ خیال کرے کہ یہ کام صرف خادم کے کرنے کا ہے میرے کرنے کا نہیں۔ چنانچہ ایک دوسری حدیث میں آتا ہے کہ آنحضرت ﷺہرقسم کاکام خود اپنے ہاتھ سے کرلیتے تھے اور کسی کام کو عار نہیں سمجھتے تھے۔ یہ بھی یاد رکھنا چاہئے کہ اوپر کی حدیث میں جو خَوَلَ کالفظ آیا ہے وہ عربی محاورہ کے مطابق نوکروں اورخادموں اورغلاموں اوراسی قسم کے دوسرے حاشیہ نشینوں سب پر بولا جاتا ہے۔اس طرح اس حدیث میں گویا ایک نہایت وسیع مضمون مدنظر رکھا گیا ہے۔بہرحال اسلام نے آقائوں اورخادموں کے تعلقات کوبھی بہترین بنیاد پرقائم کیا ہے۔
(سیرت خاتم النّبیین، صفحہ689تا694 ، مطبوعہ قادیان 2006)