اردو   हिंदी   বাংলা   ಕನ್ನಡ   മലയാളം   ଓଡ଼ିଆ   தமிழ்   తెలుగు  




.

2025-10-02

سیّدنا حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کے ساتھ مجلس خدام الاحمدیہ امریکہ ایسٹ ریجن کے ایک وفدکی ملاقات

مورخہ15جون 2024ء کو سیّدناحضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کے ساتھ امریکہ کے ایسٹ ریجن کے خدام کے ایک چودہ رکنی وفد کو اسلام آباد ٹلفورڈ میں قائم mta سٹوڈیوز میں بالمشافہ ملاقات کی سعادت حاصل ہوئی، جنہوں نے خصوصی طور پر اس ملاقات میں شرکت کی غرض سےامریکہ سے برطانیہ کا سفر اختیار کیاتھا۔
ملاقات کے آغاز میں حضور انور نے تمام شاملین مجلس کو السلام علیکم کہا۔ اس کے بعد خدام نے اپنا تعارف کروایا۔بعدہٗ حضور انور نے ازراہ شفقت سوالات کرنے کی اجازت مرحمت فرمائی۔
قائد مجلس وِلنگ بورونے حضور انور کی خدمت میں عرض کیا کہ2004ء میں پاکستان سے امریکہ ہجرت کی۔حضور انور کے دریافت فرمانے پر موصوف نے عرض کیا کہ ان کی مقامی مجلس میں خدام کی کل تعداد85ہے۔ حضور انور کے استفسار پرموصوف نے عرض کیا کہ میرے اسلام آباد آنے کا مقصد یہ ہے کہ حضور انور کی اقتدا میں نمازیں ادا کروںاوراپنے برطانیہ آنے کا مقصد فیضانِ خلافت سے براہِ راست برکت کا حصول بتایا۔
ایک خادم نے فلسطین کی موجودہ جنگی حالت کے تناظر میں مختلف اسلامی دھڑوں کے کردار کے بارے میں سوال کیا۔حضورانور نے فرمایا کہ اس طرح کے گروپ اکثر بڑی جغرافیائی سیاسی حکمت عملیوں کی پیداوار ہوتے ہیں اور یہ ضروری نہیں کہ مسلمانوں کے مفادات کو پورا کریں۔حضورانور نے بڑی طاقتوں کے خلاف ایسے گروپس کےمحدود اثر اور مسلم ممالک کے درمیان اتحاد کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے تلقین فرمائی کہ یہ دعا کرو کہ اللہ تعالیٰ مسلمانوں کو عقل دے اور مسلمان حکومتیں ایک ہو جائیں، جب تک سارے 54 مسلمان ممالک اکٹھے نہیں ہو جاتے آپ کچھ بھی نہیں کر سکتے۔اس لئے آپ دعا کریں اور جس حد تک آپ کے سیاستدانوں کے ساتھ روابط ہوں یا آپ انہیں قائل کر سکتے ہوں تو ان سے مدد مانگیں۔
ایک خادم نے حضور انور کی خدمت میں عرض کیا کہ وہ بھی حضور کی زیارت کےلئے اورحضور کی اقتدا میں نماز پڑھنے کے لئے آئے ہیں۔اس پر حضورانور نے مسکراتے ہوئے فرمایا کہ اچھا! آپ عید کے موقع پر اپنے گھر والوں کو پیچھے چھوڑ کر مجھ سے ملاقات کے لئے آئےہیں۔اس پر تمام شاملین مجلس کے چہروں پر مسکراہٹ دوڑ گئی۔
حضورانور نے ایک خادم سے دورانِ گفتگو جماعتی خدمت کے حوالے سے دریافت فرمایا تو موصوف نے عرض کیا کہ وہ مقامی جماعت میں بطور محاسب خدماتِ دینیہ بجا لارہے ہیں نیز امریکہ کے پہلے احمدی شہید ڈاکٹر مظفر احمد صاحب ان کے تایا تھے۔
