اردو   हिंदी   বাংলা   ಕನ್ನಡ   മലയാളം   ଓଡ଼ିଆ   தமிழ்   తెలుగు  




.

2026-02-12

سیرت خاتم النبیین ﷺ از حضرت مرزا بشیر احمد صاحب ایم اے رضی اللہ عنہ

اس کے بعد مقوقس نے اپنے ایک عربی دان کاتب کوبلایا اور آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم کے نام مندرجہ ذیل خط املاء کراکے حاطب کے حوالہ کیا۔اس خط کی عبارت یہ تھی:
بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ۔لِمُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِاللّٰہِ ِمنَ الْمَقَوْقَسِ عَظِیْمِ الْقِبْطِ۔سَلاَمٌ عَلَیْکَ۔اَمَّابَعْدُ فَقَدْقَرَأتُ کِتَابَکَ وَفَھِمْتُ مَاذَکَرْتَ فِیْہِ وَمَاتَدْعُوْاِلَیْہِ۔وَقَدْعَلِمْتُ اَنَّ نَبِیًّاقَدْبَقِیَ وَکُنْتُ اَظُنُّ اَنْ یَّخْرُجَ مِنَ الشَّامِ۔ وَقَدْاَکْرَمْتُ رَسُوْلَکَ وَبَعَثْتُہٗ اِلَیْکَ بِجَارِیَتَیْنِ لَھُمَامَکَانٌ مِنَ الْقِبْطِ عَظِیْمٌ وَکِسْوَۃٌ وَاَھْدَیْتُ اِلَیْکَ بَغْلَۃً لِتَرْکُبَھَا۔وَالسَّلاَمُ۔
یعنی’’خدا کے نام کے ساتھ جورحمن اوررحیم ہے۔یہ خط محمدبن عبداللہ کے نام قبطیوںکے رئیس مقوقس کی طرف سے ہے۔آپ پر سلامتی ہو۔میں نے آپ کا خط اورآپ کے مفہوم کوسمجھا اورآپ کی دعوت پرغورکیا۔میں یہ ضرور جانتا تھا کہ ایک نبی مبعوث ہونے والا ہے مگر میں خیال کرتا تھا کہ وہ ملک شام میں پیدا ہوگا(نہ کہ عرب میں)اورمیں آپ کے سفیر کے ساتھ عزت سے پیش آیا ہوں اور میں اس کے ساتھ دولڑکیاں بھجوا رہا ہوں جنہیں قبطی قوم میں بڑا درجہ حاصل ہے اورمیں کچھ پارچات بھی بھجوارہا ہوں اورآپ کی سواری کے لئے ایک خچربھی بھجوارہا ہوں۔والسلام۔‘‘
اس خط سے ظاہر ہے کہ مقوقس مصر آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم کے ایلچی کے ساتھ عزت سے پیش آیا اور اس نے آپؐکے دعویٰ میں ایک حد تک دلچسپی بھی لی مگر بہرحال اس نے اسلام قبول نہیںکیا اوردوسری روایتوں سے پتہ لگتا ہے کہ عیسائی مذہب پرہی اس کی وفات ہوئی ۔ اس کی گفتگو کے انداز سے یہ بھی پتہ لگتا ہے کہ وہ بے شک مذہبی امور میں دلچسپی تولیتا تھا مگرجو سنجیدگی اس معاملہ میں ضروری ہے وہ اسے حاصل نہیں تھی۔اس لئے اس نے بظاہر مؤدبانہ رنگ رکھتے ہوئے بھی آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم کی دعوت کو ٹال دیا۔
جودولڑکیاں مقوقس نے بھجوائی تھیں ان میں سے ایک کانام ماریہ اوردوسری کانام سیرین تھا۔ اوریہ دونوں آپس میں بہنیں تھیں۔اورجیسا کہ مقوقس نے اپنے خط میں لکھا تھا وہ قبطی قوم میں سے تھیں۔اوریہ وہی قوم ہے جس سے خود مقوقس کا تعلق تھااوریہ لڑکیاں عام لوگوں میں سے نہیں تھیں بلکہ مقوقس کی اپنے تحریر کے مطابق ’’انہیںقبطی قوم میں بڑا درجہ حاصل تھا۔