بعض متفرق واقعات
جوئے اور شطرنج کی ممانعت
جوتبلیغی خطوط آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم کی طرف سے مختلف بادشاہوں کے نام لکھے گئے ان کے لکھے جانے کی تاریخ کے متعلق کسی قدر اختلاف ہے۔یعنی بعض روایات میںان کی تاریخ ذوالحجہ ۶ہجری بیان ہوئی ہے اوربعض میں محرم ۷ہجری بیان ہوئی ہے مگر بہرحال اس بات میں کسی کو اختلاف نہیں ہے کہ یہ چھ تبلیغی خط جو اوپر درج کئے گئے ہیں صلح حدیبیہ کے معاًبعد لکھے گئے اس لئے میں نے انہیں ۶ہجری کے واقعات میں درج کردیا ہے،لیکن ظاہر ہے کہ اتنے دوردراز کے سفروں پرایلچیوں کاجانا اورپھرجواب لے کر وہاں سے واپس آنا لازماًکافی وقت چاہتا تھا اس لئے خواہ یہ خطوط ۶ہجری کے آخر میں لکھے گئے ہوں یا۷ہجری کے شروع میں بہرحال ان کے جوابات ۷ہجری میں موصول ہوئے،لیکن سارے متعلقہ حالات کوایک جگہ بیان کرنے کے خیال سے میں نے ان خطوط کو۶ہجری کے واقعات میںدرج کردیا ہے۔
اسی سال میں یعنی ۶ہجری کے دوران میں حضرت عائشہؓ کی والدہ اُمّ رومان کی وفات ہوئی۔ اُمّ رومان جن کانام زینب تھا پہلے عبداللہ بن منجرہ کے نکاح میں تھیں اور عبداللہ کی وفات کے بعد حضرت ابوبکرؓکے نکاح میں آئیں اور انہیں کے بطن سے عبدالرحمن بن ابوبکر اور حضرت عائشہ ؓپیدا ہوئے۔ اُمّ رومان ایک بہت نیک مگر سادہ مزاج عورت تھیں، لیکن حضرت ابوبکر خلیفہ اولؓکی بیوی اور حضرت عائشہؓکی ماں ہونے کی وجہ سے انہیں تاریخ اسلام میں جوامتیاز حاصل ہوا ہے وہ کسی بیان کامحتاج نہیں۔ جب وہ قبر میں اُتاری جارہی تھیں توآنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم نے فرمایا’’جس شخص نے جنت کی کوئی حور دیکھنی ہووہ ام رومان کودیکھ لے۔‘‘ یہ ایک بہت سادہ فقرہ ہے مگر اس سے پتہ لگتا ہے کہ آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم کے نزدیک جنت کی حوروں سے مراد ناز وادا والی خوبصورت لڑکیاں نہیں تھیں جوعالم آخرت میں پیدا کی جاکر مومنوں کے ساتھ جنت میں رکھی جائیں گی بلکہ اس سے مراد دنیا کی ان پاک عورتوں کی روحیں ہیں جو جنت میں نیک لوگوں کی رفیق بنیں گی اور گو جنت میں ہر روح زندگی کے کمال کی حالت میں جوان بناکر داخل کی جائے گی۔ مگر بہرحال اس سے ظاہر ہے کہ جنت کی جنسی رفاقت روحانی ہوگی نہ کہ جسمانی۔
شراب کی حرمت بھی بعض لوگوںکے نزدیک ۶ہجری میں ہوئی،لیکن جیسا کہ ہم اس کتاب کے حصہ دوم میں بیان کرچکے ہیں ہمارے نزدیک اس کی حرمت میںغزوۂ احد کے بعد ۳ہجری کے آخر یا ۴ ہجری کے شروع میں ہوئی تھی۔اوریہی اکثرمسلمان محققین کاخیال ہے۔عقلاًبھی میرے نزدیک شراب جیسی گندی چیز جوکئی دوسری بدیوں کی ماں ہے اس کی حرمت میںہجرت کے بعد زیادہ دیر نہیںلگی ہو گی۔ شراب کی حرمت کے بارے میں آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم اتنی تاکید فرماتے تھے کہ فرمایا کرتے تھے کہ جس دستر خوان(یامیز)پرکوئی اورشخص شراب پی رہا ہو تمہیں اس دسترخوان پربھی نہیں بیٹھنا چاہئے۔
