اردو   हिंदी   বাংলা   ಕನ್ನಡ   മലയാളം   ଓଡ଼ିଆ   தமிழ்   తెలుగు  




.

2025-09-18

سیّدناحضرت امیر المومنین حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کے ساتھ ممبران نیشنل عاملہ مجلس انصاراللہ کینیڈا کی ملاقات

مورخہ19مئی 2024ءکوحضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کے ساتھ کینیڈاسے تشریف لانے والے نیشنل مجلس عاملہ انصار الله کے ممبران کو اسلام آباد،ٹلفورڈ میں قائم mta سٹوڈیوز میں بالمشافہ ملاقات کی سعادت حاصل ہوئی۔
حضور انور کی دعا کے بعد ملاقات کا آغاز ہوا۔ تمام اراکینِ مجلس عاملہ کو اپنا تعارف کروانے اور اپنی مفوضہ ذمہ داریوں کےمتعلق حضور انور سے گفتگو کی سعادت حاصل ہوئی۔
حضور انور نے دریافت فرمایا کہ وینکوور سے کون آیا ہے؟حضورانور نے وہاں لگنےوالی آگ کی بابت استفسار فرمایا کہ کیا کوئی احمدی اس سے متاثر ہوا ہے؟
حضور انور کے استفسار پر قائدعمومی کی نے عرض کیا کہ مجالس کی کل تعداد116ہے۔ نناوے فیصد کی جانب سے رپورٹس باقاعدگی سے موصول ہوتی ہیں اور کُل تجنید6721 انصار پر مشتمل ہے۔
حضور انور نے نائب قائد تربیت سے دریافت فرمایا کہ حقیقی تربیت کو یقینی بنانے کے لئے کیا منصوبے بنائے گئے ہیں؟ اس پرموصوف نے عرض کیا کہ آپ سے ہونے والی گذشتہ ملاقات کے بعد سے نماز کی اہمیت پر خاص زور دیتے ہوئے مسلسل یاددہانیوں پر توجہ مرکوز کی جا رہی ہے، سال کے آغاز میں گھر وں کے دَورہ جات کو پلان میں شامل کیا گیا تھا جس کے تحت کل3846 انصار سے ملاقات کرنا ممکن ہو سکا تاکہ ان کے ساتھ ذاتی تعلق قائم کیا جا سکے۔ یہ سماعت فرمانے پر حضور انور نے استفہامیہ انداز میں دریافت فرمایا کہ کیا آپ نے انہیں خدا کے ساتھ بھی ذاتی تعلق قائم کرنے کی ہدایت کی یا نہیں؟
حضور انور نے استفسار فرمایا کہ آپ کی مسجد میں فجر کی نماز پر کتنی حاضری ہوتی ہے ؟اس پر موصوف نے عرض کیا کہ weekdays میں آٹھ سے دس افراد ہوتے ہیں لیکنweekendsپر تقریباً اسّی سے سَو کے درمیان حاضری ہو جاتی ہے۔ مغرب اورعشاء پر تقریباً پندرہ سے بیس لوگ ہوتے ہیں۔
اس پر تبصرہ فرماتے ہوئے حضور انور نے فرمایا کہ آجکل لمبے دن ہوتے ہیں، لوگ کام سے فارغ ہو چکے ہوتے ہیں، انصار میں سستی ہے تو باقی کیا حال ہو گا؟ انصار کی تربیت کریں گے تو ان کی اگلی نسلوں کی تربیت ہو گی، انصار کی تربیت نہیں ہو گی تو نسلوں کی تربیت بھی نہیں ہوگی، یہ بہت ضروری ہے۔
