عالمی انصاف کے پس منظر میں بڑی طاقتوں کے دہرے معیاروںپر حقیقت افروز تبصرہ اورراہنمائی
مورخہ ١۲؍ اکتوبر ۲۰۲۵ء، بروزاتوار، امام جماعت احمدیہ حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایّدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کے ساتھ آئرلینڈ سے تعلق رکھنے والی ناصرات الاحمدیہ اور واقفاتِ نَو کے ایک وفد کو شرفِ ملاقات حاصل ہوا۔ یہ ملاقات اسلام آباد (ٹِلفورڈ) میں منعقد ہوئی۔ مذکورہ وفد نے خصوصی طور پر اس ملاقات میں شرکت کی غرض سے آئرلینڈ سے برطانیہ کا سفر اختیار کیا۔جب حضورِانور مجلس میں رونق افروز ہوئے تو آپ نےتمام شاملینِ مجلس کو السلام علیکم کا تحفہ عنایت فرمایا۔
ایک سوال حضورِانور کی خدمتِ اقدس میں یہ پیش کیا گیا کہ
مسلمان حج کے موقع پر اپنے سر کیوں منڈواتے ہیں، اور کیا پہلے عمرہ کی ادائیگی کے بعد بھی سر منڈوانا چاہیے؟
اس پر حضورِانور نےفرمایا کہ حج اور عمرہ میں سر shave کرنا چاہیے، لیکن قرآنِ شریف میں یہ لکھا ہوا ہے کہ اگر تمہارے سر پر کوئی بیماری ہے تو اُوپر سے ذرا سے بال کاٹ دو، بالکل shave نہ کرو اور عمرے میں بھی یہی ہے کہ بال shaveبھی کر سکتے ہیں اور ذرا سے کاٹ بھی سکتے ہیں۔ یہ دونوں چیزیں جائز ہیں۔ یہ حالات پر depend کرتا ہے۔ shave کر لو تو اچھا ہے۔ اس طرح سے انسان اپنے آپ کو اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں totally submit کر دیتا ہے، اس لیے یہ ایک gesture ہے جو انسان ظاہر کرتا ہے۔
ایک شریکِ مجلس نے سوال کیا کہ
کم عمر میں تہجد کی نماز پڑھنے کی عادت پیدا کرنے کا بہترین طریقہ کیا ہے؟
اس پر حضورِانور نے فرمایا کہdetermination، کہ مَیں نے اتنے بجے اُٹھنا ہے اور تہجد پڑھنی ہے، تو اُٹھو اور تہجد پڑھ لو۔ اگر انسان کہے کہ مجھے نیند آ رہی ہے، نہیں اُٹھنا، سویا ہوا ہوں، تو پھر ٹھیک ہے اس طرح عادت نہیں بنے گی۔ اس لیے حدیث میں بھی آیا ہے کہ جلدی سو جاؤ تا کہ تم جلدی اُٹھ کے تہجد اور نماز پڑھ سکو۔تمہارے انگلش میں ایک proverb(ضرب المثل) بھی ہے کہ
Early to bed and early to rise, makes a man healthy, wealthy and wise.
حضورِانور نے اس ضرب المثل کی روشنی میں فرمایا کہ پس اگر healthy, wealthy and wise بننا ہے، تو اس کے لیےپھر تہجد پڑھنا بھی ضروری ہے۔
ایک ناصرہ نے حضورِانور کی خدمتِ اقدس میں عرض کیا کہ
مجھے آپ کے جمعہ کے خطبات کو سمجھنا مشکل لگتا ہے، کیونکہ مَیں سارے الفاظ نہیں سمجھ پاتی، حالانکہ میں گھر میں اُردو بولتی ہوں۔ نیز راہنمائی کی درخواست کی کہ مَیں آپ کے خطبات اور تقریروں کو بہتر رنگ میں سمجھنے کے لیے کیا کر سکتی ہوں؟
اس پر حضورِانور نے توجہ دلائی کہ اب تو ایم ٹی اے پر ایک“Friday Sermon for Kids” پروگرام آتا ہے، اس میں اس کی summary، gist اور important points، وہ بچوں کے لیول کے اُوپر آ کے بتا دیتے ہیں۔ تم خطبہ کے بعد وہ پروگرام ایم ٹی اے پردیکھ لیا کرو یا weekend پر یا اگلے weekend پر دیکھ لیا کرو، تو ساری باتیں وہ بتا دیتے ہیں، پھر آپ اسےبآسانی سمجھ سکتی ہیں۔
ایک شریکِ مجلس نے سوال کیا کہ میں کس طرح معلوم کر سکتی ہوں کہ اللہ تعالیٰ مجھ سے راضی ہے؟
