مجلس عرفان
میری تقریروں میں سےpassage نکال کربھیجا کریں۔ ہر ہفتہ ایک پوائنٹ اس طرح پوری تقریر سرکولیٹ کر تے رہیں۔
مورخہ ۵؍اکتوبر ۲۰۲۵ء، بروز اتوار، امام جماعت احمدیہ حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایّدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کے ساتھ لجنہ اماء اللہ ناروے کی نیشنل مجلس ِعاملہ اور طالبات کے ایک وفد کو شرفِ ملاقات حاصل ہوا۔ یہ ملاقات اسلام آباد (ٹِلفورڈ) میں واقع ایم ٹی اے سٹوڈیوز میں منعقد ہوئی۔ مذکورہ وفد نے خصوصی طور پر اس ملاقات میں شرکت کی غرض سے ناروے سے برطانیہ کا سفر اختیار کیا۔
حضورِ انورمجلس میں رونق افروز ہوئے اورتمام شاملینِ مجلس کو السلام علیکم کا تحفہ عنایت فرمایا۔
بعد ازاں تمام شاملینِ مجلس کو حضورانور سے مختلف سوالات پیش کرنے نیز ان کے جواب کی روشنی میں حضورانور کی زبانِ مبارک سے نہایت پُرمعارف، بصیرت افروز اور قیمتی نصائح پر مشتمل راہنمائی حاصل کرنے کی سعادت بھی نصیب ہوئی۔
ایک لجنہ ممبر نے حضورِ انورکی خدمت اقدس میں عرض کیا کہ
تبلیغ کے دوران جب لوگوں کو خدا پر ایمان لانے کے بارے میں کہا جاتا ہے تو وہ کہتے ہیں کہ ہم نے تو خدا سے نہیں کہا تھا کہ ہمیں اور اس دنیا کو پیدا کریں، نیز دریافت کیا کہ ایسے لوگوں کو کیا جواب دینا چاہیے؟
اس پر حضورِ انورنے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ مالک ہے اوراس نے پیدا کیا۔ حضورانور نے سمجھایا کہ اگر تمہارے ہاتھ میں کوئی چیز ہو، یہ کاپی میرے ہاتھ میں ہے، مَیں اس کو یہاں رکھوں یا یہاں رکھوں، میری مرضی ہے، کسی کو اعتراض تو نہیں ہو سکتا اور اس کا حق نہیں۔
حضورِ انورنے بات کو جاری رکھتے ہوئے کائنات کی وسعت کے تناظر میں انسان کی معمولی حیثیت اور اللہ تعالیٰ کی عظمت کو واضح فرماتے ہوئے بصیرت افروز راہنمائی عطا فرمائی کہ اس طرح جان ہے، یہی چیز سمجھنی چاہیے کہ وہ مالک ہے، اس نےاپنی مخلوق کو پیدا کیا ہے، دنیا میں مختلف چیزیں پیدا کیں، جانور پیدا کیے، شیر پیدا کیے، گائے پیدا کی، ہاتھی پیدا کیے، deerپیدا کیے اور بے شمار چیزیں پیدا کیں۔ درخت بنائے، پہاڑ بنائے اور اللہ تعالیٰ نے قرآنِ شریف میں فرمایا کہ سارے میری حمد کرتے ہیں، میری تعریف کرتے ہیں، ان کو پتا ہے کس طرح انہوں نے اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرنا ہے۔ اس لیے تم بھی کرو اور یہ پوری کائنات اتنی بڑی ہے، پورا Universe ہے، آپ Universe کا اگرmap دیکھو، Galaxies دیکھو، آجکل تو تصویریں بھی بڑی ماڈرن آ گئی ہیں، coloured galaxy بھی آ گئی ہے، اس میں بہت سے مختلف starsاورplanetsمیں سے بعض بہت چھوٹے اور بعض بڑے نظر آتے ہیں اور ان Galaxies کے اندر نقطوں میں بھی ہماری یہ ایک زمین نظر نہیں آتی۔ وہاں لکھا ہوتا ہے کہ Our earth is somewhere here۔
حضورِ انورنے یاد دلایا کہ ہم اتنی سی چھوٹی چیز ہیں اور اس میں ہماری ایک انسان کی کیا حیثیت ہے، بالکل ہی ایکminor microscopic germکی بھی نہیں ہے۔
