مورخہ12مئی2024ء کو حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کے ساتھ جرمنی سے آئی ہوئی 70 سے زائد ناصرات الاحمدیہ کے ایک وفد کو، اسلام آباد ٹلفورڈ میں قائم ایم ٹی اے سٹوڈیوز میں بالمشافہ ملاقات کی سعادت حاصل ہوئی۔ناصرات نے اس ملاقات میں شرکت کیلئے جرمنی سے برطانیہ کا سفر اختیار کیا۔ تلاوت قرآن کریم کے بعد ناصرات کو حضور انور نے از راہ شفقت سوال پوچھنے کی اجازت مرحمت فرمائی۔
ایک ناصرہ نے سوال کیا کہ میں اللہ تعالیٰ کو اپنی زندگی میں وہ اہمیت کیسے دے سکتی ہوں جس کا وہ حق دار ہے؟
اس پر حضور انور نے استفہامیہ انداز میں فرمایا کہ کیا تمہیں یہ پتا ہے کہ تمہیں سب کچھ دینے والا کون ہے؟ اللہ تعالیٰ ہی دیتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کہتا ہے رب العالمین مَیں ہوں۔ مَیں تمہارا ربّ ہوں۔ مَیں تمہیں پالنے والا ہوں۔ میں نے تمہیں پیدا کیا اور اس کے بعد پھر تمہاری پرورش کا انتظام کیا۔تمہیں پالنے کا انتظام کیا۔ تمہیں اچھے ماں باپ دیے جو تمہاری تعلیم کا بھی خیال رکھتے ہیں، تمہارے کپڑوںاورلباس کا خیال رکھتے ہیں۔ تمہارے آنے جانے کا خرچہ انہوں نے دیا۔اب یہاں آئی ہو توپیسے انہی سے لے کے آئی ہو۔ تو اس طرح اللہ کا شکر ادا کرو۔ جب یہ خیال آئے گا کہ یہ ساری چیزیں اللہ تعالیٰ نے میرے لیے پیدا کی ہیں تو اللہ کی عبادت کا حق بھی ادا ہو گا اور اللہ کی شکرگزاری بھی زیادہ پیدا ہو گی۔
ایک ناصرہ نے قرآن کریم کی سورۃ المائدہ کی آیت نمبر 52 کے حوالے سے سوال کیا کہ اس کے مطابق ہمیں عیسائیوں یا یہودیوں کو دوست کیوں نہیں بنانا چاہئے؟
اس پرحضور انورنے فرمایا کہ اللہ میاں نے دوست بنانے سے منع نہیں کیا۔اگر تم دوست بناؤ گی، واقف بناؤ گی، قریبی تعلق پیدا کرو گی تبھی تم تبلیغ کر سکتی ہو۔ جب تم ان سے دور رہو گی کہ میرے قریب نہ آنا، تو پھر تم تبلیغ کس طرح کرو گی؟ تو یہاں اللہ میاں کا مطلب یہ ہے کہ ایسے لوگ جو دین سے دور ہٹے ہوئے ہیں،ان کو دوست نہ بناؤ اور کسی سے خوفزدہ نہ ہو۔ ساری آیت پڑھو۔ فرماتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے تمہیں ہی فتح دینی ہے، تم نے ہی کامیاب ہونا ہے۔ یہ نہ سمجھو کہ یہ دنیا والے کامیاب ہو جائیں گے۔ آخر کامیابی تمہاری ہی ہے۔ اس لیے ان برے لوگوں سے بچو۔
