واقعۂ افک
نہ معلوم منافقین مدینہ کی مٹی میں کس فتنہ کا خمیرتھا کہ کوئی واقعہ ان کی آنکھوں کو نہ کھولتا تھا بلکہ ہرناکامی ان کی شرارت اور فتنہ پردازی کواوربھی زیادہ کردیتی تھی۔ چنانچہ اسی سفر کی واپسی میں ان کی طرف سے ایک اورخطرناک فتنہ کھڑاکیا گیا جواپنی نوعیت اورمفسدانہ اثر کے لحاظ سے اس فتنہ سے بھی بہت زیادہ خطرناک تھا جس کا ذکر اوپرگزر چکا ہے۔یہ واقعہ حضرت عائشہ صدیقہ پر تہمت لگائے جانے کا واقعہ ہے جواسی غزوہ کے سفر واپسی میں پیش آیا۔ یہ تہمت اسی نوعیت کی تھی جیسی کہ حضرت عیسیٰ ؑ کی والدہ حضرت مریم اوررامچندر جی کی بیوی سیتا پربدباطن لوگوں نے لگائی ۔اوربہتر معلوم ہوتا ہے کہ حضرت عائشہ کے اپنے الفاظ میں اسے بیان کیا جاوے کیونکہ وہ ایک بہت مفصل اوردلچسپ بیان ہے جس سے اصل واقعہ کے متعلق یقینی علم حاصل ہونے کے علاوہ اس زمانہ کے تمدن اور طریق واطوار پربھی بہت روشنی پڑتی ہے۔چنانچہ بخاری میں حضرت عائشہ کی طرف سے جو روایت بیان ہوئی ہے اس کے ضروری ضروری اقتباسات درج ذیل کئے جاتے ہیں۔
حضرت عائشہ روایت کرتی ہیں کہ:
’’آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم کا یہ طریق تھا کہ جب آپ کسی سفر پر جانے لگتے تھے تو اپنی ازواج میں قرعہ ڈالتے تھے پھر جس کا نام نکلتا تھا اسے اپنے ساتھ لے جاتے تھے۔ایک دفعہ آپ نے ایک غزوہ کے موقع پر اسی طرح قرعہ ڈالا تومیرا نام نکلا۔چنانچہ مجھے آپؐ اپنے ساتھ لے گئے۔ یہ اس زما نہ کی بات ہے کہ جب پردہ کے احکام نازل ہوچکے تھے۔چنانچہ اس سفر میں مَیںہودہ کے اندر بیٹھتی تھی اورلوگ میرے ہودہ کواٹھا کر اونٹ پر رکھ دیتے تھے اورجہاں قیام کرنا ہوتا تھاوہاں میرے ہودہ کواتار کرنیچے رکھ دیتے۔جب آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم اس غزوہ سے فارغ ہوکر واپس لوٹے اور ہم مدینہ کے قریب پہنچے توایک دن آپ نے رات کے وقت کوچ کا حکم دیا۔ جب میں نے یہ اعلان سُنا تو میں حوائج انسانی سے فارغ ہونے کیلئے لشکر سے باہرنکل کر ایک طرف کوگئی اور فارغ ہوکر واپس لوٹ آئی۔جب میں اپنے اونٹ کے قریب پہنچی تومیں نے معلوم کیا کہ میرے گلے کاہار ندارد ہے۔ اس کی تلاش میں میں پھر واپس آگئی اوراس تلاش میں مجھے کچھ دیر ہوگئی۔اس اَثنا میں وہ لوگ جومیرا ہودہ اٹھانے پرمتعین تھے آئے اوریہ خیال کرکے کہ میں ہودہ کے اندر ہوں انہوں نے میراہودہ اٹھا کر اونٹ کے اوپر رکھ دیااورلشکر کے ساتھ روانہ ہوگئے۔چونکہ اس زمانہ میں بوجہ کم خوری اورتنگی معیشت کے عورتیں بہت دبلی پتلی ہوتی تھیں اوران کے بدنوں پر گوشت نہیں آتا تھااس لئے ہودہ اٹھانے والوں کو ہودہ کے ہلکا ہونے کا شبہ نہیں گزرا اورپھر میری عمر بھی اس وقت بہت چھوٹی تھی۔