مورخہ5؍اکتوبر2024ء بروز ہفتہ حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کے ساتھ مجلس خدام الاحمدیہ جرمنی کے ریجن ساؤتھ ایسٹ ہیسن کی مجلس عاملہ کے اراکین کواسلام آباد،ٹلفورڈ، میں قائم ایم ٹی اے سٹوڈیوز میں بالمشافہ ملاقات کی سعادت حاصل ہوئی۔ خدام نے خصوصی طور پر اس ملاقات میں شرکت کی غرض سےجرمنی سے برطانیہ کا سفر اختیار کیا۔
ملاقات کا باقاعدہ آغاز دعا سے ہوا بعدہٗ حضور انور نے ازراہ شفقت سوالات پیش کرنیکی اجازت مرحمت فرمائی۔
ناظم مال نے دریافت کیا کہ ہم جماعت کے اموال کو کیسے صحیح طریق پر خرچ کر سکتے ہیں اور اگر کبھی غلط خرچ ہوتا دیکھیں تو کیا کر سکتے ہیں؟
جماعت میں قاعدہ بنا ہوا ہے کہ اگر کوئی مالی بےقاعدگی ہوتی ہے اور کسی کے ذمے رقم نکل آتی ہے کہ اس نے غلط طور پر استعمال کی ہو تو وہ اسےادا کرے۔ اس کو فوری طور پر عہدے سے ہٹا دیا جاتا ہے اور اگر زیادہ رقم ہے اور وہ within time limit ادا نہیں کر رہا تو اس کا اخراج بھی ہو جاتا ہے۔ اور اگر وہ ادا کر دیتا ہے تو پھر اخراج معاف ہو جاتا ہے۔ پھر ایک قاعدہ یہ بھی ہے کہ کوئی بھی سزا، عہدے نہ دینے یا اخراج کی، جو اس کو ملی ہو، وہ سزا جب مکمل ہو جائے، مطلب کہ ایک آدمی اپنی غلطی تسلیم کر لے اور ادائیگی کر دے، غبن یا مالی معاملات میں کسی قسم کی غلط بات کی، تو پھر بھی اس کو تین سال تک کوئی عہدہ نہیں دیا جاتا۔تو جماعتی نظام تو اس طرح بنایا گیا ہے کہ جماعت کو محفوظ طریقے سے رکھا جائے، جس حد تک مال محفوظ ہو سکتا ہے۔
حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا کہ مجھے یہ فکر نہیں ہے کہ مال کہاں سے آئے گا، اللہ تعالیٰ نے مجھ سے وعدہ کیا ہوا ہے کہ مال مَیں تمہیں دوں گا اور جماعتی کام چلتے رہیں گے اور اس کی مجھے کوئی فکر نہیں۔ مجھے فکر صرف یہ ہے کہ جب میرے بعد جو لوگ آئیں گے، وہ جو مال آئے گا، اسے دیکھ کر لالچ نہ پیدا ہو جائے، اس کو صحیح طرح خرچ کرنے والے بھی ہوں گے، اس کا صحیح مصرف ہو گا، اس کو صحیح طرح پھر ہر جگہ خرچ کیا جائے گا، جو دیا جائے گا اس کو مناسب طور پر خرچ کریں گے۔ مجھے یہ فکر ہے۔
پس ایمانوں کی فکر کرنی چاہئے اور یہی حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو فکر تھی۔ اس لئےدعا یہی کرنی چاہئے کہ جو کام کرنے والے، خاص طور پر مال کا کام کرنے والے اور ہر خدمت کرنے والے ہیں، ان کا اللہ تعالیٰ ایمان محفوظ رکھے اور ایمان محفوظ رکھنے کے ساتھ ساتھ ان میں خوفِ خدا بھی پیدا ہو، اس حد تک کہ کبھی ان کے دل میں یہ خیال نہ آئے کہ مَیں نے کسی بھی طریقے سے جماعتی اموال کا غلط استعمال کرنا ہے۔ اور نہ کبھی کسی بھی خدمت کرنے والے کو یہ خیال آئے کہ مَیں اپنی خدمت سے اتنی بے اعتنائی کروں کہ اس کا صحیح طرح حق ادا نہ ہو سکے۔