ایک دفعہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے پاس ایک سکھ آیا۔ اس نے کہا کہ میں دین سے دور ہٹ رہا ہوں۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا کہ تم کالج میں اپنی جگہ تبدیل کر لو۔ تھوڑے دنوں کے بعداس نے آکر بتایا کہ جب سے میں نے اپنی کرسی تبدیل کی ہے میرے خیالات جو atheistخیالات ہوتے تھے، دین سے دُور ہونے کے خیالات آرہے تھے ،وہ سب ٹھیک ہو گئے ہیں کیونکہ میرا جو classmate ہے جس کے ساتھ میں بیٹھتا ہوں وہ دیندار ہے۔
اس لیے اللہ تعالیٰ نے کہا ہے کہ جب تم برے لوگوں کو دوست بناتے ہو تووہ تمہارے پہ اثر انداز ہو جاتے ہیں۔ نہ بھی کوئی بات کریںتب بھی لاشعوری طور پر تم پر اثر انداز ہوتے ہیں۔ اس لیے ایسے دوست بناؤ جو اچھے ہوں، دیندار ہوں، اچھے اخلاق کے ہوں۔ بعض لوگوں میں دین نہیں ہوتا لیکن اخلاق اچھے ہوتے ہیں۔ وہ تمہاری باتیں سنتے ہیں۔ تمہیں appreciate کرتے ہیں۔اللہ تعالیٰ کی یہاں مراد یہ ہے کہ برے لوگوں کو دوست نہ بناؤ کیونکہ ان سے برائیاں پیدا ہوتی ہیں۔ ان کو ایسا دوست بناؤ کہ گویا وہ تمہارے بہت گہرے خونی رشتہ دار ہیں۔
ایک ناصرہ نے حضور انور سے قبر کے عذاب کے حوالے سے پوچھا کہ اس سے کیسے بچا جا سکتا ہے؟
حضور انور نے فرمایا کہ قبر کے عذاب سےبچنے کا طریقہ یہی ہے کہ ہم نیک کام کریں۔اللہ تعالیٰ نے کہا ہے کہ میری عبادت کرو تو اس کی عبادت کریں۔ اللہ تعالیٰ نے کہا ہے تم اچھے اخلاق دکھاؤ، دوسروں کا خیال رکھو، غریبوں کا خیال رکھو، یتیموں کا خیال رکھو۔ تو تم ان کا خیال رکھو اور لوگوں سے اچھی طرح ملو۔جب اللہ تعالیٰ کا بھی حق ادا کر رہے ہو گے اور بندوں کا حق بھی ادا کر رہے ہو گے تو اللہ تعالیٰ کو سزا دینے کی ضرورت کیا ہے۔اور دعا بھی کرتے رہنا چاہئے کہ اللہ تعالیٰ ہمیں قبر کے عذاب سے بچائے۔
اِس جسم کو تو عذاب نہیں ملتا۔ جسم تو یہیں رہ گیا۔ تو ایک مثال دی ہوئی ہے تمہیں سمجھانے کے لیے کہ جب تم مر گئے ،قبر میں چلے گئے تو پھر وہاں سزا کا سلسلہ شروع ہو جاتا ہے۔ سزا اس قبر میں نہیں مل رہی ہوتی۔سزا تو اس روح کو مل رہی ہوتی ہے جو اوپر چلی جاتی ہے لیکن اس کی مثال اللہ تعالیٰ نے قبر سے دے دی کیونکہ تم صرف قبر کے جسم کو جانتی ہو۔ اس لیے اللہ تعالیٰ ہمیں بچائے،ہمارے سے ایسا حساب کتاب نہ لے جس سے ہم پریشان ہو جائیں۔
ایک ناصرہ نے جماعت کے معاشرے پر مثبت اثرات ڈالنے کے طریقوں کے بارے میں حضور انور سے استفسار کیا۔
