مبلغین کے سالانہ ریفریشر کورس کے موقع پر مورخہ 8مئی 2024ء بروز بدھ حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ کیساتھ جماعت کینیڈا کے مبلغین سلسلہ کی آن لائن ملاقات ہوئی۔ حضور انوراسلام آباد ٹلفورڈ میں قائم mta سٹوڈیوز میں رونق افروز ہوئے۔ مبلغین مسجد بیت الاسلام پیس ولیج کے کمپلیکس میں واقع طاہر ہال میں تھے۔ دعا کےبعد مبلغین کو حضورانور سے مختلف موضوعات پر سوالات کرنے کا موقع ملا۔
حضورانور نے مبلغین سے فرمایا کہ کام کر کے دکھائیں اور اپنی پلاننگ اس طرح کریں کہ ہر مشنری اپنے آپ کو ایک سپاہی سمجھے اور اس لحا ظ سے دیکھے کہ میرے کیا فرائض ہیں، میری کیا ذمہ داریاں ہیں کس طرح میں نے ان کو ادا کرنا ہے اور نہ ادا کرنے کی صورت میں ان لوگوں میں شامل تو نہیں ہو رہا جو اپنے عہد کوپورا کرنے والے نہیں۔ اصل چیز تو یہ ہے۔ باقی تو باتیں ہیں۔جتنی مرضی باتیں کرتے چلے جائیں۔ اپنی اصلاح کریں۔ یہ دیکھیں کہ عبادت کے کیا معیار ہیں۔ کتنے ایسے ہیں جو باقاعدہ تہجد پڑھنے والے ہیں اور حقیقت میں تہجد کا حق ادا کرتے ہوئے تہجد پڑھنے والے ہیں۔ کتنے ایسے ہیں جو نمازوں کو سنوار کر پڑھنے والے ہیں اور خشوع و خضوع پیدا کرنے والے ہیں۔ کتنے ہیں جو قرآن کریم کی تلاوت کرتے ہیں اور سمجھ کر کرتے ہیں۔ کتنے ہیں جو اس کی تفسیر پڑھ رہے ہیں اور اس کو سمجھ رہے ہیں۔ کتنے ہیں جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی کتب پڑھ رہے ہیں اس سے علم حاصل کر رہے ہیں۔ علم کلام تو ہمیں اسی سے ملتا ہے۔بہت سارے سوال آپ کے مشنری بھی لکھ کر بھیج دیتے ہیں ،جامعہ کے طلبہ بھی لکھ کر بھیج دیتے ہیں حالانکہ اگر انہوں نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی کتابیں پڑھی ہوں تو انہی میں ان کے جواب مل جاتے ہیں۔ اس کا مطلب ہے کہ جو پڑھتے ہیں وہ بھی غور سے نہیں پڑھتے اور اس میں سے جو مطلب نکالنے کی ضرورت ہے وہ نہیں نکالتے۔ اور جو چند ایک علم رکھنے والے ہیں ان کے دماغ میں بعض دفعہ یہ خیال آ جاتا ہے کہ ہمارے پاس علم ہے اس لیے ہم دوسروں سے زیادہ superiorہیں حالانکہ کئی دفعہ میں کہہ چکا ہوں کہ مربیان کو خاص طور پہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا ایک بنیادی مصرعہ ہمیشہ یاد رکھنا چاہیےکہ
بدتر بنو ہر ایک سے اپنے خیال میں
شاید اسی سے دخل ہو دارالوصال میں
