اردو   हिंदी   বাংলা   ಕನ್ನಡ   മലയാളം   ଓଡ଼ିଆ   தமிழ்   తెలుగు  




.

2025-10-09

سیّدنا حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کے ساتھ واقفات نو سکاٹ لینڈ کے ایک وفد کی ملاقات

مورخہ23جون2024ء کو حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کے ساتھ سکاٹ لینڈ کی واقفاتِ نَوکے ایک وفد کو اسلام آباد (ٹلفورڈ) میں قائم mta سٹوڈیوز میں بالمشافہ ملاقات کی سعادت حاصل ہوئی، جنہوں نے خصوصی طور پر اس ملاقات میں شرکت کی غرض سے سکاٹ لینڈ سے برطانیہ کا سفر اختیار کیا ۔
پروگرام کا آغاز تلاوت قرآنِ کریم سے ہوا حدیث نبوی ﷺ اور نظم پیش کرنیکے بعد واقفاتِ نَو کو حضور انور سے سوالات پوچھنے کا بھی موقع ملا۔
ریجنل کوآرڈینیٹر واقفات نو سکاٹ لینڈ نے سوال کیاکہ کلاسز میں ہم ان واقفات کی حاضری کیسے بہتر کر سکتے ہیں جو شادی شدہ ہیں اور گھر کے کاموں اور بچوں کی وجہ سے کلاسز میں شامل نہیں ہو پاتیں؟
اِسپر حضور انور نے معاونہ صدر برائے واقفات نو کی مثال پیش کرتے ہوئے فرمایا کہ یہ شادی شدہ ہیں اور تین بچوں کی ماں ہیں، پھر بھی وقت نکال کر کلاسز کرواتی ہیں۔یہ توارادے کی بات ہے۔ اگر ارادہ ہو کہ ہم نےشامل ہونا اور وقت نکالنا ہے تو لوگ وقت نکال لیتے ہیں۔جب بہت چھوٹے بچے ہوتے ہیں تو عارضی طور پر کچھ وقت کیلئے رخصت لی جا سکتی ہےاور کہا جاسکتا ہے کہ مَیں ابھی نہیں آ سکتی یا فلاں وقت نہیں آ سکتی۔ لیکن اس بات کو عادت بنا لینا کہ میرے بچے ہیں اس لئے مصروف ہوں اورمَیں نہیں آسکتی یہ درست نہیں۔
جب وقف کیا ہے تو پھر اپنے آپ کو تکلیف میں ڈال کر کام کرنا ہے۔ اگر آسانی ہوتی تو ہر ایک کیوں نہ وقف کر دیتا۔ وقف کرنے کا تومطلب ہی یہی ہے کہ جب بھی مجھے اللہ تعالیٰ کی خاطر یا جماعت کےکسی کام کے لئے بلایا جائے گا یا میری بہتری کے لئے کوئی جماعتی پروگرام ہو گا تو مجھے تکلیف بھی برداشت کرنی پڑی تو مَیں اس میں ضرور شامل ہوں گی۔
فرمایا: اگر بچوں، لڑکیوں اور لڑکوں کی بھی تربیت بچپن سے ہی ہو اور ان کو پتا ہو کہ بحیثیت وقف نو ہماری کیا اہمیت اور ڈیوٹیز ہیں نیز جماعت کو ہم سے کیا expectationsہیں تو پھر ہی وہ یہ سب امور بہتر طور پر سرانجام دے سکتے ہیں۔ تو تربیت کی ضرورت ہے، تربیت کرتے رہو، مگر پیار سے، سختی سے نہیں۔
بعد ازاں ایک بارہ سالہ بچی نے حضور انور سے دریافت کیا کہ فرض نماز کے بعد ہم تسبیح پڑھتے ہیں۔ اس حوالے سے تینتیس، تینتیس اور چونتیس کے اعداد میں کیا اہمیت اور حکمت ہے اور کیا وجہ ہے کہ فرض نمازکی تیسری اور چوتھی رکعت میں سورۃالفاتحہ کے بعد کوئی بھی سورت نہیں پڑھی جاتی؟