اس پر حضورِانور نے فرمایا کہ تمہیں پتا ہے کہ تم کون سے اچھے کام کرتی ہو اور کون سے بُرے، کون سے اچھے اعمال ہیں اور کون سے بُرے؟ جب تم اچھے کام کرو، تو اللہ میاں کہتا ہے کہI am pleased with you اور اگر تم بُرے کام کرو، تو وہ کہتا ہے کہ I am not۔
ذاتی محاسبہ کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے حضورِانور نے فرمایا کہ تم خود ہی اپنے آپ کو judge کر لیا کرو کہ اگر آپ نے جھوٹ بولا تو یہ ایک بُرا عمل ہے، اللہ آپ سے خوش نہیں ہو گا۔ اگر ہر حالت میں سچ بولو گی، تو اللہ آپ سے خوش ہو گا۔ حضورِانور نے اس نصیحت کا اعادہ فرمایا کہ تم خود ہی اپنے آپ کو judgeکر لیا کرو، کسی اَور کوjudgeکرنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔
ایک لجنہ ممبر نے حضورِانور کی خدمتِ اقدس میں عرض کیا کہ
بطور ایک نوجوان لڑکی کے مجھے بعض اوقات تعلیمی اور ذاتی ترقی کے دباؤ سے گھبراہٹ محسوس ہوتی ہے، مَیں کس طرح اللہ تعالیٰ کے میرے لیےمقرر کردہ منصوبے پر بھروسا کرنا سیکھ سکتی ہوں؟
اس پر حضورِانور نے انتہائی بصیرت افروز عملی راہنمائی عطا فرمائی کہ یہ یقین رکھو کہ نیک کام کرو، اللہ تعالیٰ سے دعا کرو، تو اللہ تعالیٰ سنتا ہے۔ اسی طرح تجویز فرمایا کہ جب اس طرح سے stress ہو، تو دو نفل پڑھ لیا کرو یا سجدے میں دعا کیا کرو اور کچھ charity نکال دیا کرو، کسی غریب کی مدد کر دیا کرو۔بہت ساری charity organisations ہیں، ان کو دے دیا۔ اپنے charity میں چندہ دے دیا،صدقہ دے دیا۔ There are a lot of things۔ جو غریبوں کی مدد کرنے کےلیے دے دو تو تمہارےheart کی satisfaction ہو گی۔
پھر درود شریف پڑھا کرواور زیادہ پریشر لینے کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔ تمہارا پہلا کام پڑھائی کرنا ہے۔
حضورِانور کے دریافت فرمانے پر سائل نے عرض کیا کہ وہ ان شاء الله ڈاکٹر بننا چاہتی ہیں۔یہ سماعت فرما کر حضورِانور نےفرمایا کہ پھر بغیر کسی tension کے پڑھائی کرو، اتناeasy بھی نہ ہو کہ آپ پاس ہو جاؤ گی۔وقت پر پڑھائی کرو اور اللہ سے دعا کرو۔ جو سکول میں پڑھو تو پھر گھر آکے اس کی revision کر لیا کرو۔ ساتھ کے ساتھ روزکا روز homeworkکرلو یا revision کر لو،تو تمہیں چیزیں یاد ہو جائیں گی۔ پھر جب تمہارے weekly یا monthly ٹیسٹ ہوں گےیا mock exams، ان سب میں تم پاس ہوتی جاؤ گی، تمہارے اچھے نمبر آئیں گے، تمہاری ایک مضبوط base ہو جائے گی۔
اسی طرح توکّل کی اہمیت کو واضح کرتے ہوئے سمجھایا کہ جب base اچھی ہو گی، تو تمہیں زیادہ tension لینے کی ضرورت نہیں ہے۔پھر الله پر توکّل کرو کہ مَیں نے اپنی capacity کے حساب سے جو محنت تھی وہ کر لی اور دعا جو تھی وہ بھی مَیں نے اللہ میاں سے کر لی، چیریٹی اور صدقہ بھی دے دیا، اب اللہ میاں تجھ پر مَیں نے اپنا معاملہ چھوڑ دیا ہے۔ پھر اگر اس طرح توکّل کرو، تو اللہ تعالیٰ ضائع نہیں کرتا، ان شاءاللہ پاس کر دے گا۔