اس پر حضور انور نے فرمایاکہ اگر آپ نیک ہیں اور اپنی دعاؤں میں مخلص ہیں، تو اللہ تعالیٰ آپ کے اچھے اعمال کو برکت بخشے گا۔ یتیموں کی دیکھ بھال کرنا، دوسروں کے ساتھ مہربانی سے پیش آنا اور اخلاقی اقدار کو برقرار رکھنا یہ سب اس میں کردار ادا کرتے ہیں۔ مزید برآں فرمایا کہ سکول اور حصول تعلیم میں عمدہ کارکردگی دکھانا اور علمی کاموں پر توجہ مرکوز کرنا،دوسروں کے سامنے اچھے اخلاق کی نمایاں مثال بن سکتا ہے۔ انسانیت کی خدمت میں مشغول رہنا، فلاحی کاموں میں حصہ لینا اور دوسروں کی فلاح و بہبود میں مثبت کردار ادا کرتے رہنا نہایت اہم اور ضروری ہے۔
حضور انور نے جرمنی کی مثال دیتے ہوئے فرمایا کہ وہاں بہت سے لوگ احمدیوں کو دوسرے مسلمانوں سے مختلف سمجھتے ہیں۔فرمایا کہ جرمنی میں مساجد کے افتتاح کے دوران اکثر یہ سننے کو ملتا ہے کہ احمدیوں کو اچھے اور نیک افراد کے طور پر پہچانا جاتا ہے، جو معاشرے پر مثبت اثرات ڈال رہے ہیں۔ اپنے اندر نیکی پیدا کریںتو آپ لاشعوری طور پر معاشرے پر مثبت اثر ڈالیں گے۔
ایک ناصرہ نے سوال کیا کہ جب حضور انور خوش ہوتے ہیں یا پریشان ہوتے ہیں تو کیا کرتے ہیں؟
اس پرحضور انور نے مسکراتے ہوئےفرمایا کہ خوش ہوتے ہیں تب بھی وہی کرتے ہیں اور جب پریشان ہوتے ہیں تب بھی وہی کرتے ہیں۔ خوش ہوتے ہیں تو اللہ کا شکر کرتے ہیں۔ پریشان ہوتے ہیں تب بھی اللہ سے مدد مانگتے ہیں۔اس کے علاوہ ہمارے پاس ہے کیا؟
ایک ناصرہ نے کہاکہ میرا سوال یہ ہے کہ میری کلاس فیلو کہتی ہے کہ اسلام میں مرد اور عورت کو برابر نہیں سمجھا جاتا کیونکہ مرد کو چار شادیوں کی اجازت ہے اور عورت کو نہیں ہے۔
اس پر حضور انور نے فرمایا کہ اس کو کہو کہ عورت کو اگرچار شادیوں کی اجازت مل گئی تو عورت تو پریشان ہو جائیگی۔ اللہ تعالیٰ نے ہر ایک کو اسکی فطرت کے مطابق طاقت دی ہوئی ہے۔شادیاں کسی مقصد کیلئے ہیں۔ مردوں کو کھلی چھٹی نہیں دی ہوئی بڑی conditions ہیں ۔ اللہ تعالیٰ نے کہا ہے کہ اگر دین کیلئے ضرورت ہو جس طرح انبیاء کو ضرورت ہوتی ہے وہ زیادہ شادیاں کرتے ہیں۔آنحضرت ﷺ نے بھی دین کے پھیلانے کیلئے شادیاں کیں آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ دین کا آدھا علم عائشہ سے سیکھو۔اتنی importance دے دی عورت کو کہ دین کا آدھا علم عورت سے سیکھنے کو کہہ دیا۔ پھر شادیاں اس لیے کیں تا کہ دین کو پھیلانے میں عورت کردار ادا کرے۔
پھر بعض دفعہ اولاد نہیں ہوتی تو اولاد کے لیے عورت کی اجازت سے مرد شادی کر سکتا ہے۔لیکن اس کے باوجود اللہ تعالیٰ نے عورت کویہ حق دیاہے کہ اگر وہ سمجھتی ہے کہ مرد کسی وقت شادی کر سکتا ہے تو وہ شادی سے پہلے اس سے لکھوا لے کہ تم میرے علاوہ کسی اور سے شادی نہیں کرو گے جب تک میں زندہ ہوںتم شادی نہیں کرو گے۔ پھروہ مرد پابند ہے کہ جو bond اس نے لکھا ہوا ہے اس کی پابندی کرے۔
