قارئین ! خاکسارعبد الرحیم ایک خانہ بدوش گجر فیملی از کٹھوعہ صوبہ جموں وکشمیر سے تعلق رکھتا ہےاورہماراخاندان علاقہ میں ایک عزت دار خاندان ماناجاتا تھا۔
اللہ تعالیٰ نےمیرے لڑکپن میں ہی کچھ ایسے اسباب پیدا فرمائے کہ خاکسار کو جماعت احمدیہ کا پیغام پہنچا اور پھر قادیان کی مقدس بستی میں آکر یہیں کا ہوکر رہ گیا اور قادیان میں ہی بعض درویشوں کی صحبت اور تربیت کے نتیجہ میں پھر تہیہ کرلیا کہ دیہاتی معلمین کی کلاس میں داخلہ لےکر تعلیم حاصل کرکے خدمت دین کے میدان میں کود جاؤں۔چنانچہ میرایہ ارادہ اللہ تعالیٰ نے محض اپنے فضل سے پورا کرکے مجھےمعلم سلسلہ بننےکی توفیق بخشی اور سن 1991ء میںفارغ التحصیل ہوکر خاکسار کو متعدد صوبہ جات کی جماعتوں میں تعلیم وتربیت کاکام حتی الوسع کرنےکا موقع ملا ۔میدان تبلیغ میں جماعت کے معاندین کی مخالفت برداشت کرکے صبر واستقامت کا نمونہ پیش کرکےپھر اسیر راہ مولیٰ ہونےکا بھی شرف حاصل ہوا ۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام ایک موقع پر فرماتےہیں :۔
’’ان لوگوں نے کوئی ہمیں ہی یہ گالیاں نہیں دیں بلکہ یہ معاملہ تمام انبیاء کے ساتھ اسی طرح چلا آیا ہے ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی کذّاب ،ساحر ،مجنون ،مفتری وغیرہ الفاظ سے یاد کیا گیا تھااورانجیل کھو ل کر دیکھو تو معلوم ہوگا کہ حضرت عیسیٰ ؑ سے بھی ایسا ہی برتاؤ کیا گیا ۔حضرت موسیٰ ؑکو بھی گالیاں دی گئی تھیں ۔اصل میں تشابھتْ قلوبھم والی بات ہے۔اللہ تعالیٰ خود فرماتا ہے کہ یٰحسرۃ علی العباد مایاتیھم من رسول الا کانوا بہ یستھزءون کوئی بھی ایسا سچا نبی نہیں آیا کہ آتے ہی اس کی عزت کی گئی ہو۔ہم کیوں کر سنت اللہ سے باہر ہوسکتے ہیں۔‘‘
(الحکم جلد 12نمبر 34مورخہ 18؍مئی 1908ء صفحہ 4)
چنانچہ اس مضمون میں اسی مناسبت سے اپنی اسیری اور ایک اور مصاحب مکرم مولوی منیر احمد خان صاحب مرحوم مبلغ سلسلہ کے بعض کوائف بغرض حصول ثواب ودعا ہدیہ قارئین کرنا چاہتاہوں وما توفیقی الا باللہ !