فلاڈلفیاسے تعلق رکھنے والے ایک خادم کو حضور انور کی خدمت میں اپنا خاندانی تعارف پیش کرنے کا موقع ملا۔ موصوف نے عرض کیا کہ وہ کنری، سندھ،پاکستان سےتعلق رکھنے والے عبدالسمیع بھٹی صاحب کے پوتے ہیں۔
اگلے خوش نصیب خادم جنہیں اپنا تعارف کروانے کی سعادت ملی وہ انہی مؤخرالذکر موصوف کے بھائی تھے۔ انہوں نے حضور انور کی خدمت میں عرض کیا کہ وہ میری لینڈ امریکہ میں پیدا ہوئے۔ ان کے پاس بائیوکیمسٹری میں بیچلرز اور بائیومیڈیکل سائنسز میں ماسٹرز کی ڈگری ہےاور فی الحال وہ حضور انورکی ہدایت کی روشنی میں صحتِ عامہ کے شعبے میں کیریئر کے مواقع تلاش کر رہے ہیں۔
حضورانور نےخاندانی ذمہ داریوں کو کما حقہ سرانجام دینے کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے موصوف کو تلقین فرمائی کہ وہ اپنے خاندان کا خاص خیال رکھیں اوران کے لئے بھرپور کفیل بننے کی کوشش کریں۔
ایک خادم نے اپنا خاندانی پس منظر بیان کرتے ہوئے عرض کیا کہ ان کے دادا وہاڑی، پاکستان سے تعلق رکھنے والے شہید مکرم عتیق احمد باجوہ صاحب کے بھائی تھے نیزموصوف پاکستان میں پیدا ہوئے اور سنہ 2015ء سے امریکہ میں مقیم ہیں۔
ایک 23سالہ خادم نے حضور انور کی خدمت میں عرض کیا کہ وہ کمپیوٹر سائنسز میں ڈگری حاصل کر رہے ہیں۔فی الحال اپنا بیچلرز پروگرام مکمل کر رہے ہیں اور اسی فیلڈ میں ماسٹرز کی ڈگری کے حصول کے خواہاں ہیں نیزاپنی پڑھائی کے ساتھ ساتھ انہوں نے ریئل اسٹیٹ کے کاروبار میں قدم رکھتے ہوئےایک منصوبہ بھی شروع کیا ہے۔
نائیجیریا سے تعلق رکھنے والے ایک پچیس سالہ خادم سے حضورانور نے دریافت فرمایا کہ کیا ان کا تعلق Yoruba قبیلے سے ہے؟ اس پر موصوف نے اثبات میں جواب دیا اورعرض کیا کہ وہ سال 2015 سے امریکہ میں مقیم ہیں اور اس وقت جنرل ہسپتال میں بطور رجسٹرڈ نرس اور فوج میں بھی سروس کر رہے ہیں۔
حضور انور نے موصوف سے استفسار فرمایا کہ کیا وہ امریکی فوج میں بطور نرس خدمت کر رہے ہیں؟ انہوں نے نفی میں جواب دیتے ہوئے عرض کیا کہ وہ فوج میں دوسرے کاموں کے لئے خدمت پر مامور ہیں۔ اس پر حضور انور نے فرمایا کہ آپ بجائے ایک سپاہی بننے کے فوج کے میڈیکل شعبے میں کیوں شامل نہیں ہو جاتے؟ مزید فرمایا کہ آپ بڑے ہنرمند شخص ہیں اور آپ نے نرسنگ میں تعلیم بھی حاصل کی ہوئی ہے نیز تلقین فرمائی کہ آپ فوج کے میڈیکل شعبے میں شامل ہونے کی کوشش کریں، یہ بہتر ہوگا، اس طرح سے آپ فوج کی طرف سے کیے جانے والے کسی بھی ظلم میں براہِ راست ملوث نہیں ہوں گے۔
حضور انور نےفرمایا کہ چونکہ آپ فوج میں ہیں، اس لئے آپ کو جب بھی کسی جگہ جانے کو کہا جائے یا جہاں کہیں بھی آپ کو بھیجا جائے آپ کو جانا ہی ہو گا۔یاتوآپ فوج چھوڑ دیں یا پھر جیسا کہ میں نے کہا ہیکہ میڈیکل کے شعبے میں شامل ہو جائیں۔ میڈیکل کے شعبے میں کام کرنیکے باعث آپ انسانی خدمت کر رہے ہوں گے بجائے اسکے کہ آپ خود ظلم میں ملوث ہوں۔لیکن ایک دفعہ آپ جب فوج میں شامل ہو جائیں پھر آپ کو ان کے احکام ماننے پڑیں گے۔ اس لئے اس نوبت تک پہنچنے سے قبل ہی بہتر ہے کہ انسان چھوڑ دے۔ کوئی نہیں جانتا کہ تیسری جنگِ عظیم کب شروع ہو گی۔ جب ایک دفعہ شروع ہو جائے گی تو پھر آپ چھوڑ نہیں سکیں گے۔
