خاکسار سید سیف اللہ شاہ ولد سید اسد اللہ شاہ صاحب ساکن قصبہ بیج بہاڑہ تحصیل و ضلع اسلام آباد ملک کشمیر،عمر بحساب قمری تقریباً اٹھاون (58) سال، حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃو السلام کے ساتھ اپنی بیعت وغیرہ حالات کےمتعلق حسب ذیل گزارش کرتا ہے۔
(1) میری پیدائش 1299 ہجری کے شروع میں ہوئی ہے ۔ چونکہ یہاں پیری مریدی کا رواج زوروں پر تھا، اسلئے بچپن سے ہی میری یہ آرزو تھی کہ مجھے کوئی ایسا کامل پیر ملے جو سب سے اعلیٰ پایہ کا ہو، جسکے ذریعہ میں ہدایت پاؤں،بلکہ اس آرزو کے پورا ہونےکیلئے میں بکثرت دعائیں بھی کیا کرتا تھا۔
(2)غالباً 12،13 سال کی عمر تھی کہ خواب میں مَیں نے اپنے آپ کو موضع یاڑی پورہ میں پایا ۔اسوقت تک میں یاڑی پورہ سے نا آشنا تھا،دیکھا کہ ہزاروں لوگ جمع ہو گئے ہیں اور جس جگہ احمدیوں کی مسجد ہے، اُس جگہ ایک ٹیلہ جو قریباً چھ سات گز اونچا تھانظر آیا۔اور اس پر ایک صاحب بیٹھے ہیں اور لوگ اس ٹیلے کے نیچے سے انکی زیارت اور آداب کرکے گزرتے تھے ۔میں نے لوگوں سے پوچھا کہ یہ کون صاحب ہیں؟ تو مجھے کہا گیا کہ یہ حضرت رسول کریم ﷺ یہاں بیٹھے ہوئے ہیں تو میں نے کمال مسرت سے بے تحاشا ٹیلے پر چڑھ کر اور انکے سامنے کھڑا ہو کر السلام علیکم عرض کیا اور حضور نے و علیکم السلام فرمایا۔اور پھر میں نزدیک ہو کر انکے سامنے بیٹھ گیا تو یک لخت میرے دل میں وہی ہمیشہ کی آرزو یاد آ گئی تو میں نے دِل میں کہاکہ اب ان سے بڑھ کر مجھے اور کس پیر یا رہبر کی ضرورت ہے، میں انہی سے بیعت کرونگا۔ تو میں نے عرض کیا کہ یا حضرت میں بیعت کرنی چاہتا ہوں تو حضور نے فرمایا اچھا ہاتھ نکالو۔مَیں نے ہاتھ نکالا تو حضور نے میرے دہنے ہاتھ کو اپنے دہنے دست مبارک میں پکڑااور فرمایا کہ کہو’’اللہُ ربّی‘‘ تو میں نے اللہُ ربّی کہا۔ اتنے میں مَیں بیدار ہو گیا۔ جلدی بیدار ہونے پر مجھے نہایت افسوس آیا کہ میں رسول کریم ﷺ کی زیارت کر رہا تھا مگر افسوس کہ جلدی بیدار ہو گیا۔اسکے بعد وہ مقدس صورت ہمیشہ میرے سامنے آ جاتی تھی اور رخِ منور کا عکس میری لوحِ دل سے کبھی محو نہ ہوتا تھاگویا میرے دل پر وہ نقشہ جم گیا تھا۔ اس رئویا کی تعبیر آگے کھل جائیگی۔
(3) میرے والد صاحب سید اَسداللہ شاہ صاحب ہر سال پنجاب میں مریدوںکے دورے کیلئے جایا کرتے تھے۔ واپسی پر پنجاب کے حالات بتاتے تھے۔ کبھی یہ بھی بیان کرتے تھے کہ پنجاب کے ایک قادیان نام گاؤں میں
ایک شخص مرزا غلام احمد مسیح موعود ہونیکا دعویٰ کرتے ہیں اور اسلام کی بہت تائید کرتے ہیں اور آریوں اور عیسائیوںکو مناظروںمیں لاجواب کرتے ہیں۔ کوئی شخص انکے ساتھ مناظرہ کرنے کی تاب نہیں لاتا ہے۔ اور مستجاب الدعوات بھی ہیں اور پیشینگوئیاں بھی بہت کرتے ہیں جو پوری بھی ہو تی ہیں۔ پھر کہتے تھےکہ اگر ہم انکو مسیح موعود نہ بھی مانیں یا کہیں لیکن مجدد تو ضرور ہیں۔ لوگوں نے کئی بار ان سے پوچھا کہ اگر آپکے رای میں وہ مجدد ہیں تو مسیح موعود ہونیکا دعویٰ کیوں کرتے ہیں۔ مسیح تو آسمان سے نازل ہونگے تو کہتے تھےکہ شاید اسمیں کوئی مصلحت ہوگی کیونکہ وہ تو ہر طرح سے اسلام کی تائید کرتے ہیں وغیرہ وغیرہ۔ ان باتوںکا میرے دل پر کچھ اثر تھا۔