ہر عہدیدار،عہدیدار ہم کہتے ہیں لیکن اصل میں وہ خدمت گزار ہے، ہر خدمت کرنے والا، جس کے سپرد کوئی کام کیا جاتا ہے، اس کو حضرت مصلح موعودؓ نے اپنی نظم میں فرمایا ہے کہ ’’اِک فضل الٰہی جانو‘‘ اس کو فضلِ الٰہی سمجھو اور اس کے مطابق جو تمہاری صلاحیتیں ہیں، جو تمہارا علم ہے، جو تمہاری استعدادیں ہیں، ان کو خرچ کر کے اس کام کو سرانجام دینے کی کوشش کرو۔ تو ہر کام جماعت کا، چاہے وہ اموال کے رکھنے کا کام ہے، مال کے خرچ کرنے کا کام ہے، تبلیغ کا کام ہے، تربیت کا کام ہے یا کوئی بھی شعبہ جو کسی کے سپرد کیا جاتا ہے، وہ ایک امانت ہے اور ہر ایک کو اس امانت کا حق ادا کرنا چاہئے۔ اسی لئے اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ تمہارے سپرد جو امانتیں کی گئی ہیں، اس کے بارے میں تم سے پوچھا جائے گا۔
قائد مجلس Seligenstadt نے سوال کیا کہ ہم ان خدام کو جماعت کے قریب کیسے لا سکتے ہیں جوجماعت کے کسی عہدیدار کے غلط فیصلہ کیوجہ سے جماعت سے دُور ہو گئے ہوں؟
اس کے جواب میں حضورانور نے فرمایا کہ پہلی بات تو یہ ہے کہ ان کو کہو کہ آپ نے اس عہدیدار کی بیعت نہیں کی ہوئی۔ دین کا معاملہ انسان کا اللہ تعالیٰ کے ساتھ ہے۔ اور اللہ تعالیٰ کو حاضر ناظر جان کے ہم نے یہ تسلیم کیا کہ آنحضرت ﷺ آخری نبی ہیں اور آخری کامل شریعت لے کے آئے ہیں۔ اور ہم نے یہ تسلیم کیا کہ آپؐ کی پیشگوئی کے مطابق حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام آئے اور دین کی اصلاح کے لئے آئے، لوگوں کو صحیح دین سکھانے کے لئے آئے۔
آپؑنے فرمایا کہ تم لوگوں نے میری بیعت کی ہے تو پھر اس کا حق ادا کرو۔ بلکہ ایک جگہ یہ فرمایا کہ بیعت کر کے میرا نام لے کے، میرے ساتھ منسوب ہو کے، میرے ساتھ attach ہو جانے کے بعد پھر مجھے بدنام نہ کرو۔ یہاں تک آپؑنے فرمایا، بڑے درد سے فرمایا کہ مجھے بدنام نہ کرو۔ اس کا مطلب ہے کہ ہماری ہر ایک کی کوشش یہ ہونی چاہئے کہ ہم نیک کام کریں۔ عہدیدار جو ہیں، وہ نیک کام کریں، اپنے نمونے قائم کریں۔
لوگوں کو یہ سمجھاؤ کہ تم نے بیعت مسیح موعودؑ کی کی ہوئی ہے، اس عہدیدار کی نہیں کی۔ یہ عہدیدار دو، تین سال کے لئے منتخب کیا گیاہے کل کو یہ ہٹ جائے گا، لیکن تم پیچھے ہٹ کر اپنا پورا دین ضائع کر دو گے۔ اس لئے اللہ تعالیٰ سے دعا کرو کہ اللہ تعالیٰ اس کے شرّ سے تمہیں محفوظ رکھے، اور یہ لوگوں کو سمجھاؤ، اور اللہ تعالیٰ بہتر لوگ تمہارے لئے پیدا کرے، جو بہتر کام کرنیوالے ہوں، وفا کیساتھ کام کرنیوالے ہوں، اخلاص کیساتھ کام کرنیوالے ہوں، لوگوں کا درددِل میں رکھتے ہوئے کام کرنیوالے ہوں۔