حضور انور نے قائد مال سےفرمایاکہ جب انصار اپنا چندہ اور بجٹ لکھواتے ہیں تو انہیں کبھی بھی سچائی کا دامن ہاتھ سے نہیں چھوڑنا چاہئے۔بجٹ لکھواتے ہوئے نہ جھوٹ بولیں، نہ چندہ دیتے ہوئے جھوٹ بولیں، غلط بیانی نہ کریں۔ پیسوں کی خاطر غلط بیانی کرنے کا فائدہ کیا ہے؟ جو وہ کہتے ہیں ہم اتنا چندہ دے سکتے ہیں، ٹھیک ہے ، قبول کر لیں۔ ٹھیک ہے، تم اتنا دے سکتے ہو، تمہارے سے ہم اتنا ہی لے لیں گے لیکن یہ نہ کہو کہ ہماری آمد اتنی ہے۔
جتنی کوشش آپ چندہ لینے کیلئے کرتے ہیں، اتنی کوشش تربیت والے اگر کریں تو باقی مسائل بھی حل ہو جائیں۔ آپ عشرہ مال تو مناتے ہیں ،عشرہ تربیت اتنا نہیں مناتے اور صرف پیچھے پڑے رہتے ہیں کہ چندہ دو ۔ کبھی پیچھے نہیں پڑے کہ نماز پڑھو،قرآن پڑھو اور حدیث پڑھو نیز حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ و السلام کی کتب پڑھو۔
حضور انور کی خدمت میں قائد تعلیم نے مطالعہ کتب حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے حوالے سے انصار میں پائی جانے والی سستی کا تذکرہ کرتے ہوئے راہنمائی طلب کی کہ کس طرح سے اس کو دُور کیا جا سکتاہے؟
حضور انور نے قائد تعلیم سے فرمایا کہ اگر پوری کتابیں نہیں پڑھ سکتے تو جن کو انگریزی پڑھنی آتی ہے ان کو Essence of Islam اور جن کوانگریزی نہیں پڑھنی آتی ان کو مرزا غلام احمد قادیانی علیہ السلام اپنی تحریروں کی رُو سے پڑھنی چاہئے، وہ ان کو دیں، پوری کتاب نہیں بھی پڑھ سکتے تو آسان اردو میں ملفوظات ہیں ، ان کو پڑھنے کی توجہ دلائیں۔
چشمہ معرفت کا وہ حصہ جس میں حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام نے جلسہ میں تقریر کی تھی ،وہ حصہ خاص طور پرپڑھائیں، پھر جو اعتراض کے جواب میں پہلا حصہ ہے وہ بعد میں پڑھائیں۔اس سے آج بھی بہت سارےcontemporary issues کے جواب مل جاتے ہیں ۔ آپ نے مربیان اتنے رکھے ہوئے ہیں ان سے مدد لیں ۔
حضور انور نے فرمایا کہ ہر ناصر مربی ہوتا ہے، پہلے گھر میں مربی بنیں ، پھر اپنے ماحول میں بنیں ، پھر علاقے میں بنیں اور ملک میں بنیں۔فرمایا تربیت اور تعلیم یہ دونوں شعبہ جات active ہو جائیں تو مال کے شعبہ جات ، تحریک جدید، وقف جدید اور جتنی قربانیاں کرنے والے ہیں ، یہ خود بخود active ہو جاتے ہیں ۔
بعد ازاں حضور انور نے ممبران مجلس عاملہ کوعمومی ہدایات سے بھی نوازا اور بحیثیت جماعتی عہدیدار ان کی ذمہ داریوں کی طرف انہیں توجہ دلائی۔
حضور انور نے فرمایا کہ سچائی پر قائم رہیں۔ نمازوں کی طرف توجہ دیں۔ قرآن کریم پڑھیں، تلاوت کریں اور اس کو سمجھنے کی کوشش کریں ۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی کتب پڑھیں ، ان کو سمجھنے کی کوشش کریں اور اگر پوری کتابیں نہیں بھی پڑھ سکتے تو کم از کم کتابوں کی شکل میں مختلف عناوین کے تحت اکٹھے کیے گئےمضامین کو ہی پڑھنا شروع کریں، وہی عادت ڈال لیں اور سچائی پر قائم رہیں، خدمتِ خلق کریں، گھروں میں تربیت کی طرف توجہ دیں اور اپنے نمونے قائم کریں۔ گھروں میں اپنے نمونے قائم کریں گے تو ماحول کو بھی بہتر کرنے والے ہوں گے۔ یہ چار، پانچ پوائنٹ ہیں جن پر آپ کو عمل کرنا چاہئے۔