تو اصل چیز تو یہ ہے کہ آپ نے دارالوصال کو حاصل کرنا ہے۔ یہ مقصد ہے، یہ ٹارگٹ ہے اور اس کے لیے ہم نے کس طرح ایسی پلاننگ کرنی ہے جس سے ہم جس قدر جلدی ہو سکے کینیڈا کے ہر کونے میں احمدیت اور جماعت کا پیغام پہنچائیں۔ اگر اس طرح آپ لوگ صحیح طرح دل لگا کر کام کرنے والے ہوں اور ہر ایک اپنی ذمہ داریوں کو سمجھے تو مشنریز انشاء اللہ تعالیٰ اتنا کام کر سکتے ہیں۔
یہ کہنا کہ ہمارے پاس وسائل نہیں، ہمارے پاس فلاں چیز نہیں غلط ہے۔ وسائل نہ ہونے کے باوجود جو وسائل ہیں ان کے اندر رہ کر زیادہ سے زیادہ کام کرنا ہے۔نئے نئے راستے exploreکرنا یہ آپ لوگوں کا کام ہے۔ وسائل کے اندر رہتے ہوئے آپ نے کام کرنا ہے۔ دنیا میں ہر جگہ وسائل کی کمی رہتی ہے۔ اس لیے اکانومسٹ ،دنیا دار ،معیشت کے ماہرین وہ بھی کہتے ہیں کہ minimum resources and maximum utilitiesتو یہ آپ کو بھی دیکھنا چاہیے کہ اپنے محدود وسائل سے آپ زیادہ سے زیادہ کتنا استفادہ کر سکتے ہیں اور اس کے لیے پھر نئے طریقے ایجاد کریں۔ ہر ایک بجائے یہ سوچنے کے کہ مجھے امیر صاحب نے یہ چیز نہیں دی،مجھے مشنری انچارج نے فلاں چیز نہیں دی، میرے پاس یہ کمی ہے، میرے گھر میں یہ کمی ہے ،مجھے سکون نہیں ہے، جب اوکھلی میں سر دے دیا تو پھر یہ نہ دیکھیں کہ یہ کیا ہے اور وہ کیا ہے۔ یہ سوچیں کہ اب جیسے مالک نے مجھے چلانا ہے ، اس طرح مَیں نے چلنا ہے۔ اور وہ مالک اللہ تعالیٰ ہے جس نے ہمیں بڑی واضح ہدایات دے دیں کہ کس طرح ہم نے کام کرنا ہے۔بے نفس ہو کر کام کریں گے تو انشاء اللہ کامیابیاں ہوتی چلی جائیں گی۔
ایک مبلغ سلسلہ نے سوال کیا کہ لجنہ کی تعلیم و تربیت میں مربی اپنا کس طرح کردار ادا کر سکتا ہے؟
حضور انور نے فر مایا کہ پہلے مردوں کی اصلاح کریں، لجنہ کی خود اصلاح ہو جائے گی۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا ہے کہ مرد خود اپنا نمونہ دکھائے تو عورت تم پر انگلی نہیں اٹھائے گی۔اگر وہ عورت کو کہے کہ تم یہ کرو اور وہ کرو تو عورت کہے گی کہ پہلے اپنی تو اصلاح کرو۔ تمہارے اپنے اخلاق تو یہ ہیں کہ تم نماز نہیں پڑھتے۔تمہارے اپنے اخلاق تو یہ ہیں کہ تمہاری زبان گندی ہے،گھر میں گالی گلوچ ہو رہی ہے۔ تمہارے اپنے اخلاق یہ ہیں کہ بچوں پہ تمہاری زبان کا، تمہارے اخلاق کا، تمہاری حرکتوں کا اثر پڑ رہا ہے۔ تم تو سارا دن ٹی وی یا انٹرنیٹ پر بیٹھے ایسے پروگرام دیکھتے رہتے ہو جو آتے جاتے بچے بھی دیکھتے ہیں توان کو لگتا ہے کہ یہ شاید جائز ہے۔ اسی سے پھر بچوں کے اخلاق خراب ہو رہے ہیں۔ تو حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا کہ پہلے خود نیک بنو تا کہ عورت کو تمہارے پہ انگلی اٹھانے کی ضرورت نہ پڑے۔اس سبق کو پہلے یاد کریں پھر لجنہ کی اصلاح بھی ہو جائے گی۔ آنحضرت ﷺ نے فرمایا تھا کہ مرد جب اپنا رشتہ کرتا ہے تو وہ حسن ، دولت اور خاندان کو دیکھنے کی بجائے دین کو دیکھے۔ظاہر ہے کہ اس کے اندر دین ہو گا تو وہ دین کو دیکھے گا۔
