اردو   हिंदी   বাংলা   ಕನ್ನಡ   മലയാളം   ଓଡ଼ିଆ   தமிழ்   తెలుగు  




.

2025-09-18

جلسہ سالانہ یُوکے۲۰۲۵ کُـچـھ یـادیـں کُـچـھ بـاتـیـں طاہر احمد طارق نائب ناظر اصلاح و ارشاد مرکزیہ قادیان

الحمد للہ ثم الحمد للہ امسال 2025ء کے جلسہ سالانہ یوکے میں حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کی شفقت سے بطور نمائندہ شمولیت کی توفیق ملی۔
خلافت اللہ تعالیٰ کی نعمتوں میں سےایک عظیم نعمت ہے ۔ خلافت انسان کی انفرادی و اجتماعی زندگی کو با مقصد اور با مراد بنانے میں ایک نہایت ہی اہم رول ادا کرتی ہے۔ خلافت کے ذریعہ سے ہی اللہ تعالیٰ اپنے نور کا جلوہ ظاہر کرتا ہے۔اللہ تعالیٰ نے سورہ نور کی آیت استخلاف میں خلافت کا ذکر فرمایا اور بنی نوع انسان کو بالعموم اور مسلمانوں کو بالخصوص اسکے ساتھ وابستہ ہونے کی تلقین فرمائی۔
اللہ تعالیٰ نے اس میں دو بڑے وعدے ان لوگوں سے کئے ہیں جو ایمان کے ساتھ مناسب حال عمل بھی کریں گے۔ اگر خلافت کے ساتھ انکا زندہ تعلق ہوگا تو ان کو دین میں تمکنت عطا کرے گا اور ان کے خوف کی حالت کو امن میں بدل دیگا۔سبحان اللہ ہم کتنے خوش نصیب ہیں کہ ہم خلافت کے ساتھ وابستہ ہو کر اِن وعدوں سے متمتع ہورہے ہیں۔
حضرت خلیفۃ المسیح الرابع رحمہ اللہ 1991ء میں پہلی مرتبہ ہندوستان قادیان دار الامان تشریف لائے جہاں سے نور محمدی کی شعائیں سارے عالم میں بلند ہوئیں۔ اس وقت ناچیز جامعہ احمدیہ کی تیسری چوتھی کلاس میں تھا اپنی استعداد کے مطابق اس نور سے فیضیاب ہونے کی کوشش کی۔دارالمسیح کے اندر مسجد اقصیٰ کے نیچے بیسمنٹ میں ڈیوٹی ہوتی تھی۔نمازوں میں آتے جاتے ہم حضور کا دیدار کرتے ۔حضور کو سلام کرتے،حضور کا نورانی چہرہ بغور تکتے۔حضور کا تیز رفتار چلنا ، لائنوں میں کھڑے احمدیوں سے ملنا ، کوئی ملاقات کے دوران اپنی بیماری کا ذکر کرتا تو فوراً دوائی تجویز کرتے،یادداشت ایسی کہ پرانے خاندانوں کے لوگوں کو پہچان لینا ، اور ان سے گفتگو کرنا، سب باتیں آنکھوںکے آگے گھومتی ہیں۔ اور حضور کی مجلس عرفان اور ایسے پروگرام جنہیں قریب سے دیکھنے کا موقعہ ملا جس سے کہ نور خلافت کے نہ مٹنے والے بے شمار نقوش دل میں پیوست ہو گئے۔اس سے خلیفۃ المسیح کی خدمت میں خط لکھنے کا جذبہ ایسا جاگا کہ آج بھی باقاعدگی کے ساتھ یہ سلسلہ جاری ہے خاکسار نے ان خطوط کو جلد کروا کر رکھ لیا ہے۔دربارِ خلافت میں دعائیہ خطوط لکھ کر خاکسار نے بہت فائدے اُٹھائے اورآج تک ایسا ہی ہو رہا ہےالحمد للہ۔
ماہ فروری میں جب ناچیز راجستھان میں جماعتی دورہ پر تھا وہاں اطلاع ملی کہ اس سال بطور نمائندہ جلسہ سالانہ برطانیہ میں شرکت کی حضور اقدس نے منظوری مرحمت فرمائی ہے۔ بس پھر کیا تھا خوشی کی ایک لہر دوڑ گئی اور اُس نور کو پھر قریب سے دیکھنے کی اُمید جگ گئی۔
