باب اول (قسط نمبر4)
عرب و عجم قبل از اسلام
اور آنحضور ﷺ کے آباء واجداد
یہود مشرکوں کے پیشوا تھے:
آپؑنے فرمایا ہے شرک کی ابتداء کرنے والے یہودی تھے۔
’’ پس وہ لوگ خدائے تعالیٰ کو جسمانی اور جسم قرار دینے میں اور اس کی ربوبیت اور رحمانیت اوررحیمیت وغیرہ صفات کے معطل جاننے میں اور ان صفتوں میں دوسری چیزوں کو شریک گرداننے میں اکثر مشرکین کے پیشوا اور سابقین اولین میں سے ہیں‘‘
(براہین احمدیہ۔ روحانی خزائن جلد 1 صفحہ 466 حاشیہ نمبر 11)
عیسائیوں کی حالت:
دنیا کی باقی اقوام و مذاہب کی طرح عیسائیت پر بھی جسے وجود میں آئے ابھی صرف پانچ سو سال ہی ہوئے تھے اخلاقی انحطاط کا دور تھا۔ حضورؑ نے اس بارہ میں بھی کئی پہلو ٔوں پر روشنی ڈالی ہے۔ مثلاً عیسائیوں میں اخلاقی زوال کی وجوہات کیا تھیں اور اخلاق کی کیا حالت تھی نیز یہ کہ دنیا کی دوسری اقوام پر اس کے کیا اثرات مرتب ہوئے۔
یہودیوں سے مذہب میں تحریف کا سبق لینا:
جیسا کہ حضورؑ نے یہود کے متعلق فرمایا ہے
’’ پس وہ لوگ خدائے تعالیٰ کو جسمانی اور جسم قرار دینے میں اور اس کی ربوبیت اور رحمانیت اور رحیمیت وغیرہ صفات کے معطل جاننے میں اوران صفتوں میں دوسری چیزوں کو شریک گرداننے میں اکثر مشرکین کے پیشوا اور سابقین اولین میں سے ہیں‘‘
(براہین احمدیہ، روحانی خزائن جلد 1 حاشیہ 11 صفحہ 466)
اسی طرح ایک اور جگہ فرمایا کہ
’’ اور سچ تو یہ ہے کہ عیسائیوں نے بھی انہیں تعلیموں سے مخلوق پرستی کا سبق سیکھا ہے کیونکہ جب عیسائیوں نے معلوم کیا کہ بائیبل کی تعلیم بہت سے لوگوں کو خدا کے بیٹے اور خدا کی بیٹیاں بلکہ خدا ہی بناتی ہے۔ تو انہوں نے کہا کہ آؤ ہم بھی اپنے ابن مریم کو انہیں میں داخل کریں تا وہ دوسرے بیٹوں سے کم نہ رہ جائے۔ اسی جہت سے خدائے تعالیٰ نے قرآن شریف میں فرمایا ہے کہ عیسائیوں نے ابن مریم کو ابن اللہ بناکر کوئی نئی بات نہیں نکالی بلکہ پہلے بے ایمانوں اور مشرکوں کے قدم پر قدم مارا ہے‘‘
(براہین احمدیہ۔ روحانی خزائن جلد 1 صفحہ 465 حاشیہ نمبر 11)
کفارہ کا عقیدہ بگاڑ کی اہم وجہ:
حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا
’’ اور جس قدر بدچلنی اور بداعمالی عربوں میں آئی وہ دراصل عربوں کی ذاتی فطرت کا نتیجہ نہیں تھا بلکہ ایک نہایت ناپاک اور بدچلن قوم ان میں آباد ہوگئی جو ایک جھوٹے منصوبہ کفارہ پر بھروسہ کرکے ہر یک گناہ کو شیرمادر کی طرح سمجھتی تھی‘‘
(نور القرآن ۱۔ روحانی خزائن۔ جلد 9 ۔ حاشیہ صفحہ 341)
بدچلنی میں یہودی بڑھے ہوئے تھے یا عیسائی؟:
تاریخ کا مطالعہ کرنے سے یہ بات تو معلوم ہوتی ہے کہ یہود اور عیسائی دونوں ہی بدچلنیوں میں مبتلا ہو چکے تھے۔ لیکن اگر یہ موازنہ کیاجائے کہ کون اول نمبر پر تھا تو اس بارہ میں آپؑنے دلائل سے ثابت کیا ہے کہ عیسائی بدچلنیوں میں سب سے بڑھے ہوئے تھے فرمایا:
’’ بظاہر یہ فرق کرنا مشکل ہے کہ کیااس زمانہ میں فسق و فجور اور ہریک قسم کی بدچلنی میں یہود بڑھے ہوئے تھے یا عیسائی نمبر اول پر تھے۔ مگر ذرہ غور کرنے کے بعد معلوم ہوگا کہ درحقیقت عیسائی ہی ہر ایک بدکاری اور بدچلنی اور مشرکانہ عادات میں پیش دست تھے‘‘
(نور القرآن۱۔ روحانی خزائن۔ جلد 9۔ حاشیہ صفحہ 342-341)
عیسائیوں کا بدکاری میں اول نمبر ہونے کا سبب:
سیدنا حضرت اقدس مسیح موعود ؑنے فرمایا:
’’ قرآن شریف نے جس قدر اپنے نزول کے زمانہ میں ان عیسائیوں وغیرہ کی بدچلنیاں بیان کی ہیں جو اس وقت موجود تھے۔ ان تمام قوموں نے خود اپنے منہ سے اقرار کرلیا تھا بلکہ بار بار اقرار کرتے تھے کہ وہ ضرور ان بدچلنیوں کے مرتکب ہورہے ہیں اورعرب کی تاریخ دیکھنے سے ثابت ہوتا ہے کہ بجز آنحضرت ﷺکے سلسلہ آباء و اجداد کے جن کو اللہ جلّ شانہٗ نے اپنے خاص فضل و کرم سے شرک اوردوسری بلاؤں سے بچائے رکھا باقی تمام لوگ عیسائیوں کے بدنمونہ کو دیکھ کر اور ان کی چال و چلن کی بدتاثیر سے متاثر ہوکر انواع اقسام کے قابل شرم گناہوں اوربدچلنیوں میں مبتلا ہوگئے تھے اورجس قدر بدچلنی اور بداعمالی عربوںمیں آئی وہ درحقیقت عربوں کی ذاتی فطرت کا نتیجہ نہیں تھا بلکہ ایک نہایت ناپاک اوربدچلن قوم ان میں آباد ہوگئی جو ایک جھوٹے منصوبہ کفارہ پر بھروسہ کرکے ہریک گناہ کو شیرمادر کی طرح سمجھتی تھی اور مخلوق پرستی اور شراب خواری اورہریک قسم کی بدکاری کو بڑے زور کے ساتھ دنیا میں پھیلارہی تھی اور اول درجہ کی کذّاب اور دغاباز اور بدسرشت تھی۔ بظاہر یہ فرق کرنا مشکل ہے کہ کیا اس زمانہ میں فسق و فجور اور ہریک قسم کی بدچلنی میں یہودی بڑھے ہوئے تھے یا عیسائی نمبر اول پر تھے۔ مگر ذرہ غور کرنے کے بعد معلوم ہوگا کہ درحقیقت عیسائی ہی ہر ایک بدکاری اوربدچلنی اور مشرکانہ عادات میں پیش دست تھے۔ کیونکہ یہودی لوگ متواتر ذلتوں اور کوفتوں سے کمزور ہوچکے تھے اوروہ شرارتیں جو ایک سفلہ آدمی اپنی طاقت اور دولت اور عروج قومی کو دیکھ کر کرسکتا ہے یا وہ بدچلنیاں جو کثرت دولت اور روپیہ پر موقوف ہیں۔ ایسے نالائق کاموں کا یہودیوں کو کم موقعہ ملتا تھا مگر عیسائیوں کا ستارہ ترقی پر تھا اور نئی دولت اورنئی حکومت ہر وقت انگشت دے رہی تھی کہ وہ تمام لوازمات ان میں پائے جائیں جو بدی کے مؤیدات پیدا ہونے سے قدرتی طور پر ہمیشہ پائی جاتی ہیں۔ پس یہی سبب ہے کہ اس زمانہ میں عیسائیوں کی بدچلنی اورہریک قسم کی بدکاری سب سے زیادہ بڑھی ہوئی تھی اوریہ بات یہاں تک ایک مشہور واقع ہے کہ پادری فنڈل باوجود اپنے سخت تعصب کے اس کو چھپا نہیں سکا اور مجبور ہو کر اس زمانہ کے عیسائیوں کی بدچلنیوں کامیزان الحق میں اس کو اقرار کرنا ہی پڑا۔ مگر دوسرے انگریز مؤرخوں نے تو بڑی بسط سے ان کی بدچلنیوں کا مفصل حال لکھا ہے چنانچہ ان میں سے ایک ڈیون پورٹ صاحب کی کتاب ہے جو ترجمہ ہو کر اس ملک میں شائع ہوگئی ہے۔ غرض یہ ثابت شدہ حقیقت ہے کہ اس زمانہ کے عیسائی اپنی نئی دولت اور حکومت اور کفارہ کی زہرناک تحریک سے تمام بدچلنیوں میں سب سے زیادہ بڑھے ہوئے تھے۔ ہر یک نے اپنی فطرت اور طبیعت کے موافق جدا جدا بے اعتدالی اور معصیت کی راہیں اختیار کر رکھی تھیں اور ان کی دلیریوں سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ اپنے مذہب کی سچائی سے بالکل نومید ہوچکے تھے اور ایک چھپے ہوئے دہریہ تھے اور ان کی روحانیت کی اس وجہ سے بہت ہی بیخ کنی ہوئی کہ دنیا کے دروازے ان پر کھولے گئے اور انجیل کی تعلیم میں شراب کی کوئی ممانعت نہیں تھی۔ قمار بازی سے کوئی روک نہ تھی پس یہی تمام زہریں مل کر ان کا ستیاناس کرگئیں۔ صندوقوں میں دولت تھی ہاتھ میں حکومت تھی۔ شرابیں خود ایجاد کرلیں۔ پھر کیا تھا۔ اُمّ الخبائث کی تحریکوں سے سارے برے کام کرنے پڑے۔ یہ باتیں ہم نے اپنی طرف سے نہیں کہیں۔ خود بڑے بڑے مؤرخ انگریزوں نے اس کی شہادتیں دی ہیں۔
(سیرت النبی ﷺ ، صفحہ12 تا15 ، مطبوعہ کینیڈا 2018)