اس پر حضور انور نے فرمایاکہ ایک دفعہ آنحضور ﷺ کے غریب صحابہؓ کا ایک گروہ آپؐکے پاس آیا اور انہوں نے کہا کہ امیر لوگ ایسے ہیں جو ہر قسم کی قربانیاں کرتے ہیں،لیکن ہمارے پاس اتنا مال نہیں ہے کہ ہم بھی بڑھ چڑھ کر مالی قربانی میں حصہ لیں۔ تو آنحضور ﷺنے فرمایا کہ مَیں آپ کو ایک بات بتاتا ہوں جس کے کرنے سے ایسا ہی ہو گا کہ گویا آپ نے بھی انہی کی طرح ہر قسم کی قربانی میں حصہ لیا ہو۔ آپؐنے فرمایا کہ ہر نماز کے بعد اللہ اکبر چونتیس، الحمد للہ تینتیس اور سبحان اللہ تینتیس دفعہ پڑھیں۔اس طرح سے ان اعداد کو جمع کر کے ایک سَو کا عدد بنتا ہے۔ یہ تعداد آپؐنے انہیں اس وجہ سے بتائی کیونکہ اگر آپ اللہ تعالیٰ کا نام سَو مرتبہ لو گے اور اسکی تسبیح کرو گے تو اللہ تعالیٰ آپ پر اپنا خاص فضل کریگا۔اور ایسا نہیں ہے کہ آپ اس سے زیادہ تسبیح نہیں کر سکتے بلکہ اگر آپ کے پاس وقت ہو تو اس سے زیادہ بھی کر سکتے ہیں۔ آنحضرت ﷺ نےتو یہاں تک فرمایا ہے کہ سارا دن ذکر الٰہی کیا کرو، اللہ تعالیٰ کو ہمیشہ یاد کیا کرو، لہٰذا کم وقت میں آپ اتنا تو کر سکتے ہیں۔اگر آپ ہر نماز کے بعد ایسا کریں تو اس کا مطلب یہ ہواکہ دن میں آپ نے پانچ سَو مرتبہ اللہ تعالیٰ کا ذکر اور اس کی تسبیح کی اور یہ کافی اچھی تعداد ہے جس سے اللہ تعالیٰ راضی ہوگا۔ اگر اس سے زیادہ بھی ہو تو ٹھیک ہے۔
سوال کے دوسرے حصے کے جواب میں حضور انور نےفرمایا کہ سورۃ الفاتحہ کے بعد کوئی اَور سورت نہ پڑھنے میں حکمت یہ ہے کہ جو کام بھی ہم کرتے ہیں وہ آنحضرت ﷺ کی سُنّت کے مطابق کرتے ہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا کہ فرض نماز اور سُنّتوں کے دوران پہلی دو رکعتوں میں سورۃالفاتحہ کے بعد قرآنِ پاک کی کوئی بھی اور آیت یا سُورت پڑھیں۔ مگر آخری دو رکعتوں میں ایسا کرنے کا حکم نہیں ہے۔ صرف سورۃالفاتحہ پڑھیں، اس پر غور و فکر کریں، یہی کافی ہے۔جو بھی کام ہم کرتے ہیں وہ نبی کریم ﷺ کی سُنّت کے مطابق ہوتا ہے اور یہی ہمیں سکھایا گیا ہے۔
بلکہ سورۃالفاتحہ میں قرآنِ پاک میں مذکور تمام مضامین شامل ہیں، اسی لئے سورۃالفاتحہ کے اتنے سارے نام رکھے گئے ہیں۔قرآن پاک کی تعلیمات کا خلاصہ سورۃالفاتحہ میں موجود ہے۔ اس لئے اگر صرف سورۃالفاتحہ ہی ہے تو آپ تلاوت کرتے وقت اس کے مضامین پر غور کریں اور اس بات پر بھی کہ آپ دعائیں کیا مانگ رہے ہیں؟ اس حالت میں کہ آپ اس کی مدد، ہدایت اور فضل طلب کر رہے ہوں ۔ مختصراً یہ کہ ہم جو کچھ بھی کرتے ہیں وہ حضور ﷺکے عمل کے مطابق ہے، جس طرح سے انہوں نے کیا ، ہمیں بھی اسی طرح کرنا چاہئے۔