‘‘دراصل معلوم ہوتا ہے کہ مصریوں میں یہ پرانا دستور تھا کہ اپنے ایسے معزز مہمانوں کوجن کے ساتھ وہ تعلقات کو بڑھانا چاہتے تھے رشتہ کے لئے اپنے خاندان یااپنی قوم کی شریف لڑکیاں پیش کردیتے تھے۔چنانچہ جب حضرت ابراہیم ؑمصر میں تشریف لے گئے تومصر کے رئیس نے انہیں بھی ایک شریف لڑکی(حضرت ہاجرہؓ) رشتہ کے لئے پیش کی تھی جو بعد میں حضرت اسماعیل ؑاوران کے ذریعہ بہت سے عرب قبیلوں کی ماں بنی۔ بہرحال مقوقس کی بھجوائی ہوئی لڑکیوں کے مدینہ پہنچنے پر آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم نے ماریہ قبطیہ کوتو خود اپنے عقد میں لے لیا اوران کی بہن سیرین کوعرب کے مشہور شاعر حسان بن ثابت کے عقد میں دے دیا۔یہ ماریہ وہی مبارک خاتون ہیں جن کے بطن سے آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم کے صاحبزادہ حضرت ابراہیم پیدا ہوئے۔جوزمانہ نبوت کی گویا واحداولاد تھی۔یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ یہ دونوں لڑکیاں مدینہ پہنچنے سے پہلے ہی حاطب بن ابی بلتعہ کی تبلیغ سے مسلمان ہوگئی تھیں۔جو خچر اس موقع پر آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم کو تحفہ میں آئی وہ سفید رنگ کی تھی اوراس کا نام دلدل تھا۔آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم اس پر اکثر سواری فرمایا کرتے تھے اورغزوۂ حنین میں بھی یہی خچر آپؐ کے نیچے تھی۔
یہ سوال کہ آیا آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم نے حضرت ماریہ کوزوجہ کے طور پر اپنے عقد میں لیا یاکہ صرف مِلک یمین کے رنگ میں اپنے عقد میں رکھاایک اختلافی سوال ہے جس کی تفصیل میں ہمیں اس جگہ جانے کی ضرورت نہیں۔بہرحال دوباتیں قطعی طور پر یقینی ہیں۔ایک یہ کہ آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم نے حضرت ماریہ کو شروع سے ہی پردہ کرایا۔اورپردہ کے متعلق ثابت ہے کہ وہ صرف آزاد عورتیں اورازواج ہی کرتی تھیں۔چنانچہ روایت آتی ہے کہ جب آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم نے غزوۂ خیبرکے بعد ایک یہودی رئیس کی بیٹی صفیہ کے ساتھ عقد کیا تو صحابہ میں اختلاف ہوا کہ یہ آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم کی زوجہ ہیں یاکہ محض مِلک یمین۔پھر جب آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم نے انہیں پردہ کرایا توصحابہ نے سمجھ لیا کہ وہ زوجہ ہیں نہ کہ مِلک یمین۔ دوسرے یہ بات بھی تاریخ سے ثابت ہے کہ آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم نے کبھی کوئی ذاتی غلام نہیں رکھا بلکہ جو لونڈی یاغلام بھی آپؐ کے قبضہ میں آیا آپؐنے اسے آزاد کردیا۔ اس لحاظ سے بھی آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم کاحضرت ماریہ قبطیہ کولونڈی کے طورپر اپنے پاس رکھنا بعید از قیاس اورناقابل قبول ہے۔ واللہ اعلم۔ویسے اگرلونڈیوں کے متعلق اسلامی تعلیم کاخلاصہ ملاحظہ کرنا ہوتو کتاب ھٰذا کے حصہ دوم کے صفحات ۴۷۲تا۴۷۸مطالعہ کئے جائیں۔