مورخہ 16 جولائی کو ہم لوگ لندن پہنچے۔ قافلے کے آدھے ممبران کی مسجد بیت الفتوح میں رہائش تھی اور آدھے ممبران کی اسلام آباد سرائے خدیجہ میں رہائش تھی۔ سرائے خدیجہ اور مسجد مبارک کے بیچ ڈیڑھ کلو میٹر کا فاصلہ ہوگا۔ شام سات بجے ہم سرائے خدیجہ پہنچے۔ انتظامیہ نے بتایا کہ نماز مغرب و عشاء حضور اقدس مسجد مبارک میںساڑھے نو بجے پڑھائیں گے۔ بس پھر کیا تھا کھانے اور دوسری ضروریات سے فارغ ہو کر تیاری شروع کردی۔حضور کی شفقت تھی کہ راستہ میں چونکہ فوٹ پاتھ نہیں ہےلہٰذا گاڑی سے لایا جائے چنانچہ ہر نماز میں گاڑی لاتی اور لے جاتی۔
اسلام آباد کی زمین پر داخل ہوتے ہی مین گیٹ سے ہی ایک عجیب سکون، اور خوشبو محسوس ہوئی اور ماحول نہایت ہی پُرسکون لوگوں کے قافلوں کے ساتھ گاڑیوں کے قافلے جو اس کے اندر دھیمی رفتار سے چلتے عجیب دلکش منظر تھا۔ دل میں طرح طرح کے خیالات آتے کہ اس نورانی وجود کو ابھی چند لمحات میں ہم لوگ دیکھیں گے۔ دفاتر اور قصرِ خلافت اور مسجد مبارک کے مین گیٹ میں حسب طریق چیکنگ کے بعد جوں ہی اندر داخل ہوئے سبحان اللہ کیا روحانی موسم، پُر سکون اور خوشبو کی عجیب مہک سے در و دیوار چمک دمک رہے تھے۔ عاشقان خلافت بعض دھیمی رفتار سے اور بعض تیز رفتار سے مکمل خاموشی اختیار کئے ہوئے اور زیر لب دُعاؤں میں مصروف ہوتے ہوئے ’’ مسجد مبارک ‘‘ کی طرف رواں دواں تھے۔ مسجد مبارک میں ہمیں بالکل محراب کے پیچھے ہی دوسری صف میں ایسی جگہ مل گئی کہ جہاں سے ہم اس نورانی وجود کی جھلک آسانی سے مشاہدہ کرسکتے تھے۔ ساڑھے نوبجے وہ وجود مسجد مبارک کے جنوبی گیٹ میں جونہی نمودار ہوا ، ساری مسجدروشن ہوگئی ہے۔ اور وہ چاند جیسا روشن چہرہ اپنی نورانی اور روحانی کرنیں ساری مسجد میں بکھیر رہا تھا۔ حضور پُر نور کا مسجد میں داخل ہوتے ہوئے السلام علیکم کہنا اور نماز کے بعد کھڑے ہو کر اپنے رخ مبارک کو عاشقان خلافت کی طرف پھیر کر السلام علیکم کہنا دل میں پیوست ہوگیا اور وہ آواز اب بھی سنائی دے رہی ہے۔
حضور اقدس نے نماز مغرب میں پہلی رکعت میں سورہ لہب اور دوسری رکعت میں سورہ اخلاص کی تلاوت فرمائی اور پھر عشاء کی نماز کی پہلی رکعت میں سورہ شمس اور دوسری رکعت میں سورۃ الضحیٰ کی تلاوت فرمائی۔ حضور اقدس ایدہ اللہ تعالیٰ کی قرأت بالجہر اور سورتوں کی تلاوت میں ایک عجیب سوز تھا۔ ایسا محسوس ہوتا تھا کہ آواز بیٹھ رہی ہے۔ سلام کے بعد حضور اقدس نے رومال نکالا اور چہرہ مبارک پر پھیرا شاید آنسو صاف کئے اور کھڑے ہو کر عاشقوں کو سلام کرکے روانہ ہوئے۔