عورت کی فطرت ہی اللہ تعالیٰ نے ایسی بنائی ہے کہ وہ اس طرح شادیاں نہ کرے۔ وہ یہی چاہتی ہے کہ اس کا ایک خاوند ہو اور وہ اسی سے محبت کرے۔جب تم پندرہ سال کی ہو جاؤ گی توکسی عورت سے تم پوچھ لو، جا کر اس کا انٹرویو لے کر پوچھو کہ کیا تم چاہتی ہو کہ تمہارے دو خاوند ہوں؟ مسکراتے ہوئے حضورنےفرمایا کہ پھر وہ تمہارے منہ پہ چپیڑ مارے گی۔ لیکن مرد ایسےنہیں کرے گا۔
ابھی بھی دنیا میں ایسے قبیلے ہیں، انڈیا کے بعض ریموٹ علاقوں میں یا بعض آئی لینڈز ہیں جہاں عورتیں حکومت کرتی ہیں اور عورت کے دودو تین تین خاوند ہوتے ہیں۔ لیکن اللہ کہتا ہے کہ یہ تمہاری فطرت نہیں ۔اور وہ تنگ ہی آئے ہوتے ہیں۔ ان کو پتا نہیں لگتا کہ اولاد کس کی ہے۔ مرد کی اولاد کا تو پتا لگ جاتا ہے کہ کس کی اولاد ہے۔ عورت کی اگرکئی شادیاں ہوں گی تو پتا نہیں لگے گا کہ کس کے بچے ہیں۔پھر ایک فساد پیدا ہو جائے گا۔
ایک ناصرہ نے حضور انور سے سوال کیا کہ اگر کوئی جو آپ کے اوپر اتھارٹی رکھنے والا ہو جیسا کہ والدین یا ٹیچر، ان کے ساتھ اگر کوئی جھگڑا یا اختلاف ہو تو اس صورت میں مجھے کس طریق سے پیش آنا چاہئے؟ خاص طور پر جب ہم دونوں کو لگ رہا ہو کہ ہم دونوں کا نظریہ درست ہے؟
حضور انور نے فرمایا تمہارا تجربہ صرف پندرہ سال کا ہے، بلکہ سات سال نکال دو تو نو سال کا تجربہ ہے۔ اسکے مقابل پر تمہارے ٹیچر یا والدین بڑی عمر کے ہیں اوران کا تمہارے سے experience زیادہ ہے۔ انکو پتا ہے کہ ہمارا تجربہ یہ ہے کہ یہ چیز غلط ہے اور اس کیلئے کوئی argumentبھی ہونا چاہئے اور اگر وہ کوئی دلیل دیتے ہیں تو پھر ٹھیک ہے اور اگر وہ سمجھتے ہیں کہ نہیں ہم ٹھیک ہیں اور تمہاری بات صحیح بھی ہو اور وہ غلط کہتے ہیں تو تم ان سے کہو کہ مجھے ثابت کر دیں تو میں مان لیتی ہوں۔بحث برائے بحث for the sake of argument نہیں کرنا چاہئے۔ انکو کہو کہ مجھے سمجھا دیں۔اگر کوئی اصولی بات ہے اور وہ پھر بھی کہیں کہ نہیں ہم ٹھیک کہہ رہے ہیں تو پھر کہو کہ میں بھی دعا کرتی ہوں آپ بھی دعا کریں۔پھر اگر میرے دماغ میں بات آ گئی تو میں آپکی بات مان لونگی ۔ اگر نہیں ہے تو پھر نہیں۔
