مورخہ ١۲؍ اکتوبر ۲۰۲۵ء، بروزاتوار، امام جماعت احمدیہ حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایّدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کے ساتھ آئرلینڈ سے تعلق رکھنے والی ناصرات الاحمدیہ اور واقفاتِ نَو کے ایک وفد کو شرفِ ملاقات حاصل ہوا۔ یہ ملاقات اسلام آباد (ٹِلفورڈ) میں منعقد ہوئی۔ مذکورہ وفد نے خصوصی طور پر اس ملاقات میں شرکت کی غرض سے آئرلینڈ سے برطانیہ کا سفر اختیار کیا۔جب حضورِانور مجلس میں رونق افروز ہوئے تو آپ نےتمام شاملینِ مجلس کو السلام علیکم کا تحفہ عنایت فرمایا۔
بعد ازاں دورانِ ملاقات شاملینِ مجلس کو حضورِانور کی خدمت اقدس میں اپنا تعارف اورمختلف سوالات پیش کرنے نیز ان کے جواب کی روشنی میں حضورانور کی زبانِ مبارک سے نہایت پُرمعارف، بصیرت افروز اور قیمتی نصائح پر مشتمل راہنمائی حاصل کرنے کی سعادت بھی نصیب ہوئی۔
ایک شریکِ مجلس نے سوال کیا کہ طبّی ادارے تحقیق اور تعلیم دونوں مقاصد کے لیے عطیہ شدہ جسموں سے بہت فائدہ اُٹھاتے ہیں، کیا احمدیوں کو خواہ وہ مرد ہوں یا عورت اپنے جسم عطیہ کرنے چاہئیں؟
اس پر حضورِانور نے فرمایا کہ وہ اپنے بعض اعضا عطیہ کر سکتے ہیں یا پورا جسم بھی عطیہ کر سکتے ہیں، لیکن جب تجربہ یا طبّی عمل مکمل ہو جائے، تو وہ جسم لواحقین کو واپس کر دیا جائے، پھر لواحقین اسے دفن کر سکتے ہیں۔ اس میں کوئی ہرج نہیں، اگر یہ کام انسانیت اور عوام الناس کے فائدے کے لیے کیا جا رہا ہو، تو یہ بالکل جائز ہے۔
ایک ناصرہ نے سوال کیا کہ کیا فرشتوں کو ابدی زندگی حاصل ہے؟
اس پر حضورِانور نے فرمایا کہ دنیا میں تو کوئی چیز بھی اللہ کے علاوہ forever نہیں ہے، کتنی دیر angels کو رکھنا ہے، اللہ جانتا ہے۔ لیکن نسبتاً دیکھا جائے تو فرشتے انسانی زندگی کے مقابلے میں گویا ہمیشہ زندہ رہتے ہیں۔
ایک لجنہ ممبر نے سوال کیا کہ ہم، ہم عمروں کے دباؤ، سوشل میڈیا کے منفی اثرات اور دجّالی حملوں کے دوران اپنے ایمان میں مضبوطی کیسے قائم رکھ سکتے ہیں؟
اس پر حضورِ انورنے مسکراتے ہوئے فرمایا کہ سوشل میڈیا دیکھنا بند کرو۔ بایں ہمہ استفسار فرمایا کہ نماز، قرآنِ کریم اور اس کا ترجمہ پڑھتی ہو اور اس میں بعض باتیں سمجھ آتی ہیں؟ نیز دجّال کا جو سوال اُٹھاتا ہے، ان کے questions تم تلاش کرتی ہو؟
اثبات میں جواب سماعت فرمانے کے بعد حضورِانور کے مزید دریافت فرمانے پر سائل نے عرض کیا کہ وہ تھرڈ ایئر سیکنڈری سکول میں پڑھتی ہے۔ جس پر حضورِانور نے فرمایا کہ Introduction to the Study of the Holy Quran کتاب ہے، اس کو پڑھو، اس سے آپ کا ایمان مضبوط ہو گا۔کیونکہ اس میں دنیا کے different religions کے متعلق بات کی گئی ہے اور پھر اسلام کے بارے میں کہ وہ سچا مذہب کیوں ہے، اور کتاب کے آخر میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا دعویٰ درج ہے کہ وہ کیوں ظاہر ہوئے، اللہ تعالیٰ نے انہیں اس زمانے میں کیوں مبعوث فرمایا؟ تو وہ سارے questions، جو تمہارے ذہن میں دجّال پیدا کرتا ہے، وہ آ جائیں گے۔ اور اگر کوئی ایسے ہوں جو تمہیں نہ ملیں، تو تم اپنے مربی سے پوچھ لو۔ اگر وہاں سے جواب نہ ملے، تو مجھے لکھ کے جواب پوچھ لو۔ نیز تاکید فرمائی کہ یقین رکھو کہ اسلام فائنل مذہب ہے۔ اس کے علاوہ اَور کوئی مذہب نہیں ہے، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم خاتم النبیینؐ، last law-bearing prophet، آخری شرعی نبی ہیں۔ تو یہ یقین رکھو اور پھر اپنا مذہبی علم زیادہ کرو، پھر تم جواب دے سکو گی۔
ایک شریکِ مجلس نے عرض کیا کہ بعض اوقات خوف کی وجہ سے ہمیں اپنی ماؤں سے سچ بات کہنا مشکل محسوس ہوتا ہے، اس حوالے سے راہنمائی طلب کی کہ ہم کس طرح اپنے اندر یہ عادت پیدا کر سکتے ہیں کہ ہم ہمیشہ سچ بولیں، چاہے اس کے نتیجے میں ڈانٹ ہی کیوں نہ پڑے؟
اس پر حضورِانور نے مسکراتے ہوئے فرمایا کہ ایسے کام نہ کرو جو اُمّی سے چھپانے ہیں اور اگر تم نے ایسا کوئی غلط کام کردیا ہے توپھر ہمیشہ سچ بولو کیونکہ انسان کو سچا ہونا چاہیے۔ اللہ میاں کہتا ہے کہ سچائی ضروری ہے۔ کیونکہ اگر تم سچ نہیں بول رہی، جھوٹ بول رہی ہو، غلط بیانی کر رہی ہو، تو اس کا مطلب ہے تم اللہ تعالیٰ سے نہیں ڈرتی۔ تم سمجھتی ہو کہ تم جھوٹ سے بچ جاؤ گی یعنی کہ جھوٹ کو تم نے خدا سمجھ لیا، حالانکہ اگر تم نے غلط کام کیا ہے اور تمہیں وہ غلط بات لگے تو پھر اس کا اعتراف کرو اور کہو کہ مَیں آئندہ یہ غلط کام نہیں کروں گی۔
اسی طرح توجہ دلائی کہ اگر تم سمجھتی ہو کہ یہ کام آپ کے مطابق صحیح تھا تو پھر اپنے والدین یا اُمّی سے کیوں چھپاتی ہو؟ آپ کھل کر ان کو بتائیں کہ میرے سے یہ غلطی ہو گئی ہے۔ ہمیشہ یہ پکّا ارادہ کرو کہ اگر مَیں غلط کام کروں گی اور جھوٹ بولوں گی تو اللہ میاں ناراض ہوگا، اور میں نے اللہ تعالیٰ کو ناراض نہیں کرنا، جب یہ سوچو گی تو پھر ہمیشہ سچ بولوگی۔
مزید برآں حضورِانور نے سچائی اپنانے کی اہمیت کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ایک پُرمعنی ارشادِ مبارک کی روشنی میں نہایت حکمت کے ساتھ اُجاگر فرمایا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک شخص نے کہا کہ میری بہت ساری بُرائیاں ہیں، مَیں کیا کروں، ایک بُرائی مَیں چھوڑ سکتا ہوں، مجھے بتائیں کہ مَیں کون سی بُرائی چھوڑوں؟ آپؐ نے فرمایا کہ جھوٹ بولنا چھوڑ دو، صرف سچ بولنا ہے۔ اور اس نے جب سچ بولنا شروع کیاتو ایک بُرائی کرنے لگا۔ پھر خیال آیا کہ مَیں سچ بولوں گا، مجھے شرمندگی ہوگی، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم مجھ سے پوچھیں گے کہ تم نے یہ کیا، مَیں کہوں گا کہ ہاں! تو پھر شرمندگی ہو گی اور اگر نہیں کہوں گا تو جھوٹ ہو گا۔ پھر دوسری بُرائی کرنے لگا، پھر اس کو یہ خیال آیا، پھر تیسری بُرائی کرنے لگا، اس طرح وہ کرتا چلا گیا کہ آخر اس نے ساری بُرائیاں چھوڑ دیں۔ تو جھوٹ سب سے بڑی بُرائی ہے، اس بات کو یقینی بناؤکہ کبھی جھوٹ نہیں بولنا۔
