اردو   हिंदी   বাংলা   ಕನ್ನಡ   മലയാളം   ଓଡ଼ିଆ   தமிழ்   తెలుగు  




.

2026-10-08

جرمنی کے ریجنNordrheinسے تعلق رکھنے والی لجنہ اماء الله اور ناصرات الاحمدیہ کے ایک وفد کی حضرت امیر المومنین خلیفۃ المسیح الخامس ایّدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز سے ملاقات

مجلس عرفان

نرم زبان استعمال کروتو تمہارےاور دشمن کے درمیان صلح قائم ہو جائے گی

20؍ اکتوبر 2025ء کوحضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایّدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز سے جرمنی کے ریجنNordrheinسے تعلق رکھنے والی لجنہ اماء الله اور ناصرات الاحمدیہ کے پچاس رکنی وفد کی ملاقات ہوئی ۔

یہ ملاقات اسلام آباد (ٹِلفورڈ) میں منعقد ہوئی۔ جس کے لئے مذکورہ وفد نے خصوصی طور پر اس ملاقات کی غرض سےجرمنی سے برطانیہ کا سفر اختیار کیا۔

جب حضورِ انور مجلس میں رونق افروز ہوئے تو آپ نےتمام شاملینِ مجلس کو السلام علیکم کا تحفہ عنایت فرمایا۔ سب سے پہلے حضورِانور نے ریجنل صدر صاحبہ لجنہ اماء الله سے مخاطب ہوتے ہوئے وفد کا تعارف حاصل کیا، نیز دریافت فرمایا کہ آپ لوگRhein دریا کے قریب رہتی ہیں؟ جس پر حضورِ انور کی خدمتِ اقدس میں اثبات میں جواب عرض کیا گیا۔

[قارئین کی دلچسپی کے لیے عرض کیا جاتا ہے کہRheinیورپ کا ایک اہم دریا ہے، جو سوئٹزرلینڈ سے نکل کر جرمنی اور نیدرلینڈز سے گزرتا ہے اور آخرکار شمالی سمندر میں جا گرتا ہے۔ یہ تقریباً ایک ہزار ۲۳۰؍ کلومیٹر طویل ہے اور اس کا یورپ کے سب سے بڑے اور تجارتی لحاظ سے اہم دریاؤں میں شمار ہوتا ہے۔]

بعد ازاں دورانِ ملاقات شاملینِ مجلس کو حضور انور کی خدمت میں اپنا تعارف اورمختلف نوعیت کے سوالات پیش کرنے نیز ان کے جواب کی روشنی میں حضورانور کی زبانِ مبارک سے نہایت پُرمعارف، بصیرت افروز اور قیمتی نصائح پر مشتمل راہنمائی حاصل کرنے کی سعادت بھی نصیب ہوئی۔

ایک لجنہ ممبر نے سوال کیا کہ

جو خطوط حضورِ انور کی خدمتِ اقدس میں بھیجے جاتے ہیں اور جن کے جواب حضورِ انور کے دفتر سے جاری ہوتے ہیں، ان میں رازداری کس حد تک برقرار رکھی جاتی ہے؟

اس پرحضورِ انور نے فرمایا کہ ہر خط دو یا تین افراد کے ہاتھوں سے گزرتا ہے، دفتر کے عملہ کو سختی سے ہدایت کی گئی ہے کہ وہ تمام خطوط اور اُن کے مندرجات کو مکمل رازداری کے ساتھ رکھیں اور کسی سے اُن کا ذکر نہ کریں۔

اسی طرح حضورِ انور نے فرمایا کہ خطوط کی تعداد بہت زیادہ ہونے کی وجہ سے عام طور پر عملہ کو اکثر خطوط کے مضامین یاد نہیں رہتے، سوائے اس کے کہ اگر کسی خط لکھنے والے سے ان کی ذاتی واقفیت ہو، تو وہ اُس خط کے موضوع کو یاد رکھ سکتے ہیں۔ حضورِ انور نے اس بات کی بھی وضاحت فرمائی کہ اگر کوئی خط امیر صاحب جرمنی کے ذریعہ بھیجا جائے، تو وہاں کی رازداری کے نظام کے بارے میں حضورِ انور کو علم نہیں۔ تاہم اگر کوئی خط براہِ راست ذاتی پتے کے ساتھ بھیجا جائے تو جواب بھی حضورانورکے دفتر سے براہِ راست اسی پتے پر بھجوایا جاتا ہے، جس سے رازداری برقرار رہتی ہے۔