دوران سروس سن 2005ء کے اوائل میں خاکسار کادہرادون صوبہ جھارکھنڈ میں تبادلہ ہوا۔وہاں دہرادون کے جنگلات میں خانہ بدوش گجر برادری کےلوگ کثرت کے ساتھ آباد ہیں اسی طرح ہری دُوار،ریشی کیش،چکروتا،ٹہری ڈیم ،پَوڈی ،گڑھوال،کوٹ دُوار،ہلدوانی،نینی تال،وغیرہ مقامات میں بھی یہ گجر لوگ بودوباش رکھتے ہیں ۔
ان گجروں میں سے بعض فیملیاں خاکسار کے رشتہ دار بھی ہیں ۔چونکہ خاکسار خود گجر فیملی سے ہے اسی کو مدنظر رکھ کر وہاں میرا تبادلہ کیا گیا تھاتاکہ اس برادری تک جماعت کاپیغام پہنچایا جاسکے اور سعادت مند لوگوں کو تبلیغ کرکے حلقہ بگوش احمدیت کیا جائے ۔اس گجر برادری کے بعض لوگ حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام اور خلیفۃ المسیح ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کے بارہ میں سُن کر زاروقطار روتے تھے کہ کاش ہم نے امام مہدی اور مسیح موعودکودیکھا ہوتا اور ہم لوگ خلیفۃ المسیح سے بھی دور ہیں اور خلیفہ وقت سے بھی نہیں مل پارہے ہیں ۔
اُس وقت دہرادون میں مکرم مولوی منیر احمد خان صاحب مرحوم مبلغ انچارج تھے جو بہت ساری خوبیوں کےمالک تھےاور ایک قابل اور محنتی مبلغ سلسلہ تھے ۔انہوں نے خاکسار کے ساتھ وہاں ہر ممکن تعاون کیا اور ہمیشہ سلسلہ کےمفاد کےمدنظر کام کیا کرتے تھے۔مخلص اور باوفا خادم سلسلہ تھے۔ اللہ تعالیٰ غریق رحمت فرمائے آمین ۔
ہم دونوں خادمین سلسلہ نے وہاں ساتھ مل کر بڑے اچھے رنگ میں پیغام حق لوگوں تک پہنچانے کی مہم شروع کی اور اس وجہ سے وہاںیہ تاثر پیداہوا کہ مرزائی لوگ یہاں کافی فعال ہوگئےہیں اورآہستہ آہستہ یہ یہاں اپنے قدم جمائیں گےوغیرہ ۔
اس دوران وہاں ہمارے ایک زیر تبلیغ فرد مکرم نورعالم صاحب چیچی تھے ان کا کم سن(تین ماہ کا) بچہ پیدائشی بیمار تھا جب دہرادون کے ڈاکٹروں نے اس کا چیک اَپ کیا تو بچہ کے دل کے وَال بند تھے انہیں دہلی لےجانے کا مشورہ دیا گیااور کہا گیاکہ یہاں اس کا علاج نہیں ہوسکتا ۔دہلی میںہی آپریشن کیا جائے گا ۔
چنانچہ موصوف نے ساری صورتحال خاکسار کو بتائی اور ڈاکٹری رپورٹس بھی دکھائیں ۔انتہائی غریب ہونےکی وجہ سے دہلی سے علاج کرواناموصوف کیلئےبظاہر ناممکن تھا تو اسی بے بسی کے سبب خاکسار اس کی امداد کے واسطے اسے اسمبلی ہال لے گیا اور وہاں جنگلات منسٹر جن سے خاکسار کے مراسم تھے کو ساری بات بتائی۔
منسٹرصاحب نے ڈاکٹری رپورٹ لےکر دہلی اپالو ہسپتال کے ڈائریکٹر کو فاروڈ کرکے فون پر انہیں بتایا کہ یہ غریب بچہ ہے اس کا خرچہ صوبائی سرکار ادا کرے گی علاج کراؤ۔چنانچہ اس طرح وہاں لےجاکر بچے کا علاج ہوا اور حضرت امیر المؤمنین کی خدمت میں بھی دعاکے لئے لکھا گیا ۔ حضور انور نے اس بچے کے لئے دعا کی اور دعائیہ خط ارسال فرمایا اور اس طرح غریب نورعالم صاحب چیچی کی پریشانی دور ہوئی اور یہ موصوف کیلئے ایک معجزہ سے کم نہ تھافالحمد للہ ۔
اس واقعہ کی بھنک ہونے کی وجہ سے غیروں میں چہ میگوئیاں شروع ہوئیں کہ ان مرزائیوں کی بڑی پہنچ ہے یہ اس طرح کے رفاہی کام کرکے یہاں اپنے پاؤں جما دیں گےاور لوگوں کو اپنے جال میں پھنسائیں گے وغیرہ ۔ یہاں سے بڑی مخالفت کا آغاز ہوا،شرپسند عناصر نےخفیہ سازشیں کرنی شروع کردیں۔