ہاں! اگر کوئی عہدیدار ایسی غلطی کر رہا ہے جس کی وجہ سے بیشمار نقصان ہو رہا ہے، تو پھر اس کو بدل بھی دیا جاتا ہے۔ ضروری نہیں ہے کہ ایک شخص جو دو سال کے لئے یا ایک سال کے لئے یا تین سال کے لئے عہدیداربنایا گیا ہے، وہ ضرور اپنا عرصہ پورا کرے اس سے پہلے بھی ہٹایا جا سکتا ہے۔
تربیت کرو، اپنے قریب لاؤ، قریب لانے کی کوشش کرنی چاہئے۔ پاکستان میں ایک نائب ناظر اصلاح و ارشاد تھے۔ انہوں نےبتایا کہ حضرت مرزا شریف احمد صاحب رضی الله عنہ، جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے سب سے چھوٹے بیٹے تھے، وہ ناظر اصلاح و ارشاد ہوتے تھے۔ کہتے ہیں کہ جب مَیں مربی بن کے دفتر میں آیا اور عہدہ میرے سپرد ہوا تو انہوں نے مجھے بلا کے کہا کہ بات سنو!ایک بات یاد رکھنا کہ کسی کو اپنے رویے کی وجہ سے جماعت سے دَوڑانا بہت آسان کام ہے۔ تم اپنے رویے کی وجہ سے یا غلط باتیں کر کے اس کو جماعت سے دُور ہٹا دو گے، یہ بڑا آسان کام ہے، لیکن کسی کو جماعت کے اندر لے کے آنا، تبلیغ کر کے اس کو احمدی بنانا یا اس کے ایمان میں اضافہ کرنا، یہ بہت مشکل کام ہے۔
اس لئے تم کوشش کرو کہ تم نے لوگوں کو ایمان سے دَوڑانا نہیں ہے، ان کا ایمان مضبوط کرنا ہے اور ان کو نظام کے اندر اور سسٹم میں زیادہ بہتر طور پر absorbکرنا ہے۔ تو اس لئے لوگوں کو بھی سمجھاؤ، دعا بھی ان کے لئے کرو، اور ان سے بھی کہو کہ آپ دعا کریں بجائے اس کے کہ اپنے ایمان کو ضائع کریں۔
قائد مجلس Neu-Isenburgنے عرض کیا کہ کل کے خطبہ میں دنیا کے بگڑے ہوئے حالات کے پیش نظرحضور نے فرمایا ہے کہ ہر احمدی کو اللہ تعالیٰ سے تعلق میں بڑھنا ہو گا۔ پیارے آقا! ہم خدام کس طرح اللہ تعالیٰ کیساتھ اپنا تعلق بڑھا سکتے ہیں؟
حضورانور نے فرمایا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا ہے کہ مَیں دو ہی مقصد لیکر آیا ہوں۔ ایک یہ کہ بندے کو خدا تعالیٰ کے قریب کرنا اور اس کا صحیح عبد بنانا اور دوسرا یہ کہ انسان انسانیت کے حقوق ادا کرے، دوسرے کا حق ادا کرے۔ عبادت کا حق ادا کرواور جو اللہ تعالیٰ نے احکامات دئیے ہیں، ان کو پورا کرنے کی کوشش کرو۔اس میں پہلی چیز نماز اور دعا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے پانچ وقت نمازیں فرض کی ہیں، ان کو ادا کرو۔ اس میں روکر دعا مانگو کہ اللہ تعالیٰ ہمیں صحیح رستے پر چلائے۔ اللہ تعالیٰ نے نماز کی ہر رکعت میں شروع میں ہی سورۂ فاتحہ پڑھنے کا حکم دے دیا ہے، جس میں ہم بار بار اِھْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِیْمَ۔صِرَاطَ الَّذِیْنَ اَنْعَمْتَ عَلَیْھِمْ کہتے ہیں۔ہمیں سیدھے رستے پر چلا۔ ان لوگوں کے رستے پر جن پر تیرا اِنعام ہوا، نہ وہ جو بگڑ گئے یا نہ وہ جو گمراہ ہو گئے، یا وہ جو تیری سزا کا موجب بن گئے۔ ایسے لوگوں میں سے ہم نہ بنیں۔
مَیں نے پچھلے دنوں میں مختلف دعائیں بھی بتائی تھیں کہ درود شریف اور اِستغفار اور رَبِّ کُلُّ شَیْءٍ خَا دِ مُكَ پڑھو۔ جب یہ دعا کرو گے، غور کر کے پڑھو گے تو تم لوہے کے ایک محفوظ قلعہ میں آ جاؤ گے۔ اپنے آپ کو محفوظ کرنے کے لئے درود شریف پڑھو اور نیک کام کرو۔ تو اللہ کے قریب ہونا ہی ہمارا کام ہے اور جب ہم اللہ کے قریب ہوں گے تو پھر اللہ تعالیٰ ہماری دعائیں بھی سنے گا اور ہمیں اس آگ سے بچا لے گا جو دنیا میں پڑ رہی ہے۔
قائد مجلس Rödermark نے حضورانور کی خدمت میں عرض کیا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی پیشگوئی کے مطابق ایک وقت آئے گا کہ لوگ جوق در جوق احمدیت میں داخل ہوں گے۔ ہم اس کی تیاری کے لئے ابھی کیا کر سکتے ہیں؟
حضورانور نےفرمایا کہ دعا کریں کہ اللہ تعالیٰ وہ وقت ہماری زندگیوں میں ہی لے آئے۔
حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا کہ تمہارے پر تین سَو سال نہیں گزریں گے جب تم دیکھو گے کہ دنیا کی ایک بڑی تعداد اسلام احمدیت میں داخل ہو جائے گی۔تو ابھی ہمیں ایک سَو تیس سال ہو گئے ہیںضروری نہیں ہے کہ دو سَو نوے سال کے بعد ہی احمدیت پھیلے۔ ہم کوشش کریں، اگر اپنے اعمال ٹھیک رکھیں اور اللہ تعالیٰ سے دعا کریں، اللہ تعالیٰ سے تعلق پیدا کریں، اپنی روحانیت میں بڑھنے کی کوشش کریں، اپنی عبادتوں کے حق ادا کرنے کی کوشش کریں، جس طرح مَیں نے ابھی بتایا، اپنے ہمسایوں اور لوگوں کے حقوق ادا کرنے کی کوشش کریں، جس کے لئے حضرت مسیح موعود علیہ السلام آئے تھے، عبادت کے معیار اونچے کریں تو اللہ تعالیٰ اس سے پہلے بھی ہمیں وہ دن دکھا سکتا ہے۔
لیکن اس کیلئے ہمیں اپنے نمونے قائم کرنے ہونگے۔ یہ نہیں کہ ہم تو صبح سے لیکر شام تک انٹرنیٹ پر اپنی مرضی کے پروگرام دیکھتے رہیں، یا گیمیں کھیلتے رہیں، یا سوشل میڈیا پر بکواس سنتے رہیں اور بکواس کرتے رہیں اور پھر کہیں کہ اللہ میاں فتح نہیں آئی۔ فتح کہاں سے آئے گی؟ فتح تو آئے گی اللہ تعالیٰ کے سامنے سر ٹکانے سے اور اسکے پیغام کو پہنچانے سے۔