آخر پرحضورِ انور نے توجہ دلائی کہ اگر کسی معاملہ کی نوعیت انتہائی حساس ہو تو لفافے پر “confidential” یعنی خفیہ لکھ دینا چاہیے، تاکہ اس پر زیادہ سے زیادہ احتیاط برتی جا سکے۔

اگلا سوال کرنے والی لجنہ ممبر نےحضورِ انور کے حالیہ خطاب برموقع نیشنل اجتماع مجلس انصار الله یو کے کا حوالہ دیتے ہوئے عرض کیا کہ حضور ِ انورنے بیان فرمایا تھا کہ

درود شریف کے بغیر دعائیں آسمان اور زمین کے درمیان معلّق رہتی ہیں۔ کیا اس کا مطلب یہ ہے کہ سجدے کی ابتدا اور اختتام پر بھی درود شریف پڑھنا ضروری ہے تاکہ دعا قبول ہو؟

اس پر حضورِ انور نے فرمایا کہ اس بارے میں وہ متعدد مواقع،بشمول خطباتِ جمعہ اور حالیہ اجتماع مجلس انصاراللہ یوکےمیں بھی تفصیل سے بیان فرما چکے ہیں کہ درود شریف کا پڑھنا حقیقتاً دعاؤں کی قبولیت کے لیے نہایت ضروری ہے۔ حضورانور نے ایک حدیث کا حوالہ دیا کہ جس میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جب کوئی شخص دعا کرے تو اس میں نبی کریم صلی الله علیہ وسلم پر درود بھیجے۔اسی طرح حضورِ انور نے قرآنِ کریم کا بھی حوالہ دیا کہ اِنَّ اللّٰہَ وَمَلٰٓئِکَتَہٗ یُصَلُّوۡنَ عَلَی النَّبِیِّ ؕ یٰۤاَیُّھَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا صَلُّوۡا عَلَیۡہِ وَسَلِّمُوۡا تَسۡلِیۡمًا، نیز اس کی روشنی میں اس بات کی اہمیت کو بھی اُجاگر فرمایا کہ درود شریف کا پڑھنا دعاؤں کی قبولیت کے لیے ضروری ہے۔ اس زمانے میں چونکہ اللہ تعالیٰ نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو خاتم النبیینؐ اور آخری شریعت کے ساتھ بھیجا ہے اس لیے آپؐ پر درود بھیجنا ہماری ذمہ داری ہے۔

سجدوں میں درود شریف کے پڑھنے کی بابت حضورِ انور نے واضح فرمایا کہ یہ لازم تو نہیں، لیکن نہایت بابرکت اور پسندیدہ عمل ہے۔ مزید برآں اسی سلسلے میں حضورِ انور نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے ایک واقعہ کا بھی ذکر فرمایا کہ ایک مجلس میں جب درود شریف کا ذکر ہو رہا تھا تو ایک صحابیؓ نے عرض کیا کہ وہ اپنی دعاؤں کا نصف حصّہ درود شریف کے لیے مخصوص کرتے ہیں۔ حضرت مسیح موعودؑ نے اس عمل کو سراہا۔ ایک اور صحابیؓ نے اپنی مقدار بتائی، جبکہ تیسرے نے کہا کہ وہ آئندہ اپنی دعاؤں میں قرآنِ کریم اور مسنون دعاؤں کے علاوہ صرف درود شریف ہی پڑھا کریں گے، حتیٰ کہ سجدوں میں بھی، اس پر حضرت مسیح موعودؑ نے فرمایا کہ یہ تو بہت عمدہ بات ہے، کیونکہ اگر کوئی درود شریف دل کی گہرائی سے اور اخلاص کے ساتھ پڑھے، تو اللہ تعالیٰ اس کے نتیجے میں، اُس کی باقی تمام دعائیں بھی قبول فرما لیتا ہے۔