حضو راقدس ایدہ اللہ تعالیٰ جب تک مسجد میں ہوتے ایک عجیب روحانی کیفیت ہوتی تھی۔ یوں لگتا تھا کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے مقرب فرشتوں کو مامور کیا ہوا ہے کہ وہ نور کی مشکیں اُنڈیلتے رہیں۔
حضور نمازیں ٹھہر کر ادا فرماتے لیکن بہت دیر بھی نہ لگاتے۔ پہلے دن جب رکوع میں حضور کے ساتھ گئے تھے ناچیز نے دس دفعہ سے زائد سبحان ربی العظیم پڑھا ہوگا اور یہی حال سجدہ کاتھا۔
مورخہ 19 جولائی کو بعد نماز عصر ہماری حضور اقدس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز سے اجتماعی ملاقات تھی۔ آج کادن زندگی کے قیمتی دنوں میں سے ایک تھا۔ دل میں ایک لذت اور سکون تھا اور ڈر اور خوف بھی۔ دورد شریف اور دُعاؤں کا ورد ہر زبان پر جاری تھا۔ حضور اقدس ایدہ اللہ تعالیٰ کے سامنے محترم ناظر صاحب اعلیٰ، محترم رفیق احمد بیگ صاحب ناظر بیت المال آمد ، خاکسار اورمکرم تسنیم احمد صاحب بٹ بیٹھے تھے۔ حضور اقدس نے باری باری تعارف حاصل کیا۔ تعارف کیا تھا نورانیت کی برقی لہریں ہم پر گررہی تھیں۔
ملاقات کے دوران سب نے حضور اقدس کی خدمت میں حقیر تحفے پیش کئے۔ ناچیز کی بیٹی عزیزہ بشریٰ طارق جو اس وقت ایم بی بی ایس کے تیسرے سال کی طالبہ علم ہے اس نے اپنے ہاتھ سے دو کیلی گرافی : فَاِنَّ مَعَ الْعُسْرِ يُسْرًا۝  اور فَبِاَيِّ اٰلَاۗءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبٰنِ۝ بنا کر بھجوائی تھی کہ حضور کی خدمت میں پیش کرنا۔ جو تحائف پیش کرتے تھے حضور فرماتے تھے وہاں رکھیں لیکن خاکسار نے کیلی گرافی نکال کر دور سے حضور کو دکھائی کہ یہ بیٹی نے حضور کی خدمت میں بھجوائی ہے۔ پھر حضور نے فرمایا وہاں رکھیں۔ خاکسار ویسے ہی رکھنے لگاتو حضور نے بڑی شفقت سے فرمایا مربی صاحب لفافے میں  رکھیں کیا لفافہ قیمتی ہے واپس لےجانا ہے؟ خاکسار نے وہ لفافے میں ڈال کر وہاں رکھی۔
تحائف پیش کرنے کےبعد سب نے باری باری رومال انگوٹھیاں وغیرہ جو تبرک کروانے کیلئے ساتھ لے گئے تھے تبرک کروانے لگے۔ خاکسار نے بھی رومال اور انگوٹھیاں تبرک کروائیں۔ حضور نے ان چیزوں کو ہاتھ سے اچھی طرح مس کرکے تبرک کیا۔
خاکسار کو ملاقات کے روز بھانجی امتہ الکافی نے شہد کی بوتل دی کہ حضور سے تبرک کروالینا۔ خاکسار وہ شہد کی بوتل بھی حضور کو تبرک کیلئے دینے لگا تو حضور پُرنُور نے فرمایا اس کو وہاں رکھیں، خاکسار نے وہ شیشی میز پر رکھی دی اور حضور اقدس کے سامنے کھڑا رہا۔ حضور اقدس نے جب تمام نمائندگان کو رومال و دیگر چیزیں تبرک کرکے دے دیں تو کیا دیکھتا ہوں کہ مکرم پرائیویٹ سیکرٹری صاحب نے شیشی کا ڈھکن کھولا۔ دو شیشیاں تھیں، ایک کسی اور کی تھی۔ حضور انور نے پہلے دراز سے ایک سٹک نما چیز نکالی اور اس کو چاک کیا اور اپنی شہادت کی انگلی میں لگائی پھر شہادت کی انگلی دونوں شہد کی شیشیوں میں ڈالی اور پھر حضور نے ٹیشو سے انگلی صاف کی۔ اس سارے عمل میں حضور کے ہونٹوں سے لگ رہا تھا کہ حضور دعائیں پڑھ رہے ہیں اور مکمل خاموشی سے یہ تبرک کیا۔ یہ نظارہ بہت ہی لطف اندوز تھا۔