ہاں!سوشل میڈیا کا استعمال کرنا ہے تو تبلیغ کرنے کے لئے کرو۔ لوگ جرمنی میں اسلام کے خلاف ہو گئے ہیں، اسلاموفوبیا ہو گیا ہے، تو یہ سارے خدام اگر مل جائیں، بارہ ہزار خدام اگر سوشل میڈیا پر جا کر اللہ تعالیٰ کا پیغام پہنچائیں کہ بندوں کے حق ادا کرو، اللہ تعالیٰ یہ کہتا ہے میری عبادت کرو، تمہارے بچنے کیلئے یہ ذریعہ ہیں۔ اگر یہ بھرمار کر دو تو سارے جرمنی کو تم coverکر لو گے۔ کسی کو پھر یہ کہنے کی شکایت بھی نہیں رہےگی کہ مجھ تک پیغام نہیں پہنچا۔
فرمایا: کل ہی بتایا تھا کہ صحابہؓ بھوکے رہ رہے تھے، کپڑے اتنے تھے کہ سردی سے بچنے کے لئے نہیں، باہر بیٹھے ہوئے زبانیں تک جم گئی تھیں، بول نہیں سکتے تھے، آنحضرت ﷺ کے بلانے پر بھی نہیں بول سک رہے تھے۔ اس وقت پھر کیا ہوا؟ اللہ تعالیٰ نے کہا فتح آرہی ہے، فکر نہ کرو۔ فِیْ دِیْنِ اللّٰہِ اَفْوَاجًا، دین میں فوج در فوج لوگ آئیں گے اور وہ پھر آئے۔ تو یہی حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے بھی اللہ تعالیٰ کا وعدہ ہے، کیونکہ آپؑآنحضرت ﷺ کے غلام کی حیثیت سے آنحضرت ﷺکے دین کو پھیلانے کے لئے آئے ہیں۔
قائد مجلس بیت الباقی نے دریافت کیا کہ پیارے حضور! وہ خدام بھائی جن کا کئی سال کا چندہ بقایا ہے اگر وہ کہتے ہیں کہ ہمارا بقایا معاف کر دیا جائے تو ہم چندہ دینا شروع کر دیں گے، ایسے بھائیوں کے ساتھ ہم کیسےdeal کر سکتے ہیں؟
حضورانور نے اس پر فرمایا کہ بڑے ایماندار لوگ ہیں۔ ان کو تو شاباش دو اور ان کو عزت دو، ان کا احترام کرو کہ تم نے سچ بولا اور اپنی حالت بتا دی کہ پچھلا بقایا ہم دے نہیں سکتے اور وہ ختم کر دو۔ تو صدر مجلس کو اختیار ہے کہ وہ ان کا چندہ ختم کر دے اور آئندہ سے ان سے کہو کہ باقاعدگی سے اپنی آمد کے مطابق دیتے رہیں۔خدام الاحمدیہ کے چندے کی بات نہیں، جماعتی چندے بھی اگر کوئی سمجھتا ہے کہ مَیں نہیں دے سکتا اور معاف کر دیے جائیں تو وہ معاف کر دیے جاتے ہیں۔ لیکن ایک شرط دیکھی جا سکتی ہے، کیونکہ اس کا معیار چندے کا وہ نہیں ہے، اس لئے وہ دو یا تین سال کے لئےعہدیدار نہیں بن سکتا۔
جماعت احمدیہ ظالم نہیں ہےکہ ایک بندہ بھوکا مر رہا ہے اور کہنا کہ نہیں تم نے چندہ ضرور دینا ہے۔ جو نہیں دے سکتا، وہ ایمانداری سے لکھ کے دے دے کہ مَیں نہیں دے سکتا یا مَیں کم شرح سے دے سکتا ہوں۔ اگر جماعتی چندہ بھی ہےاور وہ کہتا ہے کہ مَیں 16/ 1 نہیں دے سکتا، اس سے کم دینا چاہتا ہے تو دے دے۔اگر کوئی معاف کروانا چاہتا ہے، تو پچھلا معاف ہو جاتا ہے، پھر آئندہ سے وہ دیتا رہے۔ اگر یہ کہے کہ میرے میں اتنی بھی ہمت نہیں ہے کہ مَیں باقاعدہ دے سکوں، تو اگر ایک فیصد ہے تو آدھا فیصد دے دے۔ صدر خدام الاحمدیہ اس کی اجازت دے سکتے ہیں۔ سوائے وصیت کے چندے کے۔ وصیت میں کیونکہ اس نے ایک عہد کیا ہوتا ہے کہ مَیں یہ دونگااور خود اپنی مرضی سے ایک عہد کیا ہوتا ہے، اس لئے وہ لازمی ہے اور اتنا دینا پڑتا ہے۔ باقی چندہ عام بھی معاف ہو جاتا ہے، خدام الاحمدیہ کا چندہ تو معمولی چیز ہے۔ان کو قریب لاؤ، صرف چندے کی وجہ سے ایک احمدی کا ایمان ضائع نہیں ہونا چاہئے، جب وہ ایمان میں بڑھے گا تو وہ چندہ دینے کی خود بخود عادت پیدا کر لے گا۔
بہت سارے لوگ ہیں جو مجھے لکھتے ہیں کہ ہمارا چندہ معاف کر دیں تومَیں معاف کر دیتا ہوں۔ بعض لوگوں کا چھ مہینے کے بعد دوبارہ خط آ جاتا ہےکہ ہمارے سے غلطی ہو گئی، ہم نے چندہ معاف کروایا، ہم پورا چندہ دیں گے کیونکہ اس کے بعد سے ہمارے کام میں بے برکتی پڑ گئی ہے۔ تو ہمیں اپنا وہ پہلا حکم وہ کینسل کر دیں اور ہمیں اجازت دیں کہ ہم پورا چندہ دیا کریں۔
ریجنل ناظم خدمت خلق نے سوال کیاکہ موجودہ حالات میں، جہاں مغربی معاشرے میں اسلام کے خلاف نفرت پھیل رہی ہے، خدام کو تبلیغ کے لئے کون سے مناسب طریقے اپنانے چاہئیں۔ ایسے حالات میں لوگوں کو اسلام کی طرف کیسے مائل کیا جا سکتا ہے؟
حضورانور نے اسکے جواب میں اسلام کی حقیقی تعلیمات کو پہنچانے کیلئے ذاتی نمونہ قائم کرنیکی اہمیت پر زور دیا۔فرمایا اگر مسلمان محبّت، ہمدردی اور امن کا مظاہرہ کریں اور اللہ کے حقوق کے ساتھ اس کی مخلوق کے حقوق کو بھی ادا کریں، جیسا کہ جماعت مسلسل کوشش کرتی ہے، تو لوگ یہ پہچان لیں گے کہ اسلام میں ظلم کبھی بھی جائز نہیں رہا۔
حضورانور نے اسلام کے پیغام کو جو کہ امن، محبّت، اور صلح کی تعلیم دیتا ہے، عام کرنے کی ہدایت فرمائی اور ان غلط فہمیوں کو دُور کرنے پر زور دیا جو اسلام کو بدنام کرتی ہیں۔ نیز وضاحت فرمائی کہ اسلام نے کبھی بھی جارحانہ کارروائیاں نہیں کیں اور نہ ہی ظلم و ستم روا رکھا۔ یہاں تک کہ جنگ کے دوران بھی سخت اخلاقی اصول قائم کیے گئے تھے کہ نہ تو عورتوں، پادریوں، بچوں یا غیر جنگجوؤں کو نقصان پہنچایا جائے اور نہ ہی ذاتی یا قدرتی املاک کو تباہ کیا جائے اور ہر قسم کے ظلم سے بچا جائے۔
حضورانور نے توجہ دلائی کہ بنیادی کام یہ ہے کہ امن کا پیغام زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچایا جائے۔ دوسروں کو بتایا جائے کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو مسلمانوں اور دوسرے مذاہب کے پیروکاروں کی راہنمائی کے لئے بھیجا ہے تاکہ وہ امن اور محبّت کی راہ پر چلیں۔ انتقام اور بدلہ لینے سے کچھ حاصل نہیں ہوتا۔
