باب اول (قسط نمبر3)
عرب و عجم قبل از اسلام
اور آنحضور ﷺ کے آباء واجداد
ایران اور ہند:
عرب کی طرح ایران اور ہند بھی بت پرستی اور شرک سے بھرے پڑے تھے۔ جنکا ذکر آپؑنے مذکورہ حوالہ میں کیا ہے۔ جب ہم تاریخ کا مطالعہ کرتے ہیں تو ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ ایران میں صدیوں پہلے مادہ پرستی رائج ہوچکی تھی۔ تیسری اورچوتھی صدی عیسوی میں ایران میں اشکانی خاندان حکمران تھا۔ اس زمانہ میں بھی لوگ چاند، سورج اور ستاروں کی پرستش کرتے تھے۔ آفتاب کو مہر کہتے تھے اور اسے کنبہ کا محافظ سمجھتے تھے۔ آفتاب طلوع ہوتا تو پرستش کے لئے گردنیں خم ہوجاتیں۔ آفتاب کے نام پر قربانیاں اور نذر نیاز دیا کرتے تھے۔
(تاریخ ایران از مقبول بیگ بدخشاں جلد نمبر 1 صفحہ 166، صفحہ 167)
ایران کی یہ بت پرستی آنحضرت ﷺ کے زمانہ تک عروج پر تھی۔ اس کا ایک ثبوت ان روایات میں بھی ملتا ہے جن میں حضرت سلمان فارسیؓکے متعلق بیا ن کیا گیا ہے کہ انکا خاندان مقدس آگ کی حفاظت پر مامور تھا۔ نیز وہ روایات بھی اس کا ثبوت ہیں جن میں بیان کیا گیا ہے کہ ولادت رسول اللہ ﷺ کے وقت ایران کی مقدس آگ جو صدیوں سے روشن تھی بجھ گئی۔
(سیرت النبی ابن ہشام جلد نمبر1 صفحہ 166)
اسی طرح آپؑنے ہند کی بت پرستی کا بھی ذکر کیا ہے۔ اس کے متعلق بھی بہت سے تاریخی ثبوت موجود ہیں۔ آنحضور ﷺ کے زمانہ بعثت سے عرصہ قبل ہند میں بت پرستی رائج ہوچکی تھی۔ جیسا کہ ستیارتھ پرکاش میں جین مت اور بت پرستی کے ضمن میں لکھا ہے کہ ’’ بہت لوگوں نے جین مت قبول کیا لیکن وہ لوگ جو پہاڑی کاشی قنوج والے تھے انہوں نے جینیوں کا مت قبول نہ کیا۔ وہ جین وید کے معنی نہ جان کر بیرونی پوپ لیلا کی بنیاد غلطی سے ویدوں پر مان کر ویدوں کی بھی مذمت کرنے لگے اسکے پڑھنے پڑھانے وغیرہ اور برہمچریہ وغیرہ اصولوں کو بھی تباہ کیا۔ جہاں جتنی کتابیں ویدوں وغیرہ کی پائیں انہیں تلف کیا۔ آریوں پر بہت سا حکومت کا زور بھی چلایا اور تکلیف دی۔ جب انکو خوف اور خطرہ نہ رہا تب اپنے مت والے گرہستی اورسادھووں کی عزت اور وید کے پیرؤوں کی بے عزتی کرنے لگے۔ اور طرف داری سے سزا بھی دینے لگے۔ اور خود عیش و آرام اور غرور میں پھول کر پھرنے لگے۔ شبھ دیر سے لیکر مہابیر تک اپنے تیر تھنکروں کے بڑے بڑے بت بنا کر پرستش کرنے لگے۔ یعنی پاشان وغیرہ مورتی کی بنیاد جینیوں سے پھیلی پرمیشر کا ماننا کم ہوا پتھر کی مورتی پوجا میں مصروف ہو گئے۔ ایسی تین سو برس تک آریہ ورت میں جینوں کی حکومت رہی۔ بہت لوگ وید کے حکم سے ناواقف ہوگئے۔ اس بات کو تقریباً اڑھائی ہزار برس گزرے ہوں گے۔‘‘