اسکے ساتھ ہی سادہ لوح لوگوں کا ہمارے پاس آنا جانا شروع ہوا ،اسی طرح غیر احمدی مولوی بھی آتے گئے۔ بظاہریہ مولوی جماعت کے بارہ میں معلومات لے رہے ہوتے لیکن اندر ہی اندر مخالفانہ سازشیں کرنے لگے جس کا بعد میں پتہ چلا جیسا کہ آگے مضمون سے ملاحظ کرسکتےہیں۔
ان مخالفوں میں سے ایک بڑا مفتن اور شرپسند مفتی تھاجن کا مدرسہ دہرادون میں چل رہا تھا ۔ایک دفعہ وہ دہرادون مشن ہاؤس آئے اور ان کےساتھ دوتین اور ملاںبھی تھے ۔ہم ان کی خاطر خواہ تواضع کیا کرتے تھے اور یہ ہمارے پاس مشن ہاؤس اکثر آتے رہتے اور جماعتی لٹریچر لےکر جاتے اور ہمارا موقف بھی سنتے اور سوالات بھی کیا کرتے تھے ۔اور ہماری مجلسیں دوستانہ ماحول میں ہوا کرتی تھیں۔مشن ہاؤس میں مکرم مولوی منیر احمد خان صاحب مرحوم اور ان کی اہلیہ مکرمہ امۃ القدوس صاحبہ آئے ہوئے مہمانوں کی خوب خدمت کرتے تھے ۔
ایک دفعہ جماعتی کتب عاریتاً لے کر گئے اورہم جب مقررہ مدت کےبعدکتب کے مطالبہ کےلئے ان کے پاس گئےتو انہوں نے سخت غصہ کیا اوربرملا کہہ دیا کہ دہرادون چھوڑ دو اور ساتھ ہی مدرسہ کےطلباء اور اساتذہ وغیرہ نےہم دونوں یعنی میرا اور مرحوم منیر خان صاحب کاشدیدزدوکوب کیا۔جب ہمیں ماراجارہا تھا اُس وقت ایک ہندوعورت نے غیر احمدیوں سے بہت اصرار کیا کہ ان کو نہ مارولیکن انہوں نے اسکی ایک نہ سُنی اور پھر دہشت گرد قراردے کر پولیس کے حوالے کردیا ۔
اور پولیس کو اصرار کرتے رہے کہ ان کو جیل میں ڈال دو ۔سردست پولیس نے مشتعل ہجوم کو دیکھ کر ہمارے اوپر کئی دفعات لگادیں اور ہجوم کے اشتعال کو ٹھنڈا کرنےکیلئے FIRکاٹ دی ۔چنانچہ مورخہ 11؍اگست 2008ء کو گرفتار کرکے پولیس نے دودن تھانہ میں رکھا اور ہم دونوں کی علیحدہ علیحدہ پولیس اور CIDایجنسی نے تفتیش شروع کردی ۔پولیس کی ایک ٹیم نے خاکسار کا تعارف حاصل کیا اور مختلف معلومات لیں اور میرے تعارف پر اور پوچھ گچھ پر خوش ہوکر ہنس دئیے اس کی وجہ یہ تھی کہ وہ خود ہندوگجر تھے اور گجر برادری سےہونےکی وجہ سے خاکسار سے نرمی کا برتاؤ کیا ۔اور بتایا کہ آپ ہمارے ساتھ رہیں اور ساتھی کو حوالات میں رہنے دیا جائے لیکن خاکسار نے ایک نہ مانی اور کہا کہ اگر نرمی کرنی ہےتو میرے ساتھی سے بھی کی جائے۔ بہرحال یہ اللہ تعالیٰ کی تائید اور جماعت کی برکت تھی کہ اللہ تعالیٰ نے ان کے دلوں میں ہمارے واسطے رحم ڈال دیا ۔تھانہ میں دودن رکھنےکے بعد ہمیں سنٹرل جیل بھجوادیا گیا وہاں ہمیں کافی دعائیں اور گریہ وزاری کرنےکا موقع ملا اور جماعت کی ترقی اوراہل وعیال کیلئے دعائیں کیں۔اس دوران ایک دفعہ مجھے خواب آئی کہ حضرت امیر المؤمنین خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ چہل قدمی کررہے ہیں اورکالے رنگ کے دونوجوان سبز پگڑیاں پہنےحضورانور کی حفاظت پرمامور ہیں اور حضوربڑے خوش ہیں ۔چنانچہ اس خواب سے اطمینان ہوا اور بعدہٗ دوبڑی خطرناک دفعات ہٹالی گئیں جن کی سزا پانچ دس سال ہوا کرتی ہےاور اس طرح یہ خواب پوری ہوئی ۔