بہرحال جب میں ہار کی تلاش کرلینے کے بعد واپس آئی توکیا دیکھتی ہوں کہ لشکر جاچکا ہے اورمیدان خالی پڑا ہے۔میں سخت پریشان ہوئی مگر میں نے دل میں سوچا کہ مجھے اپنی جگہ پرٹھہرے رہنا چاہئے کیونکہ جب لوگوں کو میرے پیچھے رہ جانے کا علم ہوگا تووہ ضرور واپس آئیں گے۔پس میں اپنی جگہ پر جاکر واپس بیٹھ گئی اوربیٹھے بیٹھے مجھے نیند آگئی۔اب واقعہ یوں ہوا کہ صفوان بن معطل ایک صحابی تھا جس کی ڈیوٹی یہ مقرر تھی کہ وہ لشکر اسلامی کے پیچھے پیچھے رہتا تھا۔(تاکہ گری پڑی چیز وغیرہ کی حفاظت ہوسکے)وہ جب پیچھے سے آیا اورصبح کے قریب میری جگہ پرپہنچا تواس نے مجھے وہاں اکیلے سوئے ہوئے دیکھااورچونکہ وہ پردہ کے احکام کے نازل ہونے سے قبل مجھے دیکھ چکا تھا اس نے مجھے فوراً پہچان لیاجس پر اس نے گھبرا کرانا للہ وانا الیہ راجعون کہا۔ اس کی اس آواز سے میں جاگ اٹھی اورمیں نے اسے دیکھتے ہی جھٹ اپنا منہ اپنی اوڑھنی سے ڈھانک لیا اورخدا کی قسم اس نے میرے ساتھ کوئی بات نہیں کی اورنہ میں نے اس کلمہ کے سوا اس کے منہ سے کوئی اورالفاظ سنے۔اس کے بعد وہ اپنے اونٹ کو آگے لایا اورمیرے قریب اسے بٹھادیا اوراس نے اونٹ کے دونوں گھٹنوں پراپنا پائوں رکھ دیا(تاکہ وہ اچانک نہ اٹھ سکے)چنانچہ میں اونٹ کے اوپر سوار ہوگئی اور صفوان اس کے آگے آگے اس کی مہارتھامے ہوئے چلنے لگ گیا۔حتّٰی کہ ہم چلتے چلتے اس جگہ آپہنچے جہاں لشکر اسلامی ڈیرہ ڈالے ہوئے تھا۔بس یہ وہ قصہ ہے جس پر ہلاک ہوگئے وہ لوگ جنہوں نے ہلاک ہونا تھا۔اوراس بہتان کابانی مبانی عبداللہ بن اُبیّ بن سلول( رئیس المنافقین )تھا۔
اس کے بعد ہم لوگ مدینہ میں پہنچ گئے اوراتفاق ایسا ہوا کہ میں وہاں جاتے ہی بیمار ہوگئی اور برابر ایک ماہ تک بیمار رہی۔اوراس عرصہ میں لوگوں میں بہتان لگانے والوں کی باتوں کے متعلق بہت چرچا رہا اورہر طرح کی چہ میگوئی ہوتی رہی۔مگر اس وقت تک مجھے اس تہمت کے متعلق قطعاً کوئی خبر نہیں تھی۔البتہ یہ بات ضرورتھی کہ مجھے اس بیماری کے ایّام میں رسول اللہ صلی اﷲ علیہ وسلم کی طرف سے وہ شفقت ومہربانی نظر نہیں آتی تھی جوآپؐ عموماًمجھ پر فرمایا کرتے تھے اوراس کا مجھے سخت قلق تھا۔رسول اللہ صلی اﷲ علیہ وسلم میرے پاس آتے تھے توبس سلام کہہ کر صرف اتنی بات فرماتے تھے کہ اب کیاحال ہے؟اورپھر لوٹ جاتے تھے اورآپ کے اس طریق سے مجھے دل ہی دل میں سخت تکلیف ہوتی تھی۔میں اسی بے خبری کی حالت میں پڑی رہی حتّٰی کہ میری بیماری نے مجھے سخت نڈھال اورکمزورکردیا۔انہی ایام میں مجھے ایک دن ایک عورت اُمّ مسطح سے جو دور سے ہماری رشتہ دار بھی تھی اتفاقی طورپر بہتان لگانے والوں کا قصہ معلوم ہوا۔ اور مجھے یہ بھی معلوم ہوا کہ ان الزام لگانے والوں میں ام مسطح کا لڑکا مسطح بھی شامل تھا۔