مزید برآں حضورِانور نے غیر ضروری فکر اور پریشانی سے اجتناب برتنے کی بابت تلقین فرمائی کہ لیکن پریشان ہو کے ہر وقت گھومتے رہنا کہ مَیں کیا کروں، مَیں نے mathematics کا سوال کیا تھا، وہ ٹھیک تھا کہ غلط تھایا بیالوجی کا مَیں نے فلاں سوال کیا تھا، وہ ٹھیک تھا اور فلاں چیز ٹھیک تھی یا نہیں، تو سوچتی رہو گی تو دماغ پر اثر ہو جائے گا اور کچھ بھی حاصل نہیں ہو گا۔ آخر میں دوبارہ نصیحت فرمائی کہ relax رہو،محنت کرو، دعا کرو، صدقہ دے دو and that’s all، یہ توکّل ہے۔
ایک شریکِ مجلس نے راہنمائی کی درخواست کی کہ وہ
اپنے دہریہ دوستوں کو کیا جواب دے، جب وہ یہ سوال کرتے ہیں کہ اگر خدا ہے، تو پھر وہ دنیا میں ظلم کی اجازت کیوں دیتا ہے؟
اس پر حضورِانور نے استفہامیہ انداز میں دریافت فرمایا کہ اللہ نے کہاں ظلم کی اجازت دی ہے، اللہ تو کبھی بھی ظلم کی اجازت نہیں دیتا، ا للہ تو کہتا ہے کہ انصاف کرو۔ اللہ نے تو کہا ہے کہ جو unjust کرتے ہیں، مَیں ان کو سزا دوں گا، ان کو سزا ملے گی۔انہیں اللہ کے غضب سے خوفزدہ ہونا چاہیے۔
حضورِانور نے اسلام کے بلند معیارِ انصاف کو قرآنی تعلیم کی روشنی میں واضح فرمایا کہ اللہ میاں نے تو کہیں نہیں کہا کہ injustice کرو، اللہ تو کہتا ہے کہ تمہارا جسٹس کا لیول اور standard اتنا بلندہونا چاہیے کہ اگر تمہیں اپنے parents کے متعلق بھی صحیح بات کہنی پڑے اور اگر ان کو سزا بھی ملتی ہوتو کہو، اگر تمہارے اپنے siblings کے بارے میں کہنا پڑے، تب بھی کہو، کسی بڑے آدمی کے بارے میں کہنا پڑے، تو بے شک سچی بات کرو تاکہ جسٹس قائم ہو۔ قرآن شریف میں توبے شمار جگہ آیا ہے کہ انصاف کرو اور اگر تم نے انصاف نہ کیا تو تمہیں سزا دی جائے گی۔
عالمی انصاف کے پسِ منظر میں بڑی طاقتوں کے دُہرے معیاروں کی جانب حضورِانور نے توجہ مبذول کروائی کہ یہ جو ایسا کہتے ہیں، وہ صرف اسلام پر الزام لگاتے ہیں، اسلام تو کہتا ہے کہ There should be absolute justice۔ یہ ان کی جسٹس ہے جو یہ لوگ کرتے ہیں۔ ان سے پوچھو کہ تم جسٹس کر رہے ہو، اسرائیل فلسطینیوں کو مار کے جسٹس کر رہا ہے? وہ تو اس کو justify کر دیتے ہیں کہ انہوں نے یہ کیا یا وہ کیا، تو اس لیےجائز ہےIs it justice۔ تم چھوٹی ہو، باقی بڑی ہیں، شاید بڑوں کو سمجھ آ جائے۔ یہاں United Nations ہے، انہوں نے پانچ ملکوں کے لیے ویٹو پاور رکھی ہوئی ہے، کیا یہ انصاف ہے؟ کیونکہ اگر ان کے خلاف بات ہو، if they speak in favour of some country، تو باقی امریکہ یا رشیا یا چائنا، وہ اس کو ویٹو کر دیتے ہیں، کیونکہIt is not in their interest۔ تو جسٹس تو یہ لوگ نہیں کرتے۔ اسلام تو جسٹس کرتا ہے۔ اسلام تو بڑا حکم دیتا ہے کہ اپنے قریبیوں کے خلاف بھی اگر تمہیں بولنا پڑے تو تم بولو اور انصاف قائم کرو۔
آخر میں حضورِانور نےقرآنی دلائل اور اس پر مبنی اپنے فرمودات کے نوٹس دوسروں کو بطورحوالہ پیش کرنے کی نصیحت فرمائی کہ قرآنِ شریف میں کئی جگہ لکھا ہوا ہے، ان کو بتایا کرو کہ قرآنِ شریف پڑھو، اپنے ابّا سے کہو یا اُمّی سے کہو کہ تمہیں آیتیں نکال کے بتا دیں۔ مَیں نے اس پر بہت ساری تقریریں کی ہوئی ہیں، ان میں سے نوٹ لے لو، اَور جگہوں پر بھی بیان کیا ہوا کہ کس طرح peace قائم کر سکتے ہیں، کس طرح absolute justiceہو سکتا ہے، وہ پڑھ کے اور نوٹ کر کے بتایا کرو کہ یہ دیکھو، اللہ میاں تو یہ کہتا ہے۔
ایک لجنہ ممبر نے سوال کیا کہ کیا
