اردو   हिंदी   বাংলা   ಕನ್ನಡ   മലയാളം   ଓଡ଼ିଆ   தமிழ்   తెలుగు  




.

2025-09-25

سیّدنا حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کے ساتھ لجنہ اماء اللہ اور ناصرات الاحمدیہ جرمنی کے ایک وفد کی ملاقات

مورخہ2جون 2024ء کو امام جماعتِ احمدیہ حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کے ساتھ جرمنی کے شہروں کولون اور بریمن سے تعلق رکھنے والی ممبراتِ لجنہ اماء الله، ناصرات الاحمدیہ اور چھوٹی بچیوں پر مشتمل اُنچاس رکنی وفدکو اسلام آباد،ٹلفورڈ میں قائم mta سٹوڈیوز میں ملاقات کی سعادت حاصل ہوئی، اس وفد نے خصوصی طور پرحضور انور سے ملاقات کی خاطر جرمنی سے برطانیہ کا سفر اختیار کیا ۔
حضور انور نے سب کوالسلام علیکم کا تحفہ پیش فرمایا بعدہٗ شرکائےمجلس کو حضور انورسے سوالات کی سعادت حاصل ہوئی۔
ناصرات الاحمدیہ کی ایک ممبرنے پوچھا کہ مختلف مذاہب کیوں ہیں اور صرف ایک مذہب کیوں نہیں؟
حضور انور نےفرمایا انسان پہلے غاروں میں رہتا تھا، جنگلوں میں رہتا تھا، جانوروں کی طرح رہتا تھا، پھر انسان بنا اور آہستہ آہستہ اُس کو عقل آئی۔اس کو انسان کا evolutionکہتے ہیں۔
اسی طرح مذہب کا بھی evolution ہوا ہے۔ الله تعالیٰ نے پہلے دیکھا کہ انسان میں تھوڑی عقل ہے، تھوڑے وسائل ہیں تو ان کو اس کے مطابق تھوڑی حکمت کی باتیں بتائیں۔ الله تعالیٰ نے مختلف جگہوں پر نبی بھیجے لیکن ہر ایک کو تعلیم ایک دی ہے کہ الله تعالیٰ کی عبادت کرو، اس کی باتیں مانو اور ایک دوسرے کے ساتھ اچھے اخلاق سے پیش آؤ، تو ہر جگہ ایک ہی تعلیم ہوئی۔
ہر علاقے میں نبی آتے تھے لیکن کیونکہ وہ الله تعالیٰ کی طرف سے تھے لہٰذا ان کی ایک تعلیم ہوتی تھی۔ الله تعالیٰ کہتا ہے کہ میں نے ہر قوم میں نبی بھیجے۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام کو بنی اسرائیل کے لئے بھیجا، اس کے بعد بھی بیچ میں نبی آئے، پھر جب تعلیم بگڑ گئی تو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو بھیجا تاکہ لوگوں کو اکٹھا کریں اور حضرت موسیٰ علیہ السلام کی تعلیم پر واپس لے کر آئیں۔پھر جب الله تعالیٰ نے دیکھا کہ انسان میں اتنی عقل آ گئی ہے کہ اب ہر چیز سمجھ سکتا ہے اور ایک دوسرے سے رابطے بھی آرام سے ہو سکتے ہیں تو پھر الله تعالیٰ نے آنحضرت ﷺ کو بھیجا اور یہ جو سارے پہلے نبی آئے تھے، انہوں نےیہ خبر دی تھی کہ آخری زمانے میں ایک نبی آئے گا، جو ساری دنیا کے لئے آئیگا۔اور کسی نبی نے ساری دنیا کیلئے آنے کا دعویٰ نہیں کیا۔ تو الله تعالیٰ نے آخری شریعت بھیج دی اور اس آخری شریعت کے بارے میں پہلے نبیوں نے بھی خبر دی اور یہ کہا کہ جب وہ نبی آئے گا تو اس کو مان لینا، وہ سب دنیا کے لئے ہو گا۔تورات کی پیشگوئیاں بھی ہیں، انجیل میں بھی حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے کہا۔اس لئے یہ صرف اسلام کا دعویٰ ہے کہ وہ ساری دنیا کے لئے ہے اور کسی نبی کا دعویٰ نہیں ہے کہ وہ ساری دنیا کے لئے ہے۔