ایک ناصرہ نے سوال کیا کہ جماعتِ احمدیہ کا دجال کے بارے میں کیا عقیدہ ہے؟

اس پر حضورِ انور نے فرمایا کہ دجال کے ظہور کی پیشگوئی مسیحِ موعودؑ کے زمانے کے لیے کی گئی تھی۔حضورِانور نے مزید وضاحت فرمائی کہ دجال اس کو کہا جاتا ہے کہ جو جھوٹ بولتا ہے، لوگوں کو گمراہی کی طرف لے جاتا ہے اور جھوٹی چمک دمک کے ذریعے دھوکا دیتا ہے۔ نیز فرمایا کہ دجال دراصل شیطان ہی ہے۔ اس زمانے میں یاجوج و ماجوج اور دجال سے متعلق تمام پیشگوئیاں پوری ہو رہی ہیں، اور دنیا کی بڑی طاقتیں اس میں شامل ہیں۔ تعلیم، ترقی یا جدیدیت کے نام پر جو نئے نظریات، دنیاوی رعنائیاں اور گمراہ کن طریقے پیش کیے جا رہے ہیں، وہ سب دجال کے فریب کا حصّہ ہیں۔

حضورِ انور نے فرمایا کہ لوگوں کو مذہب سے دُور کرنا بھی دجال کے منصوبوں کا حصّہ ہے۔ اس زمانے میں atheismکا پھیلاؤ انہی فریبوں کی ایک واضح مثال ہے، جس کے ذریعے انسان کو دین سے اتنا دُور لے جایا جا رہا ہے کہ اس کا مذہب سے کوئی تعلق باقی نہ رہے۔ نتیجۃً عیسائیت، یہودیت اور دیگر مذاہب محض برائے نام مذاہب بن کر رہ گئے ہیں۔ صرف اسلام کی تعلیمات، جو قرآنِ کریم میں محفوظ ہیں، باقی رہ گئی ہیں، لیکن افسوس ! کہ مسلمانوں میں بھی ان تعلیمات پر عمل نہ ہونے کے برابر ہے۔ اسی لیے اللہ تعالیٰ نے اس زمانے میں حضرت اقدس مسیحِ موعود علیہ السلام کو مبعوث فرمایا، تاکہ وہ دجال کے فتنہ کا مقابلہ کریں، اس کے منصوبوں کو ناکام بنائیں اور ایک ایسی جماعت قائم کریں جو دجال کے خلاف کھڑی ہو۔

آخر میں حضورِ انور نے حاضرینِ مجلس کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا کہ اب تمہیں دجال کے مقابلے کے لیے کھڑا ہونا ہے۔ اس ضمن میں تاکید فرمائی کہ قرآنِ کریم پڑھو، اس کی تعلیمات کو سمجھو، ان پر عمل کرو اور اسلام کی خوبصورت تعلیمات کو دنیا کے سامنے پیش کرو۔ یہی دجال کے خلاف روحانی جہاد ہے۔ آخر میں حضورِ انور نے اس بات پر زور دیا کہ صرف ایمان لانا کافی نہیں، بلکہ ہمیں فعّال طور پر دجال کا مقابلہ کرنا اور اس کے خلاف تیار رہنا ضروری ہے۔

ریجنل صدر صاحبہ نے حضورِ انور کی خدمتِ اقدس میں عرض کیا کہ

بعض دفعہ انسان خوف کو بزدلی کی حد تک اپنے اُوپر سوار کر لیتا ہے اور بعض دفعہ نقصان پہنچنے کی حد تک بہادری دکھاتا ہے، میرا سوال ہے کہ بہادری کی کیا حد ہونی چاہیے اور کس قدر دنیا سے خوف رکھنا چاہیے؟

اس پر حضورِ انور نےانتہائی پُر حکمت انداز میں راہنمائی عطا فرمائی کہ مومن کا جو کام ہے وہ فراست اورعقل ہے، تو حکمت اور دانائی یہ اصل چیزیں ہیں۔ ایک چیز جائز ہو اور آپ غلط جگہ پر اس کو کر رہے ہوں، تو وہ نقصان پہنچانے والی بن جاتی ہے، ایک چیز ناجائز ہے اور اس کو آپ کر رہے ہیں تو وہ بھی نقصان پہنچانے والی چیز ہے۔ اِس لیے حق بات کہنی ہے، احادیث میں آیا ہے کہ حق بات کہو، چاہے جابر بادشاہ کے سامنے کہو۔ کلمہ حق کہوتو یہ بہت بڑی نیکی ہے۔

