اردو   हिंदी   বাংলা   ಕನ್ನಡ   മലയാളം   ଓଡ଼ିଆ   தமிழ்   తెలుగు  




.

2025-12-11

جلسہ سالانہ اور الٰہی تقدیریں (محمد کلیم خان مبلغ انچارج مڈیکری صوبہ کرناٹک)

حضرت اقدس محمد عربی صلی اللہ علیہ وسلم کی پیشگوئی کے مطابق اسلام کی نشاۃ ثانیہ ظہور امام مہدی علیہ السلام کے ذریعہ مقدر تھی۔ وقت مقررہ پر حضرت امام مہدی علیہ السلام کا ظہور ہوگیا۔ اور آپ نے الٰہی منشاء کے مطابق اپنی بعثت کا مقصد یوں بیان فرمایا۔
خداتعالیٰ چاہتا ہے کہ ان تمام روحوں کو جو زمین کی متفرق آبادیوں میں آباد ہیں اور کیا یوپ اور کیا ایشیا ان سب کو جو نیک فطرت رکھتے ہیں توحید کی طرف کھینچے اور اپنے بندوں کو دین واحد پر جمع کرے یہی خداتعالیٰ کا مقصد ہے جس کے لئے میں دنیا میںبھیجاگیا۔ (الوصیت صفحہ 5مطبوعہ قادیان2005)
اسی غرض کی تکمیل کے لئے کارخانہ الٰہیہ کو قائم کیا گیا۔ اس کی پانچ شاخیں ہیں۔ چنانچہ پانچ شاخوں میں سے تیسری شاخ کا ذکر کرتے ہوئے حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام نےفرمایا۔
’’ تیسری شاخ اس کارخانہ کی واردین اور صادرین اور حق کی تلاش کے لئے سفر کرنے والے اور دیگر اغراض متفرقہ سے آنے والے ہیں جو اس آسمانی کارخانہ کی خبر پاکر اپن اپنی نیتوں کی تحریک سے ملاقات کے لئے آتے رہتے ہیں۔
(فتح اسلام صفحہ20طبع اول)
اسی تیسری شاخ کی تکمیل کا ایک اعلیٰ نمونہ ’’جلسہ سالانہ ‘‘ کا قیام ہے چنانہ اس پس منظر میں جلسہ سالانہ کے لئے پہلے خصوصیت یہ ہے کہ اس کی بنیادی اینٹ اللہ تعالیٰ نے اپنے ہاتھ سے رکھی ہے۔ اس بارہ میں خود حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں کہ:
’’اس جلسہ کو معمولی انسانی جلسوں کی طرح خیال نہ کریں ۔یہ وہ امر ہے جس کی خالص تائید حق اور اعلائے کلمہ اسلام پر بنیاد ہے ۔ اس سلسلہ کی بنیادی اینٹ خداتعالیٰ نے اپنے ہاتھ سے رکھی ہے۔ اور اس کے لئے قومیں طیار کی ہیں جو عنقریب اس میں آملیں گی کیونکہ یہ اس قادر کا فعل ہے جس کے آگے کوئی با ت انہونی نہیں۔‘‘
(مجموعہ اشتہارات جلداول صفحہ341مطبوعہ لندن1984)
پہلے جلسہ سالانہ میں جو1891ءمیں ہوا 75 خوش نصیب افراد جنہیں ہم طیور ابراہیم بھی کہہ سکتے ہیں حاضر ہوگئے اور مقام جلسہ گاہ یا مقام اجتماع جو بھی کہیں وہ مقام’’مسجد اقصیٰ‘‘ تھا ۔
جلسہ سالانہ کے قیام پر اسکی مخالفتوں کا سلسلہ بھی شروع ہوا۔