جن کے گھرسینٹر سے دُور ہیں وہ کم از کم گھروں میں باجماعت نماز کا رواج ڈالیں، بیوی بچوں کو نماز پڑھا لیا کریں، اس سے ایک باجماعت نماز کا احساس تو پیدا ہو گا۔
بعدازاں ممبران مجلس عاملہ کو حضور انور سے سوالات پوچھنے اور اپنے شعبہ جات کے حوالے سے راہنمائی حاصل کرنے کا موقع ملا۔
قائد ذہانت وصحت جسمانی نے حضور انور کی خدمت میں عرض کیا کہ ہم کوشش کرتے ہیں کہ شعبہ تبلیغ کے ساتھ مل کر اپنے انصار کے eventsمیں غیر از جماعت دوستوں کو لے کر آئیں اور ان میں سپورٹس ایونٹس کروائیں، اس سلسلے میں حضور انور اگر کچھ مزید راہنمائی فرما دیں؟
حضور انور نے ہدایت فرمائی کہ انصار صرف سپورٹس کے لئے نہ آئیں بلکہ آگے پھر ان کی جماعت سے attachmentبھی ہو، انصار کی عمر تو ایسی عمر ہے کہ اس میں تو اگلے جہان کی زیادہ فکر ہو جاتی ہے ، یہ احساس پیدا کریں ۔
حضور انور کے استفسار پر نائب صدر صف دوم نے عرض کیاکہ انصار کی کل تعداد3400ہے۔ ان میں سے1400؍ انصار کے پاس سائیکل ہے۔اس پر حضور انور نے مسکراتے ہوئے فرمایا کہ سائیکل گھر میں ،shelfمیں سجا کر رکھا ہوا ہے ، اس کا فائدہ کیا ہے؟ فرمایاجہاں تک ممکن ہو سائیکل سے ہی کام پر جانا چاہئے۔خود کوشش کریں اور اپنا نمونہ دکھائیں۔
نائب صدر صف دوم نے عرض کیا کہ پچھلے ہفتے ہم نے آل کینیڈاکی سطح پرسائیکل سفر کا اہتمام کیا تھا۔500سے زائد انصار نے شرکت کی ۔ پانچ سے پندرہ کلومیٹر کا ٹارگٹ رکھا گیا تھا۔
اس پر حضور انور نے فرمایا مجلس انصار اللہ یوکے نے حال ہی میں سپین جا کر سائیکل سفر کیا۔فرمایایہاں سے پچاس سائیکلسٹ گئے تھے اور وہاں کے دوسرے سائیکلسٹ جو دنیا کے مختلف ممالک سے آئے ہوئے تھے، وہ بھی ان میں شامل ہو گئے اور اس طرح سپین میں تبلیغ کا ایک ذریعہ بھی بن گیا۔ وہ 250 سے 300 کلو میٹر سفر کر کے آئے ہیں۔ اس طرح کا ایک علیحدہ eventرکھا کریں۔
حضور انور نے مزید توجہ دلائی کہ جن کو encourageکرنا ہے ان کو علیحدہ رکھیں اور جو اچھے سائیکلسٹ ہیں ، ان کا علیحدہ گروپ بنائیں۔ اس کو تبلیغ کا ذریعہ بھی بنائیں۔ یوکے کے گروپ نے وہاں جا کےپھر لٹریچر بھی تقسیم کیا ، تبلیغ بھی کی، دوسرے لوگ بھی شامل ہوئے۔انہوں نے پیدرو آبادسے قرطبہ تک کا سفر اختیار کیا، اس کے علاوہ بھی سفر کیا، اس سے تبلیغ کا رستہ بھی کھل گیا۔ تو مقصد ایک یہ بھی تھا کہ جہاں آپ کی صحت اچھی ہو ،وہاں تبلیغ کے راستے بھی کھلیں۔اپنے کام کے نظریے کوذرا وسیع کریں ۔