الله میاں نے پہلے لوگوں کو آہستہ آہستہ ذہنی طور پر تیار کیا کہ تم لوگ جو آئندہ زمانے میں ایک آخری نبی آئے گا اس کو ماننے کے لئے تیار ہو جاؤ ۔اور ہر نبی نے اس کی تعلیم دی۔ لیکن ہر نبی نے ایک ہی تعلیم دی کہ الله تعالیٰ کو مانو اور ایک دوسرے سے اچھا سلوک کرو۔ تو اس لئے مختلف نبی مختلف علاقوں میں آئے۔
آنحضرت ﷺ کی تعلیم کو دنیا میں الله تعالیٰ نے پھیلا دیا اور آپؐنے پیشگوئی فرمائی کہ آخری زمانے میں جب مزید ایک دوسرے سے رابطے شروع ہو جائیں گے اور ایک دوسرے سے ملنا جلنا شروع ہو جائے گا تو مسیحِ موعود آئے گا تم اس کو مان لینااورفرمایا تھا کہ جب وہ آئے اور دعویٰ کرے تو اس کو میرا سلام کہنا۔
تو بہرحال اس لئے مختلف مذہب ہیں کہ پہلے الله تعالیٰ نے انکی عقل کے مطابق ان کو تھوڑی تھوڑی تعلیم دی، پھر جب موجودہ ترقی ہو گئی، انسان میں زیادہ عقل ہو گئی، نئے ذرائع آ گئے اور ہر چیز کے وسائل پیدا ہو گئے تو الله تعالیٰ نے اسلام کو بھیجا۔
ایک ممبر نے پوچھا کہ مَیں اپنی سہیلیوں کو کیسے سمجھا سکتی ہوں کہ وقفِ نَو کیا ہے؟
اس پر حضور انور نے فرمایا کہ اگر وہ عیسائی ہیں تو تم ان سے کہو کہ دیکھو! تمہاری عورتیں بھی وقف کرتی ہیں، جو nunsبنتی ہیں اور چرچ میں جاتی ہیں۔پرانے زمانے میں وقف کیا کرتی تھیں اور اب بھی کرتی ہیں تاکہ وہ دین کی خدمت کریں۔ اسی لئے ہم نے بھی اپنے آپ کو وقف کیا کہ دین کی خدمت کریں۔ اور جس طرح حضرت مریم علیہا السلام کی والدہ نے اپنی بیٹی کو دین کے لئے وقف کیا تھا اور چرچ کو دے دیا تھا، اسی طرح ہمارے والدین نے بھی کہا ہے کہ اس نقشِ قدم پر چلتے ہوئے ہم بھی اپنے بچوں کو چاہے وہ لڑکا ہو یا لڑکی ہو دین کے لئے پیش کرتے ہیں۔اور جن کو مذہب سے تعلق نہیں ہے، ان کو کہو کہ ہم ایک خدا کو مانتے ہیں اور ایک خدا کی تعلیم یہ ہے کہ اس کی عبادت کرو اور ایک دوسرے سے اچھا سلوک کرو، اچھی باتیں کرو۔ اس لئے ہمارے ماں باپ نے ہمیں وقف کیا ہے کہ تم اس تعلیم کو دنیا میں پھیلاؤ اور یہ وقف نَو ہے، جو انہوں نے پیدائش سے پہلے ہمیں وقف کر دیا تھا، لیکن یہ زبردستی کوئی نہیں ہے، ہمیں جماعت کی طرف سے آزادی ہے کہ پندرہ سال کی عمر میں ہم اپنے عہدِ وقف کی تجدید کریں یا چھوڑ دیں۔ یہ ہمیں آزادی دی ہوئی ہے، اس لئے یہ کہنا کہ ہمارے سے زبردستی ہو رہی ہے غلط ہے۔ زبردستی نہیں ہو رہی بلکہ ہمیں مکمل آزادی حاصل ہے۔