اسی تناظر میں حضورِانورنے اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کا شکر ادا کرنے کی تلقین کرتے ہوئے فرمایا کہ پھر اللہ تعالیٰ نے اتنی دنیا پیدا کی ہے، اپنی مرضی سے پیدا کی ہے اور اس لیے اللہ تعالیٰ کہتا ہے کہ یہ تو میرا تم پر احسان ہے کہ مَیں نے تمہیں پیدا کیا اور تم اتنی چھوٹی چیز ہو، اتنی چھوٹی سی زمین ہے اور اس میں حیثیت تمہاری کیا ہے کہ جس میں نو اَرب کی آبادی ہے؟ اس میں تمہیں چاہیے کہ میرا شکر ادا کرو کہ مَیں نے تمہیں پیدا کیا اور تمہیں اتنی نعمتیں دیں اور تم اس دنیا میں آرام سے گزر رہے ہوتے ہو۔
مزید برآں حضورِ انورنے اللہ کی حکمتوں کا حقیقی فہم و ادراک پیدا کرنے کی غرض سے ایک سبق آموز واقعہ بیان فرمایا کہ حضرت خلیفة المسیح الاوّل رضی اللہ عنہ بیان فرماتے تھے کہ ایک پاگل جیسا انسان تھا، مجذوب سا سڑک پر بیٹھا ہوتا تھا اور جب وہاں سے گزرتے تھے، تو وہ ہمیشہ سر مارتا ہوا یہ کہا کرتا تھا کہ اللہ میاں! تیری دنیا پسند نہیں آئی۔ جس طرح آج کل کے تمہارے پاگل لوگ کہتے ہیں کہ ہمیں پیدا نہیں کیا۔ وہ بھی کہتا تھا کہ اللہ میاں تیری دنیا پسند نہیں آئی۔ روزانہ سڑک پر بیٹھے شور مچایا ہوتا تھا اور نعرہ لگاتا تھاکہ دنیا پسند نہیں آئی، دنیا پسند نہیں آئی، دنیا پسند نہیں آئی۔ ایک دن خلیفہ اوّل ؓ کہتے ہیں کہ مَیں وہاں سے گزرا، ان کی خلافت سے پہلے کی بات ہے، تو وہ خاموش بیٹھا تھا۔ تو مَیں نے کہا کہ آج تم خاموش ہو، شور نہیں مچا رہے اور اللہ میاں کو کہہ نہیں رہے کہ تیری دنیا پسند نہیں آئی، توکہنے لگا کہ آج اللہ تعالیٰ نے مجھے جواب دیا ہے کہ پھر جو تمہیں دنیا پسند آئی ہے، وہاں چلے جاؤ، تو میرے پاس اس کا کوئی جواب نہیں۔اس پاگل کو تو سمجھ آگئی کہ جواب نہیں، لیکن ان لوگوں کو سمجھ نہیں آتی۔
ایک لجنہ ممبر نے راہنمائی کی درخواست کی کہ
عائلی مسائل اور خُلع یا طلاق کے اضافے کی وجہ سے اگر شادی کرنے سے ڈر لگے، تو اس خیال کو کیسے دُور کیا جا سکتا ہے؟
اس پرحضورِ انورنے مفصّل راہنمائی عطافرماتے ہوئے توجہ دلائی کہ یہ تو صدر لجنہ، صدر جماعت، امیر جماعت، سیکرٹری تربیت، انصار اللہ، خدام الاحمدیہ، سیکرٹریان اور آپ لوگوں کا کام ہے کہ لوگوں کی تربیت کریں۔ یہی مَیں خطبے دیتا رہتا ہوں۔ حضورِ انورنے جلسہ ہائے سالانہ یوکے اور جرمنی اور نیشنل اجتماع یوکے کے موقع پر لجنہ سے کیے گئے حالیہ خطابات کا حوالہ دیتے ہوئے فرمایا کہ ان میں بھی یہی کہا ہے کہ اصلاح کرو، اپنے مردوں کی بھی اصلاح کرو، عورتوں کی بھی اصلاح کرو اور جو بیعت کامقصد ہے اس کو پُورا کرو۔
حضورِ انورنے قرآنی تعلیم کی روشنی میں بیان فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے قرآنِ کریم میں مرد اور عورت کے لیے بہت سارے حقوق رکھے ہیں اور مردوں کو کہا کہ عَاشِرُوۡہُنَّ بِالۡمَعۡرُوۡفِ کہ اُن سے اچھی طرح حسنِ سلوک کیا کرو۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نےحسنِ سلوک کی اپنی مثالیں قائم کیں کہ کس طرح خیال رکھا کرتے تھے۔