ایک مولوی صاحب کی خدمت میں جو رحیم بخش نام رکھتے ہیں اور لاہور میں چینیاں والی مسجد کے امام ہیں ایک استفتا پیش کیا جس کا مطلب یہ تھا کہ ایسے جلسہ پرمعین پر دور سے سفر کرکے جانے میں کیا حکم ہے اور ایسےجلسہ کے لئے اگر کوئی مکان بطور خانقاہ کے تعمیر کیاجائے تو ایسے مدد دینے والے کی نسبت کیا حکم ہے۔
(منقول از مجموعہ اشتہارات جلداول صفحہ354)
جلسہ سالانہ کی مخالفت کی پہلی کوشش تھی مگر خداتعالیٰ کی تقدیر سے ٹکرانے والوں کا جو انجام ہواکرتاہے وہی ان کا انجام ہوا۔ اور جلسہ سالانہ کا انعقاد اس کی تقدیر سے ہوتارہا۔ اور مخالفین جلسہ سالانہ کےسینوں میں سانپ لوٹتے رہے۔ یہ تو جلسہ سالانہ کی شان اور جلال کا اثر تھا اور آئندہ ہوتابھی رہے گا۔ فتویٰ سے کام نہیں چلا تو مخالفین ہاتھ پیرمارکر راستوں میں رکاوٹ ڈال ڈال کر اور نئے نئے اور انجان لوگوں کو ورغلانے کے لئے ان کے اندرطرح طرح کے وسوسے ڈالنے لگے۔
اس مبارک جلسہ سالانہ کی میزبانی کس رنگ میں شروع ہوئی ایک ایمان افروز روایت درج کی جاتی ہے۔
آپ فرماتے ہیں: ایک دفعہ جلسہ سالانہ کے موقعہ پر خرچ نہ رہا۔ان دنوں جلسہ سالانہ کے لئے چندہ ہو کر نہیں جاتا تھا۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام اپنے پاس سے ہی صرف فرماتے تھے۔میر ناصر نواب صاحب مرحوم نے آکر عرض کی کہ رات کو مہمانوں کے لئے کوئی سامان نہیں ہے۔آپ نے فرمایا کہ بیوی صاحبہ سے کوئی زیور لے کر جو کفایت کر سکے فروخت کر کے سامان کر لیں۔چنانچہ زیور فروخت یار ہن کر کے میر صاحب روپیہ لے آئے اور مہمانوں کے لئے سامان بہم پہنچا دیا۔دو دن کے بعد پھر میر صاحب نے رات کے وقت میری موجودگی میں کہا کہ کل کے لئے پھر کچھ نہیں۔فرمایا کہ ہم نے برعایت ظاہری اسباب کے انتظام کر دیا تھا۔اب ہمیں ضرورت نہیں۔جس کے مہمان ہیں وہ خود کرے گا۔اگلے دن آٹھ یا نو بجے صبح جب چٹھی رسان آیا تو حضور نے میر صاحب کو اور مجھے بلایا۔چٹھی رساں کے ہاتھ میں دس پندرہ کے قریب منی آرڈرہوں گے۔جو مختلف جگہوں سے آئے ہوئے تھے۔سوسو پچاس پچاس روپیہ کے۔اور اُن پر لکھا تھا کہ ہم حاضری سے معذور ہیں۔مہمانوں کے صرف کے لئے یہ روپے بھیجے جاتے ہیں۔وہ آپ نے وصول فرما کر تو کل پر تقریر فرمائی۔اورچند آدمی تھے۔جہاں آپ کی نشست تھی۔وہاں کا یہ ذکر ہے۔فرمایا کہ جیسا کہ ایک دنیا دار کو اپنے صندوق میں رکھے ہوئے روپوں پر بھروسہ ہوتا ہے کہ جب چاہوں گا نکال لوں گا۔اس سے زیادہ اُن لوگوں کو جو اللہ تعالیٰ پر توکل کرتے ہیں۔اللہ تعالیٰ پر یقین ہوتا ہے اور ایسا ہی ہوتا ہے کہ جب ضرورت ہوتی ہے۔فور خدا تعالیٰ بھیج دیتا ہے۔
(سیرت المہدی جلد2صفحہ97-98)