ایک ممبر لجنہ نے دریافت کیا کہ غیر احمدی رابطوں کو خلافت کی اہمیت کیسے واضح کی جائے تاکہ وہ بھی دیکھ سکیں کہ خلافت خوف کو امن میں بدل دیتی ہے اور انسانیت کے تمام مسائل کا حل ہے؟
اس پرحضور انورنے فرمایا کہ غیر احمدی مسلمانوں کو کہو کہ آنحضرت ﷺنے قیامِ خلافت کی پیشگوئی فرمائی تھی۔ اس لئے آپؐکے بعد خلافت جاری ہوئی اور تم دیکھ لو کہ وہ جو پہلی خلافت تھی، انہوں نے اسلام کی تعلیم پر عمل کیا اور کروایا اور اس کو قائم کرنے کیلئے کوشش کی۔ان کے خلاف دشمنیاں بھی ہوئیں تو الله تعالیٰ نے ان کی مدد کی۔ آنحضرت ﷺ نے تو پہلے ہی پیشگوئی کر دی تھی کہ ایک زمانہ آئے گا جب اسلام کے اتنے فرقے ہو جائیں گے، جس طرح یہودیوں کے بہت سارے فرقے ہیں، اس وقت مسیحِ موعود آئے گا اور جب مسیح موعود آئے گا تو وہ تمام فرقوں کو اکٹھا کرے گا۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کو بھی الله تعالیٰ نے یہی کہا کہ تمام مسلمانوں کو ایک ہاتھ پر اکٹھا کرو۔ جب ایک ہاتھ پر اکٹھے ہو جاؤ گے تو پھر آپس کے اختلاف ختم ہو جائیں گے، جھگڑے ختم ہو جائیں گے، فرقے بازیاں ختم ہو جائیں گی، کوئی یہ نہیں کہے گا کہ مَیں سُنّی ہوں، میں وہابی ہوں، میں شیعہ ہوں ، میں دیوبندی ہوں، اس طرح بہت سارے فرقے ہیں، سب ایک ہاتھ پر اکٹھے ہو جائیں گے۔
اوربہت سارے لوگ پھر یہ مانتے بھی ہیں کہ ہمیں ایک لیڈرشپ چاہئے۔جب یہ مانتے ہیں کہ ایک لیڈرشپ چاہئے تو اس کے بینر کے نیچے آئیں گے تو پھر ایک طاقت بن جائیں گے۔
اب اسرائیل کو دیکھو! جو پوری دنیا کے لئے مصیبت کا باعث ہے 54مسلمان ملک ہیں اور بعض ملک بڑے بڑے پیسے والے بھی ہیں۔ان کے پاس تیل کی دولت ہے، لیکن کوئی ان کی بات نہیں سنتا۔ اس لئے کہ مسلمان ایک نہیں ہیں، ایک طاقت نہیں ہیں، اگر وہ خلافت کےزیرِ سایہ ہوتے تو ایک طاقت ہوتے اور پھر دشمن کو جرأت نہ ہوتی کہ ان کے خلاف لڑے۔
اس لئے ان کو بتاؤ کہ خلافت میں ایک اکائی ہے، اس کی پیشگوئی آنحضرتﷺ نے فرمائی تھی اور الله تعالیٰ نے بھی یہ وعدہ فرمایا تھا کہ آخری زمانے میں مسیح موعود کے بعد خلافت جاری ہو گی۔ تو اس لئے ہم مانتے ہیں اور ہم امن میں رہتے ہیں، ہمیں راہنمائی بھی ملتی رہتی ہے، تم لوگوں کو guidance دینے والا کوئی نہیں ہے۔ یہ مختصر سی بات ہے جو تم انہیں بتا سکتی ہو۔
اگلا سوال سوشل میڈیا سے متعلق تھا کہ ایک ماں اپنے بچوں کو سوشل میڈیا کےبُرے اثرات سے کیسے بچا سکتی ہے؟