حضور انور نے فرمایا کہ اس تصور کو ختم کریں کہ میں بزرگ اور بوڑھا نظر آؤں ، بوڑھا نظر نہیں آنا چاہئے، جوان نظر آنا چاہئے۔ آپ تو جوانوں کے جوان ہیں، انصار اللہ اس لئے بنائی گئی تھی ۔
قائد ایثار سے حضور انور نےفرمایا کہ قائد ایثار کا کام یہ تحریک کرنا ہے کہ تم لوگ چیریٹی میں دو، یہ نہ کہو کہ ہمیں دو۔ لوگ تمہارے سے زیادہ غربت کی حالت میں ہیں، ان کے لئےصدقہ بھیجو اور چیریٹی میں دو۔ مختلف تنظیمیں ہیں، ہیومینٹی فرسٹ کو دے سکتے ہیں، لوکل چیریٹیز کو دے سکتے ہیں، انٹرنیشنل چیریٹیز کو دے سکتے ہیں۔
ان کو کہیں کہ ہم اپنے لئے نہیں مانگ رہے جماعت کے لئے نہیں مانگ رہے بلکہ ان غریبوں کے لئے مانگ رہے ہیں جو افریقہ میں بیٹھے ہیں، ان کے لئے مانگ رہے ہیں جو کسی اور غریب ملک میں بیٹھے ہیں۔ ان کو پانی مہیا کرنا ہے ،ان کو خوراک مہیا کرنی ہے یا فلسطینیوں کوaidدینی ہے اور جو جو بھی ایڈ ایجنسیاں فلسطینیوں میں خوراک ، کپڑا اور پانی مہیا کر رہی ہیں، ان کے لئےدینا ہے، تو تم لوگ ان کے لئے دو۔ اور یہ عمر ایسی ہے جہاں تم لوگ خیرات و صدقہ کی طرف توجہ کرو گے تواللہ تعالیٰ بھی تمہارے سے نیک سلوک کرے گا، اس کے بعد تو پھر اگلا جہان ہی ہے، تو اس طرف ان کو توجہ دلائیں۔
قائد تبلیغ سے گفتگو کے دوران حضور انور نے فرمایا کہ اس دفعہ بھی انہوں نے مجھ سے پوچھا تھا کہ سیاستدانوں کو جلسہ پر بلائیں یا نہ بلائیں۔میں نے کہا تھا کہ جلسہ جماعت کی تربیت کیلئے ایک eventہوتا ہے۔ اپنے پروگراموں کو تربیت اور تبلیغ پر فوکس کریں اور لوگوں میں اس طرح ایک جذبہ پیدا کریں کہ ان کا اصل مقصد کیا ہے، کیونکہ زیادہ توجہ پھر اُسی طرف ہوتی ہے۔ نہ عورتیں توجہ دے رہی ہوتی ہیں، نہ مرد توجہ دے رہے ہوتے ہیں، صرف یہ ہوتا ہے کہ واہ واہ! آج ہمارے پاس فلاں منسٹر آ گیا ہے۔فلاں سیاستدان آ گیا۔وزیراعظم آ گیا۔ اس نے یہ تقریر کر دی اور اخبار میں ہماری کوریج ہوگئی۔ کوریج تو کمال نہیں ہے۔ کمال تو وہ ہے کہ ہم نے اپنی تربیت کتنی کی ہے، اپنوں کو کتنا سنبھالا ہے، یہ چیز ہے۔ یہ شعبہ تربیت، شعبہ تبلیغ اور مربیان سب کے مل کر کرنے کا کام ہے۔
حضور انور نےفرمایا کہ چندہ عام، چندہ وصیت، اور چندہ جلسہ سالانہ جیسے چندہ جات لازمی ہیں اور اس کے ساتھ ساتھ ذیلی تنظیموں جیسے کہ مجلس انصار اللہ کے مقرر کردہ چندہ جات بھی خصوصی اہمیت کے حامل ہیں، ان کو تنظیمی چندہ جات کہا جاتا ہے، جو مجلسِ شوریٰ میں منتخب نمائندگان کے ذریعہ مقرر کیے جاتے ہیں۔ یہ نمائندے اپنی تنظیموں کی طرف سے مالی ذمہ داریوں کو پورا کرنے کا عہد کرتے ہیں، نتیجۃً متعلقہ ذیلی تنظیموں کے اراکین بھی ان چندوں کی ادائیگی کے پابند ہوتے ہیں۔