اس جلسہ سالانہ میں حاضر ہونے والوں کا مقصد بیان کرتے ہوئے حضور علیہ السلام بیان فرماتے ہیں:
’’اس جلسہ میں ایسے حقایق اور معارف کے سنانے کا شغل رہے گا جو ایمان اور یقین اور معرفت کو ترقی دینے کیلئے ضروری ہیں اور نیز اُن دوستوں کیلئے خاص دعائیں اور خاص توجہ ہوگی اور حتی الوسع بدرگاہ ِارحم الراحمین کوشش کی جائے گی کہ خدائے تعالیٰ اپنی طرف ان کو کھینچے اور اپنے لئے قبول کرے اور پاک تبدیلی ان میں بخشے اور ایک عارضی فائدہ ان جلسوں میں یہ بھی ہوگا کہ ہر یک نئے سال میں جس قدر نئے بھائی اس جماعت میں داخل ہوں گے وہ تاریخ مقررہ پر حاضر ہو کر اپنے پہلے بھائیوں کے منہ دیکھ لیں گے اور روشناسی ہو کر آپس میں رشتہ تودّد و تعارف ترقی پذیر ہوتا رہے گا اور جو بھائی اس عرصہ میں اس سرائے فانی سے انتقال کر جائے گا اس جلسہ میں اس کیلئے دعائے مغفرت کی جائے گی اور تمام بھائیوں کو روحانی طور پر ایک کرنے کیلئے اوران کی خشکی اور اجنبیت اور نفاق کو درمیان سے اٹھا دینے کیلئے بدرگاہ حضرت عزت جَلَّ شَانُـہٗ کوشش کی جائے گی اور اس روحانی جلسہ میں اور بھی کئی روحانی فوائد اور منافع ہوں گے جو انشاء اللہ القدیر وقتاً فوقتاً ظاہر ہوتے رہیں گے۔ (مجموعہ اشتہارات جلداول صفحہ303)
چنانچہ اس پاکیزہ مطمع نظر کے ساتھ جاری ہونے والے جلسے کی ایک ادنیٰ جھلک المصلح الموعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے الفاظ میں یوں بیان کی جاتی ہے۔ آپ نے یہ خطاب جلسہ سالانہ ربوہ 28 دسمبر 1953ءکے موقعے پر فرمایا:
’’اے آسمانی بادشاہت کے موسیقارو! اے آسمانی بادشاہت کے موسیقارو! اے آسمانی بادشاہت کے موسیقارو! ایک دفعہ پھر اس نوبت کو اس زور سے بجاؤ کہ دُنیا کے کان پھٹ جائیں۔ایک دفعہ پھر اپنے دل کے خون اس قرنا میں بھر دو۔ایک دفعہ پھر اپنے دل کے خون اس قرنا میں بھر دو کہ عرش کے پائے بھی لرز جائیں اور فرشتے بھی کانپ اُٹھیں تا کہ تمہاری دردناک آوازوں اور تمہارے نعرہ ہائے تکبیر اور نعرہ ہائے شہادت توحید کی وجہ سے خدا تعالیٰ زمین پر آجائے اور پھر خدا تعالیٰ کی بادشاہت اس زمین پر قائم ہو جائے۔اسی غرض کے لئے میں نے تحریک جدید کو جاری کیا ہے اور اسی غرض کے لئے میں تمہیں وقف کی تعلیم دیتا ہوں۔سیدھے آؤ اور خدا کے سپاہیوں میں داخل ہو جاؤ۔محمد رسول اللہ کا تخت آج مسیح نے چھینا ہوا ہے تم نے مسیح سے چھین کر پھر وہ تخت مُحَمَّدٌ رَّسُولُ اللّهِ کو دینا ہے اور مُحَمَّدٌ رَّسُولُ الله نے وہ تخت خدا کے آگے پیش کرنا ہے اور خدا تعالیٰ کی بادشاہت دُنیا میں قائم ہوتی ہے۔پس میری سنو! اور میری بات کے پیچھے چلو کہ میں جو کچھ کہہ رہا ہوں وہ خدا کہہ رہا ہے۔میری آواز نہیں میں خدا کی آواز تم کو پہنچا رہا ہوں۔تم میری مانو ! خدا تمہارے ساتھ ہو! خدا تمہارے ساتھ ہو!! خدا تمہارے ساتھ ہو اور تم دُنیا میں بھی عزت پاؤ اور آخرت میں بھی عزت پاؤ۔‘‘