پھر سینٹرل جرسی جماعت سے تعلق رکھنے والے ایک چوبیس سالہ خادم نے عرض کیا کہ وہ حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے صحابی حضرت میاں نور محمد صاحب رضی اللہ عنہ آف پیر کوٹ کے نواسے ہیں۔موصوف نے ایم ٹی اے کی ایک ڈاکومنٹری
“Four Days without a Shepherd”
کا حوالہ دیتے ہوئےحضور انور سے دریافت کیا کہ آپ کو اللہ کی طرف سے اشارۃً کوئی پیشگی علم دیا گیا تھا یا کوئی رؤیا دکھائی گئی تھی کہ آپ اگلے خلیفہ بنیں گے یا یہ سب کچھ آپ کے لئے اچانک تھا؟
حضور انور نے اس پر اظہار تبسم کرتے ہوئے فرمایا کہ مجھے تو آخری وقت تک ایسا کوئی نشان یا خبر نہیں ملی۔ میں تو خود بہت حیران تھا جب یہ اعلان کیا گیا کہ مجھے خلیفہ منتخب کیا گیا ہے اور آپ اس وقت یہ تأثرات میرے چہرے پر دیکھ بھی سکتے تھے۔ میرے لئے تو بڑی حیرانگی کی بات تھی۔ مجھے تو آج تک حیرت ہی ہوتی ہے۔موصوف نے بتایا کہ امریکہ میں تقریباً 415 داعیانِ الی اللہ ہیں۔حضور انور نے اس پر مسکراتے ہوئے ہدایت فرمائی کہ آپ کو اپنے داعیان الی اللہ کی تعداد چار سو کی بجائے چار ہزار کرنی چاہئے۔
حضور انور نے فرمایاکہ جب بھی آپ کے پاس فارغ وقت یا چھٹی کا دن ہو تو اسے جماعت کے کاموں میں صرف کریں۔ بطور سیکرٹری تبلیغ یا سیکرٹری تبلیغ کی ٹیم میں ہونے کیوجہ سے آپکو تبلیغی کاموں میں زیادہ وقت گزارنا چاہئے اور اپنے لئے ایک ٹارگٹ بنائیں کہ آپ نے ایک سال میں دس نئی بیعتیں کروانی ہیں۔ دوسرے داعیان الی اللہ کے سامنے اپنا نمونہ پیش کریں۔
ایک خادم نے حضور انور کی خدمت میں اپنا تعارف اور جماعتی خدمات کی تفصیل پیش کی اس پر حضور انور نے مسکراتےہوئے فرمایا کہ میں نہیں سمجھتا کہ امریکہ میں قحط الرجال ہے۔ہر عہدہ آپ کو ہی دیا ہوا ہے۔ اس پر تمام شاملین مجلس بھی مسکرا دیے۔
موصوف نے عرض کیا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے کشتی نوح میں فرمایا ہے کہ آپؑکےگھر کی چار دیواری میں رہنے والے آنے والی تباہیوں سے محفوظ ہوںگے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی پیشگوئیاں سن کر خوف آتا ہے۔ حضور کیا ایک سچا اور مخلص احمدی مسلمان اللہ کی پناہ میں آئے گا؟ کیا ہمیں بھی وہ پناہ ملے گی؟
اس پر حضور انور نے فرمایا کہ اس پیشگوئی کی کچھ شرائط ہیں۔ اپنے آپ کو محض نام سے احمدی نہ کہو بلکہ عمل سے اپنے آپ کو احمدی بناؤ۔ اگر آپ نیک ہیں، اللہ کے احکامات کی پیروی کرتے ہیں، اگر آپ قرآن پاک میں دیے گئے تمام احکامات پر عمل کرتے ہیں، اگر آپ اپنی روزانہ کی تمام نمازیں خلوص کے ساتھ ادا کر رہے ہیں تو پھر آپ بچائے جائیں گے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا ہے :
