اردو   हिंदी   বাংলা   ಕನ್ನಡ   മലയാളം   ଓଡ଼ିଆ   தமிழ்   తెలుగు  




.

2026-02-19

سیرت خاتم النّبیین ﷺ (از حضرت مرزا بشیر احمد صاحب ایم.اے.رضی اللہ عنہ )

نجاشی کے نام آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کاتبلیغی خط
کتاب ہذا کے حصہ اوّل میں براعظم افریقہ کی عیسائی حکومت حبشہ کاذکر کیا جاچکا ہے۔اس حکومت کے بادشاہ کاموروثی لقب نجاشی ہوا کرتا تھا۔یہ بات بھی کتاب کے حصہ اول میں گزر چکی ہے کہ جب مکہ میںمسلمانوں کے خلاف قریش کے مظالم نے زور پکڑا توآنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم نے اپنے بہت سے صحابہ کو(جن میں بعض عورتیں بھی شامل تھیں)حبشہ بھجوادیا تھا۔اور باوجود قریش کے پیچھا کرنے اورنجاشی کو طرح طرح سے بہکانے کے نجاشی حق وانصاف کے رستہ پر قائم رہا اورمسلمان مہاجر ایک لمبے عرصہ تک اس کی حکومت میں امن وعافیت کے ساتھ رہتے رہے یہ نجاشی جس کا نام اصحمہ تھا شروع سے ہی آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم کا بہت مداح تھااورآپؐکو بڑی عزت کی نظر سے دیکھتا تھااورآپؐکے صحابہ کے ساتھ بھی اس کاسلوک صرف منصفانہ ہی نہیں تھا بلکہ حقیقتاًمربیانہ تھا،لیکن بہرحال وہ ابھی تک عمومی رنگ میںخوش عقیدہ ہونے کے باوجود مسلمان نہیں ہوا تھا اس لئے آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم نے جب صلح حدیبیہ کے بعد مختلف بادشاہوں کے نام تبلیغی خطوط لکھے تو اس موقع پر ایک خط اپنے صحابی عمروبن امیہ ضمری کے ہاتھ نجاشی کے نام بھی لکھ کر بھجوایا۔اس خط کی عبارت یہ تھی۔
بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ۔مِنْ مُحَمَّدٍ رَسُوْلِ اللّٰہِ اِلَی النَّجَاشِیِّ مَلِکِ الْحَبْشَۃَ سَلِّمْ اَنْتَ۔اَمَّابَعْدُ فَاِنِّیْ اَحْمَدُ اِلَیْکَ اللّٰہَ الَّذِیْ لاَ اِلٰہَ اِلاَّھُوَالْمَلِکُ الْقُدُّوْسُ السَّلَامُ الْمُؤْمِنُ الْمُھَیْمِنُ۔وَاَشْھَدُاَنَّ عِیْسٰی ابْنَ مَرْیَمَ رُوْحُ اللّٰہِ وَکَلِمَتُہٗ اَلْقَاھَا اِلٰی مَرْیَمَ الْبَتُوْلِ…وَاِنِّیْ اَدْعُوْکَ اِلٰی اللّٰہِ وَحْدَہٗ لَاشَرِیْکَ لَہٗ وَالْمَوَالَاۃِ عَلٰی طَاعَتِہٖ وَاِنْ تَتَّبِعُنِیْ وَتُؤْمِنُ بِالَّذِیْ جَائَ نِیْ فَاِنِّیْ رَسُوْلُ اللّٰہِ وِاِنِّیْ اَدْعُوْکَ وَجُنُوْدَکَ اِلَی اللّٰہِ تَعَالٰی وَقَدْ بَلَّغْتُ وَنَصَحْتُ فَاقْبِلُوْا نَصِیْحَتِیْ وَقَدْ بَعَثْتُ اِلَیْکَ ابْنَ عَمِّی جَعْفَراً وَمَعَہٗ نَفَرٌمِنَ الْمُسْلِمِیْنَ۔وَالسَّلاَمُ عَلٰی مَنِ اتَّبَعَ الْھُدٰی۔