(4)جب میری عمر 16 سال کی تھی میری والدہ صاحبہ وفات پا گئیں اور مجھے والد صاحب اپنے ساتھ پنجاب لے گئے۔وہاں مجھے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے متفرق ٹریکٹ ملے اور میں نے بغور انکا مطالعہ کیا۔ ان کے مطالعہ سے حضرت صاحب کے مسیح موعود اور مہدی معہود ہونیکا مجھے پورا پورا یقین ہو گیا۔ اور والد صاحب بھی مجھے کبھی کبھی حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی کتابیں دیا کرتے تھے۔
(5) پھر کچھ سال میں یوں ہی احمدی رہا۔ باوجودیکہ ہر سال میں والد صاحب کے ساتھ پنجاب جایا کرتا تھا لیکن بیعت کرنی میّسر نہوتی تھی۔ ہاں خط و کتابت کا سلسلہ باقاعدہ جاری تھا۔کئی بار اپنے والد صاحب کو کہتا تھا کہ مجھے قادیان لے چلو کہ میں بیعت کرونگا۔ لیکن وہ مجھے یہ کہہ کر ٹالدیتے تھے کہ ہمارا پیشہ پیری مریدی کا ہے ۔ ہمارے لئے بڑی مصیبت ہوگی۔ آگے کبھی لے چلوں گا۔
(6) پھر والد صاحب کی وفات کے بعد ما ہ مئی 1908 میں یہ خاکسار لاہور پہنچا ۔ وہاں معلوم ہوا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ و السلام خواجہ کمال الدین صاحب کے مکان پر تشریف فرما ہیں تو میں وہاں گیا۔وقت شاید دس بجے دن کا تھااور حضرت مسیح علیہ السلام اندر تشریف فرماتھے۔ اسی وقت ایک امریکن انگریز مع میم صاحبہ اور ایک چھوٹے لڑکے کے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی ملاقات کو آیا اور کہا کہ میں مرزا صاحب سے ملنا چاہتا ہوں۔ حاضرین نے پوچھا کہ کیا کام ہے؟ اس پرکہاکہ مجھے وجودِ باری تعالیٰ کےمتعلق کچھ سوالات کرنے ہیں۔ میں نے اب تک ہندوستان کے مشہور ہندو مسلم و عیسائی علماء سے ان سوالات کے متعلق پوچھامگر اب تک مجھے کسی جگہ تسلی نہ ہوئی اور اب یہاں آیا ہوں۔اس پر اسکو کہا گیا کہ حضرت صاحب دو بجے باہر تشریف لائیں گے تو وہ چلے گئے اور میں بھی اپنے ڈیرہ پر واپس گیا۔ پھر میں دو2 بجے آیا تو معلوم ہوکہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام بیٹھک کے مشرقی کمرے میں تشریف فرما ہیں اور اسی امریکن انگریز کے ساتھ گفتگو فرما رہے ہیں۔ اس کمرے کی کھڑکی حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے بالمقابل تھی اور اس کھڑکی کا ایک شیشہ ٹوٹ کر گر گیا تھا تو میں اس میں سے اندر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کیطرف دیکھنے لگا۔ جب میری نظر چہرہ مبارک پر پڑی تو مجھے وہی خواب والا نقشہ سامنے آ یا۔ یعنی ہو بہو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی وہی صورت دیکھی جو میں نے خواب مذکور میں رسول کریم ﷺ کی دیکھی تھی ایک سرِ موکی تفاوت نہ تھی۔
(7) القصہ امریکن انگریز وجود باری تعالیٰ کےمتعلق سوالات کرتا تھا اور خواجہ صاحب ان سوالات کا ترجمہ اُردو میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کو سناتے تھے۔ اور حضرت مسیح موعود جواب دیتے تھے اور خواجہ صاحب ان جوابات کا انگریزی ترجمہ امریکن انگریز کو سناتے تھے۔ بعض دفعہ امریکن انگریز سوال کرتا تھا اور خواجہ صاحب ترجمہ کرنے لگتے تھے مگر حضرت صاحب فرماتے تھے کہ " میں نے سمجھا" تقریباً ایک گھنٹہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام اس کمرے میں ٹھہر کر باہر بیٹھک میں تشریف لائے اور بیٹھ گئے اور امریکن انگریز کو بقیہ سوالات کل پیش کرنے کا ارشاد ہوا۔