آگ ہے پر آگ سے وہ سب بچائے جائینگے
جو کہ رکھتے ہیں خدائے ذوالعجائب سے پیار
موصوف نے حضور انور کی خدمت میں دعا کی درخواست کی ،اس پر حضور انور نے فرمایا کہ اللہ آپ پر فضل کرے، اللہ تعالیٰ آپ کی جماعت اور آپ کے خدام پر اپنا فضل کرے اور انہیں اپنے ایمان میں اخلاص عطا کرے نیز مضبوط اور پختہ احمدی بنائے۔
ہیرس برگ جماعت سے تعلق رکھنے والے ایک خادم نے حضور انور کی خدمت میں عرض کیا کہ اسلام کہتا ہے کہ کسی کو تکلیف نہ پہنچاؤ۔ لیکن جب ہم کسی کی helpکرتے ہیں، ہماری نیت صاف ہوتی ہے، لیکن پھر بھی آخر پر ان کو تکلیف پہنچ جاتی ہے یا ان کا پھر بھی نقصان ہو جاتا ہے۔ ہم تو اپنے آپ کو تسلی دے دیتے ہیں کہ ہماری نیت صاف تھی، مگر اگلا بندہ جس کا نقصان ہوتا ہے وہ اس نظریے سے نہیں دیکھتا۔ اللہ تعالیٰ اس situationکو کیسے دیکھتا ہےکیونکہ ہمیں محسوس ہوتا ہے کہ ہماری نیت صاف تھی؟
حضور انور نے جواب دیا کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا ہے کہ اِنَّمَاالْاَعْمَالُ بِالنِّیَّاتِ اعمال کا دارومدار نیتوں پر ہے۔ اگر آپ کی intention اچھی ہے، تب اللہ تعالیٰ آپ کی نیت کو دیکھتا ہے، چاہے وہ دوسرا بندہ اس کو صحیح دیکھے یا نہیں۔ اگر آپ کی نیت صاف ہے تو اللہ آپ کو اجر دے گا۔ اگر نتیجہ اچھا نہ بھی ہو اور اگر آپ نے جان بوجھ کر کچھ غلط نہیں کیا تو پھر اللہ تعالیٰ اس عیب یا غلطی پر پردہ ڈال دے گا۔ اس لئے یہ یاد رکھو کہ جو کام کرنا ہے، یہ دیکھنا ہے کہ اللہ تعالیٰ مجھے دیکھ رہا ہے، اگروہ ٹھیک ہے، اللہ کا خوف ہے تو پھر کسی سے خوف کی ضرورت نہیں ہے۔
ہیرسبرگ جماعت سے تعلق رکھنے والے ایک اَور خادم نےحضور انور سے راہنمائی طلب کی کہ جب ہم کالج جاتے ہیں تو وہاں عورتیں اور شراب و نشہ وغیرہ کھلے عام دستیاب ہوتے ہوئےہم کیسے سیدھے راستے پر چل سکتے ہیں؟
حضور انور نے فرمایا کہ اپنے آپ کو ان سب برائیوں سے دُور رکھو۔ استغفار کرو۔جب بھی ایسی چیزیں دیکھو تو استغفار پڑھا کرو۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے عَنِ اللَّغْوِ مُعْرِضُوْنَجب بھی ان بےحیائیوں کو دیکھو تو اپنا رخ موڑ لیا کرو اور دوسری طرف چل پڑو۔ اس طرح تم اپنے آپ کو بچا سکتے ہو۔ فوراً اَعُوْذُ بِاللّٰهِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ اور اَسْتَغْفِرُ اللّٰهَ رَبِّىْ مِنْ كُلِّ ذَنْۢبٍ وَّاَتُوْبُ اِلَیْهِ بار بار دُہرایا کرو اور پنجوقتہ نماز ادا کرو اور اللہ تعالیٰ سے دعا کرو کہ ان معاشرے کی برائیوں سے بچا کر رکھے۔ آج کل معاشرہ ان برائیوں سے بھرا ہوا ہے اور وہ آپ کو اپنی طرف کھینچ رہی ہیں۔ اس طرح آپ شیطان کا مقابلہ کر سکتے ہیں۔ یہ آپ اور شیطان کے درمیان لڑائی ہے۔ اب دیکھتے ہیں کہ کون کامیاب ہوتا ہے؟