ایک مبلغ سلسلہ نے سوال کیا کہ کسی معاملے میں اصلاح کی خاطر تحقیق اور تجسس میں ہم کہاں define line کھینچ سکتے ہیں،کھینچ بھی سکتے ہیں یا نہیں؟
اس پر حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ اگر آپ کے پاس تربیت کے لیے کوئی معاملہ آتا ہے اور اس کے لیے آپ نے تحقیق کرنی ہے تو اس تحقیق کے لیے آپ معاملات کی گہرائی میں جانے کے لیے ہر ایک کو بلا سکتے ہیں اورمعلومات لے سکتے ہیں۔لیکن پھر آپ کو بہت زیادہ رازدان بننا پڑے گا۔ راز رکھنا پڑے گا۔ جو بھی آپ راز رکھیں گے آپ کے پاس ہونا چاہیے۔یہ نہیں کہ وہ بات باہر نکلے اور دوسرے فریق کے لیے استہزا اور تضحیک یا اس کے جذبات کو مجروح کرنے کا باعث بن جائے۔ اور جہاں آپ کے پاس یہ اختیار ہی نہیں کہ آپ نے تحقیق کر کے جماعتی مفاد کی خاطریا کسی بھی لحاظ سے اس کا فائدہ حاصل کرنا ہے تو پھر اس معاملے کو آپ چھوڑ دیں۔ جب آپ سے کوئی رپورٹ لینے کے لیے پوچھے اور وہ بات آپ کے علم میں ہے تو آپ ضرور بتائیں اور اگر نہیں پوچھا جا رہا تو آپ کو بتانے کی ضرورت نہیں۔ راز اس طرح لیں کہ آپ کے پیٹ میں جائے اور وہیں غائب ہو جائے۔اپنے دل میں رکھیں۔اپنے بھائی کے راز چھپانا ، ستاری کرنابھی ایک اہم چیز ہے لیکن جہاں جماعتی مفاد ہو وہاں اگر آپ خود سمجھتے ہیں کہ جماعتی مفاد اس سے متاثر ہو رہا ہے اور اس بات کو چھپانے سے جماعت کو نقصان ہو سکتا ہے تو پھر جو متعلقہ عہدیدار ہیں یا امیر جماعت ہے اس حد تک ہی بات پہنچائیں کہ یہ اس طرح ہو رہا ہے اور ہمارے نزدیک جماعت کے لیے یہ نقصان دہ ہے ، اس بارے میں آپ تحقیق کر کے اس کے اصلاحی پہلو کو حاصل کرنے کی کوشش کریں۔
آپ خود تجسس کر کے،کھود کھود کر نقص نکال رہے ہیں،ایسا نہیں ہونا چاہیے۔ مقصد نیک نیت ہونا چاہیے۔ اللہ تعالیٰ نے تو فرما دیا کہ تجسس نہ کرو۔ لَا تَجَسَّسُوْا۔ لیکن ساتھ ہی یہ فرمایا کہ تحقیق کرو۔ اس کا کیا مطلب ہے ؟ فتنہ پیدا کرنے کی نیت سے تحقیق نہ کرو۔ تحقیق وہ کرو جو تمہارے اختیار میں ہے لیکن جہاں تمہارا اختیار ہی نہیں، جہاں تمہارے سے کوئی تعلق نہیں وہاں بلا وجہ کی دخل اندازیاں نہ کرو۔ چسکے لینے کے لیے باتیں نہ کرو۔ ہاں اصلاح کرنے کے لیے کرو۔نیک نیت ہونا چاہیے۔
ایک مبلغ نے استفسار کیا کہ اگر کوئی شراب خانہ یا تمباکو نوشی اور اسی طرح کا کوئی کاروبار کرتا ہے تو اس کو کیسے سمجھایا جا سکتا ہے؟
