محترم لئیق احمد نایک صاحب مربی سلسلہ بھدرواہ لکھتے ہیں کہ:
اس اخبار کی ایک سب سے بڑی خوبی اس کے متنوع اور فکر انگیز کالم ہیں جو ہر ہفتے ہمیں نئی روشنی فراہم کرتے ہیں۔
خاص طور پر اخبار کا سرورق—جس میں آیاتِ قرآنی، احادیثِ مبارکہ، تبرکاتِ حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام اور تفسیرِ کبیر کے بصیرت افروز اقتباسات شامل ہوتے ہیں—علمی و روحانی نکات سے معمور اور میرے لیے ہمیشہ مشعلِ راہ ثابت ہوتا ہے۔ جس عمدہ، سادہ اور حکمت بھری تدبیر کے ساتھ اس مواد کو پرویا جاتا ہے، اس سے قاری کبھی تشنگی محسوس نہیں کرتا۔
اس کے علاوہ، گو کہ تمام کالم نہایت معلوماتی اور پرکشش ہوتے ہیں، لیکن سیدنا حضرت امیر المؤمنین ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کے تازہ خطبات جو اخبارِ بدر کے ذریعے ہمیں میسر آتے ہیں، وہ خصوصی طور پر قابلِ تحسین ہیں۔ اگر ہم اپنے گھروں میں ان کالموں کے مطالعے کو باقاعدگی کا حصہ بنا لیں، تو اس سے ہمارے معاشرتی ماحول میں نمایاں اور مثبت تبدیلی آسکتی ہے۔
گزشتہ شمارہ جو خصوصی نمبر "سیرت النبی ﷺ" کے تعلق سے شائع کیا گیا ہے، نہایت پرمعارف اور بصیرت افروز تھا۔ اس شمارے میں مکرم عبدالقیوم ناصر صاحب (سابق امیر جماعت آسنور) کا ایک مضمون بعنوان "حضرت محمد مصطفےٰ ﷺ عظیم ترین ماہرِ نفسیات" پڑھا، جو کہ نہایت علمی اور رواں مضمون تھا۔ اس مضمون کو پڑھ کر ایک اضافی نکتہ ذہن میں آیا جو خاکسار پیش کرنا چاہتا ہے، جس سے آنحضور ﷺ کا عظیم ماہرِ نفسیات ہونا مزید وضاحت اور صفائی کے ساتھ ثابت ہوتا ہے۔چنانچہ صحیح بخاری میں حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے:
’’حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ اللہ کی قسم جس کے سوا کوئی معبود نہیں! میں بھوک کی شدت سے زمین پر پیٹ کے بل لیٹ جاتا تھا اور کبھی پیٹ پر پتھر باندھ لیتا تھا۔ ایک دن میں اس راستے پر بیٹھ گیا جہاں سے صحابہ گزرتے تھے۔ حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ گزرے تو میں نے ان سے قرآن کی ایک آیت پوچھی، مقصد صرف یہ تھا کہ وہ مجھے کچھ کھلا دیں، مگر وہ گزر گئے۔ پھر حضرت عمر رضی اللہ عنہ گزرے، ان سے بھی پوچھا مگر وہ بھی چلے گئے۔
اس کے بعد رسول اللہ ﷺ وہاں سے گزرے۔ آپ ﷺ نے مجھے دیکھتے ہی تبسم فرمایا اور جو میرے دل اور چہرے پر تھا، اسے پہچان لیا۔ آپ ﷺ نے فرمایا: "اے اباہر!" میں نے عرض کیا: لبیک یا رسول اللہ! فرمایا: "میرے ساتھ چلو۔" آپ ﷺ آگے چلے اور میں پیچھے ہو لیا۔ گھر پہنچ کر آپ ﷺ کو دودھ کا ایک پیالہ ملا۔ آپ ﷺ نے دریافت فرمایا کہ یہ کہاں سے آیا؟ بتایا گیا کہ تحفہ آیا ہے۔
آپ ﷺ نے فرمایا: "اباہر! اہل صفہ کے پاس جاؤ اور انہیں بلا لاؤ۔" (اہلِ صفہ اسلام کے مہمان تھے)۔ حضرت ابو ہریرہ کہتے ہیں کہ مجھے یہ سوچ کر پریشانی ہوئی کہ اس تھوڑے سے دودھ سے اہلِ صفہ کا کیا بنے گا، اور مجھے شاید کچھ نہ ملے۔ لیکن اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کے سوا چارہ نہ تھا۔ میں انہیں بلا لایا۔
آنحضور ﷺ نے فرمایا: "انہیں دودھ دو۔" میں پیالہ دیتا رہا، ہر شخص سیراب ہو کر پیتا رہا، یہاں تک کہ تمام لوگ پی چکے۔ پھر آپ ﷺ نے پیالہ اپنے ہاتھ میں لیا، میری طرف دیکھ کر مسکرائے اور فرمایا: "اباہر! اب میں اور تم باقی رہ گئے ہیں۔" میں نے کہا: سچ فرمایا یا رسول اللہ! فرمایا: "بیٹھ جاؤ اور پیو۔" میں نے پیا، آپ ﷺ بار بار فرماتے رہے: "اور پیو"، یہاں تک کہ میں نے عرض کیا: اس ذات کی قسم جس نے آپ کو حق کے ساتھ بھیجا، اب مزید گنجائش نہیں ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: "مجھے دکھاؤ۔" پھر آپ ﷺ نے اللہ کی حمد کی، بسم اللہ پڑھی اور بچا ہوا دودھ نوش فرما لیا۔ (صحیح البخاری، کتاب الرقاق، حدیث: 6452)
یہ واقعہ آپ ﷺ کی کامل نفسیاتی بصیرت اور شفقتِ مآب طبیعت کا بین ثبوت ہے کہ کس طرح آپ ﷺ نے بغیر زبان سے کہے حضرت ابو ہریرہؓ کی حالتِ زار کو ان کے چہرے سے بھانپ لیا اور پھر ان کی عزتِ نفس کا خیال رکھتے ہوئے ایک حکمت آمیز اور معجزانہ انداز میں ان کی بھوک مٹائی۔اس طرح کے بے شمار واقعات احادیث کی کتب میں بھرے پڑے ہیں ۔
بہرحال اخبارِ بدر کی پوری ٹیم اور بالخصوص تمام مضمون نگاراحباب مبارکباد کے مستحق ہیں جو مسلسل اتنا معیاری اور اصلاحی مواد ہم تک پہنچا رہے ہیں۔ اللہ تعالیٰ اس اخبار کے فیض کو مزید وسعت عطا فرمائے۔ آمین۔
محترم لئیق نایک صاحب آپ کے بھرپور تبصرے کےلئے بہت بہت شکریہ!حضرت ابوہریرہ ؓ کے حوالہ سے آپ نے جس حدیث کا ذکر کیا ہے حضرت امیر المؤمنین ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے اپنے خطبہ جمعہ فرمودہ7؍ اگست2026 میں نہایت ایمان افروز رنگ میں ذکر فرمایاہے ۔ امیدہےکہ آئندہ بھی آپ اپنے گراں قدر تبصروں سے نوازتے رہیں گےنیزاخبار میں اصلاح کے حوالہ سے مفید تجاویز بھی پیش کرتے رہیں گے۔
***