اردو   हिंदी   বাংলা   ಕನ್ನಡ   മലയാളം   ଓଡ଼ିଆ   தமிழ்   తెలుగు  




.

2026-01-22

سیرت خاتم النّبیین ﷺ (از حضرت مرزا بشیر احمد صاحب ایم.اے.رضی اللہ عنہ )

(بقیہ)
کسریٰ کے نام
آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کاخط
یہ وہ زمانہ تھا جبکہ آنحضرت ﷺ نے کسریٰ کے نام تبلیغی خط روانہ کیا۔ یہ خط آپؐنے اپنے قدیم اور مخلص صحابی عبداللہ بن حذافہ سہمی کے ہاتھ بھجوایا اور انہیں ہدایت کی کہ آپؐکے خط کو پہلے بحرین کے رئیس کے پاس لے جائیں اور پھر اس کے توسط سے کسریٰ تک پہنچیں۔ اس رئیس بحرین کا نام منذر بن ساوی تھا جو بحرین کے علاقہ میں کسریٰ کا نائب السلطنت تھا۔ یہ خط بھی قیصر کے خط کی طرح باقاعدہ مہر لگا کر بھیجا گیا تھا اور اس کی عبارت یہ تھی:
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ۔ مِنْ مُحَمَّدٍ رَسُوْلَ اللہِ اِلٰی کِسْرٰی عَظِیْمِ فَارِسَ۔ سَلَامٌ عَلٰی مَنِ اتَّبَعَ الْھُدٰی وَ اٰمَنَ بِاللہِ وَرَسُوْلِہٖ وَ شَھِدَ اَنْ لَا اِلٰہ اِلَّا اللہُ وَحْدَہٗ لَا شَرِیْکَ لَہٗ وَاَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُہٗ وَرَسُوْلُہٗ۔ اَدْعُوْکَ بِدِعَایَۃِ اللہِ فَاِنِّیْ رَسُوْلُ اللہِ اِلَی النَّاسِ کَافَّۃً لِاَنْذِرَ مَنْ کَانَ حَیًّا وَیَحِقَّ الْقَوْلُ عَلَی الْکَافِرِیْنَ۔ اَسْلِمْ تُسْلَمْ۔ فَاِنْ تَوَلَّیْتَ فَعَلَیْکَ اِثْمَ الْمَجُوْسِ۔
یعنی ’’میں اللہ کے نام کے ساتھ شروع کرتا ہوں جوبے مانگے رحم کرنے والا اوراعمال کا بہترین بدلہ دینے والا ہے۔یہ خط خدا کے رسول محمدکی طرف سے فارس کے رئیس کسریٰ کے نام ہے۔سلامتی ہواس شخص پرجوہدایت کوقبول کرتا ہے اورخدا اور اس کے رسول پرایمان لاتا اور اس بات کی گواہی دیتا ہے کہ خدا کے سوا کوئی معبود نہیں اورنہ ہی اس کا کوئی شریک ہے۔ اوروہ اس بات کی بھی گواہی دیتا ہے کہ محمدخدا کا بندہ اوراس کا رسول ہے۔اے رئیس فارس! میں آپ کو خدا کی دعوت کی طرف بلاتا ہوں۔کیونکہ میں سب انسانوں کی طرف رسول بناکر بھیجا گیا ہوںتاکہ میں ہر زندہ انسان کو ہوشیار کردوں اورتا انکار کرنے والوں پرخدا کافیصلہ واجب ہوجائے۔اے رئیس فارس!آپ اسلام کوقبول کریں کیونکہ اب آپ کے لئے صرف اسی میں سلامتی کارستہ ہے، لیکن اگر آپ روگردانی کریں گے تویاد رکھیں کہ اس صورت میں (آپ کے اپنے گناہ کے علاوہ)آپ کی مجوس رعایا کاگناہ بھی آپ کی گردن پرہوگا۔‘‘
عبداللہ بن حذافہ کہتے ہیں کہ جب میں اس خط کے ساتھ کسریٰ کے دربار میں پہنچا اوراجازت ملنے کے بعد کسریٰ کے سامنے اس خط کوپیش کیا تو اس نے یہ خط اپنے ایک ترجمان کے سپرد کیا کہ تا وہ اسے پڑھ کرسنائے۔ جب ترجمان نے اس خط کوپڑھا توکسریٰ اس کے مضمون کو سن کر غصہ سے بھر گیا اور ترجمان کے ہاتھ سے خط لے کر اسے یہ کہتے ہوئے ریزہ ریزہ کردیا کہ میرا غلام ہوکر مجھے اس طرح مخاطب کرتا ہے! روایت آتی ہے کہ جب آنحضرت ﷺ کو کسریٰ کی اس حرکت کی اطلاع پہنچی تو آپؐنے دینی غیرت کے جوش میں فرمایا ’’خدا خود ان لوگوں کو پارہ پارہ کرے۔‘‘ اور ایک دوسری روایت میں آتا ہے کہ آپؐنے اس موقع پر یہ الفاظ فرمائے تھے کہ اَمَاھٰؤْلٓائِ فَیُمَزَّقُوْنَ یعنی ’’ اب یہ لوگ خود ریزہ ریزہ کردئے جائیں گے۔‘‘