ایک لجنہ ممبر نے راہنمائی طلب کی کہ کسی بھی قسم کےمنفی جذبات جیسے کہ غصّہ، حسد یا تکبر پر قابو پانے کا بہترین طریقہ کیا ہے؟
اس پر حضورِانور نے استفہامیہ انداز میں دریافت فرمایا کہ negative emotions کیوں آتے ہیں؟ نیز تلقین فرمائی کہ نماز پڑھا کرو۔پہلے تو پانچ نمازیں پڑھو، کم ازکم ایک نماز میں سجدہ میں دعا کیا کرو کہ الله تعالیٰ مجھے negative emotions اور نہ ہی کسی قسم کے خیال آئیں۔
حضورِانور نے نہایت حکیمانہ انداز میں اِن جذبات کی جڑ اور ان کے تدارک کا بلیغ روحانی نسخہ بیان فرمایا کہ اس کے علاوہ جب ایسی باتیں آئیںتو اِستغفار پڑھ لیا کرو، کسی پر غصّہ چڑھے تو اِستغفار پڑھو۔ غصّہ چھپانا بڑی ضروری چیز ہے اور jealousy تو ہونی ہی نہیں چاہیے۔ یہ ساری بُرائیاں ہیں۔ یہ صرف جذبات ہی نہیں ہیں بلکہ بُری عادات بھی ہیں اور اللہ کے نزدیک گناہ شمار ہوتے ہیں۔
آخر میں حضورِانور نے اس اَمر کی اہمیت کو بھی اُجاگر فرمایا کہ تم نے گناہ چھوڑنے ہیں، anger ہو، jealousyہو یا pride ہو، تو ان ساری چیزوں کو چھوڑنا ہے۔ اِستغفار زیادہ پڑھو تو آپ ہی ٹھیک ہو جائے گا۔ اپنے آپ کو نہ سمجھو کہ مَیں کچھ چیز ہوں۔اس لیےحضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا ہے
بدتر بنو ہر ایک سے اپنے خیال میں
شاید اسی سے دخل ہو دارالوصال میں
کہ تم اپنے آپ کو سب سے کم سمجھو۔پھر نہ jealousy ہوگی نہ anger ہوگا نہ pride ہوگی اور اس سے پھر اللہ تعالیٰ ملتا ہے، پھر اللہ تعالیٰ دعائیں بھی سنتا ہے۔ اب یہ سوچ لو کہ تم نے اللہ کو ملنا ہے یا اپنے جو vicious desires ہیں، ان کو پورا کرنا ہے۔
شاملینِ مجلس میں سے ایک ناصرہ نے انتہائی معصومیت سے حضورِانور سے سوال کیا کہ آپ کو کس عمر میں والدین سے جیب خرچ ملنا شروع ہوا، کتنا جیب خرچ لیا کرتے تھے اور آپ اپنا جیب خرچ کس طرح خرچ فرمایا کرتے تھے؟
اس پر حضورِانور نے کمال شفقت اور محبّت بھرے انداز میں فرمایا کہ ہمیں تو کبھی regular money ملتی ہی نہیں تھی، تمہاری طرح تو نہیں تھے کہ عیاشیاں کرتے۔ نیز جیب خرچ ملنے کی بابت اپنےایّامِ طفولیت کی دلفریب عملی تربیتی مثال بیان کرتے ہوئے فرمایا کہ کبھی کبھی امّاں ابّا نے دے دیا، عید پر پیسے آ گئے، تو ہم نے اپنی امّاں کے پاس reserveکرادیے اور پھر آہستہ آہستہ ان سے لیتے رہے یا کبھی ضرورت ہوئی تو اُمّی سے مانگ لیا کہ پیسے دیں۔ اور اس کے بعد جو میرے پیسے ہوتے تھے جو کسی نے تحفہ دیا یا عید پر عیدی آئی، تو ہماری اُمّی نے کہاکہ ان کو میرے پاس reserveرکھو اور اپنا تحریکِ جدید اور وقفِ جدید کا چندہ تم نے اس میں سے دینا ہے، تو ہم اس میں سے دیا کرتے تھے۔