سنٹرل جیل میں دس دن رہے، جماعتی انتظامیہ کی طرف سے حسب طریق کاروائی کرنے کےبعد وکیل مقرر کیا گیا اور مورخہ 18؍اگست 2008ء کوہماری ضمانت پر رہائی ہوئی۔خاکسار کی ضمانت ایک نواحمدی جو خاکسار کی تبلیغ کے ذریعہ احمدی ہوا تھا جس کا نام شہزاد رودرپور کالسی ہے نے اپنے گھر کے کاغذات کی ضمانت دی تھی اور پھر مورخہ 31؍اکتوبر 2011ء کو مکرم مولوی منیر احمدخان صاحب مرحوم کی وفات ہوئی اور مذکورہ مقدمہ 2017ء تک خاکسار پر ہی چلتا رہا ۔ جس میںمتعدد بار خاکسار کو پیشیوں پردہرادون حاضر ہونا پڑا اور آخر کار اللہ تعالیٰ کے فضل سے اس کیس سے باعزت بری ہوئے فالحمد للہ علیٰ ذالک ۔
اس دوران جماعت نے اور نظارت امورعامہ اور لوکل جماعتی انتظامیہ نے ہمارا بھرپور خیال رکھا اور تعاون کیا اور کبھی ہمیں یہ محسوس نہ ہوا کہ ہم اکیلے ہیں ۔قادیان سے مکرم جمیل احمد ناصرصاحب ایڈووکیٹ مشیرقانونی،مکرم ڈاکٹر سید سعید احمد صاحب ،مکرم طاہر احمد طارق صاحب وغیرہ پر مشتمل وفد آیا تھا ۔
اس کڑے وقت میں ہمیں یہ احساس تھا کہ ہمارا بہت بڑا سایہ ہمارا خلیفہ ہے اور جماعت احمدیہ ہمارا حصن حصین ہے ۔
اس عرصہ میں خاکسارکی اہلیہ ذہین بشریٰ صاحبہ اور بچوں نے بڑی ہمت اور حوصلہ کا نمونہ دکھایا اور یہی ایک واقف زندگی مجاہد کےاہل وعیال کا نمونہ اور شعار ہونا چاہئیے ۔اہلیہ موصوفہ نے بچوں کی بہت اچھے رنگ میں تربیت کی ہے ۔اللہ تعالیٰ کے فضل سے دونوں بچے ڈاکٹر فوزیہ رحیم اور ڈاکٹرعبد الحلیم ڈاکٹر ہیں ۔اور ماشاء اللہ دونوں وقف نو کی بابرکت تحریک میں شامل ہیں ۔قارئین سے دونوں بچوں کی صحت وتندرستی ،درازی عمر اور نیک صالح خادم دین بننے اوران کی نسل کو خلافت سے وابستہ رہنے کیلئے دعا کی درخواست ہے ۔اللہ تعالیٰ نے محض اپنی عنایت اور کرم سے خاکسار ایک ادنیٰ خادم سلسلہ کے بچوں کو ڈاکٹر بنادیا ۔
اسیری کے مخدوش حالات میں اہلیہ اور بچے خاکسارکے سسر مرحوم مکرم مظہر حسین صاحب درویش قادیان کےپاس رہے اور انہوں نے ان کا خیال رکھا ۔ اللہ تعالیٰ خاکسار کے سسر محترم اور ساس صاحبہ احمدزادی بیگم مرحومہ کو کروٹ کروٹ جنت نصیب کرے اور ان کی نیکیاں میرے بچوں کو جاری رکھنےکی توفیق بخشے آمین ۔مرحومین بہشتی مقبرہ قادیان میں مدفون ہیں۔
سن 2011ء میں مکرم منیر خان صاحب مرحوم کی ہارٹ اٹیک سے وفات ہوئی اور موصوف زدوکوب کی وجہ سے کمزور ہوچکےتھے اور خاکسارکو بھی اس کی وجہ سے ڈسک پروبلم ہوچکی ہے ۔
فی الوقت خاکسار کوپنجاب کے مضافات میں خدمت کرنےکی توفیق مل رہی ہے ۔قارئین سے دعا کی درخواست ہے کہ اللہ تعالیٰ خدمت دین کی مقبول رنگ میں توفیق دیتا رہے اور اسلام اور احمدیت کی خدمت کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ سے جاملوں۔
اللہ تعالیٰ ہمیں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی پاکیزہ تعلیم کےمطابق زندگی گزارنے اورتبلیغ اسلام کماحقہ کرتے چلے جانے کی توفیق وسعادت عطافرمائے آمین !