اسکے بعد ایک آٹھ سالہ بچی نے بڑی معصومیت سے عرض کیا کہ مَیں فی الحال بایاں ہاتھ استعمال کرتی ہوں اور مجھے کاموں کیلئےاپنا دایاں ہاتھ استعمال کرنا مشکل لگتا ہے دعا کی عاجزانہ درخواست ہے۔
حضور انورنے کمال شفقت اور محبّت سےجواب دیتے ہوئے اس بچی کو سمجھایا کہ دیکھو! اگر آپ بایاں ہاتھ استعمال کرتی ہو تو کوئی بات نہیں ۔بہت سے ایسے لوگ ہیں جو اپنا بایاں ہاتھ استعمال کرتے ہیں۔ لیکن اس بات کی عادت ڈالو کہ کھانا کھاتے وقت اپنا دایاں ہاتھ استعمال کرو۔اگر کچھ عرصہ کوشش کرو توپھر اللہ تعالیٰ بھی مدد کرے گا، ورنہ تو کوئی فرق نہیں پڑتا، اللہ تعالیٰ نے آپکو اس طرح بنایا ہے، اس عادت کو چھوڑنا بہت مشکل ہے۔
ایک واقفہ نو نے حضور انور کی خدمت میں عرض کیا کہ مَیں بہتر اور اچھا پردہ کرنا چاہتی ہوں مگر اپنے دوستوں اور اساتذہ کے سامنے ایسا کرنے سے شرماتی ہوں، کیا حضور میری راہنمائی کر سکتے ہیں؟
حضور انورنے دریافت کیا کہ کیا آپ خدا پر یقین رکھتی ہو، کیا آپ کے خیال میں یہ اللہ کا حکم ہے کہ آپ حیا دار لباس پہنیں؟
اثبات میں جواب ملنے پر حضور انور نے اس ضمن میں تلقین فرمائی کہ یہ اللہ کا حکم ہے تو پھر آپ کو شرمانا نہیں چاہئے۔ پھر اپنے آپ کو تھوڑا پُر عزم بنانا ہو گا کہ جو بھی کرو گی اسلام کی تعلیمات اور اللہ تعالیٰ کے احکامات کے مطابق کرو گی۔ اور اس بارے میں شرم محسوس کرنے کی ضرورت نہیں ہے کہ دوسرے لوگ آپ کے بارے میں کیا کہیں گے۔
آپ وہ ہیں جس نے دنیا کی راہنمائی کرنی ہے۔ ہمیشہ یہ سوچو کہ مَیں ایک اچھی احمدی مسلم لڑکی ہوں اور میرا کام دنیا کی راہنمائی کرنا ہے اور لوگوں کو اپنا اچھا نمونہ دکھائیں، لہٰذا اگر آپ شرما گئی تو راہنمائی کیسے کرو گی؟ آپ نے تو دنیا کی راہنمائی کرنی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کو یہ اچھی تعلیم دے کر آپ پر اپنا فضل کیا ہے۔ لوگ جو کہنا چاہتے ہیں انہیں کہنے دو، اس کی پروا نہ کرو۔اس بات پر پُرعزم رہو کہ اسلام کی تعلیمات کی پیروی کرنی ہے اور اس طرح اپنے آپ میں اعتماد پیدا کرو۔ شرمانے کی ضرورت نہیں ہے۔ اگر شرما گئی تو دنیا کی راہنمائی کون کرے گا؟ آپ نے تو دنیا کی راہنمائی کرنی ہے، آپ وہ وجود ہو جس کی لوگوں کو پیروی کرنی چاہئے۔لیڈر کو جرأت مند ہونا چاہئے۔جرأت مند بننے کی کوشش کرو۔
ایک سوال یہ کیا گیا کہ ہم بچوں اور والدین کی سوچ میں بعض امور میں اختلاف ہوتا ہے مثلاً سبجکٹ کی پسند وغیرہ کے حوالے سے۔ ایک طرف والدین کے تجربے اور فرمانبرداری میں برکت ہے تو دوسری طرف بچوں کا ذہن دوسرےsubjectکی طرف مائل ہوتا ہے۔ایسی صورت میں کیا کرنا چاہئے؟