آخر پر معاون صدر نےعرض کیا کہ کیا غلبہ اسلام کسی بڑی جنگ یا عالمی جنگ کے ساتھ مشروط ہے؟
اس پر حضور انور نے فرمایا کہ مشروط تو کہیں نہیں ہے۔ کہاں لکھا ہوا ہے کہ مشروط ہے!حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے یہ ضرور لکھا ہے کہ اگر لوگوں نے اپنی حالت کو نہ بدلا تودنیا میں تباہیاں آئیں گی۔یہ تقدیر ایسی ہے جو ہماری دعاؤں سے بدلی جا سکتی ہے اور اللہ تعالیٰ یہ قدرت رکھتا ہے کہ بغیر بڑی بڑی آفات کے بھی اگر دنیا اپنی حالت بدل لے، جو عموما ًتاریخ یہ ثابت کرتی ہے اور دنیا کے حالات بھی یہ بتا رہے ہیں کہ مشکل ہی لگتا ہے کہ حالت بدلے، اس لئے غالب امکان یہی ہے کہ کوئی تباہی آئے یا جنگ ہو۔ اس کے بعد لوگوں کا اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع پیدا ہو۔ اس لئے میں کہتا ہوں پہلے اپنا تعارف کروائیں۔ ابھی تک تو آپ نے بیالیس ملین کی آبادی میں صرف پچیس ہزار لٹریچر تقسیم کیا ہے تو اس سے آپ نے دنیا کو کیا بتانا ہے؟
دنیا کو بتائیں کہ یہ تباہی آ سکتی ہے، تم لوگ خدا کی طرف رجوع کرو اور یہی بچنے کا ایک ذریعہ ہے تاکہ بعد میں اگر وہ احمدی نہیں بھی ہوتے تو ان کو یہ احساس پیدا ہو کہ ہاں! کچھ لوگ ایسے تھے جو ہمیں اس طرف بلایا کرتے تھے۔جب تباہیاں آئیں، اس کے بعد جولوگ بچ جائیں، ان کا رجوع پیدا ہو اور وہ پھر آپ کی طرف آئیں ۔
پہلی بات تو یہ ہے کہ ہمارا کام اپنا تعارف کروانا اور لوگوں کو پیغام دینا ہے۔ پھر یہ بھی ضروری ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے خود بھی تباہی سے بچنے کی دعا کی ہوئی ہے بلکہ طاعون کے دنوں میں بھی آپؑ نے دعائیں کی ہوئی ہیں، بہت دعائیں کی ہیں، گڑ گڑا کے دعائیں کی ہیں۔ تو اصل تو یہی ہے کہ دنیا اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کرے اور بعض دفعہ حالات ایسے ہوتے ہیں کہ تباہی کے ساتھ ہی یہ چیزیں مشروط ہو جاتی ہیں ۔ لیکن اللہ تعالیٰ اس بات پر بھی قادر ہے کہ وہ تباہی نہ آئے اور اس کے بغیر حالات بدل جائیں۔ اس لئے ہمارا کام یہ ہے، جو کوشش ہے، اس کے ذریعہ سے پیغام پہنچائیں اور ساتھ دعا بھی کریں کہ اللہ تعالیٰ اس تباہی سے دنیا کو بچا بھی لے۔لیکن پھر بھی اگر لوگ نہیں مانتے تو پھر اللہ تعالیٰ کی تقدیر ہے جو غالب آنی ہے ، وہ تو آنی ہے۔
ملاقات کے اختتام پر مجلس عاملہ کے ممبران کو حضور انور کے ساتھ تصویر بنوانے کا شرف حاصل ہوا اور یوںیہ ملاقات بخیر و خوبی انجام پذیر ہوئی۔
(بشکریہ الفضل انٹرنیشنل 30 مئی 2024ء)