(ستیار تھ پرکاش کا مستند اردو ترجمہ جین مت صفحہ 414، صفحہ 415)
یہود کی حالت:
یہود جو انبیاء کی اولاد اور اہل کتاب کہلاتے تھے انکی دینی و اخلاقی بدحالی کے بارہ میں بھی بڑی تفصیل کے ساتھ سیّدنا حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا ہے:
’’ اور خود کسی تاریخ دان اور واقف حقیقت کو اس سے بے خبری نہیں ہوگی کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ظہور کے وقت تک ہریک قوم کی ضلالت اور گمراہی کمال کے درجہ تک پہنچ چکی تھی اور کسی صداقت پر کامل طور پر ان کا قیام نہیں رہا تھا۔ چنانچہ اگر اول یہودیوں ہی کے حال پر نظر کریں تو ظاہر ہوگا کہ ان کو خدائے تعالیٰ کی ربوبیت تامہ میں بہت سے شک اور شبہات پیدا ہوگئے تھے اور انہوں نے ایک ذات رب العالمین پر کفایت نہ کرکے صدہا ارباب متفرقہ اپنے لئے بنا رکھے تھے یعنی مخلوق پرستی اوردیوتا پرستی کا بغایت درجہ ان میں بازار گرم تھا۔ جیسا کہ خود اللہ تعالیٰ نے ان کا یہ حال قرآن شریف میں بیان کرکے فرمایا ہے۔
اتَّخَذُوا أَحْبَارَھُمْ وَرُھْبَانَھُمْ أَرْبَابًا مِنْ دُونِ اللہِ
یعنی یہودیوں نے اپنے مولوی اور درویشوں کو کہ جو مخلوق اور غیر خدا ہیں، اپنے رب اور قاضی الحاجات ٹھہرا رکھے ہیں۔ اور نیز اکثروں کا یہودیوں میں سے بعض نیچریوں کی طرح یہ اعتقاد ہوگیا تھا کہ انتظام دنیا کا قوانین منضبطہ پر چل رہا ہے اور اس قانون میں مختارانہ تصرف کرنے سے خدائے تعالیٰ قاصر اور عاجز ہے۔ گویا اس کے دونوں ہاتھ بندھے ہوئے ہیں نہ اس قاعدہ کے برخلاف کچھ ایجاد کرسکتا ہے اور نہ فنا کرسکتا ہے بلکہ جب سے کہ اس نے اس عالم کا ایک خاص طور پر شیرازہ باندھ کر اس کی پیدائش سے فراغت پالی ہے تب سے یہ کل اپنے ہی پرزوں کی صلاحیت کی وجہ سے خود بخود چل رہی ہے اور رب العالمین کسی قسم کا تصرف اور دخل اس کل کے چلنے میں نہیں رکھتا۔ اورنہ اس کو اختیار ہے کہ اپنی مرضی کے موافق اور اپنی خوشنودی ناخوشنودی کے رو سے اپنی ربوبیت کو بہ تفاوت مراتب ظاہر کرے یا اپنے ارادۂ خاص سے کسی طور کا تغیر اور تبدل کرے بلکہ یہودی لوگ خدائے تعالیٰ کو جسمانی اور مجسم قرار دے کر عالم جسمانی کی طرح اور اس کا ایک جز سمجھتے ہیں۔ اور ان کی نظر ناقص میں یہ سمایا ہوا ہے کہ بہت سی باتیں کہ جو مخلوق پر جائز ہیں وہ خدا پر بھی جائز ہیں اور اس کو من کل الوجوہ منزہ خیال نہیں کرتے۔ اور ان کی توریت میں جو محرف اور مبدل ہے خدائے تعالیٰ کی نسبت کئی طور کی بے ادبیاں پائی جاتی ہیں۔ چنانچہ پیدائش کے ۳۲ باب میں لکھا ہے کہ خدائے تعالیٰ یعقوب سے تمام رات صبح تک کشتی لڑا کیا۔ اور اس پر غالب نہ ہوا اسی طرح برخلاف اس اصول کے کہ خدائے تعالیٰ ہریک مافی العالم کا رب ہے۔ بعض مردوں کو انہوں