اس پر حضور انور نے فرمایا کہ بات یہ ہے کہ پڑھائی تم نے کرنی ہے کہ والدین نے؟ تم نے پڑھنا ہے تو جو تمہاری مرضی کا subjectہےتم وہ پڑھو۔ مجھ سے لوگ پوچھتے ہیں کہ ہم کیا پڑھیں؟ اگر تو وہ فرسٹ، سیکنڈ، تھرڈ، فورتھ choiceلکھ دیں تو پھر مَیں کہہ دیتا ہوں کہ انchoicesمیں سے یہ choiceمیرے نزدیک بہتر ہے لیکن اس کے باوجود بھی جو تمہاری مرضی ہے تم وہ پڑھو۔
والدین کو بتاؤ کہ میری دلچسپی فلاںsubject میں ہے، مَیں اس کو پڑھوں گی اور اس میں بہتر جاب opportunitiesہیں۔اگر تو کوئی خاص انٹرسٹ نہیں ہے تو پھر یہ دیکھو کہ مارکیٹ میں جاب opportunitiesکیا ہیں، جو بہتر ہے اور جسsubject میں تمہارا جنرل انٹرسٹ بھی ہے تو پھر اس طرف جاؤ جوبعد میں کام بھی آئے۔
لیکن سب سے بہتر چیز یہ ہے کہ ایسی پڑھائی کرنی چاہئے جو تمہارے بچوں کے بھی کام آئے، ان کی تربیت میں بھی کام آئےاور ان کی تعلیم میں بھی کام آئے۔اس چیز میں ماں باپ کی بات نہ ماننے میں کوئی ہرج نہیں ہے، کوئی ایسا شرعی مسئلہ نہیں ہے اور نہ ہی کوئی ایسی بُری بات ہے۔
ایک لجنہ ممبر نے حضور انور کی خدمت میں دعا کی عاجزانہ درخواست کرتے ہوئے عرض کیا کہ وہ جلد ایک جماعت کے ہسپتال میں چار ہفتوں کیلئے بغرضِ خدمت بیرونِ ملک کا سفر اختیار کرنے والی ہیں۔ اسی طرح موصوفہ نے عنقریب بطور ڈاکٹر فارغ التحصیل ہونے کے حوالے سے راہنمائی طلب کی۔
اس پر حضورانور نے فرمایا کہ آپ جس انسٹی ٹیوٹ میں جا رہی ہیں ،وہ ایک جدید ترین ادارہ ہے۔ وہاں قیام کے دوران آپ کوسیکھنا اور تجربہ حاصل کرنا چاہئے۔ البتہ اگرآپ وہاں کسی ایسی چیز کا مشاہدہ کریں، جس میں بہتری لائی جاسکتی ہے، تو اس کے بارے میں اپنی مفید تجاویز و آراسے ضرورآگاہ کریں۔
ایکم ممبرنے حضور انور سے دریافت کیا کہ جہنم کا منظر کیسا ہو گا؟
اِسپرحضورانور نے فرمایا کہ جب اللہ تعالیٰ عذاب دیتا ہے اور کسی پر ناراض ہوتا ہے تو ایک سعید فطرت انسان کے لئے بذاتِ خود یہی ایک قسم کی جہنم ہوتی ہے۔ پس تم اس دنیا میں اچھے کام کرنے کی کوشش کروتاکہ اللہ تعالیٰ تمہارے اعمال سے ہمیشہ راضی رہے اور تمہیں جزائے خیر سے نوازے۔انسان کو اس دنیا میں ہی اپنی جنّت بنانے کی کوشش کرنی چاہئے۔
ایک ممبر نےعرض کیا کہ حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے احمدیت کی سکاٹ لینڈ میں تبلیغ کے حوالے سے ایک رؤیا دیکھی ۔ الحمد للہ! کہ جماعت اس حد تک پھیل رہی ہے کہ اب گلاسگو والی مسجد ہماری مختلف تقریبات اور تبلیغی پروگرامز کے لئے چھوٹی پڑگئی ہے۔ کیا حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ کی اس رؤیا کی مزید کوئی اور تعبیر بھی ہے؟