حضور انور نے فرمایا کہ تمباکو نوشی مکروہ چیز ہے، حرام نہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے یہ فرمایا ہے کہ آنحضرت ﷺ کے زمانے میں اگر ہوتی تو شاید حرام ہو جاتی۔ باقی جہاں تک شراب کا تعلق ہے تو قرآن کریم نے بھی اسے منع کر دیا ہے۔ اسلام نے بڑی سختی سے اس کو روک دیا۔ سؤر کھانا تو ایک اضطراری کیفیت میں جائز ہے لیکن شراب پینا کبھی جائز نہیں قرار دیا۔
جہاں تک تمباکو اور سگریٹ وغیرہ کا تعلق ہے تو ہم کہہ سکتے ہیں یہ مکروہ اور غلط چیز ہے لیکن حرام نہیں کہہ سکتے۔ ایک دفعہ اندھیری آئی،کسی نے حقہ پی کے رکھا ہوا تھا۔ایک کنارے پہ وہ گر گیا اس کی چلمن میں سے راکھ نکلی جس سے آگ لگ گئی اور پھیل گئی۔ اس پہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے بڑی ناراضگی کا اظہار فرمایا۔
اب تو نئی ریسرچ یہ ثابت کرتی ہے کہ جو کہتے تھے ایک گلاس شراب ایک دن میں پی لینا جائز ہے، اب کہتے ہیں کہ ایک گلاس بھی پیو گے تو اسکے بھی نقصانات ہیں۔ اسلامی تعلیم جو بہرحال احسن اور اچھی تعلیم ہے اور اس کے جو فوائد ہیں وہ دنیا پہ اب ثابت ہوتے چلے جا رہے ہیں اور نئی تحقیقات اس کو ثابت کر رہی ہیں۔ تو اس لحاظ سے انکو پیار سے سمجھاؤ، rigidly نہیں۔
ایک مبلغ نے سوال کیا کہ ایک مبلغ کو اپنی تقرری کی مصروفیات اور کسی دیگر جماعتی ذیلی تنظیم وغیرہ میں منتخب کیے گئے عہدے کی خدمت کے درمیان مستحسن توازن کس طرح قائم کرنا چاہیے؟
حضور انور نے فرمایا کہ حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ نے ایک ویژن دی تھی کہ ایک وقت یہ آئیگا کہ ہم اپنے دفتروں میں بجائے اسکے کہ دوسرے لوگ بھرتی کریں ہم مربیان کو اس کام پر لگائینگے کیونکہ وہ زیادہ بہتر طریقے سے کام کر سکتے ہیں۔ تو بہرحال آپ mta میں کام کررہے ہیں۔ یہاں تو توازن کا کوئی سوال ہی نہیں۔ آپ کو جماعت کا کام سپرد کیا گیا ہے۔یہ محاذ اور مورچہ آپ کا کھڑا کیا ہے۔ آپ کو درّے پر بٹھایا ہوا ہے۔درّے پر بیٹھے رہیں۔ جن کو جہاد کے لیے بھیجا ہوا ہے وہ جہاد پر چلے جائیں گے۔ تو یہ بھی تو ایک جہاد ہے جو آپ mta کے ذریعہ کر رہے ہو۔ mta کے ذریعہ سے لاکھوں لوگوں کو احمدیت کا پیغام پہنچ رہا ہے۔ آپ لوگوں کے ذریعہ سے تو اتنا پہنچتا ہی نہیں جتنا mta کے ذریعہ سے پہنچتا ہے۔ مجھے ایک ایک مہینے میں سینکڑوں خط آ جاتے ہیں جہاں ذکر ہوتا ہے کہ لوگ mta سن رہے ہوتے ہیں اور اس کے ذریعہ سے ان کو احمدیت کا تعارف حاصل ہوتا ہے۔
