مقوقس مصر کے نام
آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم کا خط
آنحضرت ﷺ کا تیسرا خط مقوقس والی ٔ مصر کے نام تھاجو قیصر کے ماتحت مصر اور اسکندریہ کا والی یعنی موروثی حاکم تھا اور قیصر کی طرح مسیحی مذہب کا پیرو تھا۔ اس کا ذاتی نام جریج بن مینا تھا اور وہ اور اس کی رعایا قبطی قوم سے تعلق رکھتے تھے۔ یہ خط آپؐنے اپنے ایک بدری صحابی حاطب بن ابی بلتعہ کے ہاتھ بھجوایا اور اس خط کے الفاظ یہ تھے۔
بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ۔مِنْ مُحَمَّدٍ عَبْدِ اللّٰہِ وَرَسُوْلِہٖ اِلَی الْمَقَوْقَسِ عَظِیْمِ الْقِبْطِ۔سَلاَمٌ عَلٰی مَنِ اتَّبَعَ الْھُدٰی۔اَمَّا بَعْدُ فَاِنِّیْ اَدْعُوْکَ بِدِعَایَۃِ الْاِسْلاَمِ اَسْلِمْ تُسْلَمْ یُؤْتِکَ اللّٰہُ اَجْرَکَ مَرَّتَیْنِ۔ فَاِنْ تَوَلَّیْتَ فَعَلَیْکَ اِثْمُ الْقِبْطِ۔ یَااَھْلَ الْکِتَابِ تَعَالَوْااِلَی کَلِمَۃٍ سَوَائٍ بَیْنَنَا وَبَیْنَکُمْ اَنْ لَا نَعْبُدَاِلاَّاللّٰہَ وَلاَ نُشْرِکَ بِہٖ شَیْئًا وَلاَ یَتَّخِذَ بَعْضُنَا بَعْضًا اَرْبَابًا مِنْ دُوْنِ اللّٰہِ فَاِنْ تَوَلَّوْافَقُوْلُوْا اشْھِدُوْابِاَنَّا مُسْلِمُوْنَ۔
یعنی ’’میں اللہ کے نام کے ساتھ شروع کرتا ہوں جو بے مانگے رحم کرنے والا اور اعمال کا بہترین بدلہ دینے والا ہے۔ یہ خط محمد خدا کے بندے اور اس کے رسول کی طرف سے قبطیوں کے رئیس مقوقس کے نام ہے۔ سلامتی ہو اس شخص پر جو ہدایت کو قبول کرتا ہے اس کے بعد اے والی ٔمصر! میں آپ کو اسلام کی ہدایت کی طرف بلاتا ہوں۔ مسلمان ہوکر خدا کی سلامتی کو قبول کیجئے کہ اب صرف یہی نجات کا رستہ ہے۔ اللہ تعالیٰ آپ کو دوہرا اجر دے گا، لیکن اگر آپ نے روگردانی کی تو (علاوہ خود آپ کے اپنے گناہ کے) قبطیوں کا گناہ بھی آپ کی گردن پر ہوگا۔ اور اے اہل کتاب اس کلمہ کی طرف تو آجائو جو تمہارے اور ہمارے درمیان مشترک ہے یعنی ہم خدا کے سوا کسی کی عبادت نہ کریں اورکسی صورت میں خدا کا کوئی شریک نہ ٹھہرائیں اورخدا کو چھوڑ کر اپنے میںسے ہی کسی کو اپنا آقااورحاجت روانہ گردانیں۔پھراگر ان لوگوں نے روگردانی کی تو ان سے کہہ دو کہ گواہ رہو کہ ہم تو بہرحال خدائے واحد کے فرمانبردار بندے ہیں۔‘‘