جب میں نے یہ باتیں سنیں تومجھے تو گویا اپنی اصل بیماری بھول کرایک نئی بیماری لگ گئی۔اس کے بعد جب آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم نے حسب عادت تشریف لاکر یہ دریافت فرمایا کہ’’اب کیا حال ہے؟‘‘تو میں نے آپ سے عرض کیا کہ یارسول اللہ!مجھے آپ اجازت دیں تو میں چند دن کے لئے اپنے ماں باپ کے گھر چلی جائوں۔آپ نے اجازت دے دی اورمیں اپنے والدین کے گھر چلی گئی۔اس سے دراصل میرا منشاء یہ تھا کہ والدین کے گھر جاکر میں اس خبر کے متعلق تحقیق کروں گی کہ کیا واقعی میرے متعلق اس قسم کی باتیں کی جارہی ہیں۔چنانچہ میں نے وہاں جاکر اپنی والدہ سے دریافت کیا۔میری ماں نے کہابیٹی!تو پریشان نہ ہو۔یہ قاعدہ کی بات ہے کہ جب ایک شخص کی ایک سے زیادہ بیویاں ہوتی ہیں اوروہ ان میں سے کسی ایک کے ساتھ زیادہ محبت کرتا ہے توایسی عورت کے متعلق دوسری عورتیں خواہ نخواہ باتیں بنانے لگ جاتی ہیں۔میں نے بے اختیار ہوکر کہا۔سبحان اللہ سبحان اللہ!کیا لوگ میرے متعلق واقعی یہ باتیں کررہے ہیں؟پھر میں رونے لگ گئی اورساری رات میرے آنسو نہیں تھمے اور نہ میں سوئی۔اور جب صبح ہوئی تواس وقت بھی میرے آنسو جاری تھے۔
’’اس دن رسول اللہ صلی اﷲ علیہ وسلم نے علیؓ بن ابی طالب اوراسامہؓ بن زید کو مشورہ کے لئے بلایا۔کیونکہ وحی کے نزول میں بہت وقفہ پڑگیا تھا(اورآپ اس معاملہ میں بہت فکر مند تھے) آپ نے ان دونوں سے میرے متعلق مشورہ پوچھا کہ ان حالات میں کہ اس قسم کی باتیں کی جارہی ہیں مجھے کیاکرنا چاہئے۔آیا میں عائشہ سے قطع تعلق کرلوں؟اسامہؓ نے عرض کیا یارسول اللہ!عائشہ آپ کی بیوی ہیں(یعنی خداتعالیٰ نے جو عائشہ کو آپ کی بیوی بننے کے لئے چنا ہے تو انہیں اس کا اہل جان کرچنا ہے)اورخدا کی قسم ہم تو عائشہ کے متعلق سوائے نیکی کے اورکچھ نہیں جانتے۔مگر علیؓ نے (آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم کی تکلیف کا خیال کرتے ہوئے)یہ جواب دیا کہ’’ یارسول اللہ!اللہ تعالیٰ نے آپ پر کوئی تنگی نہیں فرمائی اورعائشہ کے سوا عورتوں کی کمی بھی نہیں ہے(مگر میں اصل واقعہ کے متعلق کچھ نہیں کہہ سکتا)آپ گھر کی خادمہ سے دریافت فرمالیں شائد اسے کچھ علم ہو۔اوروہ صحیح صحیح بات بتا سکے۔‘‘اس پر آپ نے اپنی خادمہ بریرہ کوبلایا۔اوراس سے پوچھا کہ کیا تم نے عائشہ میں کوئی ایسی بات دیکھی ہے جس سے کسی قسم کا شبہ پیدا ہوتا ہو؟بریرہ نے جواب دیا کہ’’مجھے خدا کی قسم ہے جس نے آپ کو حق کے ساتھ مبعوث فرمایا ہے کہ میں نے اپنی بی بی میں کوئی بری بات نہیںدیکھی سوائے اس کے کہ خورد سالی کی وجہ سے وہ کسی قدر بے پروا ضرور ہیں۔چنانچہ بسااوقات ایسا ہوتا ہے کہ آٹا گوندھا ہوا کھلا چھوڑ کرسوجاتی ہیں اوربکری آتی ہے اورآٹا کھاجاتی ہے۔