اسی طرح جیب خرچ کے مصرف کی بابت اپنے معمولاتِ بچپن کا مزید ذکر کرتے ہوئے بیان فرمایا کہ چندہ دے دیتے تھے۔ جو پیسے ہوتے تھے، اس میں سے اطفال کا چندہ دیتا تھا۔ باقی جو بچ جاتے تھے، کبھی کبھی ضرورت ہوتی تھی، تو مانگ لیتا تھا۔ جب میرے پیسے ختم ہو جاتے تھے، تو پھر اُمّی سے کہتا تھا کہ مجھے اَور دیں، جہاں سے مرضی دیں، مَیں نے خرچ کرنے ہیں۔ اگر وہ مان جاتی تھیں، تو دے دیتی تھیں، نہیں تو مَیں چُپ کر کے بیٹھ جاتا تھا اور لڑتا نہیں تھا۔
ایک شریکِ مجلس نے دریافت کیا کہ حضورِانور نے کبھی فلسطین کے تنازعے کے حوالے سے بنیامین نیتن یاہو یا کسی اَور عالمی راہنما کو خط لکھا ہے؟
اس پر حضورِانور نے عالمی لیڈران کو لکھے گئے خطوط کے پسِ منظر میں واضح فرمایا کہ ان کو بھی لکھا تھا۔ World Crisis and the Pathway to Peace میں وہ خط چھپے ہوئے ہیں۔ سب کو مَیں نے لکھا تھا، لیکن انہوں نے کوئی reply نہیں کیا۔ یہاں کا جو ہمارا پرائم منسٹر کیمرون تھا، مجھے تو صر ف اس نے reply دیا تھا اور ایک اَور نے دیا تھا۔ باقی تو امریکن پریذیڈنٹ اوباما تھا، وہ بھی reply کرنے لگا تھا، توپھر اس کی ٹیم نے روک دیا تھا کہ reply نہ کرنا۔
ایک ناصرہ نے سوال کیا کہ مَیں ٹیکنالوجی کے مسلسل استعمال سے کیسے دُور رہ سکتی ہوں تا کہ یہ میری پڑھائی پر اثرانداز نہ ہو؟
اس پر حضورِانور نے فرمایا کہ کون سی ٹیکنالوجیاں ہیں، آجکل کمپیوٹر، سیل فون، یہ چیزیں ہیں۔ یہ تو ویسے ہی اب آسٹریلیا اور بعض اَورملکوں میں یہ کہہ رہے ہیں کہ ہم ایک law پاس کرنے لگے ہیں کہ جو پندرہ سال سے کم عمر کے لوگ ہیں، وہ سیل فون اور انٹرنیٹ وغیرہ استعمال نہیں کریں گے، ان پرban ہو جائے گا۔ سکولوں میں بھی banہو جائے گا، کیونکہ اِن کا جو potential ہے، دماغی capability ہے، wisdom ہے، وہ لوگوں میں کم ہو رہی ہےاس لیے وہ بند کر رہے ہیں۔
حضورِانور نے تلقین فرمائی کہ ایک تو یہ ہے کہ سکرین ٹائم تمہارا صرف ہر روزone hour ہونا چاہیے۔ چاہے وہ ٹی وی دیکھو یا انٹرنیٹ دیکھو۔ اور سکول سے جو تمہیں کام ملتا ہے، وہ بھی تم انٹرنیٹ یا آئی پیڈ پر ہاتھ سے ہی کرتے ہو۔ تو بس ایک گھنٹے سے زیادہ سکرین ٹائم نہیں ہونا چاہیے اور اس میں بھی اچھے پروگرام دیکھو، فضول قسم کے پروگرام نہ دیکھو جو دیکھ رہے ہوتے ہیں۔ جب تمہیں گندی چیز نظر آئے تو اِستغفار پڑھ لیا کرو توتم بچ جاؤ گی۔ انسان میں determination ہونی چاہیے، تمہاری determination ہو گی، پکّا ارادہ ہو گا تو پھر تم چھوڑو گی، اگر تم ہر چیز کوcasually لو گی، تو پھر کچھ نہیں ہو گا۔( باقی آئندہ ۔۔)
(بحوالہ الفضل انٹرنیشنل 23 اکتوبر 2025ء)
***