یعنی’’میںاللہ کے نام کے ساتھ شروع کرتا ہوں جوبن مانگے دینے والا اورباربار رحم کرنے والا ہے۔یہ خط اللہ کے رسول محمدکی طرف سے حبشہ کے بادشاہ نجاشی کے نام ہے۔ اے بادشاہ!آپ پر خدا کی سلامتی ہو۔ اس کے بعد میں آپ کے سامنے اس خدا کی حمد بیان کرتا ہوں جس کے سوا کوئی عبادت کے قابل نہیں۔وہی زمین وآسمان کاحقیقی بادشاہ ہے جوتمام خوبیوں کاجامع اورتمام نقصوں سے پاک ہے۔وہ مخلوق کوامن دینے والا اوردنیا کی حفاظت کرنے والا ہے اورمیں اس بات کی شہادت دیتا ہوں کہ عیسیٰ ابن مریم خدا کے کلام کے ذریعہ مبعوث ہوئے اوراس کے حکم سے عالم وجود میں آئے جواس نے مریم بتول پر نازل کیا تھا…اوراے بادشاہ!میں آپ کو خدائے واحد کی طرف بلاتا ہوںجس کا کوئی شریک نہیں اورمیں آپ کو دعوت دیتا ہوں کہ خدا کی اطاعت میں میرے ساتھ تعاون کریں اورمیری اتباع اختیار کرتے ہوئے اس کلام پرایمان لائیں جومجھ پر نازل ہوا ہے کیونکہ میںخدا کا رسول ہوں اوراسی حیثیت میں آپ کو اورآپ کی رعایا کو خدا کی طرف بلاتا ہوں۔میں نے آ پ کو اپنا پیغام پہنچا دیا ہے اوراخلاص اورہمدردی کے ساتھ آپ کوصداقت کی طرف دعوت دی ہے۔ پس میرے اس اخلاص اورہمدردی کوقبول کریں۔میں(اس سے قبل)آپ کی طرف اپنے چچازاد بھائی جعفراوران کے ساتھ بعض دوسرے مسلمانوں کوبھجواچکا ہوں۔ اورسلامتی ہوہر اس شخص پر جوخدا کی ہدایت کواختیار کرتاہے۔‘‘
جب آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم کایہ خط نجاشی کوپہنچا تو اس نے اسے اپنی آنکھوں سے لگایا اورادب کے طریق پراپنے تخت سے نیچے اترآیا اورکہا کہ میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد صلی اﷲ علیہ وسلم خدا کے رسول ہیں۔ پھر اس نے ایک ہاتھی دانت کی ڈبیہ منگوائی اوراس میں آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم کاخط محفوظ کرکے رکھ دیا اورکہا میں یقین کرتا ہوں کہ جب تک یہ خط ہمارے گھرانے میں محفوظ رہے گا،اہل حبشہ اس کی وجہ سے خیرا وربرکت پاتے رہیںگے۔ تاریخ الخمیس کا مصنف لکھتا ہے کہ یہ خط آج تک حبشہ کے شاہی خاندان میں محفوظ ہے۔
اس کے بعد نجاشی نے ذیل کاجواب آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم کی خدمت میں لکھا؛
بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ۔اِلٰی مُحَمَّدٍرَسُوْلِ اللّٰہِ مِنَ النَّجَاشِیْ اَصْحَمَۃِ سَلَامٌ عَلَیْکَ یَارَسُوْلَ اللّٰہِ وَرَحْمَۃُ اللّٰہِ وَبَرَکَاتُ اللّٰہِ الَّذِیْ لَااِلٰہَ اِلاَّ ھُوَالَّذِیْ ھَدَانِیْ لِلْاِسْلَامِ۔اَمَّابَعْدُ فَقَدْ بَلَغَنِیْ کِتَابُکَ یَارَسُوْلَ اللّٰہِ فَمَاذَکَرْتَ مِنْ اَمْرِعِیْسیٰ فَوَرَبِّ السّمَآئِ وَالْاَرْضِ اِنَّ عِیْسٰی عَلَیْہِ السَّلَامُ لَایَزِیْدُمَاذَکَرْتَ ثَفْرُوْقًا وَقَدْ عَرَفْنَا مَابَعَثْتَ بِہٖ اِلَیْنَا۔