مختلف معاملات ہوتے ہیں جن پر argueہو سکتاہے۔ کوئی نظریاتی بات ہے، کوئی رشتے کی بات ہے۔ تو یہ ایک جنرل سوال ہےکہ اگر وہ کہیں کہ یوں ہے تو ہم کہیں کہ یوں ہے۔ بعض دفعہ کسی لڑکی کا کوئی رشتہ آتا ہے۔ والدین کہتے ہیں یہ رشتہ اچھا ہے،تم کر لو۔ لڑکی کہتی ہے کہ مجھے تسلی نہیں مَیں نہیں کروں گی۔ وہ تمہارے ساتھ argueکرتے ہیں کہ ضرور کرو۔ تو اس پہ تم کہہ سکتی ہو کہ اچھا پھر میں دعا کروں گی۔ دعا کے بعد میری تسلی ہو گی تو مَیں کروں گی، نہیں تو نہیں کروں گی۔ رشتے کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے تمہیں حق دیا ہے کہ تم اپنے رشتے کا انکار کرو یا اقرار کرو۔
پڑھائی کے معاملے میں اگر تمہارے پاس کوئی ٹھوس دلیل ہے تو وہ ٹیچر کو بتاؤ کہ یہ دلیل ہے اور جو بعض اچھے ٹیچر ہوتے ہیں وہ مان بھی جاتے ہیں۔اگر تمہیں سمجھ نہیں آئی تو ان سے کہو کہ مجھے سمجھاؤ کیونکہ بہرحال ٹیچر ،ٹیچر ہے۔ اسکا experience تمہارے سے زیادہ ہے۔ یہ کہنا کہ جو میں نے کہا وہ ٹھیک ہے، یہ ڈھٹائی ہے۔ اسلام ڈھٹائی نہیں چاہتا۔
اسلام کہتا ہے کہ آپس میں مل کے فیصلہ کرو۔ بیٹھو اور ایک دوسرے کی تسلی کراؤ۔ تو تسلی ہونی چاہئے۔
ایک ناصر ہ نے عرض کی کہ امسال ہم انشاء اللہ تعالیٰ لجنہ اماء اللہ کی تنظیم میں شامل ہو جائیں گی۔ حضور ہمیں بہترین لجنہ ممبر بننے کے لیے ہماری کیا راہنمائی فرمائیںگے؟
اس پر حضور انور نے استفسار فرمایا کہ کیا تم بہترین ناصرات بنی ہوئی ہو؟جس طرح تم بہترین ناصرات بنی تھی اسی طرح بہترین لجنہ ممبر بن جاؤ۔ لجنہ میں آ کر اپنے آپ کو یہ نہ سمجھو کہ آزادی ہو گئی۔ اب میں پندرہ سال کی ہو گئی ہوں اور میں تین سال کے بعد اٹھارہ سال کی ہو جاؤں گی تو میں اپنے ماں باپ کے پنجے سے آزاد ہو جاؤں گی۔ مجھے میری سوسائٹی میرے ملک کا قانون اجازت دیتا ہے کہ میں
independentہو جاؤں۔ میری مرضی ہے جس سے مرضی دوستی کروں نہ کروں۔ میری مرضی ہے میں اپنی سہیلیوں کے گھر میںovernight stay کروں۔بے شک ان کے گھر میں لڑکے بھی ہیں، مرد بھی ہیں، بے پردگی بھی ہو گی لیکن میں آزاد ہوں جو مرضی کروں۔یہ چیزیں اچھی نہیں ہیں۔ اسلام کہتا ہے کہ اچھی مسلمان احمدی لڑکی کو باحیا ہونا چاہئے اور شریعت کے جو قاعدے قانون ہیں ان کے اندر رہتے ہوئے رہنا چاہئے۔ان چیزوں کو سامنے رکھو کہ میں نے جو کام کرنا ہے اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل کرنے کیلئے کرنا ہے۔ اس کی مرضی حاصل کرنے کیلئے کرنا ہے تو پھر تم اچھی لجنہ بن جاؤ گی،تم اچھی انسان بن جاؤ گی، تم اچھی شہری بن جاؤ گی۔بس ایک اچھی لجنہ کو اچھا شہری بھی ہونا چاہئے، اچھا انسان بھی ہونا چاہئے اور اللہ کا حق ادا کرنے والا ہونا چاہئے۔ اللہ کی ہر وقت شکر گزاری کرو اور ہمیشہ یہ خیال رکھو کہ میں ایک احمدی لڑکی ہوں اور ایک احمدی مسلمان لڑکی کو دوسروں کے لیے رول ماڈل ہونا چاہئے۔