حضورِانورنے ایک واقعہ کے ذریعے بیویوں کے ساتھ حسنِ سلوک کی اہمیت کو اُجاگر فرمایا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے ایک دفعہ ایک اپنے صحابیؓ کو بہت غصّے کا اظہار کیا۔ اس نے کوئی ایسی بات کی تھی کہ میری بیوی اپنے گھر چلی گئی تھی، اپنے ماں باپ کو ملنے کے لیے میکے گئی تھی اور ایک دن یا دو دن کے لیے پوچھ کر گئی تھی اور دس دن بعد آئی ہے۔ اب مَیں نے عہد کیا ہے کہ مَیں نے کبھی اس کو ماں باپ کو ملنے نہیں جانے دینا۔ حضرت مسیح موعودعلیہ السلام کی مجلس میں بات ہوئی، آپ کو بڑا غصّہ چڑھا، آپؑ نے اس کو اتنا ڈانٹا کہ لوگ کہتے ہیں کہ ہم نے اتنے غصّے میں آپؑ کو کبھی نہیں دیکھا تھا کہ میری مجلس میں بیٹھے ہو اور بیوی سے یہ سلوک کرو گے، تو یہاں سے تم اُٹھ جاؤ۔ ایک دوسرے صحابیؓ بیٹھے سن رہے تھے، سارے لوگ سر جھکا کے اِستغفار کرنے لگے کہ بڑا غصّہ ہے، وہ صحابیؓ کہتے ہیں کہ مَیں گھر جانے سے پہلے بازار گیا، بازار سے مَیں نے بہت ساری چیزیں اپنی بیوی کو تحفہ دینے کے لیے لیں، کہتے ہیں کہ مَیں بھی بیوی سے ناراضگی کر لیا کرتا تھا۔ بیوی کے پاس گیا، اس کو مَیں نے تحفے دیے اور بڑی نرمی اور پیار سے بات کی تو وہ میرا منہ دیکھتے رہ گئی اور کہنے لگی کہ آج تمہیں کیا ہو گیا ہے، بڑے نرم ہو گئے ہو، خیر توہے؟ کہنے لگے کہ بس! آج جو میرا مسیح موعود ؑکی مجلس میں حال ہوا ہے، جو مَیں ڈانٹیں سن کے آیا ہوں، اس کے بعد میری توبہ کہ مَیں کبھی تمہارے سے سختی سے بات کروں۔
حضورِانورنے توجہ دلائی کہ یہ تو عقل کی بات ہے، جتنی باتیں ہم کرتے ہیں، واقعات سناتا ہوں، قرآن کے حوالے سناتا ہوں، حدیث کے حوالے سناتا ہوں، حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے حوالے سناتا ہوں، مختلف باتیں کرتا ہوں، پھر بھی لوگوں کو عقل نہیں آتی اور مردوں میں برداشت نہیں ہے۔
حضورِ انورنے اس بات پر بھی زور دیا کہ مردوں میں برداشت زیادہ ہونی چاہیے۔اللہ تعالیٰ کہتا ہے اَلرِّجَالُ قَوّٰمُوۡنَ عَلَی النِّسَآءِ کہ مردوں کو ہر معاملے میں عورتوں پر فوقیت حاصل ہے، یہ نہیں ہے کہ صرف پیسے کماتے ہیں، تو پیسے دے دیے اور کہہ دیا کہ مَیں نے حق پورا کر لیا ہے، بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ ان کے nerves بھی مضبوط ہوتے ہیں، ان کو دوسرے جذبات کا بھی خیال رکھنا ہوتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے یہ فرمایا ہے کہ جس طرح تمہارے جذبات ہیں، اس طرح عورتوں کے بھی جذبات ہیں، اس لیے خیال رکھو۔ اس لیے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے یہی فرمایا ہے کہ مرد عورت کا خیال رکھے اور عورت مرد کا خیال رکھے، دونوں کو اللہ کی پہچان ہونی چاہیے۔
حضورِ انورنے مرد اور عورت کو اپنے جیون ساتھی کے انتخاب میں مادی چیزوں کو بالائے طاق رکھتے ہوئے دینداری کے پہلو کو مقدّم رکھنےکی بابت راہنمائی عطا فرمائی کہ اس لیے رشتوں کے بارے میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جب تم رشتہ کرو تو یہ دیکھا کرو۔ عام طور پر چار چیزیں دیکھنے والی ہوتی ہیں۔ کوئی دیکھتا ہے کہ مَیں جہاں رشتہ کر رہا ہوں، اس خاندان میں دولت ہے کہ نہیں، امیر لوگ ہیں کہ نہیں یا فیملی اچھی ہے کہ نہیں یا عورت خوبصورت ہے کہ نہیں۔ یہ چیزیں دیکھنے والی نہیں ہیں، لیکن ایک چیز جو تمہیں دیکھنی چاہیے وہ یہ ہے کہ اس میں دین ہے کہ نہیں۔ اگر عورت میں دین ہے، تو اس سے رشتہ کرو۔ اگر یہ سوچ مردوں میں پیدا ہو جائے، پھر مرد دیندار عورت کو تلاش کریں گے، توجب خود دیندار ہوں گے، تو دیندار عورت بھی تلاش کریں گے۔ یہ تو نہیں کہ مرد بدمعاش ہو اور وہ کہہ دے کہ عورت میری بڑی نیک ہونی چاہیے، نہیں یہ نہیں ہو سکتا۔ جب ایسی باتیں ہوں گی، تو پھر طلاقیں نہیں ہوں گی، سوچ بدل جائے گی۔ اسی طرح عورت جب دیکھے گی کہ مَیں نے رشتہ کرنا ہے تودیندار سے کرنا ہے، بجائے اس کے کہ مَیں یہ دیکھوں کہ اس کے پاس فلاں ماڈل کی کار ہے کہ نہیں، اپنا گھر ہے کہ نہیں۔ حضورِ انورنے اس عمومی معاشرتی رویّے کی بھی نشاندہی فرمائی کہ ماں باپ پہلے ہی شرط لگا دیتے ہیں کہ اچھا ! ہماری بیٹی تمہارے گھر جا رہی ہے، بتاؤ تم علیحدہ گھر میں رہو گے یا سسرال کے ساتھ رہو گے؟ اب چھ مہینے سال دو سال بعدبھی اگر اس کے اتنے حالات نہیں ہیں کہ وہ علیحدہ گھر لے سکے یا کرائے پر بھی لے سکے تو وہ کہیں گے کہ تم نےسسرال کے ساتھ رہنا ہے، ہماری بیٹی سسرال میں نہیں رہ سکتی، کچھ دیر تو برداشت کرنا پڑتا ہے۔ تو لڑکیوں کو برداشت کرنا چاہیے، ذرا سی بات پر وہ بھی خُلع لے لیتی ہیں۔
حضورِانورنے آخر میں اپنے اندر حقیقی روحانی تبدیلی پیدا کرنے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے سوچ میں تبدیلی لانے اور دین کو دنیاوی معاملات پر مقدّم رکھنے کی بابت تلقین فرمائی کہ یہ دونوں طرف کی سوچیں ہیں، سوچیں بدلو، دین پیدا کرو، اللہ تعالیٰ کا خوف دل میں پیدا کرو، اپنے آپ کو یہ سمجھو کہ ہم نے اس زمانے میں جب زمانے کے امام کو مانا ہے تو ہم نے اپنے اندر ایک روحانی تبدیلی بھی پیدا کرنی ہے، ہم نےصرف دنیا ہی نہیں کمانی۔ اب ناروے ہم آ گئے ہیں، تو یہ نہیں ہے کہ ہم یہی سارا وقت گنتے رہیں کہ اتنے کرونے ہماری کمائی ہو گئی، ہمارے پاس گھر ہے کہ نہیں، mortgage پر ہم نے گھر لے لیا کہ نہیں لیا، ہمارے پاس کار اچھی ہے کہ نہیں، میری اچھی job ہے کہ نہیں، خاوند اپنا کام کر رہا ہے، عورت اپنا کام کر رہی ہے اور پیسے کما رہی ہے اور بچے neglect ہو رہے ہیں، تو یہ تو کوئی بات نہیں ہے۔ یہ چیزیں سوچنی پڑیں گی، تو سوچیں دونوں طرف کی ہیں، اگر دونوں طرف کی سوچیں ٹھیک ہو جائیں، اللہ تعالیٰ کا خوف دل میں پیدا ہو جائے، دین کو دنیا پر مقدّم رکھنے کا عہدبڑا زور سے کھڑے ہو کے دُہراتےہو، تو ُاس پر عمل کرنے لگ جاؤ، جو بات کہتے ہو اُس پر practice بھی تو ہونی چاہیے، تو پھر نہ خُلع ہوگا، نہ طلاق ہوگی، نہ خوف ہوگا، بے شک جا کے آرام سے شادی کرو۔
ایک شریکِ مجلس نے دریافت کیا کہ مَیں دوسروں، مثلاًغیر احمدی مسلمان یا دہریوں، کو اسلام احمدیت کا پیغام مؤثر اورحکمت کے ساتھ کس طرح سمجھا یا سکھا سکتی ہوں؟