پھراسی دن آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم نے مسجد میں ایک تقریر کی اورفرمایا کہ’’مجھے میرے اہل کے بارے میں بہت دکھ دیا گیا ہے۔کیا تم میں سے کوئی ہے جو اس کا سدباب کرسکے؟اورخدا کی قسم مجھے تو اپنی بیوی کے متعلق سوائے خیرونیکی کے اورکوئی علم نہیں ہے۔اورجس شخص کااس معاملہ میں نام لیا جاتا ہے اسے بھی میں اپنے علم میں نیک خیال کرتا ہوں۔اوروہ کبھی میرے گھر میں میری غیر حاضری میں نہیں آیا۔‘‘ آپ کی اس تقریر کو سن کر سعد بن معاذ رئیس قبیلہ اوس کھڑے ہوگئے اور عرض کیا۔یارسول اللہ!میں اس کا سدباب کرتا ہوں۔اگر تویہ شخص ہمارے قبیلے میں سے ہے تو ہمارے نزدیک وہ واجب القتل ہے۔ہم ابھی اس کی گردن اڑائے دیتے ہیں اوراگر وہ ہمارے بھائیوں یعنی قبیلہ خزرج میں سے ہے تو پھربھی جس طرح آپ حکم فرمائیں ہم کرنے کو تیار ہیں۔اس پر قبیلہ خزرج کے رئیس سعد بن عبادہ کھڑے ہوئے اوروہ ایک صالح آدمی تھے مگر اس وقت انہیں جاہلانہ غیرت آگئی اوروہ سعد بن معاذ کو مخاطب ہوکر کہنے لگے۔’’تم نے جھوٹ کہا ہے۔خدا کی قسم!تم ہرگز ہمارے کسی آدمی کوقتل نہیں کرسکو گے اورنہ تم میں یہ طاقت ہے کہ ایسا کرو۔اوراگر وہ تمہارے قبیلہ میں سے ہوتا توتم ایسی بات نہ کہتے۔‘‘اس پر اسید بن حضیر رئیس اوس جو سعد بن معاذ کے چچازاد بھائی تھے اٹھے اور سعد بن عبادہ سے کہنے لگے کہ’’سعد بن معاذ جھوٹا نہیں ہے بلکہ تم جھوٹے ہواورتم منافق ہوکہ منافقوں کی طرف سے ہوکر لڑتے ہو۔‘‘ان باتوں سے اوس وخزرج کے بعض لوگوں کو جوش آگیا اورقریب تھا کہ لڑائی ہوجاتی مگر آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم نے جو ابھی تک منبر پرہی تشریف رکھتے تھے سمجھا بجھا کر سب کو ٹھنڈا کیا اورپھر آپ منبر سے اتر کر گھر تشریف لے گئے۔اور میرا بدستور وہی حال تھا کہ آنسوتھمنے میں نہ آتے تھے اورنیند حرام ہورہی تھی اوربرابر دورات اورایک دن میرا یہی حال رہا۔اورمیں سمجھتی تھی کہ میراجگر پھٹ کر ٹکڑے ٹکڑے ہوجائے گا۔
اسی حالت میںمَیں اپنے والدین کے پاس بیٹھی ہوئی رو رہی تھی کہ ایک انصاری عورت اجازت لے کر اندر آئی اورمیرے پاس بیٹھ کر ہمدردی کے طریق پروہ بھی رونے لگ گئی۔ہم اسی حالت میں تھے کہ رسول اللہ صلی اﷲ علیہ وسلم تشریف لائے اورمیرے پاس آکر بیٹھ گئے اوریہ پہلا دن تھا کہ آپ اس اتہام کے بعد میرے پاس بیٹھے تھے اورایک مہینہ ہوگیا تھا کہ میرے متعلق خدائی وحی نازل نہیں ہوئی تھی۔ رسول اللہ صلی اﷲ علیہ وسلم نے بیٹھےہوئے کلمہ تشہد پڑھااورخدا کو یاد کیا پھر مجھے مخاطب ہوکر فرمانے لگے عائشہ!مجھے تمہارے متعلق اس قسم کی باتیں پہنچی ہیں۔