نے خدا کے بیٹے قرار دے رکھا ہے۔ اور کسی جگہ عورتوں کو خدا کی بیٹیاں لکھا گیا ہے اور کسی جگہ بیبل میں یہ بھی فرمادیا ہے کہ تم سب خدا ہی ہو۔ اور سچ تو یہ ہے کہ عیسائیوں نے بھی انہیں تعلیموں سے مخلوق پرستی کا سبق سیکھا ہے کیونکہ جب عیسائیوں نے معلوم کیا کہ بائیبل کی تعلیم بہت سے لوگوں کو خدا کے بیٹے اور خدا کی بیٹیاں بلکہ خدا ہی بناتی ہے۔ تو انہوں نے کہا کہ آؤ ہم بھی اپنے ابن مریم کو انہیں میں داخل کریں تا وہ دوسرے بیٹوں سے کم نہ رہ جائے۔ اسی جہت سے خدائے تعالیٰ نے قرآن شریف میں فرمایا ہے کہ عیسائیوں نے ابن مریم کو ابن اللہ بناکر کوئی نئی بات نہیں نکالی بلکہ پہلے بے ایمانوں اور مشرکوں کے قدم پر قدم مارا ہے۔ غرض حضرت خاتم الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں یہودیوں کی یہ حالت تھی کہ مخلوق پرستی بدرجہ غایت ان پر غالب آگئی تھی اور عقائد حقہ سے بہت دور جاپڑی تھی یہاں تک کہ بعض ان کے ہندوؤں کی طرح تناسخ کے بھی قائل تھے اور بعض جزا سزا کے قطعاً منکر تھے۔ اور بعض مجازات کو صرف دنیا میں محصور سمجھتے تھے اور قیامت کے قائل نہ تھے۔ اور بعض یونانیوں کے نقش قدم پر چل کر مادہ اور روحوں کو قدیم اورغیر مخلوق خیال کرتے تھے۔ اور بعض دہریوں کی طرح روح کو فانی سمجھتے تھے اور بعض کا فلسفیوں کی طرح یہ مذہب تھا کہ خدائے تعالیٰ رب العالمین اورمدبر بالارادہ نہیں ہے۔ غرض مجذوم کے بدن کی طرح تمام خیالات ان کے فاسد ہوگئے تھے اور خدائے تعالیٰ کی صفات کاملہ ربوبیت و رحمانیت ورحیمیت اور مالک یوم الدین ہونے پر اعتقاد نہیں رکھتے تھے نہ ان صفتوں کو اس کی ذات سے مخصوص سمجھتے تھے اور نہ ان صفتوں کا کامل طور پر خدائے تعالیٰ میں پایا جانا یقین رکھتے تھے بلکہ بہت سی بدگمانیاں اور بے ایمانیاں اورآلودگیاں ان کے اعتقادوں میں بھر گئی تھیں اور توریت کی تعلیم کو انہوں نے نہایت بدشکل چیز کی طرح بنا کر شرک اور بدی کی بدبو کو پھیلانا شروع کررکھا تھا۔ پس وہ لوگ خدائے تعالیٰ کو جسمانی اور جسم قرار دینے میں اور اس کی ربوبیت اور رحمانیت اور رحیمیت وغیرہ صفات کے معطل جاننے میں اور ان صفتوں میں دوسری چیزوں کو شریک گرداننے میں اکثر مشرکین کے پیشوا اور سابقین اولین میں سے ہیں‘‘