مبلغ نے عرض کی کہ حضور اگر ایم ٹی اے میں یا کسی بھی تقرری کے دوران اسی مربی کی ایک اور ذیلی تنظیم میں کسی منتخب عہدے پر تقرری ہو جائے ؟
اس پر حضور انور نے فرمایا کہ mta کی ڈیوٹی آپ کوئی چوبیس گھنٹے تو نہیں کر رہے ہوتے۔ آپ اگر چاہیں تو اپنی ذیلی تنظیموں کو وقت دے سکتے ہیںاور دینا چاہیے۔یہ تو نیت پہ منحصر ہے۔ مربی کی کیا بات کر رہے ہو جو دنیا کمانے والے ہیں جو ہمارے جماعتی نظام میں عہدیدار ہیں ان میں سے اکثریت جو ہے وہ آٹھ آٹھ گھنٹے کی ڈیوٹی دے کے پھر سفر کر کے اپنے کام سے واپس آکر پھر جماعتی کام میں اپنا وقت دیتے ہیں۔وہ بھی تو ایک، دو، تین گھنٹےوقت دیتے ہیں۔تو آپ لوگ مربی جنہوں نے کہا ہے کہ ہم واقف زندگی ہیں۔ تو آپ کو اسکے لیے دو تین گھنٹے نکالنے چاہئیں ۔جماعت احمدیہ میں تھکاوٹ کوئی چیز نہیں ہے۔ آٹھ گھنٹے بھی کام کریں تب بھی دو گھنٹے آرام سے دے سکتے ہیں۔
اور لوگ دس گھنٹے دنیا میں کام کرتے ہیں۔ کمانے والا بارہ بارہ گھنٹے کام کرتا ہے۔ امریکہ میں ہمارے ایک صاحب تھے وہ بتا رہے تھے کہ میرا جو باس ہے اس کی بڑی بزنس کمپنی ہے۔وہ صبح ہم سے پہلے دفتر آیا ہوتا ہے اور ہمارے جانے کے بعد جاتا ہے۔ اگر وہ بارہ اٹھارہ گھنٹے اپنے پیسہ کمانے کے لیے کام کر سکتا ہے تو آپ لوگ کیوں نہیں کر سکتے جو نعرہ لگاتے ہیں ہم وقف زندگی ہیں ہم جان بھی قربان کر دیں گے،ہم یہ بھی قربان کردیں گےاور فلاں بھی قربان کر دیں گے اور ہم کچھ کر کے دکھا دیں گے۔ پھرکچھ کر کے دکھاؤ۔ سوال پوچھنے کی ضرورت کیا ہے؟
ہم بھی دفتر میں کام کرتے تھے اس کے بعد ذیلی تنظیموں میں بھی کام کرتے تھے۔بعض دفعہ رات نو،دس،گیارہ بجے خدام الاحمدیہ کے دفتر سے واپس آ رہے ہوتے تھے۔یہ تو اپنے آپ کو آرگنائز کرنے کی ضرورت ہے کہ کس طرح آپ نے آرگنائز کیا ہے۔
ایک مبلغ نے سوال کیا کہ بعض مربیان کو فیلڈ میں خاص طور پر مقامی عہدیداران اور انتظامیہ کے ساتھ کچھ مشکلات کا سامنا ہوتا ہے ۔ بطور مربی سلسلہ کس طرح ان مشکلات اور حالات سے نکلا جائے تا کہ ایک خوشگوار ماحول پیدا ہو اور کام کرنے میں کامیابی ہو؟
حضور انور نے فرمایا ایک تو یہ کہ مربیان یہ سمجھیں کہ انہوں نے انتظامی معاملات میں دخل نہیں دینا۔ تربیت اور تبلیغ کا جو شعبہ ہے وہ ان کا اصل مقصد ہے اس کے لیے شعبہ تربیت اور شعبہ تبلیغ کے جو سیکرٹریان ہیں ان سے ملیں کہ آؤ ہم ایک coordinated پروگرام بناتے ہیں جس کے ذریعہ سے ہم اکٹھے ہو کر کام کریں۔ اور صدر جماعت کو بھی اس میں involveکریں۔ جہاں یہ تاثر ملے کہ کسی وجہ سے کوئیriftپیدا ہو رہی ہے تو اس میں آپ صدر جماعت کو کہیں کہ اس کو دور کرنا چاہیے۔