حضورِ انور نے اس پہلو کی جانب بھی توجہ مرکوز کروائی کہ اس لیے پہلے یہ سوچ لو کہ جو مَیں سچائی کی بات کہنے لگا ہوں، اس کا نقصان زیادہ ہے یا فائدہ زیادہ ہے، یا پبلک میں کرنے سے فائدہ ہے؟ مثلاً ایک بات کسی کا نقص بیان کرنا ہے، کسی کی ایسی بات کہنی ہے، جس سے دوسرے کی زندگی پر اس کا اثر ہوتا ہو اور اس کی وجہ سے لوگوں کے سامنے اس کی بدنامی بھی ہوتی ہو۔ ستّاری کا بھی اللہ تعالیٰ نے حکم دیاہے، اللہ تعالیٰ نے کہا ہے کہ مَیں ستّار ہوں، تم ستّاری بھی رکھو۔ تو ستّاری کرتے ہوئے اس بات کو چاہے، وہ جو بھی کسی کی کمزوری ہے، اس کو لوگوں کے سامنے بیان نہ کرو۔ ہاں! اگر ہمدردی ہے، تو اس کو علیحدگی میں جا کے سمجھاؤ کہ دیکھو! یہ تمہاری کمزوری ہے اور اسلام کی یہ تعلیم ہے۔ دنیا اس طرح سےیہ کہہ رہی ہے کہ اس سے جماعت کو یہ نقصان پہنچے گا، اس لیے مَیں تمہیں تمہاری ہمدرد بن کے بتا رہی ہوں، تمہارے پاس آئی ہوں اور مَیں نے لوگوں میں نہیں بتایا۔

حکمت، دعا اور نرم رویّے سے اصلاح کی تعلیم کی بابت حضورِ انور نے راہنمائی فرمائی کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا کہ اگر اپنے لوگوں کی کمزوریاں دیکھو، تو ان کے لیےپہلے چالیس دن دعا کرو، پھر سمجھو، تو پھراصلاح کی کوشش کرو۔ اگر اصلاح نہیں ہوتی، پھر جو ایسے لوگ ہیں، جو عہدے دار ہیں یا جو ایسے لوگ ہیں کہ جن تک اصلاح کےلیے شکایت پہنچائی جا سکتی ہے، ان تک بات پہنچاؤ۔ لیکن پہلے اپنی کوشش کرو، نہ یہ کہ بدنام کرنے کے لیے ایسا ہو۔ تو یہ جو الله تعالیٰ نے مومن انسان کو عقل دی ہے، اس لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ حکمت سے کام لو۔ فَاِذَا الَّذِیۡ بَیۡنَكَ وَبَیۡنَہٗ عَدَاوَۃٌ کَاَنَّہٗ وَلِیٌّ حَمِیۡمٌ۔تمہارے اور اس کے درمیان دشمنی بھی ہوتی ہے لیکن نرم زبان استعمال کرو۔ اِدۡفَعۡ بِالَّتِیۡ ھِِیَ اَحۡسَنُ۔ اگر اچھے طریقے سے تم اس کا دفاع کر رہی ہو، بات کر رہی ہو، تو تمہارے اور دشمن کے درمیان صلح قائم ہو جائے گی۔اور آپس میں دوستی قائم ہو جائے گی، لیکن اگر بیوقوفوں کی طرح blunt ہو کے بدّوؤں کی طرح کام کرو گے، تو پھر وہ بیوقوفی ہے۔

حضورِ انور نےآنحضرت ﷺاور خلفائے راشدین کے زمانے کے بدّوؤں کے طرزِ عمل پر روشنی ڈالی کہ اب پُرانے زمانے میں، تو خلفائے راشدین کے زمانے میں، بلکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں بھی گاؤں کے جو بدّو تھے، اَن پڑھ جاہل آتے تھے، کبھی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی چادر کھینچی تو اتنی زور سے کھینچی کہ گردن پر داغ پڑ گیا۔ حضرت عمرؓ کو کہہ دیا کہ آپ نے یہ جو قمیض کا کپڑا پہنا ہوا ہے اورایسے ہی نچلا کپڑا بھی پاجامہ یا جو بھی پہنا ہوا ہے، ایک طرح کا ہے۔ آپؓ نے ہمیں ایک ایک کپڑا دیا اور آپؓ نے دو دو رکھے ہوئے ہیں، تو انہوں نے کہا کہ ایک کپڑا مجھے اور ایک میرے بیٹے کو مِلا تھا، تو میرے بیٹے نے مجھے اپنا کپڑادے دیا، اس لیے میرے پاس یہ دو ہیں، مَیں نے اپنے لیے ایک ہی لیا تھا۔ لیکن بدّواس قسم کے اعتراض کرتے اور سوال کر لیتے تھے۔