کسریٰ نے آنحضرت ﷺ کے خط کو پھاڑنے پر ہی اکتفا نہیں کی، بلکہ یہودی پراپیگنڈا کے گہرے تاثرات کے ماتحت اس نے اپنے یمن کے گورنر کو جس کا نام باذان تھا ہدایت فرمائی کہ حجاز میں جس شخص نے نبوت کا دعویٰ کیا ہے اس کی طرف فوراً دو طاقتور آدمی بھجوا دو تاکہ وہ اسے گرفتار کرکے ہمارے سامنے حاضر کریں۔ اور ایک روایت یہ ہے کہ دو آدمی بھجوا کر اس سے توبہ کرائو۔ اور اگر وہ انکار کرے تو اسے قتل کردیا جائے۔ چنانچہ باذان نے اس غرض کے لئے اپنے ایک قہرمان یعنی سیکرٹری کو جس کا نام بانوَیہ تھا منتخب کیا اور اس کے ساتھ ایک مضبوط سوار مقرر کرکے مدینہ کی طرف بھجوادیا اور ان کے ہاتھ آنحضرت ﷺ کے نام ایک خط بھی بھجوایا کہ آپؐفوراً ان لوگوں کے ساتھ کسریٰ کی خدمت میں حاضر ہوجائیں۔ جب یہ لوگ مدینہ پہنچے تو انہوں نے آنحضرت ﷺ کو باذان کا خط دے کر بطریق نصیحت سمجھایا کہ بہتر ہے آپ ہمارے ساتھ چلے چلیں ورنہ کسریٰ آپ کے ملک اور قوم کو تباہ کرکے رکھ دے گا۔ آپؐنے ان کی یہ بات سن کر تبسم فرمایا اور جواب میں اسلام کی تبلیغ کی اور پھر فرمایا کہ تم آج رات ٹھہرو میں انشاء اللہ تمہیں کل جواب دوں گا۔ پھر جب وہ دوسرے دن آپؐکے پاس آئے تو آپؐنے ان سے مخاطب ہو کر فرمایا۔
اَبْلِغَاصَاحِبَکُمَااَنَّ رَبِّیْ قَتَلَ رَبَّہٗ فِیْ ھٰذِہِ اللَّیْلَۃِ
یعنی’’ اپنے آقا (والی ٔیمن) سے جا کر کہہ دو کہ میرے رب یعنی خدائے ذوالجلال نے اس کے رب ’’ یعنی کسریٰ ‘‘کو آج رات قتل کردیا ہے۔‘‘
چنانچہ بانوَیہ اور اس کا ساتھی واپس لوٹ گئے اور باذان کے پاس جاکر آنحضرت ﷺ کا پیغام پہنچایا۔ باذان نے کہا جو بات یہ شخص کہتا ہے اگر وہ اسی طرح ہوجائے تو پھر وہ واقعی خدا کا نبی ہوگا۔ چنانچہ ابھی زیادہ عرصہ نہیں گزرا تھا کہ باذان کو خسرو پرویز کے بیٹے شیرویہ کا ایک خط پہنچا جس میں لکھا تھا کہ ’’ میں نے ملکی مفاد کے ماتحت اپنے باپ خسرو پرویز کو جس کا رویہ ظالمانہ تھا اور جو اپنے ملک کے شرفاء کو بے دریغ قتل کرتا جارہا تھا قتل کردیا ہے۔ پس جب تمہیں میرا یہ خط پہنچے تو میرے نام پر اپنے علاقہ کے لوگوں سے اطاعت کا عہد لو اور مجھے معلوم ہوا ہے کہ میرے باپ نے تمہیں عرب کے ایک شخص کے متعلق ایک حکم بھیجا تھا اسے اب منسوخ سمجھو اور میرے دوسرے حکم کا انتظار کرو۔‘‘ جب باذان کو نئے کسریٰ شیرویہ بن خسرو کا یہ فرمان پہنچا تو اس نے بے اختیار ہوکر کہا کہ پھر تو محمد (ﷺ) کی بات سچی نکلی۔ معلوم ہوتا ہے کہ وہ خدا کے برحق رسول ہیں اور میں ان پر ایمان لاتا ہوں۔ چنانچہ اس نے اسی وقت آنحضرت ﷺ کی خدمت میں بیعت کا خط لکھ دیا اور اس کے ساتھ یمن کے کئی اور لوگ بھی مسلمان ہوگئے۔ اور روایت آتی ہے کہ خسرو پرویز اسی رات قتل ہوا تھا جس رات آنحضرت ﷺ نے اس کے متعلق خدا سے اطلاع پائی تھی۔