(سیر روحانی مکمل صفحہ620مطبوعہ قادیان2005)
آسمانی بادشاہت کے موسیقاروں کو جلسہ سالانہ میں امام جماعت کی یہ پکار اور نعرہ ہائے تکبیر سے لبیک لبیک کا جواب دینے والے طیور ابراہیمی کی یہ شان اللہ تعالیٰ کی ایک ایسی تقدیر تھی ۔جس کی مثال دنیا میں کہیں نہیں ملتی۔ جس طرح حضرت امام ابوحنیفہ رحمت اللہ علیہ کی مقبولیت عامہ کو دیکھ کر وقت کے ملاؤں نے حاکم وقت کو ڈرایا کہ اس (ابوحنیفہ)کو کنٹرول کرو ورنہ تمہارا تختہ پلٹ دینے میں دیر نہیں لگے گی۔ اور ایکشن بھی لیا۔ چنانچہ ملاؤں کی یہ روح ان کی باقیات میں بھی آگئی تھی۔ اور ان ہی کے اخلاف نے جب پاکستان کی سرزمین سے یہ آواز سنی تو ملاؤں کو بڑی تکلیف ہوئی اور حکومت وقت کو ڈرایا کہ ان جلسہ سالانہ والوں کو کنٹرول کرو ورنہ تختہ پلٹ جانے میں دیر نہیں لگے گی۔ تاہم پھر چلتے چلتے 1973کا دور آیا اور حضرت خلیفۃ المسیح الثالث رحمہ اللہ تعالیٰ نے صد سالہ جوبلی کی تحریک کردی۔ جلسہ سالانہ سے یہ اعلان ہوناتھا کہ لاہوں میں ISLAMIC SUMMITہوگیا۔ حکومتوں نے مل کر ٹکر لے لی۔ اور سمجھ لیاتھا کہ ان کے جلسہ سالانہ سمیت جماعت کو بھی ختم کردیاجائے گا۔ ان بے چاروں کو خداتعالیٰ کی تقدیر کا علم نہیں تھا۔ چنانچہ بعد میں بھٹو والے فیصلہ کو ناکافی سمجھاگیا اور1984آرڈیننس جاری کیاگیا۔ اورجلسہ سالانہ ربوہ کو حکومتی طاقت کے ذریعہ سے روک دیاگیا۔ اس طرح 1983کے دسمبر کا جلسہ سالانہ ربوہ میں آخری جلسہ ثابت ہوا۔ کیونکہ اس کے بعد اللہ تعالیٰ کی تقدیر کی جلالی شان کے بع دجمالی شان دکھانے کا وقت بھی آگیاتھا۔ اللہ تعالیٰ کے فضل سے لند میں جلسے ہونے لگے۔ جرمنی میں جلسے ہونے لگے۔ امریکہ ، کینیڈا، غانہ اور نائجیریاغیرہ ملکوں میں بھی جلسہ سالانہ ہونے لگے۔ پھرMTAکے واسطے سے یہ جلسہ عالمگیر جلسہ ہونے لگے۔ یعنی صرف جلسہ گاہ میں بیٹھنے والے ہی نہیں بلکہ دنیا بھر کے لوگ دور ہوئے بھی ان جلسوں میں سٹلائٹ کی مدد سے شامل ہونے لگے۔سچ ہے کہ
’’کوئی ہے جو خداکے کام کوروک سے‘‘
