(بقیہ)
نجاشی کے نام آنحضرت ﷺ کاتبلیغی خط
اس جگہ یہ بات بھی یاد رکھنی چاہئے کہ چونکہ یکے بعد دیگرے دونجاشیوں کوتبلیغی خط لکھے گئے تھے۔یعنی ایک خط تواصحمہ نامی نجاشی کولکھاگیا جس کے پاس ابتدائی صحابہ پناہ لینے کی غرض سے ہجرت کرکے گئے تھے اورجس نے آنحضرت ﷺ کاخط ملنے پراسلام قبول کیا اور اسلام پرہی ۹ہجری میں وفات پائی۔ اور دوسرا خط اس کے بعد آنے والے نجاشی کولکھاگیا جس نے آنحضرت ﷺ کی دعوت کوقبول نہیں کیا۔اورکفر کی حالت میں ہی فوت ہوا۔اس لئے بعض مؤرخین کو اس معاملہ میں غلطی لگ گئی ہے اورانہوں نے دونوں نجاشیوں کوایک ہی سمجھ لیا ہے۔ حالانکہ جیسا کہ اوپر بیان کیا جاچکاہے آنحضرت ﷺ نے علیحدہ علیحدہ زمانوں میں دو علیحدہ نجاشیوں کوخط لکھے تھے۔چنانچہ صحیح مسلم میں حضرت انسؓکی صریح روایت آتی ہے کہ جس نجاشی کوبعد والا خط لکھا گیا وہ اس نجاشی کے علاوہ تھا جس کی آنحضرت ﷺ نے نماز جنازہ پڑھی تھی۔ اور زرقانی اورتاریخ خمیس نے بھی اس معاملہ میں مفصل بحث کرکے دونوں کو علیحدہ علیحدہ ثابت کیا ہے۔
یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ جب آنحضرت ﷺ نے پہلے نجاشی کوتبلیغی خط ارسال کیا جس پر وہ مسلمان ہوگیا تو اسی وقت آپؐنے اس کے نام ایک دوسرا خط پرائیوٹ مضمون کا بھی لکھا تھا۔ اس خط میں آپؐنے نجاشی کو دو باتوں کی طرف توجہ دلائی تھی۔ ایک یہ کہ وہ ابوسفیان کی بیٹی اُمّ حبیبہ کے ساتھ آپ کا غائبانہ نکاح پڑھ دے اور دوسرے یہ کہ حضرت جعفر بن ابی طالب اور ان کے ساتھیوں کو جنہیں حبشہ میں گئے ہوئے بہت عرصہ ہوگیا تھا اپنے انتظام میں عرب واپس بھجوادے۔ نجاشی نے ان دونوں باتوں کی تعمیل کی۔ یعنی اولاً اس نے آنحضرت ﷺ کے ساتھ اُمّ حبیبہ کے نکاح کا اعلان کیا اور پھر حضرت جعفر اور ان کے ساتھیوں کے لئے کشتی کا انتظام کرکے انہیں عرب میں واپس بھجوادیا۔ یہ وہ زمانہ تھا جب کہ آنحضرت ﷺ خیبر کی فتح سے واپس آرہے تھے اور روایت آتی ہے کہ آپؐحضرت جعفر سے مل کر اتنے خوش ہوئے کہ فرمایا کہ میں نہیں کہہ سکتا کہ مجھے خیبر کی فتح سے زیادہ خوشی ہوئی ہے یا کہ جعفر اور اس کے ساتھیوں کی آمد سے زیادہ خوشی ہوئی ہے۔ مگر افسوس ہے کہ حضرت جعفر کی زندگی نے زیادہ وفا نہیں کی اور وہ اس کے تھوڑا عرصہ بعد ہی غزوہ موتہ میں شہید ہوگئے۔
اُمّ حبیبہ جن کی اس موقع پر آنحضرت ﷺ کے ساتھ شادی ہوئی وہ مکہ کے رئیس اعظم ابوسفیان بن حرب کی بیٹی اور امیر معاویہ کی بہن تھیں۔ وہ ابتدائی مسلمانوں میں سے تھیں اور ان کے خاوند عبید اللہ بن جحش آنحضرت ﷺ کے پھوپھی زاد بھائی تھے جو حبشہ میں ہی وفات پاگئے۔ ان کی وفات کے بعد آنحضرت ﷺ نے مناسب خیال کیا کہ اُمّ حبیبہ کو اپنے عقد میں لے لیں۔ جس میں غالباً یہ دوہری غرض تھی کہ ایک تو اس طرح شاید ابوسفیان کو اسلام کی طرف مائل کیا جاسکے اور دوسرے تا اُمّ حبیبہ کی جو آپ کے پھوپھی زاد بھائی کی بیوہ تھیں دلداری ہوجائے۔ اُمّ حبیبہ جن کا نام رملہ تھا۴۴ ہجری میں فوت ہوئیں۔ نکاح پڑھنے سے پہلے نجاشی نے اُمّ حبیبہ کو پیغام بھیج کر ان کی باقاعدہ اجازت لی اور پھر ان کی طرف سے ان کے ایک قریبی عزیز خالد بن سعید نے ولی بن کر چار سو دینار پر نکاح منظور کیا۔
گو دوسرے نجاشی نے جو غالباً۹ ہجری میں تخت نشین ہوا اسلام قبول نہیں کیا، لیکن چونکہ پہلا نجاشی مسلمان ہوگیا تھا اور آنحضرت ﷺ کے صحابہ نے ایک لمبے عرصہ تک حبشہ میں پناہ لے کر امن وعافیت کی زندگی پائی تھی اس لئے مسلمانوں نے اس ملک کے احسان کا یہ بدلہ دیا کہ جہاں دنیا کے چاروں کونوں میں ان کی فاتحانہ یلغار نے اسلام کی حکومت کا جھنڈا گاڑا وہاں انہوں نے حبشہ کے خلاف کبھی فوج کشی نہیں کی۔ ان کی تلوار شمال میں بھی چلی اور جنوب میں بھی چلی اور پھر مشرق میں بھی چلی اور مغرب میں بھی چلی اور چین اور راس کماری کی حد سے لے کر مراکش اور سپین کے آخری کناروں تک مسلمانوں کے گھوڑوں کی ٹاپوں نے روئے زمین کو ہلا دیا اور قیصر وکسریٰ جیسے عظیم الشان بادشاہ ان کے سامنے ریت کے تودوں کی طرح گر کر پیوست خاک ہوگئے مگر فتح کے اس عالمگیر سیلاب میں بھی اگر مسلمانوں کی تلوار کسی ملک کے خلاف نہیں اٹھی تو وہ یہی حبشہ کی چھوٹی سی ریاست تھی۔ اس کے چاروں طرف کا علاقہ مسلمانوں کے ماتحت آچکا تھا مگر جب وہ حبشہ کے قریب پہنچتے تھے تو ہمیشہ کترا کر ادھر ادھر سے گزر جاتے رہے اور اس کے خلاف کبھی انگلی تک نہیں اٹھائی۔ اس کی تہ میں یہی اعلیٰ اخلاقی جذبہ کام کررہا تھا کہ وہ اپنی انتہائی فتح کے زمانہ میں سینکڑوں سال گزر جانے کے بعد بھی اس چھوٹے سے احسان کو نہیں بھولنا چاہتے تھے جو حبشہ کے نجاشی نے آنحضرت ﷺ کے چند صحابیوں کو پناہ دے کر ابتدائی مسلمانوں پر کیا تھا۔ یہ ایک بہت بھاری اخلاقی نکتہ ہے جس سے دنیا کی قومیں سبق حاصل کرسکتی ہیں۔
رئیس غسّان کے نام آنحضرت ﷺ کاخط
پانچواں تبلیغی خط ریاست غسّان کے فرمانبروا حارث بن ابی شمر کے نام لکھا گیا۔ یہ وہی حارث ہے جس کا ذکر قیصر والے خط کے تعلق میں بھی آچکا ہے۔ غسان کی ریاست عرب کے ساتھ متصل جانب شمال واقع تھی اور اس کا رئیس قیصر کے ماتحت ہوا کرتا تھا۔ آنحضرت ﷺ نے یہ خط اپنے صحابی شجاع بن وہب کے ہاتھ روانہ فرمایا اور آپؐنے اپنے اس خط میں حارث کو اسلام کی دعوت دی اور ساتھ ہی لکھا کہ اگر آپ اسلام قبول کریں گے تو آپ کی حکومت کو لمبی زندگی حاصل ہوگی۔ حارث اس وقت قیصر کی فتح کے جشن کے لئے تیاری کررہا تھا۔ حارث سے ملنے سے پہلے شجاع بن وہب اس کے دربان یعنی مہتمم ملاقات سے ملے۔ وہ ایک اچھا آدمی تھا اور اس نے شجاع کی زبانی آنحضرت ﷺ کی باتیں سن کر فی الجملہ ان کی تصدیق کی مگر شجاع کو بتایا کہ اسے حارث سے چنداں امید نہیں رکھنی چاہئے کیونکہ وہ قیصر سے ڈرتا ہے اور اس کی منظوری کے بغیر کچھ نہیں کرے گا۔ چند دن کے انتظار کے بعد شجاع بن وہب کو رئیس غسان کے دربار میں رسائی حاصل ہوئی اور انہوں نے اس کے سامنے آنحضرت ﷺ کا خط پیش کیا۔ حارث نے خط پڑھ کر غصہ میں پھینک دیا اور کہنے لگا۔ مجھ سے میر املک چھیننے کی کون طاقت رکھتا ہے۔ بلکہ میں خود اس مدعی کے خلاف فوج کشی کروں گا اور اگر مجھے یمن تک بھی جانا پڑے تو اسے پکڑ کر لائوں گا اور اس نے اپنے سواروں کے دستے کو تیاری کا حکم دے دیا۔ اور دوسری طرف قیصر کو خط لکھا کہ مجھے حجاز کے مدعی نے اس قسم کا خط لکھا ہے اور میں اس کے خلاف فوج کشی کرنے لگا ہوں۔ اس خط کا جواب قیصر نے یہ دیا کہ فوج کشی نہ کرو اور مجھے آکر دربار کی شرکت کے لئے ایلیا یعنی بیت المقدس میں ملو۔ اس کے بعد ایلیا میں آنحضرت ﷺ کے سفیر دِحیہ کلبی کے ساتھ جو گزری اس کا ذکر قیصر والے خط کے بیان میں کیا جاچکا ہے اور رئیس غسّان والا قصہ یہیں ختم ہوگیا اور وہ مسلمان نہیں ہوا۔ البتہ حدیث اور تاریخ سے پتہ لگتا ہے کہ مدینہ میں ایک عرصہ تک اس بات کا خوف رہا کہ غسانی قبائل مسلمانوں کے خلاف کب حملہ کرتے ہیں۔
یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ کچھ عرصہ بعد حارث بن ابی شمر کا جانشین جبلہ بن ایہم جو ریاست غسّان کا آخری فرمانروا تھا مسلمان ہوگیا اور حضرت عمرؓکے زمانہ میں مدینہ میں بھی آکر رہا۔ مگر جب اس نے ایک غریب مسلمان کو تھپڑ مار دیا اور اس پر حضرت عمرؓنے اسے ڈانٹا کہ حقوق کے معاملہ میں سب مسلمان برابر ہیں تم سے اس کا بدلہ لیا جائے گا تو وہ زمانہ جاہلیت والے تکبر میں مبتلا ہوکر یہ کہتا ہوا بھاگ گیا کہ کیا میں اور ایک عام مسلمان برابر ہوسکتے ہیں؟ اور پھر اسی ارتداد کی حالت میں اس کی وفات ہوئی۔
رئیس یمامہ کے نام آنحضرت ﷺ کاخط
چھٹا تبلیغی خط یمامہ کے رئیس ہوذہ بن علی کے نام بھجوایا گیا۔ اس خط کو لے جانے والے سلیط بن عمرو قرشی تھے آنحضرت ﷺ نے اس خط میں ہوذہ کو اسلام کی دعوت دی مگر ہوذہ ایک متکبر مزاج انسان اور دنیا کا بندہ تھا اس نے بظاہر سلیط بن عمرو کی بڑی آئو بھگت کی مگر جواب میں آنحضرت ﷺ کو کہلا بھیجا کہ میرا عربوں میں بڑا مقام ہے (غالباً مراد یہ تھی کہ میرا وجود آپ کے سلسلہ کے لئے بہت مفید ہوسکتا ہے) آپ اگر میرے لئے وصیت کرجائیں کہ کچھ حکومت کا حصہ آپ کے بعد مجھے بھی مل جائے تو میں مسلمان ہوسکتا ہوں۔ آنحضرت ﷺ نے اس کا خط پڑھ کر غصہ سے فرمایا کہ ’’(یہ تو خدا کی چیز ہے) اگر ہوذہ مجھ سے کھجور کا ایک کچا دانہ بھی مانگے تو میں اسے نہیں دوں گا۔