(8)میں نے السلام علیکم عرض کیا اورحضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے و علیکم السلام فرمایا تو میں نے بغیر اور کسی کلام کے پہلی بار یہی عرض کیا کہ حضرت میں بیعت کرنی چاہتا ہوں تو حضور نے مجھے ہاتھ اور زبان مبارک سے ذرا ٹھہرنیکا ارشاد فرمایا۔ یعنی "ذرا ٹھہرو ٹھہرو۔" تو میں بیٹھ گیا۔ اسوقت اُس مجلس میں بہت صاحب تھے۔ چونکہ میں نووارد تھا اسلئے سب کا نام بتا نہیں سکتا۔ لیکن جو یاد ہیں وہ یہ ہیں: حضرت خلیفۃ المسیح الاول رضی اللہ عنہ، مفتی محمد صادق صاحب ایڈیٹر بدر،قاضی اکمل صاحب منیجر بدر، مفتی فضل الرحمٰن صاحب، پیر محمد منظور صاحب، مولوی غلام رسول صاحب راجیکی، عبدالحئی عرب صاحب، نانا جان صاحب، ایک امرتسر کا حجام، مولوی محمد اسحٰق صاحب، مولوی محمد سعید صاحب وغیرہ وغیرہ۔ پھر مختلف موضوع پر بات چیت ہوتی رہی۔اُن دنوں میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کتاب پیغام صلح تصنیف فرما رہے تھے۔ اصحاب نے عرض کیا کہ اس کتاب کا کیا نام رکھا جائے تو فرمایا کہ میں نے تو نام رکھا ہوا ہے۔ عرض کیا گیا کہ کیا نام؟ فرمایا "پیغام صلح" اسکے بعدحضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا کہ بیعت کرنیوالے آگے آ جائیںتو میں اور دو آدمی بیعت کرنیکے لئے حاضر ہوئے۔ تو ہم تینوں کے ہاتھ اکٹھے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے اپنےدست مبارک میں لیکر بیعت فرمائی اور دعا فرمائی۔پھر عصر کی نماز ہوئی۔ مولوی صاحب (حضرت خلیفۃ المسیح الاولؓ) نے امامت کی۔ پھر حضرت صاحب اندر تشریف لے گئے۔
(9)دوسرے دن پھر امریکن انگریز آیااور بقیہ سوالات اسی کمرے میں کئے۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے تمام سوالات کا جواب فرمایا اور اس کو اچھی طرح وجودِ بار تعالیٰ کے متعلق اطمینان ہوا ۔ میں نے بھی اس امریکن سے پوچھا تو اُس نے کہا کہ بس آج مجھے اطمینان ہوا ۔ آج تک کسی جگہ میں نے تسلی نہ پائی تھی ۔ چونکہ ان دنوں بدر کا عملہ وہیں تھا اس لئے وہ مضمون بدر میں چھپ گیا اور اخبار کے سرورق پر انگریزی حروف میں بدر لاہور لکھا۔ پھر جب جمعہ کا دن آیا، نماز جمعہ بھی میں نے وہیں پڑھی۔ حضرت خلیفۃ المسیح الاولؓ نے خطبہ پڑھا اور نماز پڑھائی۔ میں نے کئی بار حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ساتھ مصافحہ بھی کیا اور ہاتھ بھی چوما اور کچھ نذرانہ بھی حضرت مسیح علیہ السلام کے دستِ مبارک میں رکھا اور اس نذرانہ میں دواَنّیاں چونیاں بھی تھیں۔ اسلئے حضرت مسیح موعود ؑنے اس نذرانہ کو اپنی مٹھی میں دبا کر پاکٹ میں ڈالدیا۔ دوسرے دن میں وہاں سے رخصت ہو کر دو تین دن کے بعد ایک گاؤں موضع پنڈی تتار متصل اسٹیشن کتھالہ ضلع گجرات پنجاب پہنچا تو وہاں معلوم ہوا کہ کل حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلا م وفات پا گئے۔ جس سے میرے دل کو سخت صدمہ پہنچالیکن کسی مجبوری کی وجہ سے لاہور واپس نہ جا سکا۔ انا للہ و انا الیہ راجعون۔