(براہین احمدیہ۔ روحانی خزائن جلد 1 صفحہ 463 تا 466 حاشیہ نمبر 11)
یہود کی اخلاقی ابتری کا ذکر قرآن اور بائیبل میں صراحتًا موجود ہے مثلاً سورۃ البقرہ میں ہے کہ: وَإِذْ أَخَذْنَا مِیْثَاقَ بَنِیْ إِسْرَائِیلَ لَا تَعْبُدُونَ إِلَّا اللہَ وَبِالْوَالِدَیْنِ إِحْسَانًا وَذِی الْقُرَبَی وَالْیَتَامَی وَالْمَسَاکِیْنِ وَقُولُوا لِلنَّاسِ حُسْنًا وَأَقِیْمُوْا الصَّلَاۃَ وَآتُوْا الزَّکَاۃَ ثُمَّ تَوَلَّیْتُمْ إِلَّا قَلِیْلًا مِنْکُمْ وَأَنْتُمْ مُعْرِضُوْنَ (البقرہ: 84) اور جب ہم نے بنی اسرائیل کا میثاق (اُن سے ) لیا کہ اللہ کے سوا کسی کی عبادت نہیں کروگے اور والدین سے احسان کا سلوک کروگے اور قریبی رشتہ داروں سے اور یتیموں سے اور مسکینوں سے بھی۔ اور لوگوں سے نیک بات کہا کرو اور نماز کو قائم کرو اور زکوٰۃ ادا کرو۔ اس کے باوجود تم میں سے چند کے سوا تم سب (اس عہد سے) پھر گئے۔ اور تم اِعراض کرنے والے تھے۔ وَقَالَتِ الْیَھُوْدُ وَالنَّصَارَی نَحْنُ أَبْنَاءُ اللہِ وَأَحِبَّاؤُہُ قُلْ فَلِمَ یُعَذِّبُکُمْ بِذُنُوْبِکُمْ بَلْ أَنْتُمْ بَشَرٌ مِمَّنْ خَلَقَ یَغْفِرُ لِمَنْ یَشَاءُ وَیُعَذِّبُ مَنْ یَشَاءُ وَلِلہِ مُلْکُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَمَا بَیْنَھُمَا وَ إِلَیْہِ الْمَصِیْرُ (المائدۃ: 19) اور یہود اور نصاریٰ نے کہا کہ ہم اللہ کی اولاد ہیں اور اس کے محبوب ہیں۔ تُو کہہ دے پھر وہ تمہیں تمہارے گناہوں کی وجہ سے عذاب کیوں دیتا ہے؟ نہیں، بلکہ تم ان میں سے جن کو اُس نے پیدا کیا محض بشر ہو۔ وہ جسے چاہتا ہے معاف کردیتا ہے اور جسے چاہتا ہے عذاب دیتا ہے اور آسمانوں اور زمین کی بادشاہت اللہ ہی کی ہے اور اس کی بھی جو اُن دونوں کے درمیان ہے اور آخر اسی کی طرف لَوٹ کر جانا ہے۔
لُعِنَ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا مِنْ بَنِیْ إِسْرَائِیْلَ عَلَی لِسَانِ دَاوُوْدَ وَعِیْسَی ابْنِ مَرْیَمَ ذَلِکَ بِمَا عَصَوْا وَکَانُوْا یَعْتَدُوْنَ (المائدہ : 79) جن لوگوں نے بنی اسرائیل میں سے کفر کیا وہ داؤد کی زبان سے لعنت ڈالے گئے اورعیسیٰ ابنِ مریم کی زبان سے بھی۔ یہ اُن کے نافرمان ہوجانے کے سبب سے اور اس سبب سے ہوا کہ وہ حد سے تجاوز کیا کرتے تھے۔
یہود کی حالت پر حضرت عیسیٰؑ نے بھی بارہا افسوس کا اظہار کیا ہے اناجیل اس قسم کے بیانات سے بھری پڑی ہے جن میں حضرت عیسیٰؑ نے اس وقت کے یہودی فقیہوں اور عالموں کو انکی بدکرداری کی وجہ سے برا بھلا کہا۔
(سیرت النبی ﷺ ، صفحہ8 تا11 ، مطبوعہ کینیڈا 2018)
ززز