‘‘ اس کے بعد ہوذہ بن علی فتح مکہ کے بعد کفر کی حالت ہی میں مرگیا۔ اور جب آپؐکو ہوذہ کی موت کی اطلاع پہنچی تو آپؐنے فرمایا کہ یمامہ کے علاقہ میں عنقریب ایک جھوٹا نبی پیدا ہوگا جو میری وفات کے بعد قتل کیا جائے گا۔ کسی نے پوچھا یا رسول اللہ اسے کون قتل کرے گا؟ آپؐنے فرمایا۔ تم اور تمہارے ساتھی اور کون؟ چنانچہ آنحضرت ﷺ کی یہ پیشگوئی مسیلمہ کذاب کے ظہور میں پوری ہوئی جو مسلمانوں کے خلاف بعض خونریز لڑائیاں لڑنے کے بعد حضرت ابوبکرؓ کے عہد خلافت میں ہلاک ہوا۔
بعض روایتوں میں آتا ہے کہ آنحضرت ﷺ نے یمامہ کی طرف سیلط بن عمرو کو بھجواتے ہوئے ان کے سپرد دو تبلیغی خط کئے تھے۔ ایک ہوذہ کے نام اور دوسرا ثمامہ بن اثال کے نام۔ مگر یہ درست نہیں ہے کیونکہ جیسا کہ اسی کتاب میں دوسری جگہ بیان کیا جا چکا ہے۔ ثمامہ اس سے پہلے ایک سریہ میں قید ہوکر مدینہ میں مسلمان ہوچکے تھے۔ پس اگر اس موقع پر ثمامہ کو کوئی خط لکھا گیا تو یقینا وہ تبلیغ کا خط نہیں ہوگا بلکہ اس تحریک کے لئے ہوگا کہ وہ آپؐکے خط کو ہوذہ تک پہنچانے اور اسے تبلیغ کرنے میں سلیط بن عمرو کی امداد کرے۔ یہی وہ تشریح ہے جو علامہ زرقانی نے اس اختلاف کی کی ہے۔
اوپر کے چھ تبلیغی خط آنحضرت ﷺ نے صلح حدیبیہ کے معاً بعد بعض روایتوں کے مطابق ایک ہی دن میں اور دوسری روایتوں کے مطابق اوپر تلے لکھ کر بھجوائے تھے۔ ان کے بعد جو خط لکھے گئے وہ کچھ وقفہ کے بعد لکھے گئے تھے اور ہم انہیں انشاء اللہ اپنے اپنے موقع پر بیان کریں گے۔
اوپر کے چھ تبلیغی خطوط سے اس بات کے اندازہ کرنے کا موقع ملتا ہے کہ آنحضرت ﷺ نے قریش کے ساتھ صلح ہوتے ہی اپنی پہلی فرصت میں کس درجہ مستعدی اور انہماک کے ساتھ تبلیغ کا فرض ادا کیا۔ گویا آپؐنے ایک آن واحد میں عرب کے چاروں اطراف میں اسلام کا بیج بکھیر دیا۔ آپؐکے اس فعل سے آپ کے اُس قول پر بھاری روشنی پڑتی ہے جو آپؐنے ایک جنگی مہم سے واپسی پر فرمایا کہ:
رَجَعْنَا مِنَ الْجَھَادِ الْاَصْغَرِاِلَی الْجَھَادِ الْاَکْبَرِ۔
یعنی’’اب ہم تلوار کے چھوٹے جہاد سے تبلیغ و عبادت کے بڑے جہاد کی طرف لوٹ رہے ہیں۔‘‘
حق یہ ہے کہ آپؐکی زندگی کا ہر لمحہ خدمت دین اور خدمت خلق میں خرچ ہوتا تھا اور حالات کے ماتحت جس جس قسم کے کام کی ضرورت پیش آتی تھی آپؐکی روح اس کی طرف اس طرح لپکتی تھی جس طرح ایک محبت کے جذبات سے بھری ہوئی ماں اپنے کھوئے ہوئے بچے کے دوبارہ پانے پر اس کی طرف لپکتی ہے۔ دنیا آپؐکے لئے ایک سفر کی منزل سے زیادہ نہیں تھی اور اپنے آسمانی آقا کی خدمت اور اس کی عبادت اور اس میں ہو کر مخلوق کی محبت سب کچھ تھی۔
اَللّٰھُمَّ صَلِّ عَلٰی مُحَمَّدٍ وَبَارِکْ وَسَلِّمْ۔
(سیرت خاتم النّبیین، صفحہ826 تا831 ، مطبوعہ قادیان 2006)
ززز