(بقیہ حصہ)
ہرقل کے نام
آنحضرت ﷺ کا تبلیغی خط
مگر غالباًاس بحث میں سب سے زیادہ یقینی ثبوت اس اصل خط کے دریافت ہوجانے سے ملتا ہے جو آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم نے اسی زمانہ میں مقوقس مصر کو لکھ کر بھیجا۔یہ خط اپنی اصلی صورت میں دریافت ہوچکا ہے اورہم اس کا ایک فوٹو آگے چل کر درج کررہے ہیں۔اس خط میں بھی آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم نے یہی عبارت یَٓاَ ھْلَ الْکِتٰبِ تَعَالَوْا اِلٰی کَلِمَۃٍ …والی درج کرائی تھی۔پس جب یہ بات قطعی طور پر ثابت ہے کہ یہ عبارت مقوقس والے خط کاحصہ بھی تھی اوریہ بات بھی ثابت ہے کہ مقوقس والا خط اورہرقل والا خط ایک ہی زمانہ میں لکھے گئے توپھر بہرحال ان خطوں کی صداقت کامعاملہ توکسی صورت میں مشکوک نہیں سمجھا جاسکتا۔ وَھُوَالْمُرَادُ۔
جوتبلیغی خط آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم نے ہرقل کے نام لکھا وہ اپنے معانی اورالفاظ کی خوبصورتی اورجامعیت کے لحاظ سے ایک نہایت اعلیٰ درجہ کی تحریر ہے۔اس تحریر کے الفاظ گوبہت مختصر ہیں مگر اس عبارت کا ایک ایک لفظ دلکش نگینوں کاحکم رکھتا ہے جوایک اعلیٰ درجہ کے جڑائو زیور میں ایک باکمال ہنرمند نصب کرتا ہے۔حق یہ ہے کہ اس مختصر سے خط میں اسلام کی تبلیغ کااورخصوصاًاس تبلیغ کا جو ایک مسیح کومخاطب کرکے ہونی چاہئے بہترین نمونہ درج کردیا گیا ہے اوراس میں توحید کابھی وہ جامع سبق موجود ہے جس کی نظیر نہیںملتی۔ اورپھراسلوب بیان ایسا لطیف ہے کہ گویا بشارت وانذار کی دو کامل نہریں پہلوبہ پہلو رواں ہیں اورایک طرف بلاوجہ دل دکھانے اوردوسری طرف مداہنت کے پردہ میںحق کو چھپانے کے بغیر اسلامی صداقت کامکمل نقشہ کھینچ دیا گیا ہے اورآخر میںاپنے اس فولادی عزم کااظہار بھی کردیا گیا ہے کہ تم مانو یانہ مانو ہم توبہرحال اسلام کی خدمت کابیڑا اٹھاچکے ہیں۔ اَللّٰھُمَّ صَلِّی عَلٰی مُحَمَّدٍ وَ بَارِکْ وَسَلِّمْ۔
ہرقل والے خط کے واقعہ سے یہ بھاری سبق بھی حاصل ہوتا ہے کہ سچی قربانی کی روح کے بغیر کوئی بڑی صداقت قبول نہیں کی جاسکتی۔ہرقل کے وہ سوالات جو اس نے ابوسفیان سے کئے اس بات کاثبوت ہیں کہ وہ ایک غیر معمولی عقل ودانش کاانسان تھا جس نے سلسلۂ رسالت اورسلسلۂ ایمانیات کاکافی گہرامطالعہ کیا ہوا تھا۔پھر اس نے جس طرح اسلام کی صداقت سے متاثر ہوکر اپنے درباریوں کواپنا ہم خیال بنانے کی کوشش کی،وہ نہ صرف اس کی حسن تدبیر بلکہ ایک حد تک اس کے جذبۂ دینداری کی بھی دلیل ہے۔مگر پھربھی یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ وہ ایمان کی نعمت سے محروم رہا اوربالآخر اسلام کی فوجوں سے لڑتا ہوا اس جہان سے رخصت ہوا۔ اس کی وجہ سوائے اس کے کچھ نہیں کہ اس کی روح اس بھاری قربانی کے لئے تیار نہیں تھی جوسچی دینداری کے لئے ضروری ہے۔وہ اپنی دنیا کی جاہ وعظمت کھونے کے بغیر اپنے درباریوں کے جھرمٹ میں گھرا ہوااسلام کی طرف قدم اٹھانا چاہتا تھا۔وہ ایک حد تک دین کا طالب ضرور تھا مگر دنیا کوچھوڑنے کے لئے تیار نہیں تھا اوریہی کمزوری اس کی ہلاکت کاباعث بن گئی۔بیشک ابوبکرؓ اورعمرؓ نے بھی دنیا کی بہترین نعمتوں اورعزتوں کا ورثہ پایا مگر انہوں نے اسلام کے ساتھ سودا نہیں کرنا چاہا۔وہ خالی ہاتھ ہوکر محض دین کی خاطر اسلام کی طرف آئے اورپھر خدا نے جوکسی کا قرضہ اپنے ذمہ نہیں رکھا کرتا انہیں وہ سلطنت عطا کی جس کے سامنے قیصرو کسریٰ کی مجموعی سلطنت بھی ماند تھی۔مگر قیصر خالی ہاتھ ہو کر اسلام کی طرف قدم اٹھاتے ہوئے ڈرا۔اس نے اپنا کمزور ہاتھ اسلام کی طرف بڑھایا اورمضبوط ہاتھ اپنی حکومت کے عصا پرجمائے رکھا۔نتیجہ یہ ہوا کہ اس کے بٹے ہوئے دل کونہ تو دین ہی ملا اورنہ ہی دنیا زیادہ دیر تک اس کے ہاتھوں میں ٹھہر سکی۔