اس پرحضور انور نے فرمایا کہ کوشش ہی کر سکتی ہے کہ آہستہ آہستہ بچائے۔ مائیں آپ ٹی وی پر پروگرام دیکھ رہی ہوتی ہیں اور اپنی جان چھڑوانے کے لئےآئی پیڈ، ٹیبلٹ اور پھرآئی فون وغیرہ بھی بچوں کوپکڑا دیتی ہیں اور کہتی ہیں کہ چلو تم یہ دیکھو، تو جان نہ چھڑائیںبلکہ ان کو سمجھائیں۔لیکن یہ نظر رکھیں کہ بچے ایسے پروگرام نہ دیکھیں جن سے اخلاق خراب ہوتے ہوں یا کوئی گندی فضول باتیں آتی ہوں، اس پر نظر رکھیں۔جو بھی پروگرام بچہ دیکھ رہا ہے اسےدیکھیں اور اس کو کہیں کہ تم نے ایک گھنٹے سے زیادہ نہیں دیکھنا۔ تو آہستہ آہستہ کنٹرول اور ڈسپلن میں رکھیں تو ٹھیک ہے۔باقی پیار سے سمجھاتی رہیں کہ اس کے کیا نقصان ہیں، تم مستقل دیکھو گے تو تمہاری نظر بھی خراب ہو جائے گی، تمہاری concentration کا level بھی خراب ہو جائے گا، تم پڑھائی میں اچھے نہیں رہ سکتے۔ تو اس طرح پیار سے بچوں کو سمجھائیں، اس کے دوست بنیں تو سمجھ آئے گی، اس کےساتھ ان کے لئے سب سے بڑی بات یہ ہے کہ دعا کریں کہ الله تعالیٰ ان کو زمانے کی ان بُری چیزوں سے بچا کے رکھے۔
تو اس طرح جب کریں گی تو ٹھیک ہے۔ بکلی تو آپ ان کو روک نہیں سکتیں، کچھ وقت دینا پڑے گا۔کہہ دیں کہ اچھا ٹھیک ہے میں تمہیں وقت دیتی ہوں کہ تم نے بس ایک گھنٹہ دیکھنا ہے، ایک گھنٹہ دیکھ لو۔ نہیں تو اس سے نقصان زیادہ ہیں۔ بچے سمجھ جاتے ہیں۔
ایک ممبر لجنہ نے راہنمائی طلب کی کہ حقوق اور صبر میں کیا فرق ہے ؟ اگر کوئی ہماری حق تلفی کرے تو ہمیں بولنا چاہئے یا ہمیں صبر کرنا چاہئے؟
اس پر حضور انور نے فرمایا کہ یہ تو نوعیت پر منحصر ہے کہ آپ کے حقوق کس قسم کے ہیں ۔الله تعالیٰ نے حقوق بیان کر دیے۔ خاوند کو کہہ دیا کہ بیوی اور خاوند کے ایک ہی حقوق ہیں اور بیویوں سے اچھا، نیک سلوک کرو عَاشِرُوْھُنَّ بِالْمَعْرُوْفِ کہ بیویوں سے اچھا اورنیک سلوک کرو۔اور بیوی سے کہہ دیا کہ تم اپنے گھر کا خیال رکھو، اپنے بچوں اور خاوند کا خیال رکھو اور گھر کے ماحول کو اچھا بناؤ۔ تو یہ اگر ہر ایک کو اپنی اپنی limits کا پتا ہو تو حق کی تلفی ہو ہی نہیں سکتی۔ حق تلفی اس وقت ہوتی ہے ، جب ہم خدا کو بھول جاتے ہیں، جب ہم سمجھتے ہیں کہ صرف ہماری انا ہے۔
حضورانور نے اپنے خاندان کو وقت دینے کی اہمیت پر زور دیتے ہوئےتاکید فرمائی کہ اب خاوند جو weekend پر دین کے کام کیلئے چلا جاتا ہے، اوّل تو اس کو چاہئے کہ کم از کم مہینے میں ایک دو weekend بیوی بچوں کو دے، ان کو ساتھ سیر کے لئے بھی لے کے جائے، ان کا حق دے اور اس کے علاوہ اگر وہ دین کا کام کر رہا ہے تو ٹھیک ہے اسے کرے۔ اب عورتیں، لجنہ بھی بہت ساری ایسی ہیں جو دین کا کام کر رہی ہوتی ہیں، شام کو خاوند گھر آتا ہے تو بعض دفعہ آپ کے اجلاس ہو رہے ہوتے ہیں تو آپ اجلاس پر گئی ہوتی ہیں یا weekend پر لجنہ میٹنگ کر رہی ہوتی ہیں تو خاوند کہتا ہے کہ تم کہاں اور کیوں گئی تھی؟ تو آپ کہتی ہیں کہ میں لجنہ کے کام سے گئی تھی تو وہ کہتا ہے کہ تم نے میرا حق نہیں ادا کیا۔ اسی طرح بیوی خاوند کو کہتی ہے کہ تم وہاں جماعتی کام کے لئے چلے گئے تھے اور تم نے میرا حق ادا نہیں کیا، میں اور بچے گھر میں اکیلے بیٹھےbore ہو رہے ہیں اور ہمیں کہیں لے کر نہیں جاتے۔ پس یہ تو عقل کی بات ہے، آپس میں اگر باہمی افہام و تفہیم ہو، سمجھ بوجھ ہو تو یہ دیکھنا ہو گا۔ اپنے حقوق کیlimitبنانی ہے اور آپس میں ایک دوسرے سے مل بیٹھ کر، جس طرح دو دوست اچھی طرح معاملہ طے کرلیتے ہیں کہ تم یہ کرو، میں یہ کروں۔ تو ہر ایک کو اپنی ذمہ داریوں کا احساس ہو تو حقوق کی تلفی کوئی نہیں ہوتی۔
یہ تو سمجھ کی بات ہے کہ کس حد تک آپ سمجھتی ہیں کہ حق کیا ہے؟ خاوند بیوی میں دوستی ہونی چاہئے اور اعتماد ہونا چاہئے، اگر وہ نہیں تو پھر کوئی فائدہ نہیں ہے، یہ رشتہ تو اعتماد کا ہے۔حضور انور نے فرمایاکہ ساسوں کو بہوؤں کے معاملے میں دخل نہیں دینا چاہئے اور ان کو آزاد چھوڑنا چاہئے، ان کو یہ بھی خیال رکھنا چاہئے کہ یہ بھی کسی کی بیٹی ہے جو میں اپنے گھر لیکر آئی ہوںاور بہو کو ساس کا خیال رکھنا چاہئے کہ جس طرح میں اپنی ماں کی عزت کرتی ہوں، اسکی بھی عزت کروں ، تو یہ بھی understanding کی بات ہے۔
حضور انورنے اس بات پر زور دیا کہ حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے فرمایا ہے کہ طلاق اور بےجا سختیاں وغیرہ نہیں کرنی چاہئیں بلکہ آپؑنے فرمایا ہے کہ میں ایسے مردوں کو تو مرد سمجھتا ہی نہیں اور جہالت کی انتہا ہے کہ وہ بیویوں کے حق ادا نہیں کرتے اور ان پر سختی کرتے ہیں۔ اور اسی طرح بیوی کو کہا کہ تم خاوند کے حق ادا کرو تو کوئی مسئلہ ہی نہیں ہے۔بلکہ ایک دفعہ ایک مجلس میں کسی نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کےسامنے ایک صحابی کی شکایت کر دی کہ وہ اپنی بیوی پر بہت سختی کرتے ہیںتو آپؑکو بہت غصہ چڑھا، آپؑنےبہت ڈانٹا۔وہاں بیٹھے ہوئے لوگ کہتے ہیں کہ ہم نے کبھی آپؑکو اتنے غصے میں نہیں دیکھا۔ تو اس کے بعد ایک دوسرے صحابی وہاں سے توبہ توبہ کرتے اٹھے، وہ بھی اپنی بیوی سے سختی کیا کرتے تھے۔ وہ بازار گئے اور بیوی کے لئے تحفے لئے اور گھر گئے۔ گھر جا کر اسے بڑے پیار سے چیزیں پیش کیں کہ یہ لو، میں تمہارے لئے لایا ہوں اور بجائے بدتمیزی سے بولنے کے پیار کی باتیں کرنے لگے ۔
حضور انور نے مسکراتے ہوئے فرمایا کہ بیوی نے ان کو حیران ہو کر دیکھا کہ آج آپ کو ہو کیا گیا ہے ، طبیعت ٹھیک ہے،یہ میں کیا دیکھ رہی ہوں ؟ اس پر تمام شاملینِ مجلس بھی مسکرا دیں اور انہوں نے خوب حظ اٹھایا۔