حضور انور نے اس کی بابت ارشاد فرمایا کہ اس کا مطلب یہ ہے کہ جو بھی آپ اس وقت تبلیغی مساعی کررہے ہیں اس سے بڑھ کر وسعت دینی چاہئے۔ اس کا مطلب ہے کہ سکاٹ لینڈ میں اسلام احمدیت کے پیغام کو پھیلانے کی کوشش کرنی چاہئے۔اگر آپ یہ کام خلوص نیت اور دعاؤں کے ساتھ کریں گے تو اللہ تعالیٰ آپ کی مدد بھی فرمائے گا اور آپ سکاٹ لینڈ میں اسلام کا پیغام بہت تیزی سے پھیلتے ہوئے دیکھیں گے لیکن یہ سب آپ کی اپنی کوشش پر منحصر ہے۔اگر آپ اس خواب کو پورا کرنا چاہتے ہیں تو اس کے لئے آپ کو سخت محنت کرنی ہوگی۔ اس کا مطلب یہ بھی ہے کہ سکاٹ لینڈ میں رہنے والے تمام احمدیوں کو اسلام کے پیغام کو پھیلانے کے لئےجدوجہد کرنی چاہئے۔
ایک میڈیکل کی طالبہ نے حضور انور کی خدمت میں عرض کیا کہ یونیورسٹی میں بہت سے سٹوڈنٹس یہ سوال کرتے ہیں کہ اگر دنیاوی تعلیم انسان کو اچھے اخلاق سکھاتی ہے اور اگر انسان اپنی دنیاوی زندگی میں مطمئن بھی ہے تو اس دَور میں مذہب کا کوئی مقصد نہیں لگتا تو ہم ایسے لوگوں کو مذہب کی اہمیت کیسے سمجھا سکتے ہیں؟
اس پر حضور انور نے فرمایا کہ انہوں نے زندگی کا ایک aspect تو پورا کر لیا لیکن دوسرا نہیں کیا۔ اللہ تعالیٰ کہتا ہے کہ مَیں نے انسان کو دو چیزوں کے لئے پیدا کیا ہے۔ ایک یہ کہ اللہ کے حق ادا کرو اوردوسرا یہ کہ بندوں کے حق ادا کرو۔ یہ realizeکرنے والی بات ہے کہ اللہ تعالیٰ نے جب ہمیں پیدا کیا ہے تو ہم اس کی شکرگزاری کریں۔ انسان آپ ہی آپ تو نہیں پیدا ہو گیا؟ اللہ تعالیٰ کہتا ہے کہ مَیں نے تمہیں پیدا کیا ہے اور تمہارے پیدا کرنے سے پہلے جو سارا infrastructureاور سسٹم بنایا ، وہ تمہارے لئے اس لئے بنایا تا کہ تم آرام سے رہ سکو۔
دوسرے یہ کہ مذہب ہی ہے جس نے سارے اچھے اخلاق کی تعلیم دی ہے۔ دنیا میں کوئی مذہب ایسا نہیں ہے، جس میں اخلاقی تعلیم کے بارے میں کوئی contradictionہو۔ چاہے وہ یہودی ہیں، عیسائی ہیں، ہندو ہیں یا مسلمان ہیں سب نے لوگوں کے حق ادا کرنے کے بارے میں جو اخلاقی تعلیم دی ہے وہ یہی تعلیم ہے کہ لوگوں کے حق ادا کرو۔ تو جو اچھے اخلاق سے پیش آتے ہیںوہ اپنی پیدائش کا ایک aspectتو پورا کر لیتے ہیں لیکن دوسرا جو بڑا aspectہے وہ پورانہیں کرتے۔ وہ اللہ تعالیٰ کے شکرگزار نہیں ہوتے۔
تو اللہ تعالیٰ کہتا ہے کہ ٹھیک ہے، ایسے لوگ جو میری شکرگزاری نہیں کرتے یا مذہب کو کچھ نہیں سمجھتے، اگر وہ اس پر mockنہیں کرتے اور اس پر استہزانہیں کرتے تو ٹھیک ہے مَیں ان کو تھوڑی سزا دوں گا مگر اس دنیا میں نہیں دوں گا ، لیکن جو خدمت ِخلق یا دنیاوی لوگوں کی خدمت یا اچھے اخلاق کا reward ہےوہ ان کو مل جائے گا۔
