اردو   हिंदी   বাংলা   ಕನ್ನಡ   മലയാളം   ଓଡ଼ିଆ   தமிழ்   తెలుగు  




.

2026-06-11

سیرت النّبیﷺ از تحریرات و فرمودات ( سیّدنا حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام ) (تحقیق و ترتیب : مکرم آصف احمد خان صاحب)

باب اول (قسط نمبر11)
عرب و عجم قبل از اسلام
آنحضور ﷺ کے آباء واجداد
دادا عبدالمطلب:
آپ ﷺ کے دادا عبدالمطلب کے ساتھ خداتعالیٰ کا جو سلوک تھا وہ ظاہر کرتا ہے کہ وہ مشرک نہ تھے۔ زم زم کی تلاش ایک کشف کے نتیجہ میں ہوئی نیز ابرہہ الاشرم کی تباہی کا واقعہ جو سورت الفیل میں مذکورہ ہے یہ ظاہر کرتے ہیں کہ عبدالمطلب ہرگز مشرک نہ تھے بلکہ توحید پر قائم تھے۔
والد ماجد عبداللہ:
آنحضور ﷺ کے والد ماجد عبداللہ کے متعلق بھی کتب تاریخ میں بڑی تفصیلات ملتی ہیں۔ حضورؑ نے آپ کے متعلق یہ بھی فرمایا ہے کہ
’’ آنحضرت ﷺ کے والد ماجد عبداللہ مشرک نہ تھے ‘‘
(ملفوظات [2003 ایڈیشن] جلد 1 صفحہ 23)
کتب تاریخ و سیرت کے مطالعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ عبداللہ کے ساتھ خداتعالیٰ کا ایک نہایت شفقت کا سلوک تھا۔ مثلاً عبدالمطلب نے یہ نذر مانی تھی کہ اگر اللہ انکو دس بیٹے عطا فرمائے گا تو ایک بیٹا اللہ کی خاطر ذبح کریں گے۔ چنانچہ جب دس بیٹے ہوگئے تو قرعہ ڈالا گیا جو عبداللہ کے نام کا نکلا جو سب سے چھوٹے اور پیارے تھے اور عبداللہ بھی اس قربانی کے لئے تیار ہوگئے۔ لیکن دوسرے رشتہ داروں اور ننہال کی طرف سے شدید اصرار پر اونٹوں کے مقابل قرعہ ڈالا گیا۔ اس طرح پہلے دس پھر بیس پھر پچاس اور ساٹھ اونٹوں کا قرعہ ڈالا گیا، ہر دفعہ قرعہ عبداللہ کے نام کا نکلا۔ آخر جب 100 اونٹوں کے برابر قرعہ ڈالا گیا تو اونٹوں کے نام کا نکلا۔ اس طرح عبداللہ کے بدلہ سو اونٹ ذبح کئے گئے۔ انسان کی قربانی کا رواج دنیا کے باقی حصوں کی طرح عرب میں بھی تھا۔ شاید اسماعیلؑ کی قربانی کی یاد میں تھا۔ لیکن اس قربانی میں  فرق یہ تھا کہ بتوں یا دیوی دیوتاؤں کی بجائے یہ نذر محض خداتعالیٰ کی خاطر مانی گئی تھی۔ عبداللہ کا اس طرح سنت اسماعیلیؑ پر عمل کرتے ہوئے قربانی کے لئے تیار ہوجانا اور پھر تقدیر الٰہی سے بچائے جانا اس بات کی علامت تھا کہ ان سے خداتعالیٰ کا ایک خاص سلوک تھا۔ ایسا سلوک اور ایسی توجہ خداوندی تقاضا کرتی ہے کہ وہ شرک کی ناپاکی سے بچائے جاتے۔ پھر عبداللہ کی پاکدامنی کے واقعات بھی کتب سیرت و تاریخ میں مذکور ہیں۔ جیسے بیان کیا جاتا ہے کہ عبداللہ پر ایک عورت فریفتہ تھی، وہ انکے چہرے پر نور الٰہی دیکھتی تھی۔ اس نے عبداللہ کو اپنی طرف بلایا لیکن عبداللہ نے سنت یوسفی پر عمل کرتے ہوئے قبول نہ کیا۔ اس عورت نے یہ پیشکش بھی کی کہ وہ اتنے اونٹ پیش کرتی ہے جتنے انکی نذر پر قربان ہوئے تھے۔ گویا وہ ایک امیر اور صاحب اختیار عورت تھی لیکن عبداللہ نے اس کی اس دعوت کو ٹھکرا دیا۔ یہ عمل اس بات کی علامت تھا کہ عبداللہ فطرتاً نیک اور پاکدامن تھے اور ایسی نیکی اور پاکدامنی مشرکوں کو کہاں نصیب ہوتی ہے۔
والد ماجد عبداللہ کی وفات:
والد ماجد عبداللہ کی وفات کے بارہ میں مشہور روایات یہی ہیں کہ انکی وفات حضرت رسول کریم ﷺ کی ولادت سے چند ماہ پہلے ہوئی تھی گویا آپ ﷺ یتیم پیدا ہوئے۔ لیکن دوسری طرف یہ روایات بھی ملتی ہیں کہ والد ماجد عبداللہ کی وفات آپ ﷺ کی ولادت کے چند ماہ بعد ہوئی۔ اور حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام نے بھی ایک جگہ فرمایا ہے:
’’ تاریخ کو دیکھو۔ کہ آنحضرتﷺ وہی ایک یتیم لڑکا تھا جس کا باپ پیدائش سے چند دن بعد ہی فوت ہوگیا۔ اور ماں چند ماہ کا بچہ چھوڑ کر مرگئی تھی۔ تب وہ بچہ جس کے ساتھ خدا کا ہاتھ تھا۔ بغیر کسی سہارے کے خدا کی پناہ میں پرورش پاتا رہا ‘‘
(پیغام صلح روحانی خزائن جلد 23 صفحہ 465)
جیسا کہ پہلے عرض کیا گیا ہے کہ دونوں قسم کی روایات موجود ہیں۔ ذیل میں چند مثالیں ان روایات کی دی جاتی ہیں۔ ابن سعد کی روایت ہے
توفّی عبداللہ بن عبدالمطلب بعد ما اتیٰ علٰی رسول اللہ ثمانیۃ و عشرون شھرا۔ یعنی عبداللہ بن عبدالمطلب کی وفات اس وقت ہوئی جبکہ رسول اللہ ﷺ کی عمر اٹھائیس ماہ تھی۔ محمد ابن جریر نے بیان کیا ہے کہ توفّی عبداللہ اَبُو رَسُول اللہ بعَد ما اتیٰ علٰی رسُولِ اللہ ثمانیتَہ وعشرُون شھرًا۔یعنی عبداللہ ابورسول اللہ کی وفات اسوقت ہوئی جبکہ رسول اللہ ﷺ کی عمر اٹھائیس ماہ تھی۔ اسی طرح ابن کثیر نے بیان کیا ہے کہ عبداللہ کی وفات اسوقت ہوئی جبکہ رسول اللہ ﷺ کی عمر دو ماہ تھی۔
اگرچہ عام مورخین نے پیدائش سے پہلے والی روایات کو زیادہ بیان کیا ہے لیکن معیار کے لحاظ سے دونوں قسم کی روایات برابر ہیں۔ اور جتنی بھی مستند کتب تاریخ ہیں ان میں یہ دونوں قسم کی روایات برابر مذکور ہیں۔
سیّدہ آمنہ:
عبداللہ اورآمنہ کی شادی کے بارے میں بھی تفصیل سے روایات ملتی ہیں کہ دونوں کے بزرگوں کی رضامندی اور اس زمانہ کے معروف طریق کے مطابق نکاح ہوا۔ سیّدہ آمنہ سیّدالکونین ﷺ کی ماں نہایت نیک پارسا خاتون تھیں۔ کشف و الہام پانے والی خاتون تھیں۔ روایات میں درج ہے کہ حضرت آمنہ نے آنحضور ﷺ کی ولادت سے قبل خواب دیکھا کہ ان کے بطن سے نور نکلا ہے جس نے اکناف عالم کو منور کردیا ہے۔
حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام نے بھی سیّدہ آمنہ کے ملہمہ ہونے کی تصدیق ان الفاظ میں فرمائی ہے:
’’ یہی مثیل موسیٰ تھا جسکا نام محمد ؐ ہے۔ اس نام کا ترجمہ یہ ہے کہ نہایت تعریف کیا گیا۔ خدا جانتا تھا کہ بہت سے نافہم مذمت کرنے والے پیدا ہوں گے اس لئے اس نے اس کا نام محمدؐ رکھ دیا۔ جبکہ آنحضرت شکم آمنہ عفیفہ میں تھے تب فرشتہ نے آمنہ پر ظاہر ہوکر کہا تھا کہ تیرے پیٹ میں ایک لڑکا ہے جو عظیم الشان نبی ہوگا اس کا نام محمدؐ رکھنا‘‘
(تریاق القلوب۔ روحانی خزائن جلد 15 صفحہ 522)
سیرت النبی لابن ھشام میں روایت درج ہے کہ حِینَ حملت (اٰمنہ) برسول اللہ۔ فقیل لھا انک قد حملت بسَّیّدِ ھذہ الْاُمَّۃِ فاذا وقع الٰی
الارض فقُولِی اُعیذُ بِاللہِ الوَاحدِمِن شرِّ کُلّ حاسدِ ثمّ سمّیہ محمد۔ اس روایت میں (فَقولی اُعیذ باللہِ الواحدِ)سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ حضرت آمنہؑ کو خداتعالیٰ نے توحید کی تعلیم بھی سکھائی تھی۔ اور وہ اسی پر قائم تھیں۔ الغرض نبیوں کے سردار سیّدالکونین حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کو جو بے انتہا فضیلتیں حاصل ہیں ان میں سے ایک یہ بھی ہے کہ آپ ﷺ کا سلسلہ آباء چاہے وہ جدّی ہو یا امہّاتی ہر دور میں نیک، توحید پرست اور خدا کے مقربین سے پُر رہا ہے۔ اور آپ کے مقدس تخم میں شرک و سفاح کا شائبہ تک نہیں۔
اَللّٰھُمَّ صَلِّ علٰی مُحَمَّدٍ وَ عَلٰی آلِ مُحَمَّدٍ وَبَارِکْ وَسَلَّمْ اِنَّکَ حَمِیْدٌ مَجِیْدٌ ۔
(سیرت النبی ﷺ ، صفحہ36 تا38 ، مطبوعہ کینیڈا 2018)
ززز