فَاَشْھَدُ اَنَّکَ رَسُوْلَ اللّٰہِ صَادِقًا مَصْدُوْقًا وَقَدْ بَایَعْتُکَ وَبَایَعْتُ ابْنَ عَمِّکَ وَاَسْلَمْتُ عَلٰی یَدَیْہِ لِلّٰہِ رَبِّ الْعَالَمِیْنَ…وَالسَّلَامُ عَلَیْکَ وَرَحْمَۃُ اللّٰہِ وَبَرَکَاتُہٗ۔‘‘
یعنی’’اللہ کے نام کے ساتھ جورحمن اوررحیم ہے۔ یہ خط محمدرسول اللہ (صلی اﷲ علیہ وسلم) کے نام نجاشی اصحمہ کی طرف سے ہے۔یارسول اللہ آپ پر سلامتی ہو اوراس خدا کی طرف سے برکتیں نازل ہوں جس کے سواکوئی قابل پرستش نہیں۔اوروہی ہے جس نے مجھے اسلام کی طرف ہدایت دی ہے اس کے بعد یارسول اللہ آپ کا خط مجھے پہنچا۔خدا کی قسم جوکچھ آپ نے عیسیٰ علیہ السلام کے متعلق بیان کیا ہے میںانہیں اس سے ذرہ بھر بھی زیادہ نہیں سمجھتا۔اورہم نے آپ کی دعوت حق کو سمجھ لیا ہے اورمیں گواہی دیتا ہوں کہ آپ خدا کے سچے رسول ہیں جن کے متعلق پہلے صحیفوں میں بھی خبر دی گئی تھی۔پس میں آپ کے چچا زاد بھائی جعفر کے ذریعہ آپ کے ہاتھ پر خدا کی خاطر بیعت کرتا ہوں…اوراللہ تعالیٰ کی سلامتی ہوآپ پراوراس کی رحمتیں اوربرکتیں نازل ہوں۔‘‘
آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم نے جو خط نجاشی کولکھا اورنجاشی نے اس کا جوجواب دیا ان دونوں میں ایک خاص کیفیت پائی جاتی ہے جواوپر کے کسی اورخط میں نظرنہیں آتی۔یعنی ایک طرف آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم کے خط کے الفاظ اس امید سے معمور نظر آتے ہیں کہ انشاء اللہ آپؐکی تبلیغ سے نجاشی ضرور مسلمان ہوجائے گا اوردوسری طرف نجاشی کاخط اس حقیقت کاحامل ہے کہ گویا اس کی روح پہلے سے صداقت کے قبول کرنے کے لئے تیار بیٹھی ہے۔بہرحال خداتعالیٰ نے نجاشی کو اسلام کی توفیق عطا کی۔اوریہ وہی نجاشی ہے جو۹ہجری میں فوت ہوااورآنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم نے صحابہ سے یہ فرماتے ہوئے اس کی نماز جنازہ ادا کی کہ تمہارا ایک صالح بھائی نجاشی حبشہ میں فوت ہوگیا ہے۔آئو ہم سب مل کر اس کی روح کے لئے دعا کریں۔
جونجاشی اس نجاشی کی وفات کے بعد حبشہ کے تخت پربیٹھا اس کا نام روایات میں محفوظ نہیں ہے مگر تاریخ سے پتہ لگتا ہے کہ آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم نے اسے بھی ایک تبلیغی خط لکھا تھا۔مگر بدقسمتی سے اس نے آپؐکی دعوت کوقبول نہیں کیا اورمسیحی مذہب پرہی فوت ہوا۔غالباًیہی وجہ ہے کہ حبشہ میں اسلام زیادہ پھیل نہیںسکا۔
(سیرت خاتم النبیین ﷺصفحہ 824تا828 مطبوعہ قادیان 2006)