اس پر حضورِ انورنے فرمایا کہ آپ خود احمدیت قبول کر چکی ہیں اور آپ کو اس کا جواب مجھ سے بہتر معلوم ہے۔ آپ نے اسلام کیوں قبول کیا؟آپ جانتی تھیں کہ اس میں اچھائی ہے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی بعض پیشگوئیوں میں بتایا گیا تھا کہ آخری زمانے میں چودھویں صدی میں ایک شخص آئے گا، جو دین ِاسلام کو دوبارہ زندہ کرے گا، کیونکہ آخری زمانے میں لوگ اسلام کی حقیقی تعلیمات کو بھول جائیں گے اور وہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بطور تابع مبعوث ہو گا، جسے مسیح اور مہدی کے خطاب سے پکارا جائے گا۔
حضورِ انورنے مسلمانوں کے مسیح و مہدی کے عمومی تصوّر کے بارے میں بھی بیان فرمایا کہ باقی تمام مسلمان ابھی تک مہدی اور مسیح کے انتظار میں ہیں، لیکن وہ سمجھتے ہیں کہ یہ دو مختلف ہستیاں ہیں۔ مہدی ایک الگ شخص ہے اور مسیح ایک الگ شخص۔ وہ سمجھتے ہیں کہ مسیح آسمان سے اُترے گا اور مہدی کہیں شام یا کسی اور جگہ ظاہر ہو گا۔ پھر وہ تلوار لے کر نکلے گا اور خونریزی کرے گا اور صلیبیں توڑ دے گا، تو وہ دنیا کے ایک سرے سے دوسرے سرے تک، جنوب سے شمال اور مغرب سے مشرق تک صلیبیں توڑنے میں مصروف رہے گا، پھر وہ اپنی پوری زندگی صلیبیں توڑنے اور سؤر مارنے میں گزار دے گا۔لہٰذا یہ کوئی معقول بات نہیں ہے، اس لیےآپ انہیں کہہ سکتی ہیں کہ دین میں عقل اور سمجھ ہونی چاہیے اور اسلام کا مذہب دانائی سے عاری نہیں۔ تو مَیں نے اسلام اس لیے قبول کیا ہے، کیونکہ مجھے لگا کہ احمدیہ جماعت کے پیش کردہ دلائل ہی اسلام کی حقیقی تعلیمات ہیں اور وہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی پیشگوئیوں کو پُورا کرتے ہیں، اس لیےاگر آپ ان باتوں کو سمجھنے کی کوشش کریں گے تو پھر آپ انہیں قبول بھی کر سکیں گے۔
پھر انہیں بتائیں کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اسلامی تعلیمات کے دفاع میں لٹریچر پیش کیا ہے اور اسلام کی تعلیمات کو حقیقی معنوں میں بیان اور واضح کیا ہے اور یہی وجہ ہے کہ اب مَیں نے اسے سمجھا ہے اور مَیں نے اسے قبول کیا ہے۔ ہم مسلمان ہیں، ہم ایک قادرِ مطلق خدا پر ایمان رکھتے ہیں، ہم توحید پر ایمان رکھتے ہیں اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو خاتم النبیینؐ مانتے ہیں اور ہم مانتے ہیں کہ قرآنِ کریم آخری شرعی کتاب ہے، اب کوئی نئی شریعت نہیں آ سکتی، لیکن آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی پیشگوئیوں کے مطابق مسیح موعود علیہ السلام آ چکے ہیں اور انہوں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے خادم اور تابع ہونے کا دعویٰ کیا ہے تا کہ اسلام کی حقیقی تعلیمات کو از سرنو زندہ کیا جا سکے۔
جواب کے آخر میں حضورِ انورنے اس بات پر زور دیا کہ اگر آپ اس طرح سمجھائیں گی، تو وہ سمجھ جائیں گے، جو نیک فطرت ہوں گے، وہ قبول کر لیں گے، جیسا کہ آپ ہیں۔ اگر نہ کریں تو یہ ان کی مرضی ہے۔ ہمارا کام اسلام کا پیغام پھیلانا ہے۔ یہی قرآن کریم کہتا ہے، یہی اللہ تعالیٰ فرماتا ہے، یہاں تک کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے بھی یہی فرمایا گیا کہ تمہارا کام صرف بَلِّغْ یعنی اسلام کا پیغام پہنچانا ہے، اور اب کون ہدایت پاتا ہے، یہ اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں ہے۔ ( باقی آئندہ ۔۔)
(بحوالہ روزنامہ الفضل 18 اکتوبر 2025ء)