مقوقس والے خط کے متعلق ایک خاص بات یہ بھی قابل ذکر ہے کہ وہ کئی سوسال پردۂ خفا میں مستور رہنے کے بعد قریباًایک سوسال ہواکہ اپنی اصلی صورت میں دریافت ہوچکا ہے اورہم اس جگہ آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم کے اس متبرک خط کافوٹو یعنی عکس درج کرنے کی سعادت حاصل کررہے ہیں۔رسم خط میں کافی تبدیلی ہوجانے کے باوجود اس عکس کے اکثر الفاظ نظرغور کے ساتھ پڑھے جاسکتے ہیں اوروہ بعینہٖ وہی الفاظ ہیں جوہم نے اسلامی کتب کے حوالہ سے اوپر درج کئے ہیں۔یہ خط ۱۸۵۸ء میں بعض فرانسیسی سیاحوں کومصر کی ایک خانقاہ میں ملا اوراب اصل خط قسطنطنیہ میں موجود ہے۔اور اس کا فوٹو بھی شائع ہوچکا ہے۔۱؎ اس خط کادریافت کرنے والا مسیوایتین برثلیمی تھا اورغالباًسب سے پہلے اس کا فوٹو مصر کے مشہور جریدہ الہلال بابت نومبر۱۹۰۴ء میں شائع ہوا تھا اورپھرپروفیسر مارگولیتھ نے بھی اپنی کتاب محمداینڈ دی رائز آف اسلام میں اسے شائع کیا۔اسی طرح وہ مصر کی ایک جدید تصنیف تاریخ الاسلام ایساسی مصنفہ الدکتور حسن بن ابراہیم استاذ التاریخ الاسلامی جامعہ مصریہ میںبھی چھپ چکا ہے اوربہت سے غیر مسلم محققین نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ یہ وہی اصل خط ہے جو آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم نے مقوقس مصر کولکھا تھا۔
ضمناًاس خط کی دریافت جس کا ایک ایک لفظ اورایک ایک حرف حدیث اورتاریخ اسلامی کی روایت کے عین مطابق ہے اس بات کا بھاری ثبوت مہیا کرتی ہے کہ معتبر جامعین حدیث اور محقق مؤرخین اسلام نے روایات کے جمع کرنے میںکتنی بھاری احتیاط اورکتنی عظیم الشان امانت ودیانت سے کام لیا ہے۔انہوں نے زبانی حافظہ کی بناپر روایوں کے ایک لمبے سلسلہ کے ساتھ اس خط کی عبارت بیان کی اوربتایا کہ فلاں موقع پر آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم نے ان ان الفاظ کی تحریر مقوقس کو لکھی تھی اورپھر تیرہ سوسال کے طویل زمانہ کے بعد اصل خط کے دریافت ہونے پر یہ بات روز روشن کی طرح ثابت ہوگئی کہ جوروایت ان مسلمان محدّثین اورمؤرخین نے بیان کی تھی وہ حرف بحرف درست تھی۔اس سے بڑھ کر اسلامی روایات کی صحت اورمحدثین کی دیانت وامانت کاکیا ثبوت ہوگا؟میرا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ سب راوی ہرلحاظ سے قابل اعتماد ہیں کیونکہ یقینا ان میںحافظہ یا سمجھ یادیانت کے لحاظ سے بعض کمزورراوی بھی پائے جاتے تھے ،لیکن جواچھے تھے ان کا تاریخ عالم میں جواب نہیں۔(نوٹ: آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم کے خط کا عکس اگلے صفحہ پر ملاحظہ کریں۔)
(سیرت خاتم النبیین ؐ صفحہ 820تا824مطبوعہ قادیان2006 )