حضورانور نے جہاد کے بارے میں غلط فہمیاں دُور کرتے ہوئے وضاحت فرمائی کہ جماعت احمدیہ مسلمہ جہاد کے حق میں ہے اگر اس کی صحیح تفہیم کی جائے۔ نبی کریم صلی الله علیہ وسلم نے ایک جنگ سے واپس آتے ہوئے فرمایا کہ چھوٹے جہاد سے بڑے جہاد کی طرف منتقل ہونا چاہئے یعنی قرآن مجید کے ذریعے اسلام کو پھیلانے اور ذاتی اصلاح کی جدوجہد نہ کہ ظاہری جنگ کے ذریعے۔ تلوار کے استعمال کی اجازت صرف ذاتی دفاع میں دی گئی تھی۔
حضورانور نے تبلیغ کی اہمیت پر زور دیا، کیونکہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام خاص طور پر اس کیلئے بھیجے گئے تھے۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا کہ
دیں کے لئے حرام ہے اب جنگ اور قتال
اب جنگ اور قتال دین کیلئے حرام ہیں۔مذہبی مقاصد کے لئے جنگوں کا خاتمہ ہو چکا ہےاور حضرت مسیح موعود علیہ السلام مبعوث ہوئے تاکہ ایسے تنازعات کا خاتمہ کریں، جیسا کہ حدیث میں ذکر ہے کہ مسیح موعود جنگوں کا خاتمہ کرے گا، اس لئے دین کی پُرامن تبلیغ پر زور دیا گیا۔
حضورانور نے خدام کو ترغیب دلائی کہ اگر انکی تعداد بارہ ہزار ہےاور ہر ایک اگر سَو لوگوں کو پیغام پہنچانے کی ذمہ داری لے تو وہ ایک سال میں بارہ لاکھ افراد تک پہنچ سکتے ہیں۔ یہ کوشش ایک غیر معمولی اثر مرتب کرسکتی ہے۔ بایں ہمہ حقیقی خادمِ دین بننے کےلئے انہیں اس تناظر میں منصوبہ بندی کرنے کی تاکید کرتے ہوئے فرمایاکہ جیسا کہ مَیں نے ذکر کیا، آپ کی تعداد بارہ ہزار ہے، اگر بارہ ہزار افراد تبلیغ شروع کریں تو ان کے اندر انقلاب پیدا کرنے کی صلاحیت ہے۔ اگر آپ اس انقلابی کوشش کے لئے عزم کریں تو یہ واقعی ممکن ہے۔ اگر ہر ایک سَو افراد تک پہنچنے کی ذمہ داری لے تو صرف ایک سال میں یہ بارہ لاکھ لوگوں کی تعداد بنتی ہے۔ آپ نے ایک سال میں بارہ لاکھ افراد تک پیغام پہنچا دیا۔ اور جب آپ یہ پیغام بارہ لاکھ لوگوں تک پہنچائیں گے تو وہ بارہ لاکھ آگے بڑھیں گے، جو اٹھاون لاکھ تک پہنچ جائیں گے۔ لہٰذامنصوبہ بندی کریں۔ یہ خدام الاحمدیہ کا کام ہے۔ آپ خود کو خدام الاحمدیہ کہتے ہیں یعنی احمدیت کے خادم، اس لئے دین کے حقیقی خادم بنیں۔
ملاقات کے اختتام پر حضور انورنے از راہِ شفقت خدام کو گروپ تصویربنوانے کا شرف بخشا اور اس طرح سے یہ ملاقات بخیر و خوبی انجام پذیر ہوئی۔
(بشکریہ الفضل انٹرنیشنل 19 اکتوبر 2024ء)
…٭…٭…٭…