عالمگیر جلسہ اور عالمی نوعیت کا جلسہ ہونے کی وجہ سے دنیا میں کہیں اس کی مثال نہیں ملتی۔ جلسہ سالانہ لندن کا وقت ہوتاہے تو HETHROWایرپورٹ پر طیور ابراہیمی جوق در جوق ایک نظام کے تغت نازل ہوتے ہیں تو ایرپورٹ کے عمل کے تمام افراد کی زبان پر ’’جلسہ سالانہ ‘ ‘ ’’جلسہ سالانہ‘ ‘ کا غلغلہ ہوتاہے جبکہ وہ لوگ انگریزی بولنے والے ہوتے ہیں پھر یہ بھی شان ہے کہ غیرمسلم معزز مہمانان کرام ملکوں اور حکومتوں کے نمائندے یا تو خود شوق سے شریک ہوتے ہیں یا اپنے پیغامات بھیجتے ہیں۔ جلسہ سالانہ کے موقع پر علاقہ کے اخبارات تو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے خاص نمبر اورSUPPLEMENT بھی شائع کرتے ہیں۔ طیور ابراہیمی کی مانند اس جلسہ میں شامل ہونے کے لے زمینی راستے سے اور آبی (SHIP) راستہ سے نیز آسمان سے اڑتے ہوئے فضائی راستوں سے بھی شریک ہوتے ہیں بلکہ CHARTERED FLIGHT سے آگر شامل ہوتے ہیں۔ یہ ہے مخالفین جلسہ کے لئے اللہ تعالیٰ کی تقدیر کی شان احمدیت کے حق میں۔ ان نشانوں کو گننا آسان نہیں۔ فی الوقت صف ایک دلچسپ واقعہ حضرت مصلح موعودؓ کے الفاظ میںجلسہ سالانہ کی برکت کے حوالے سے درج کیاجاتاہے۔
’’حافظ روشن علی صاحب مرحوم سنایاکرتے تھے اور میں بھی اس کا ذکر کر چکا ہوں کہ جلسہ سالانہ کے ایام میں ایک جماعت ایک طرف سے آرہی تھی اور دوسری دوسری طرف سے۔حافظ صاحب کہتے ہیں کہ:میں نے دیکھا وہ دونوں گروہ ایک دوسرے سے ملے اور رونے لگ گئے۔میں نے پوچھا۔تم کیوں روتے ہو؟ وہ کہنے لگے ایک حصہ ہم میں سے وہ ہے جو پہلے ایمان لایا اور اس وجہ سے دوسرے حصہ کی طرف سے اسے اس قدر دُکھ دیا گیا اور اتنی تکالیف پہنچائی گئیں کہ آخر وہ گاؤں چھوڑنے پر مجبور ہو گیا پھر ہمیں ان کی کوئی خبر نہ تھی کہ کہاں چلے گئے۔کچھ عرصہ کے بعد اللہ تعالیٰ نے احمدیت کا نور ہم میں بھی پھیلایا اور ہم جو احمدیوں کو اپنے گھروں سے نکالنے والے تھے خود احمد کی ہو گئے۔ہم یہاں جو پہنچے تو اتفاقا اللہ تعالیٰ کی حکمت کے ماتحت ہمارے وہ بھائی جنہیں ہم نے اپنے گھروں سے نکالا تھا دوسری طرف آ نکلے۔جب ہم نے ان کو آتے دیکھا تو ہمارے دل اس درد کے جذبہ سے پُر ہو گئے کہ یہ لوگ ہمیں ہدایت کی طرف کھینچتے تھے مگر ہم اُن سے دشمنی اور عداوت کرتے تھے یہاں تک کہ ہم نے ان کو گھروں سے نکلنے پر مجبور کر دیا آج خدا نے اپنے فضل سے ہم سب کو اکٹھا کر دیا۔اس واقعہ کی یاد سے ہم چشم پُر آب ہو گئے ۔‘‘ (انوارالعلوم جلد13صفحہ87)
اللہ تعالیٰ جلسہ سالانہ 2025ء میں شامل ہونے والے تمام مہمانان کرام کی حفاظت فرمانے اور سب کو حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کی دعائوں سے وافر حصہ فرمائے۔(آمین)