مگر آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم کادل بڑا نکتہ شناس تھا اورآپؐ کسی کی ذرا سی نیکی کوبھی فراموش کرنا نہیں جانتے تھے۔چنانچہ روایت آتی ہے کہ جب آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم کو یہ اطلاع پہنچی کہ کسریٰ نے تو آپؐکاخط پھاڑ کرپھینک دیا ہے مگر قیصر نے گوآپؐ کی دعوت کوقبول نہیں کیا لیکن بظاہر عزت اور ادب سے پیش آیا ہے توآپؐ نے فرمایا:
اَمَّا ھٰوُلَائِ فَیُمَزَّقُوْنَ وَاَمَّا ھٰوُلَآئِ فَسَیَکُوْنَ لَھُمْ بَقِیَّۃٌ۔
یعنی ’’ایرانی حکومت توفوراًپاش پاش کردی جائے گی مگر رومی حکومت کو خدا کچھ مہلت عطا کرے گا۔‘‘
سوبعینہٖ یہی ہوا کہ کسریٰ کی حکومت توچند سال کے اندر خاک میں مل گئی مگر قیصر کی سلطنت بہت ساحصہ چھینے جانے کے باوجود قسطنطنیہ اوراس کے گردونواح میںسینکڑوں سال تک قائم رہی۔
فَاعْتَبِرُوْا یَا اُوْلِی الْاَبْصَارِ۔
کسریٰ کے نام
آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کاخط
آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم کا دوسرا تبلیغی خط کسریٰ شہنشاہ فارس کے نام تھا۔جیسا کہ اوپر بتایا جاچکا ہے کسریٰ فارس کے بادشاہوں کا سرکاری اورموروثی لقب تھا اورجس زمانہ کا ہم ذکر کررہے ہیں اس زمانہ
میں فارس کے بادشاہ کاذاتی نام خسرو پرویز بن ہرمز تھا جوایران کے مشہور ساسانی خاندان سے تعلق رکھتا تھا۔یہ بادشاہ جوبڑی شان وشوکت اورجاہ وجلال کامالک تھا مذہباًآتش پرست یعنی مشرک تھا اوریہی اس کی رعایا کامذہب تھا جواپنے بادشاہ کوبھی قابل پرستش خیال کرتی تھی۔فارس کے کسریٰ ایک طرح سے عرب کے ملک پربھی گویا اپناسیاسی حق جماتے تھے۔کیونکہ عرب کے علاقہ بحرین اورعلاقہ یمن کے رئیس دونوں کسریٰ کے ماتحت تھے اورکسریٰ کی طرف سے ان علاقوں کے والی یعنی گورنر سمجھے جاتے تھے۔یہی وجہ ہے کہ جب آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم نے کسریٰ کی طرف تبلیغی خط لکھنے کا ارادہ ظاہر فرمایا تودرباری آداب کے پیش نظر اپنا خط پہلے رئیس بحرین کی طرف بھیجا اوراس سے درخواست کی کہ وہ یہ خط آگے کسریٰ کے نام بھجوادے۔ اسی طرح جیسا کہ ہم آگے چل کردیکھیںگے جب خسرو پرویز نے غصہ میں آکر نعوذ باللہ آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم کی گرفتاری کے احکام صادر کئے توان احکام کے اجراء کے لئے اس نے اپنے یمن کے گورنر کوہدایت بھجوائی۔بہرحال بحرین اوریمن پراقتدار حاصل ہونے کی وجہ سے کسریٰ کوعرب کے معاملات میں کافی دلچسپی تھی اور وہ عرب کی ہر نئی تحریک کو طبعاً شک کی نظر سے دیکھتا تھا۔
عرب کے معاملات میں کسریٰ کی دلچسپی کا دوسرا بڑا باعث عرب کے یہودی قبیلے تھے جو مدینہ اور خیبر اور وادی القریٰ وغیرہ میں کثرت سے آباد تھے۔ یہ یہودی قبیلے طبعاً اور روایتاً قیصر کی عیسائی حکومت کے ساتھ کوئی دلچسپی نہیں رکھتے تھے بلکہ حق یہ ہے کہ وہ عیسائیوں کے سخت خلاف تھے اور دوسری طرف قیصر کی حکومت یہودیوں کے متعلق معاندانہ رویہ رکھتی تھی اور ہرقل نے تو خصوصیت سے ان کے خلاف تشدد کا دروازہ کھول رکھا تھا۔ اندریں حالات عرب کے ماحول میں صرف فارس کی حکومت ہی ایسی تھی جس کے ساتھ عرب کے یہودی تعلقات رکھ سکتے تھے۔ یہ تعلقات یزدجرو اوّل کے عہد میں شروع ہوئے جس کی ایک بیوی یہودی نسل کی تھی اور پھر خسرو پرویز کے زمانہ میں اپنے کمال کو پہنچ گئے جبکہ یہودیوں اور ایرانی حکومت کے درمیان گہرے تعلقات پیدا ہوچکے تھے۔ عرب کے یہودی آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم کے زمانہ میں کثرت کے ساتھ کسریٰ کے دربار میںجاتے رہتے تھے اور جہاں تک ان کا بس چلتا تھاخسرو پرویز کو آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم کے خلاف اکساتے تھے۔اس حقیقت کوسر ولیم میور نے بھی اشارۃً تسلیم کیا ہے۔
(سیرت خاتم النّبیین، صفحہ811 تا814 ، مطبوعہ قادیان 2006)
ززز