دوسرا واقعہ جس کو یاد کرکے رشک آتا ہے یہ تھا کہ تمام نمائندگان نے کچھ نہ کچھ تبرک کروایا۔ محترم مولانا محمد انعام غوری صاحب ناظر اعلیٰ و امیر جماعت احمدیہ قادیان کے پاس کوئی چیز نہیں تھی کہ تبرک کروائیں۔ موصوف نے آخر میں کھڑے ہوکر سر سے ٹوپی اُتاری اور حضور کے آگے ایک جذباتی کیفیت میں سرجھکادیا کہ حضور آپ میرے سر پر ہاتھ پھیر دیں۔ حضور نے فرمایا کہ آپ تو ماشاء اللہ پہلے ہی بہت ذہین ہیں۔ یہ نظارہ ایسا تھا کہ اس پر رشک آتا ہے کہ کاش ہمارے سروں پر بھی حضور ہاتھ پھیرتے ۔ ایں سعادت بزور بازو نیست۔
جلسہ سالانہ برطانیہ کے ایام میں ہم نے مشاہدہ کیا کہ حضور اقدس جمعہ کے روز نماز عصر کے بعد قصر خلافت سے باہر آکر عشاق کو دیدار کا موقع دیتے ہیں۔ چنانچہ ایک جمعہ کے دن ہم بھی حضور پُرنور کی دیدار کے لئے قطار میں کھڑے ہوگئے۔ حضور بعض خوش نصیبوں سے مخاطب بھی ہوتے۔ خاکسار کے ساتھ ایک شخص اپنے نومولودبچے کو دونوں ہاتھوں میںلئے کھڑا تھا۔ حضور کی دُور ہی سے اُس پر نظر تھی۔ قریب آکر پوچھا بچہ کتنے دن کا ہے؟ اس شخص نے بتایا حضور آٹھ دن کا ہے۔ حضور نے فرمایا آٹھ دن کا کیوں لائے ہو بیمار ہوجائے گا ٹھنڈی ہوا چل رہی ہے۔ اس نے کہا حضور آپ کو دکھانے لایا ہوں۔ حضور نے بچے کو دیکھا،اس کے سر پر ہاتھ پھیر۔ سبحان اللہ کیا خوش نصیبی ہے۔ پھر حضور تمام مردوں اور عورتوں کی صفوں سے گزرتے رہے بعضوں سے کچھ پوچھتے ، بچوں کو چاکلیٹ دیتے، محبتیں اور شفقتیں بکھیرتے ہوئے حضور واپس ہوئے۔
ہماری عاجزانہ درخواست کو قبول فرماتے ہوئے حضور انور نےواپسی سے دو روز قبل 9؍اگست بروز ہفتہ نمائندگان قادیان کو ایک دفعہ پھر ملاقات کا شرف عطا فرمایا۔ الحمد للہ علیٰ ذالک۔ اس ملاقات میں حضور انور نے نمائندگان کا تعارف حاصل کیا، بعض استفسارات فرمائےا ور ہدایات سے نوازا۔ نیز گروپ فوٹو بھی ہوئی۔
مسجد مبارک میں نماز پڑھنے کے بعد خاکسار نے ایک بزرگ کے ساتھ مصافحہ اور معانقہ کیا اوراُن کے ساتھ تصویر بنوانے کی اجازت چاہی کہ آپ حضور کی قربت میں رہتے ہیں۔ اُنہوں نےجاتے جاتے یہ نصیحت فرمائی کہ ’’ظاہری قربت کی کوئی حیثیت نہیں ہے۔ حقیقی قربت دل کی قربت ہے۔ اس قربت کیلئے انسان کو بھر پور کوشش کرنی چاہئے۔‘‘
اللہ تعالیٰ حضور انور سےدلی وابستگی کی مجھے بھی اور ہر احمدی کو توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔
…٭…٭…٭…