اللہ تعالیٰ بعض روحوں پر زیادہ بوجھ اس لیے ڈالتا ہے کہ وہ ان سے زیادہ محبّت کرتا ہے یا اس لیےکہ ان کو زیادہ طاقتور سمجھتا ہے؟
اس پر حضورِانور نے انبیاء کی مشکلات اور صبر کے بارے میں فرمایا کہ انبیاء سب سے زیادہ مشکلات برداشت کرتے ہیں۔ سوال کے نفسِ مضمون کی روشنی میں مزید وضاحت کرتے ہوئےآنحضرتؐ کی سیرتِ مبارکہ کی روشنی میں بیان فرمایا کہ ایک دفعہ ایک شخص نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو ہاتھ لگایا، بڑا سخت جسم گرم تھا اور بخار تھا، لیکن آپ بیٹھے ہوئے آرام سے کام کر رہے تھے۔ اس نےپوچھا کہ آپؐ کو بھی بخار چڑھ جاتا ہے؟ انہوں نے فرمایا کہ ہاں! مجھے تم لوگوں سے زیادہ تکلیفیں ہوتی ہیں، بخار بھی چڑھتا ہے، اللہ تعالیٰ نے میرے اندر طاقت رکھی ہوئی ہے اور پھر مجھے اس نے برداشت کی طاقت بھی دی ہوئی ہے، کیونکہ اللہ جانتا ہے، لیکن مَیں اپنے کام نہیں چھوڑتا۔
اسی طرح آنحضرتؐ کی صبر و استقامت کی بابت مزید بیان فرمایا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے بھی اس پر لکھا ہے کہ انبیاء کو مشکلات آتی ہیں اور بہت زیادہ آتی ہیں۔ مثال دی کہ مثلاً آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے کئی بیٹے پیدا ہوئے اور فوت ہوئے لیکن صبر کیا، جنگوں میں زخم لگے مگر صبر کیا، کوئی ایسی بات نہیں کی، جبکہ بعض دفعہ دوسرے ایسے مواقع پر ہائے ہائے کر دیتے ہیں، اظہار ہی نہیں کیا۔ بلکہ اُحد کی جنگ میں زخمی ہونے کے بعد بھی جب مدینہ واپس گئے، تو باوجود زخموں کے، ایک نماز کے بعد اگلی نماز میں آ گئے تھے۔
آخر میں الله کے پیاروں کی آزمائشوں کے پیچھے کارفرما حکمت کی جانب توجہ دلاتے ہوئے حضورِانور نے فرمایا کہ اللہ ان لوگوں کو طاقت دیتا ہے اور ان کی آزمائشیں دنیا کو بتانے کےلیے ہیں کہ دیکھو! یہ نہیں کہ جو اللہ کے پیارے ہیں، وہ آرام سے بیٹھے ہوئے ہیں، بڑی خوبصورتmattresses لگی ہوئی ہیں، comfortable بیڈز ہیں، cushion chairs ہیں اور اس پر بیٹھ کے آرام سے باتیں کر رہے ہیں، ان کو بھی تکلیفیں ہوتی ہیں تاکہ لوگوں کو بھی پتا لگے کہ وہ بھی ساری تکلیفوں سے گزرے ہیں لیکن اللہ تعالیٰ اُن کو طاقت دیتا ہے۔
ملاقات کے اختتام پر حضورِ انورنے تمام شاملینِ مجلس کو از راہِ شفقت قلم کا تحفہ بطورِ تبرک بھی عطا فرمایا۔
مزید برآں شاملینِ مجلس میں سے ایک ناصرہ نے اپنی خطاطی حضورِانور کی خدمتِ اقدس میں بغرضِ دستخط پیش کرنے کی بھی سعادت حاصل کی۔اس پر حضورِانور نے انتہائی شفقت سے فرمایا کہ مَیں اس پر تمہارےقلم سے ہی دستخط کردیتا ہوں نیز بعد ازاں ازراہِ شفقت خطاطی پر دستخط فرما دیے۔ اسی دوران حضورِانور نے انتہائی محبّت بھرے انداز میں اس کے بہن بھائیوں کی تعداد کے بارے میں بھی دریافت فرمایا، اس کے عرض کرنے پر فرمایا کہ اچھا! تم دو بہن بھائی ہو، نیز مزید دریافت فرمایا کہ لڑتے ہو یا نہیں؟ جس پر ناصرہ نے انتہائی معصومیت اور سادگی سے عرض کیا کہ تھوڑا سا۔ اس پر حضورِانور سمیت تمام شاملینِ مجلس مسکرا دیے اور اس مختصر مکالمے سے خوب محظوظ ہوئے۔
آخر پر حضورِانور نے فرمایا کہ چلو جی السلام علیکم!
(بحوالہ الفضل انٹرنیشنل 23 اکتوبر 2025ء)