چونکہ مجھے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلا م کی زیادہ صحبت میسرنہ ہوئی اسلئے مجھے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلا م کے مزید چشم دید حالات کی واقفیت نہیں ہے مگر خط و کتابت تحریری بیعت کے قبل اور بعد بھی جاری رہی جن میں سے اکثر خطوط ایک احمدی بھائی خواجہ غلام احمد پانپوری کے مکان سے گم ہوئے اور تین موجود ہیں۔البتہ حضرت خلیفۃ المسیح اول رضی اللہ عنہ کی بہت صحبت اٹھائی ہے اور اِسوقت انکے کئی خطوط اور ایک رومال موجود ہے۔
(10) قبل از تحریری بیعت میں نے مولوی اللہ بخش رحیم بخش مرحومان تاجران کتب شہر گجرات پنجاب سے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلا م کے موئے مبارک (سر مبارک کےبال) حاصل کئے ہیں اور انہوں نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے غالباً ایک امرتسری حجام سے لئے تھے جو اسوقت میرے پاس موجود ہیں۔
(11) میری تحریری بیعت سے پہلے قصبہ ہذا میں ایک اور احمدی خواجہ غلام احمد پانپوری تھا۔ اسکے لڑکے کو روتے وقت کھانسی سے سانس باہر کھینچا جاتا تھا اور کئی منٹ تک سانس واپس نہ آتا تھا اور بیہوش ہو جاتا تھاتومیں نے اسکے کہنے پر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلا م کو دعا کیلئے خط لکھا۔ ابھی اس خط کا جواب نہ آیا تھا کہ وہ لڑکا اس عارضہ سے نجات پا گیا۔ جب خط کا جواب آیا تو اسمیں لکھا تھا کہ حضرت اقدس نے دعا فرمائی۔ تو معلوم ہوا کہ جس روز حضرت مسیح موعود علیہ الصلواۃ والسلا م نے دعا فرمائی تھی اسی روز لڑکا بھی صحت یاب ہوا تھا۔
(12) میں چونکہ یہاں ایک ہی احمدی پڑھا لکھا تھا دوسرا غلام احمد جوپانپوری تھا وہ ان پڑھ تھا، اسلئے میرے ساتھ ہی زیادہ مخالفت رہی۔ یہاں کے واعظوں مولویوں نے میرے ساتھ بائیکاٹ کر ایا۔مجھے قتل کی دھمکیاں بھی دی گئیں ۔تو میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلا م کی خدمت میں لکھتا تھا تو آپؑکی دعا کی برکت سے مجھے مخالفوں سےکوئی ضرر نہ پہنچا۔
(13) حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلا م کو شاید دہلی میں کسی مولوی نے پوچھا کہ اگر حضرت عیسیٰ فوت ہوئے تو ان کی قبر کہاں ہے۔حضرت صاحب نے فرمایا تھا کہ جن نبیوں کی قبریں نا معلوم ہیں کیا وہ سب زندے ہیں۔ یہ واقعہ یہاں کے احمدیوں نے بھی سنا تو یاڑی پورہ کے ایک احمدی زبردست خان نے کہا اگر وہ مولوی مجھ سے پوچھتا تو میں اسکو یہ جواب دیتا کہ کیا حضرت مسیح موعودعلیہ السلام نبیوں کے چرواہے تھے کہ انکی لاشیں یا نمونے موجود رکھتے۔ تا لوگوں کو دکھلاتے۔ یہ بات حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلا م کے پاس کسی کشمیری احمدی نے بیان کی تو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلا م نے تبسم فرمایا۔
(14) میں بیعت سے پہلے بھی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلا م کو نبی مانتا رہا اور بعدمیں بھی۔ اسیطرح حضرت خلیفۃ المسیح اول رضی اللہ عنہ کو خلیفہ برحق سمجھتا رہا۔ اور اب خلیفۃ المسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہِ العزیز کو خلیفہ بر حق سمجھتا ہوںاور مجھے اس اعتقاد میں ذرہ بھر شک نہیں ہے۔ اور خدا تعالیٰ نے خود مجھے احمدیت کی طرف راہ نمائی کی ہے۔ کسی کی تبلیغ سے میں احمدی نہیں ہوا۔
٭٭٭