اس لیے میں نے عبادت کا بھی حق ادا کرنا ہے اور میں نے لوگوں کے حق بھی ادا کرنے ہیں ،لوگوں سے ہمدردی سے ملنا ہے، اچھے اخلاق سے ملنا ہے ،غریبوں کی مدد کرنی ہے، اپنے چھوٹے بہن بھائیوں کا خیال رکھنا ہے۔بڑوں کا ادب کرنا ہے، لحاظ کرنا ہے اورجس طرح میں نے کہا تھا ضدبازی نہیں کرنی بلکہ اچھے اخلاق دکھانے ہیں تو تم اچھی لجنہ بن جاؤ گی۔
ایک ناصرہ نے سوال کیا کہ جب بنو قریظہ کے مردوں کا قتل کیا گیا تھا تو ان پر رحم کیوں نہیں کیا گیا؟
اس پر حضور انور نے فرمایا کہ اس کے بارے میں مَیں نے بڑی تفصیل سے خطبہ دیا ہے۔ کیا تم نے میرا خطبہ نہیں سنا تھا۔ اب پانچ منٹ میں تو میں تمہیں نہیں بتا سکتا۔ مختصر بات یہی ہے کہ آنحضرت ﷺ رحمۃ للعالمین تھے۔ جب انہوں نے غداری کی تو آپﷺ نے ان کو کہا کہ تمہارا فیصلہ میں کرتا ہوں۔ تم لوگ یہاں سے چھوڑ کے چلے جاؤتو میں سب کو بخش دیتا ہوں۔ اور تم نے جو اسلام اور مسلمانوں کے خلاف منصوبہ بنایا ہے اس پر میں تمہیں کچھ نہیں کہتا، چھوڑ دیتا ہوں۔ میرے سے فیصلہ کرا لو۔ انہوں نے کہا نہیں! اور فلاں صحابی کا نام لیاکہ اس سے فیصلہ کرائیں گے۔ تو وہ صحابی جو یہودی سے مسلمان ہوئے تھے انہوں
نے کہا پھر جو موسیٰ کی شریعت ہے،میں اس کے مطابق فیصلہ کروں گا۔ انہوں نے کہا کرو۔ ان صحابی نے کہا کہ حضرت موسیٰ ؑکی شریعت یہ کہتی ہے کہ اس قسم کے لوگ جواس طرح غداری کریں اور اس طرح قتل کے منصوبے بنائیں، نقصان کرنےکی کوشش کریں،فتنہ کریں، فساد پیدا کریں انہیں قتل کر دو۔ اس پہ انہیںقتل کر دیا گیا۔لیکن اس میں بھی اختلاف ہے۔کوئی کہتا ہے تین سو آدمیوں کا قتل کیا،کوئی چار سو کہتا ہے،کوئی ہزار۔ پھربچوں یاعورتوں کوقتل کیا گیایا نہیں اس بارے بھی تاریخ میں اختلاف ہے۔ وہ میں نے اپنے ایک خطبہ میںتفصیلی بیان کیا ہوا ہے۔یہودیوں نے آنحضرت ﷺ کی بات ماننے سے انکار کر دیا تھااور کہا کہ نہیں ہم نے فیصلہ آپﷺ سے نہیں کرانا بلکہ فلاں صحابی سے کرانا ہے۔ ان صحابی نے کہا کہ پھر میں تمہاری شریعت کے مطابق فیصلہ کرتا ہوں۔ تو ان کی شریعت کے مطابق فیصلہ ہوا تھا۔ آنحضرت ﷺپر تو الزام آتا ہی نہیں۔ اس کے لیے تم دوبارہ میراوہ خطبہ بھی تلاش کر کے سن لینا۔
بعد ازاںحضور انور سے از راہ شفقت ناصرات کو قلم عطا فرمائے اور یوں یہ ملاقات بخیر و خوبی اختتام پذیر ہوئی۔
(بشکریہ الفضل انٹرنیشنل 23 مئی 2024ء)
…٭…٭…٭…