اسی سال بعض اقوال کے مطابق جُوابھی حرام کیا گیا۔جوئے سے مراد اتفاق کی کھیل ہے جس میں آمدنی کی بنیاد محنت یاہنر پرمبنی نہیں ہوتی بلکہ محض اتفاقی حالات پرمبنی ہوتی ہے اورچونکہ ایسی آمد میں وقت لگانا کیریکٹر کی تباہی کے علاوہ ملکی دولت کے توازن کوبھی برباد کرنے کا موجب ہوتا ہے اس لئے اسلامی شریعت نے کمال دانش مندی کے ساتھ جُوا بھی حرام قراردیا ہے۔ بیشک جلد باز انسان آزادی کی رو میںبہہ کر ہرقسم کی پابندی سے گھبراتا ہے لیکن اس میں ذرہ بھربھی شبہ نہیں کہ جو پابندیاں اسلام نے مسلمانوں پرلگائی ہیںوہ سراسران کے فائدہ کے لئے ہیں اورجوئے کی حرمت بھی اسی اصول کے ماتحت آتی ہے۔
اسی سال شطرنج کی کھیل بھی ممنوع قراردی گئی۔ کیونکہ ایک تو وہ بالعموم جوئے کا بہانہ بن جاتی ہے اوردوسرے اس میں اتنا انہماک پیدا ہوتا ہے کہ انسان زندگی کے مفید شعبوں کی طرف سے غافل ہوجاتا ہے۔ اسلام یقینا انسان کو جائز تفریحوں سے نہیں روکتا لیکن وہ اس بات سے ضرور روکتا ہے کہ انسان بالکل ہی شتربے مہار بن کر جوچاہے کرتا پھرے اوراپنی زندگی کے مفید پہلوئوں کوتباہ کر لے۔ اورچونکہ شطرنج کی کھیل اپنے اندر یہ دوبھاری نقصان کے پہلو رکھتی ہے یعنی ایک تو حد سے زیادہ انہماک جوشطرنج کے کھلاڑی کو گویادنیا ومافیہا سے غافل کردیتا ہے اوردوسرے جوئے کی طرف میلان کیونکہ شطرنج بھی اکثر جوا لگا کر کھیلا جاتا ہے اس لئے کمال حکمت سے اسلام نے اس کھیل سے روک دیا ہے۔دراصل اسلام کے فلسفۂ شریعت میں صرف یہی بات داخل نہیں کہ جو چیز اپنی موجودہ صورت میںبُری ہے صرف اسی کوروکا جائے بلکہ یہ بات بھی داخل ہے کہ جوچیز خواہ وہ اپنی موجودہ صورت میںبُری نہ ہو،لیکن اگروہ عام حالات میں انسان کوبرائی کی طرف کھینچتی ہے اوراس کی یہ کشش غیرمعمولی غلبہ رکھتی ہے تواسے بھی روک دیا جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم شراب وغیرہ کے متعلق اصولی طورپر فرماتے ہیںکہ:
مَااَسْکَرَکَثِیْرُہٗ فَقَلِیْلُہٗ حَرَامٌ
یعنی’’جس چیز کی زیادہ مقدار نشہ پیدا کرتی ہے اس کی تھوڑی مقدار بھی جائز نہیں۔‘‘
آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم کایہ مبارک ارشاد ایک نہایت گہرے اورلطیف نفسیاتی فلسفہ پر مبنی ہے کہ دنیا میں بعض بدیاں ایسی ہوتی ہیں کہ اکثرانسان ان میںایک دفعہ قدم رکھ کر پھر آگے بڑھنے سے رک نہیں سکتے۔ اور ہر پہلا قدم دوسرے قدم کی طرف دھکیلتا ہے مگر افسوس ہے کہ بہت کم لوگ اس فلسفہ کو سمجھتے یا اس کی قدر کرتے ہیں۔
(اس جگہ حصہ سوم کی جزو اوّل ختم ہوئی)
(سیرت خاتم النّبیین، صفحہ831 تا833 ، مطبوعہ قادیان 2006)