وِلنگ بوروجماعت سے تعلق رکھنے والے ایک خادم نے حضور انور کی خدمت میںعرض کیا کہ کچھ اطفال کے والد کو ان کی تربیت کا خیال نہیں ہوتا مثلاً ان کو اطفال کلاسز کےلئے مسجد میں لانا یا دینی تعلیم کے بہتر کرنے میں سستی ہوتی ہے اور ماؤں پر سارا بوجھ ڈالا جاتا ہے۔
اس پر حضور انور نے ہدایت فرمائی کہ اگر باپ اپنی ذمہ داریوں کو احسن رنگ میں ادا نہیں کر رہے اور سارا بوجھ ماؤں کے کندھوں پر ہے ، خصوصاً جب لڑکے ایک خاص عمر کو پہنچ کر اپنی ماؤں کی باتیں سننا ہی نہیں چاہتے ہیں، جب تک باپ کا اس میں دخل نہ ہو، تو ان معاملات میں خدام الاحمدیہ اور اطفال الاحمدیہ کو ان بچوں کی نگرانی کرنی چاہئے۔ ان سے دوستی کریں اورا طفال اور خدام میں سے ان کے ہم عمر تربیت یافتہ لڑکوں کوآگے لائیں تا کہ وہ ان سے دوستی کر سکیں اس طرح آپ ان کو جماعت سے وابستہ رکھ سکتے ہیں۔
گو یہ ایک چیلنج ہے، لیکن آپ کو اس کےلئے محنت کرنی پڑے گی۔ایسے لڑکوں سے دوستی کریں اور ماؤں کی مدد کریں اور ان کے باپوں کو بتائیں کہ ان کو اپنی ذمہ داری کا احساس ہونا چاہئے اور اپنے بچوں کی طرف توجہ دینی چاہئے۔
خدام الاحمدیہ اور انصار اللہ سے مدد لیں۔ خدام، انصار، اطفال اور لجنہ کی ایک مشترکہ کوشش ہونی چاہئے تا کہ افراد کی صحیح نہج پر تربیت ہو۔ وہ جماعت سے اور نظام سے وابستہ رہیں۔ماؤں کی مدد کریں اور ان سے پوچھیں کہ ان کو آپ سے کس قسم کی مدد کی ضرور ت ہے اور ان کی مدد کریں۔
ایک خادم نےحضور انور کی خدمت میں عرض کیا کہ بہت سے خدام ایسے ہیں جو سکول یا روزگار کے مواقع کی تلاش کے سلسلے میں نقل مکانی کرتے ہیں۔ایسے خدام کےلئے حضور انور کی کیا نصیحت ہے تا کہ وہ نئی جگہ میں جماعت کے ساتھ جڑے رہیں؟
اس پر حضور انور نے راہنمائی فرمائی کہ وہ جس جگہ بھی منتقل ہو تے ہیں، اگر وہاں جماعت موجود ہے، تو خدام الاحمدیہ کا نظام اتنا مؤثر ہونا چاہئے کہ وہاں کی مجلس انہیں فوری طور پر اپنے اندر شامل کر لے تا کہ وہ جماعت اور مجلس کے ساتھ منسلک رہیں۔
تو یہ آپ پر منحصر ہے کہ جب بھی وہ ایک جماعت سے دوسری جماعت یا ایک مجلس سے دوسری مجلس میں منتقل ہوتے ہیں تو آپ کے متعلقہ سیکرٹری تربیت یا ناظم تربیت ان سے رابطہ کریں اور ان کو جماعت کے قریب لانے کی کوشش کریں۔اس کا سارا انحصار آپ کے نظام کی کارگزاری اور متعلقہ مقامی جماعت پر ہے۔
ملاقات کے اختتام پر خدام کو از راہِ شفقت حضورانور کے ساتھ تصویر بنوانے اور حضور انور کے دستِ مبارک سے قلم کا تبرک حاصل کرنے کا بھی شرف حاصل ہوا۔حضور انورنے آخر پر سب شاملین کوالسلام علیکم کا تحفہ پیش کیا اوراس طرح سے یہ ملاقات بخیر و خوبی انجام پذیر ہوئی۔
(بشکریہ الفضل انٹرنیشنل 27 جون 2024ء)