جب حاطب بن ابی بلتعہ اسکندریہ میںپہنچے تو مقوقس کے حاجب یعنی دربان سے مل کر اس کی خدمت میںحاضر ہوئے اورآنحضرت ﷺ کا خط پیش کیا۔ مقوقس نے خط پڑھا اور پھر حاطب بن ابی بلتعہ سے مخاطب ہوکر نیم مذاقیہ رنگ میں کہا کہ اگر تمہارا یہ صاحب واقعی خدا کا نبی ہے تو (اس خط کے بھجوانے کی بجائے) اس نے میرے خلاف خدا سے یہ دعا ہی کیوں نہ کی کہ خدا اسے مجھ پر مسلّط کردے۔ حاطب نے جواب دیا کہ اگریہ اعتراض درست ہے تو وہ حضرت عیسیٰ ؑپر بھی پڑتا ہے کہ انہوں نے اپنے مخالفوں کے خلاف اس قسم کی دعا کیوں نہیں کی۔ پھر حاطب نے مقوقس کو ازراہ نصیحت کہا کہ آپ (سنجیدگی کے ساتھ) غور فرمائیں کیونکہ اس سے پہلے آپ کے اسی ملک مصر میں ایک ایسا شخص (فرعون) گزر چکا ہے جو یہ دعویٰ کرتا تھا کہ وہی ساری دنیا کا رب اور حاکم اعلیٰ ہے۔ جس پر خدا نے اسے ایساپکڑا کہ وہ
اگلوں اور پچھلوں کے لئے عبرت بن گیا۔پس میں آپ سے مخلصانہ طورپر عرض کروں گا کہ آپ دوسروں کے حالات سے عبرت پکڑیں اورایسے نہ بنیں کہ دوسرے لوگ آپ کے حالات سے عبرت پکڑیں۔مقوقس نے کہا بات یہ ہے کہ ہمیں پہلے سے ایک دین حاصل ہے اس لئے جب تک ہمیں اس سے کوئی بہتردین نہ ملے ہم اسے نہیں چھوڑ سکتے۔حاطب نے جواب دیا کہ اسلام وہ دین ہے جو سب دوسرے دینوں سے غنی کردیتاہے لیکن وہ یقینا آپ کو اس بات سے نہیں روکتا کہ آپ حضرت مسیح ناصری پربھی ایمان لائیں بلکہ وہ سب سچے نبیوں پرایمان لانے کی تلقین کرتا ہے۔اورجس طرح حضرت موسیٰ ؑنے حضرت عیسیٰ ؑکی بشارت دی تھی اسی طرح حضرت عیسیٰ ؑنے ہمارے نبی ﷺ کی بشارت بھی دی ہے۔اس پر مقوقس کچھ سوچ میںپڑ کر خاموش ہوگیا مگراس کے بعد ایک دوسری مجلس میں جبکہ بعض بڑے بڑے پادری بھی موجود تھے مقوقس نے حاطب سے پھر کہامیں نے سنا ہے کہ تمہارے نبی اپنے وطن سے نکالے گئے تھے انہوں نے اس موقع پر اپنے نکالنے والوں کے خلاف بددعاکیوں نہ کی تاکہ وہ ہلاک کردئے جاتے؟ حاطب نے جواب دیا کہ ہمارے نبی توصرف وطن سے نکلنے پر مجبور ہوئے مگر آپ کے مسیح کوتویہودیوں نے پکڑ کرسولی کے ذریعہ ختم ہی کردینا چاہا مگر پھربھی وہ اپنے مخالفوں کے خلاف بددعا کرکے انہیں ہلاک نہ کرسکے۔مقوقس نے متاثر ہوکر کہا’’تم بیشک ایک دانا انسان ہو اورایک دانا انسان کی طرف سے سفیر بن کر آئے ہو۔‘‘اس کے بعد کہنے لگا۔میں نے تمہارے نبی کے معاملہ میں غورکیا ہے میں سمجھتا ہوں کہ انہوں نے واقعی کسی بری بات کی تعلیم نہیں دی اورنہ کسی اچھی بات سے روکا ہے۔پھر اس نے آنحضرت ﷺ کاخط ایک ہاتھی دانت کی ڈبیہ میں رکھ کر اس پر اپنی مہر لگائی اوراسے حفاظت کے لئے اپنے گھر کی ایک معتبرلڑکی کے سپرد کردیا۔
(سیرت خاتم النّبیین، صفحہ818 تا822 ، مطبوعہ قادیان 2006)