ایک تبلیغ کی کمیٹی اور ایک تربیت کی کمیٹی بنائیں اور اس کمیٹی میں ہمیشہ مربی کا رول ہونا چاہیے۔جب ایسا ہو گا تو پھر coordinatedکام ہو رہے ہوں گے۔ اس میں پھر رفٹ کے کم امکانات ہوتے ہیں۔
ہمارا مقصد احمدیت کے پیغام کو دنیا میں پہنچانا ہے، پھیلانا ہے اور اپنے لوگوں کی تربیت کے اعلیٰ معیار حاصل کرنے کی کوشش کرنا ہے۔ اس کے لیے ہم اپنی اکٹھی کوشش کریں۔ صرف یہی نہیں بلکہ میں تو ہمیشہ کہا کرتا ہوں کہ خدام الاحمدیہ، لجنہ اماء اللہ اور انصار اللہ کو بھی اس میں شامل کریں۔
ایک مبلغ سلسلہ نے ذکر کیا کہ چند سال قبل ایک سرکلر موصول ہوا تھا جس میں مبلغین کو واٹس ایپ گروپس میں شامل ہونے سے منع کیا گیا تھا۔جماعت میں ابھی بھی مختلف مقاصد کے لیے کئی گروپس موجود ہیں جو کام وغیرہ کے لیے استعمال ہو رہے ہیں۔
حضور انورنے فرمایا کہ پہلے سرکلر کے بعد ایک اَور سرکلر جاری ہوا تھا جس میں وضاحت کی گئی تھی کہ جماعتی گروپس میں شامل ہونے کی اجازت ہے۔ صرف ذاتی طور پر بنائے گئے گروپس میں شامل ہونے سے منع کیا گیا تھا، جن کے فوائد سے زیادہ نقصانات تھے۔
ایک مبلغ نے حضرت مصلح موعودرضی اللہ عنہ کے جنوبی امریکہ کے بارے میں مختلف خوابوں کے حوالے سے استفسار کیا۔
اس پر حضور انور نے فرمایا کہ حضرت مصلح موعودؓ نے مختلف مثالیں بیان کی ہیں، جیسے کہ گیمبیا کی مثال کہ اگر وہاںاکثریت احمدی ہو جائے تو ہم وہاں بطور نمونہ اقتداری حکومت قائم کر سکتے ہیں۔ جب ایسا عمل میں آئے گا تو اسلامی حکومت قائم کی جائے گی۔ خلیفہ وقت سے دینی امور کے حوالے سے راہنمائی حاصل کی جائے گی۔ اور یہ حکومت ایسی ہو گی جس کی بنیاد قرآن کریم کی تعلیم اور انصاف پر مبنی ہو گی۔
ایک مبلغ نے حضور انور ایدہ اللہ سے عرض کی کہ ہم سب مربیان اور دوسرے احباب نے مل کر حضور انور کی صحت کے لیےدعا کی تھی۔اب حضور کی کیسی صحت ہے؟
حضور انور نے فرمایا کہ جزاک اللہ بڑی اچھی بات ہے آپنے دعا کی تھی۔ میں آپ کے سامنے بیٹھا ہوا ہوں۔ آپ نے میرے سے اتنا کچھ بلوا لیا ،ابھی آپ کو یہ نہیں پتا لگا کہ میری صحت ٹھیک ہی ہو گی تو میں بول رہا ہوں۔
ملاقات کے اختتام پر حضور انور نے تمام شاملین کو اللہ حافظ کی دعا دی اور فرمایا تعلق باللہ میں بڑھیں اور اپنے دین کے علم میں بڑھنے کی کوشش کریں اور اپنی عملی مثالیں جماعت کے سامنے پیش کریں،دنیا کے سامنے پیش کریں،اسی سے تربیت ہو گی،اسی سے تبلیغ ہو گی اللہ تعالیٰ آپکو اسکی توفیق عطا فرمائے۔السلام علیکم ورحمۃاللہ و برکاتہ۔ (بشکریہ الفضل انٹرنیشنل 16 مئی 2024ء)
…٭…٭…٭…