حضور انور نے مزید بیان فرمایا کہ انہوں نے کہا کہ ہو یہ گیا ہے کہ آج میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو غصے میں دیکھ کر آیا ہوں کہ انہوں نےجس طرح ڈانٹا ہے، میری شکایت بھی نہ کہیں ہو جائے، تو میں اپنی عاقبت سنوارنے کے لئے آئندہ تم سے سختی نہیں کرونگا۔ تم میرے حق ادا کرو، میں تمہارے حق ادا کروں گا، ہم دونوں اب دوست بن کر رہیں گے۔
ایک لجنہ ممبر نے حضور انور کی خدمت میں عرض کیا کہ امسال گرمیوں کی چھٹیوں میں ہم نے ’’مَیں مسلمان ہوں، اپنا سوال پوچھیں‘‘کی کمپین کرنے کا ارداہ کیا ہے۔ پیارے حضور! ہماری راہنمائی فرمائیں کہ ہم اس کو کیسے بہتر طور پر کر سکتے ہیں؟
حضور انورنے فرمایا کہ کوشش یہ کرو کہ زیادہ تر عورتوں اور لڑکیوں سے رابطہ کرو۔ عام دنیا میں مذہب سے دُوری لڑکوں میں بھی ہے اور لڑکیوں میں بھی ہے۔ مذہب میں لڑکوں میں پھر کچھ fanaticsپیدا ہو جاتے ہیں اور لڑکیوں میں بالکل وہ دیکھ دیکھ کر اور حالت ہے۔ جب آپ لوگوں کی حالت دیکھیں گی کہ آپ مذہب کی باتیں کر رہی ہیں تو لڑکیوں، غیر مذہب رکھنے والوں یا atheists یا جو غیر مسلم ہیں یا غیر احمدی مسلمان ہیں، سب میں یہ احساس پیدا ہو گا کہ احمدی لڑکیاں اور عورتیں جوکام کر رہی ہیں، الله اور رسولؐ کی باتیں کر رہی ہیں تو ہمیں بھی سننا چاہئے۔تو اپنا نمونہ قائم کرو لیکن صبر اور حوصلے سے۔
فرمایا: علم حاصل کرو، جب کمپین کرو گی کہ :
I am a Muslim, ask your question
تو سوال کا جواب بھی تو آنا چاہئے، اس لئے علم حاصل کرو اور دیکھو کہ آج کل عصرحاضر کے مسائل کیا ہیں، کس قسم کے سوال لوگ کرتے ہیں، ان کے جواب تیار کرو۔
آجکل جرمنی میں یہی زیادہ تر ہوا ہے کہ اسلام اور خلافت کے خلاف ایک مہم شروع ہوئی ہوئی ہے یا اسلام کے خلاف کہ یہ سختیاں کرتا ہے اور جہاد کی باتیں کرتا ہے یا عورتوں کے حق ادا نہیں کرتا تو ان چیزوں پر جواب اچھی طرح تیار کرو تاکہ جواب دے سکو۔ یہی چند issues ہوتے ہیں۔ ان کو بتاؤ کہ اسلام عورت کے حق ادا کرتا ہے، اسلام امن کی باتیں کرتا ہے، اسلام ملک سے محبت کی باتیں کرتا ہے، اسلام ایک دوسرے کے حقوق ادا کرنے کی طرف توجہ دیتا ہے، اسلام میں ہر چیز کو عدل اور انصاف سے اس کا حق ادا کرنے کا حکم ہے اور اسلام تو یہاں تک کہتا ہے کہ چاہے تمہارا خودنقصان ہو رہا ہو لیکن انصاف کو تم نے نہیں چھوڑنا۔
حضور انورنے آخر پر سب شاملین کوالسلام علیکم کہا اوراس طرح سے یہ ملاقات بخیر و خوبی انجام پذیر ہوئی۔
(بشکریہ الفضل 13 جون 2024ء)
…٭…٭…٭…