حضورِ انور نے عصرِ حاضر کے تناظر میں لوگوں کے ذہنوں میں جنم لینے والے سوالات کی بابت تربیت یافتہ اور کبار صحابہ رضوان الله علیہم کے اُسوہ کواُجاگر کرتے ہوئے بیان فرمایا کہ لوگ کہتے ہیں کہ جی! بدّو سوال کر لیتے تھے، عرب جو تھے یا مسلمان اس وقت تھے، حضرت عمر ؓ سے سوال کر لیتے تھے کہ آپؓ نے کیوں یہ کپڑا پہنا یا خلفائے راشدین پر سوال کرتے تھے، مگر اب ہم کیوں سوال نہیں کرسکتے، خلفاء کے بارے میں کیوں نہیں پوچھ سکتے؟ لوگ سوال کردیتے ہیں،آپ لوگ بھی بیٹھے ہیں، بعضوں کے دماغوں میں آتا ہے کہ مجھے یہ یہ بتائیں۔ اس کو حضرت مصلح موعود رضی الله عنہ نے بڑا تفصیل سے لکھا ہے کہ پُرانے کبار صحابہؓ،جنہوں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت میں رہ کے تربیت حاصل کی، ان میں سے کبھی کسی نےخلیفہ سے سوال نہیں کیا کہ یہ کیوں ہے اور وہ کیوں نہیں، ان کی تربیت اچھی تھی، ان کو پتا تھا کہ سوال کیا تو بدّوؤں نے کیا۔ اگر آپ نے جاہل اور بدّو بننا ہے تو سوال کریں کہ تم نے یہ کیوں کیا اور اگر پڑھے لکھے اور نیک صحابہؓ کی سُنّت پر عمل کرنا ہے، تو پھر انہوں نے سوال نہیں کیا۔ تاریخ نکال لیں کہ کہیں بھی آپ کو کوئی تربیت یافتہ پُرانے صحابہؓ میں سے کوئی نہیں ملے گا، جس نے کبھی خلفائے راشدین پر سوال کیا ہو، سوال انہوں نے کیا کہ جو بعد میں مسلمان ہوئے یا گاؤں کے بدّو تھے اور جن کی تربیت نہیں ہوئی تھی۔ تو بدّونہ بنیں پڑھے لکھے بنیں۔

تربیت کے لیے مؤثر انداز اپنانے کے حوالے سے حضورِ انور نے ریجنل صدر صاحبہ کو مخاطب کرتے ہوئے ہدایت فرمائی کہ آپ وہاں کی صدر ہیں اور سمجھانے کےلیے جس طرح آپ اپنے بچوں اوراپنے بہن بھائیوں کو علیحدگی میں سمجھاتی ہیں، تو پھر اسی طرح اپنی لجنہ کی ممبرات اور ناصرات کو بھی علیحدگی میں سمجھائیں۔ نہ کہ تربیت کا یہ طریقہ ہے کہ کھڑا کر دیا اور کہا کہ تم میں یہ بُرائی ہے اور تم نے یہ کیوں کیا، تمہارا حجاب ٹھیک نہیں ہے، تمہارا پردہ ٹھیک نہیں ہے، تمہارا لباس، تمہارا برقعہ ٹھیک نہیں ہے، تم نے لباس کیسا پہنا ہوا ہے، یہ مسجد میں کیا فضول لباس پہن کے آ گئی ہو، (حضورِ انور نے آنکھوں سے نشاندہی فرمائی کہ) یا یوں یوں ٹیڑھی آنکھوں سے دیکھنا، وہ جو ہے، پھر اس کا اثر نہیں ہوگا، اس کا بُرا اَثر ہوگا اور نیک اثر نہیں ہوگا۔ (باقی آئندہ ۔انشاء اللہ )

(بشکریہ روزنامہ الفضل انٹر نیشنل 1 نومبر 2025ء)