یہ ایک عجیب بات ہے کہ قیصر وکسریٰ نے آنحضرت ﷺ کے خطوں کے ساتھ جو جوسلوک کیا اسی کے مطابق اللہ تعالیٰ نے بھی ان سے معاملہ کیا۔ چنانچہ جہاں آنحضرت ﷺ کا خط پھاڑ کر پھینک دینے کی وجہ سے کسریٰ کی بھاری سلطنت چند سال کے اندر ریزہ ریزہ کردی گئی وہاں قیصر کی طرف سے آپؐکے خط کے ساتھ مؤدبانہ رویہ رکھنے پر خداتعالیٰ نے اس کی نسل کو کافی لمبی مہلت دی اور اس کے خاندان نے سینکڑوں سال حکومت کی۔ چنانچہ روایت آتی ہے کہ جب قیصر کا ایک تنوخی سفیر آنحضرت ﷺ سے ملا تو آپؐنے اسے یہ الفاظ فرمائے کہ:
’’میں نے کسریٰ کو ایک خط لکھا مگر اس نے اسے پھاڑ دیا۔ اس کی وجہ سے میں یقین رکھتا ہوں کہ خدا اسے بھی ٹکڑے ٹکڑے کردے گا اور اس کی سلطنت جلد تباہ ہوکر رہے گی۔ مگر اس کے مقابل پر میں نے ایک خط تمہارے آقا قیصر کو بھی لکھا اور اس نے اس کے متعلق ادب کا رویہ اختیار کیا اور اسے اپنے پاس محفوظ کرلیا۔ میں امید کرتا ہوں کہ جب تک ان میں نیکی کا مادہ ہے خدا اس کے خاندان کی کچھ نہ کچھ طاقت ضرور قائم رکھے گا۔‘‘
تاریخ کے اوراق بتاتے ہیں کہ بعینہٖ یہی ان دونوں حکومتوں کے ساتھ خدا کا سلوک ہوا بلکہ جیسا کہ ہم آگے چل کر دیکھیں گے ان دو خطوں کے علاوہ بھی آنحضرت ﷺ نے جو جو تبلیغی خطوط ان ایام میں لکھے اور ان خطوں کے پہنچنے پر مکتوب الیہم نے جو جو رویہ اختیار کیا اسی کے مطابق خدائے حکیم وقدیر نے ان کے ساتھ سلوک کیا اور اگر غور کیا جائے تو یہ بات آنحضرت ﷺ کی صداقت کی ایک بھاری دلیل ہے۔
کسریٰ والے خط کے متعلق یہ بات بھی یاد رکھنی چاہئے کہ جہاں قدیم مؤرخین نے صراحت کے ساتھ لکھا ہے کہ خسرو پرویز نے جو حکم آنحضرت ﷺ کے متعلق یمن کے والی کے نام جاری کیا تھا اس کا سبب وہ خط تھا جو آنحضرت ﷺ نے اسے بھجوایا وہاں بعض جدید محققین نے یہ بات ثابت کرنے کی کوشش کی ہے کہ آنحضرت ﷺ کے خط لکھنے کا واقعہ بعد کا ہے اور خسرو پرویز کا حکم یہودی پراپیگنڈے کی وجہ سے اس سے پہلے جاری ہوچکا تھا۔ دوسرا اختلاف یہ ہے کہ آیا آنحضرت ﷺ کا تبلیغی خط خسرو پرویز کے نام لکھا گیا تھا یا اس کے بیٹے شَرویہ کے نام؟ میں نے اس جگہ معروف خیال کی اتباع کی ہے یعنی یہ کہ آنحضرت ﷺ کا خط خسرو پرویز کے نام تھا اور اس نے آپؐکے خلاف احکام جاری کئے تھے۔ واللہ اعلم بالصواب۔ دراصل میرے پاس اس وقت لاہور میں ان کتابوں کا پورا ذخیرہ موجود نہیں ہے جن کا مطالعہ اس قسم کے سوال کی کامل تحقیق کے لئے ضروری ہے۔ اس لئے فی الحال معروف خیال درج کردیا گیا ہے اور یہ اختلاف بھی ایسا نہیں ہے کہ جو زیادہ اہمیت رکھتا ہو۔ اگر خدا نے چاہا تو بصورت ضرورت بعد میں اصلاح کی جاسکے گی۔
(سیرت خاتم النّبیین، صفحہ814 تا818 ، مطبوعہ قادیان 2006)