ان سے کہنا کہ ہم یہ مانتے ہیں کہ ہمیں اللہ نے پیدا کیا اور اللہ تعالیٰ نے پیدا کرنے سے پہلے ہمیں ایک سسٹم بنا دیا۔ ہمارے ماں باپ، بہن بھائی، پڑھنے، لکھنے کے سارےresources مہیا کر دیے۔یہ چیزیں اس بات کی ڈیمانڈ کرتی ہیں کہ ہم اس کا شکر کریں۔اس کا مطلب ہے کہ اگر ہم ایک طرف اللہ کا شکر نہیں ادا کر رہے تو ہم پوری طرح gratefulنہیں ہیں لہٰذا آپ کے اخلاق کا جو ایک پہلو ہے وہ تو ختم ہو گیا۔ بندوں کے لئے تو آپ نے کر دیا لیکن اللہ کے لئے نہیں کیا۔
اس لئے ہم احمدی مسلمان اس بات کو مانتے ہیں کہ ہمیں اللہ تعالیٰ نے دومقاصد کے لئےپیدا کیا ہے، ایک اس کی عبادت کرنا ،اس کا حق ادا کرنا، اس کی شکر گزاری کرنا کہ اس نے ہمیں اتنا کچھ دے دیا ہے۔ دوسرا یہ کہ دنیا میں لوگوں کے ساتھ اچھے اخلاق سے پیش آنا اور ان کا حق ادا کرنا۔
بچپن میں پسندیدہ کھیل کے بارے میں دریافت کیے جانے پر حضور انور نے مسکراتے ہوئے فرمایا کہ حضور بچپن میں کرکٹ شوق سے کھیلتے تھے۔
ایک ناصرہ نے سوال کیا کہ مَیں اپنی کلاس فیلوز کو خدا پر ایمان لانے کے بارے میں کس طرح قائل کر سکتی ہوں؟
اس پر حضور انور نے فرمایا کہ آپ انہیں اپنا ذاتی تجربہ بتا سکتی ہو۔موصوفہ سے استفہامیہ انداز میں حضور انور نےاستفسار فرمایا کہ کیا تم خدا پر ایمان رکھتی ہو، کیا تمہارا خیال ہے کہ خدا نے کبھی تمہاری مدد کی ہےاور تمہاری خواہشات اور تمنائیں پوری کی ہیں؟
حضور انور نے تلقین فرمائی کہ پھر تم انہیں بتا سکتی ہو کہ یہ میرا ذاتی تجربہ ہے اس لئے مَیں اس پر ایمان لاتی ہوں۔ جب مَیں دعا کرتی ہوں تو وہ میری دعائیں قبول کرتا ہے۔ لیکن تم کسی کو مجبور نہیں کر سکتی کہ وہ اللہ تعالیٰ کو مانے یا اس پر ایمان لائے۔
اس کے علاوہ تم ہستی باری تعالیٰ کے دس دلائل والی کتاب بھی پڑھو۔یہ ایک چھوٹا کتابچہ ہےجو تم کو مدد دے گا۔ اسی طرح کتاب ’’ہمارا خدا ‘‘بھی پڑھو۔ پھر تمہیں علم ہو گا کہ اس مسئلہ کو مختلف طریق سے کس طرح حل کرنا ہے۔ مختلف لوگوں کے مختلف نظریے اور سمجھنے کے انداز مختلف ہوتے ہیں۔ تو اگر تم ان کتابوں کو پڑھوگی تو تمہیں پتا چلے گا کہ کس طرح مختلف مواقع پر اس سوال کا سامنا کرنا ہے۔ہمیشہ اپنا نمونہ دکھاؤ۔ کہو کہ مَیں اللہ تعالیٰ پر ایمان لاتی ہوں اور مَیں نے اس کی ذات کا تجربہ کیا ہے۔
بعدازاں تمام شرکائے مجلس کو از راہِ شفقت حضورانور کےدستِ مبارک سے قلم کا تبرک حاصل کرنے کا بھی شرف حاصل ہوا۔حضور انورنے آخر پر سب شاملین کوالسلام علیکم کا تحفہ عطا فرمایا اوراس طرح سے یہ ملاقات بخیر و خوبی انجام پذیر ہوئی۔
(بشکریہ الفضل انٹرنیشنل 4جولائی 2024ء)
…٭…٭…٭…