اگر تو تم بے گناہ ہو تو مجھے امید ہے کہ خدا ضرورتمہاری بریت ظاہر فرمائے گا اور اگرتم سے کوئی لغزش ہوگئی ہے توتمہیں چاہئے کہ خدا سے مغفرت مانگو اوراس کی طرف جھکو کیونکہ جب بندہ خدا کے سامنے اپنی غلطی کااعتراف کرتا ہوا جھک جاتا ہے توخدا اس کی توبہ کوقبول کرتا اور اس پررحم فرماتا ہے۔جب رسول اللہ نے یہ تقریر فرمائی تو میں نے دیکھا کہ میرے آنسو بالکل خشک ہوگئے اور ان کا نام ونشان تک نہ رہا۔اس وقت میں نے اپنے والد اوروالدہ سے کہا کہ آپ رسول اللہ سے اس بات کا جواب عرض کریں۔انہوں نے کہا’’خدا کی قسم ہمیں تو کچھ نہیں سوجھتا کہ ہم کیا جواب دیں۔‘‘اس وقت میں ایک کم عمر لڑکی تھی اورمجھے قرآن بھی زیادہ نہیں آتا تھامگر والدین کی طرف سے مایوس ہوکر میں نے خود آپؐسے عرض کیا کہ’’خدا کی قسم میں جانتی ہوں کہ آپ لوگوں کووہ باتیں پہنچی ہیں جوبعض لوگ میرے متعلق کررہے ہیںاورآپ کے دل پر ان باتوں کا اثر ہے۔پس اگر میں یہ کہوں کہ میں بے گناہ ہوں توآپ میری بات میں شک کریں گے۔اوراگر میں اپنے آپ کو اس معاملہ میں گناہ گار مان لوںحالانکہ میراخدا جانتا ہے کہ میں بے گناہ ہوں توآپ مجھے سچا جانیں گے۔ خدا کی قسم مجھے تواپنا معاملہ یوسف کے باپ کاسانظر آتا ہے جس نے یہ کہا تھا کہ صَبْرٌ جَمِيْلٌ۰ۭ وَاللہُ الْمُسْتَعَانُ عَلٰي مَا تَصِفُوْنَ ’’پس میرے لئے بھی صبر ہی بہتر ہے اورمیں صرف خدا ہی کی مدد چاہتی ہوں ان باتوں کے متعلق جویہ لوگ کررہے ہیں۔‘‘یہ کہہ کر میں اپنی جگہ پر دوسری طرف منہ کرکے لیٹ گئی اوراس وقت میرے دل میں یہ یقین تھا کہ میں چونکہ بے گناہ ہوں اللہ تعالیٰ ضرور جلد میری بریت ظاہر فرمائے گا۔ مگر مجھے یہ خیال نہیں تھا کہ میری بریت میں کوئی قرآنی وحی نازل ہوگی اورخدا تعالیٰ اپنے صریح کلام میں میرے بے گناہ ہونے کو ظاہر فرمائے گابلکہ میں سمجھتی تھی کہ شائد اس بارہ میں رسول اللہ صلی اﷲ علیہ وسلم کوکوئی رئویا وغیرہ دکھائی جاوے مگرخدا کی قسم آپ ابھی اس مجلس سے اٹھنے نہیں پائے تھے اورنہ گھر کا کوئی اورشخص اٹھ کر باہر گیا تھا کہ رسول اللہ صلی اﷲ علیہ وسلم پر وہ حالت طاری ہوگئی جو وحی کے وقت ہوا کرتی تھی اورباوجود سردی کے آپ کے چہرہ سے پسینہ کے قطرے ٹپکنے لگ گئے اور تھوڑی دیر کے بعد وہ حالت جاتی رہی اورآپؐنے تبسم فرماتے ہوئے میری طرف دیکھا اورفرمایا عائشہ!خدا نے تمہاری بریت ظاہر فرمادی ہے۔جس پر میری ماں بے اختیار ہوکر بولیںعائشہ!اٹھو! اوررسول اللہ کاشکریہ اداکرو۔‘‘(میرا دل چونکہ اس وقت خدا کے شکر سے لبریز تھا)میں نے کہا میں کیوں آپ کا شکریہ ادا کروں میں تو صرف اپنے رب کی شکر گزارہوں جس نے میری بریت ظاہر فرمائی ہے۔اس وقت سورۃ نور کی وہ دس آیات نازل ہوئی تھیں جواِنَّ الَّذِيْنَ جَاۗءُوْ بِالْاِفْكِ سے شروع ہوتی ہیں۔
(سیرت خاتم النّبیین، صفحہ562تا 566،مطبوعہ قادیان2011)
…٭…٭…٭…