اردو   हिंदी   বাংলা   ಕನ್ನಡ   മലയാളം   ଓଡ଼ିଆ   தமிழ்   తెలుగు  




.

2025-09-04

سیّدناحضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایّدہ اللہ تعالٰی بنصرہ العزیز کے ساتھ مجلس خدام الاحمدیہ کینیڈا کے ایک وفد کی ملاقات

مورخہ14اپریل2024ء کو حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کے ساتھ کینیڈا سے آئے ہوئے مجلس خدام الاحمدیہ کے66؍احباب پر مشتمل ایک وفد کو، جن میں ممبران نیشنل مجلس عاملہ اور ریجنل قائدین شامل تھے، اسلام آباد ٹلفورڈ میں قائم mta سٹوڈیوز میں ملاقات کی سعادت حاصل ہوئی۔
حضورانور نے دریافت فرمایا کہ شرکائے مجلس میں سے کون اردو نہیں سمجھتا؟ اس پر ایک خادم کو جن کا تعلق ماریشس سے تھا، حضورانور سے بات کرنے کا موقع ملا۔ حضور انور کے استفسار پر انہوں نےعرض کیا کہ وہ بطور معاون صدر مجلس خدام الاحمدیہ کینیڈا اسٹوڈیوزخدمت کی توفیق پا رہے ہیں اور وہ پیشے کے طور پر کنسٹرکشن کےکاروبار میں اپنے والد صاحب کے ساتھ کام کرتے ہیں۔حضورانور کے مزید استفسار پر کہ کیا وہ فرنچ، کریول (Creole) اور انگریزی زبان پر عبور رکھتے ہیں؟ موصوف نے اثبات میں جواب دیتے ہوئے عرض کیا کہ انہیں مکمل اردو تو نہیں آتی البتہ وہ صرف تھوڑی بہت اردو سمجھ سکتے ہیں نیز اظہار کیا کہ جماعت میں کام کرنے کی بدولت انہیں زیادہ سے زیادہ اردو سیکھنے کا موقع مل رہا ہے۔ حضورانور نے دریافت فرمایا کہ کیاآپ صرف ’’تمہارا کیا حال ہے‘‘کو ہی سمجھتےہیں؟ اسپر انہوں نے جواب دیا کہ مَیں ٹھیک ہوں۔ اس پرتمام حاضرین مجلس خوب محظوظ ہوئے۔ جس پر حضورانور نے مسکراتے ہوئے فرمایاکہ تو یہ آپ کی اردو زبان کی بلندی ہے۔ جس پر تمام حاضرین ایک مرتبہ پھرمحظوظ ہوئے۔
پاکستان سے شاہد کی ڈگری حاصل کرنیوالے معتمد مجلس نے حضورانور کی خدمت میں اپنے شعبہ کے حوالے سے عرض کیا کہ کینیڈا میں مجالس کی کل تعداد 87ہے۔ ماہانہ رپورٹ ارسال کرنے والی مجالس کی تعداد کے بارے میں بتایا کہ اوسطاً اسّی فیصد مجالس رپورٹ بھجواتی ہیں۔ بعض دفعہ یہ تعداد سَو فیصد تک پہنچ جاتی ہے۔
مہتمم اطفال نے حضورانور کی خدمت میں عرض کیا کہ کینیڈا میں اطفال کی کل تعداد2576 ہے جن میں سے تقریباً ایک ہزار اطفال باقاعدگی سے کلاسز میں شریک ہوتے ہیں۔
مہتمم تربیت نے عرض کیا کہ کینیڈا میں خدام کی کل تعداد 7600ہے۔ حضورانور نے موصوف سے دریافت فرمایا کہ ان میں سے کتنے باقاعدگی سے جماعتی سرگرمیوں میں شریک ہوتے ہیں؟ اِسپر انہوں نے عرض کیا کہ اجتماعات میں حاضری پچاس فیصد سے زائد ہوتی ہے۔ اسی طرح انہوں نے اجتماعات اور ان کے مقامات کی تفصیلات بھی پیش کیں۔
پنجوقتہ نمازوںکی ادائیگی میں نمایاں کمی کی بابت سنکر حضورانور نے فرمایا جس مذہب میں عبادت نہیں، وہ مذہب ہی نہیں۔خدام کی ٹریننگ تو یہی ہے کہ آپ لوگ سَو فیصد خدام کو نمازوں کا عادی بنائیں۔ باجماعت نماز اگر مسجد میں نہیں بھی پڑھ سکتے تو گھروں میں باجماعت نمازپڑھ لیں یا کم ازکم اپنی نمازیں پڑھیں۔اگر وہ ہی نہیں ہے تو پھر باقی کیا کرنا ہے، تبھی تو اُوٹ پٹانگ کاموں میں مصروف ہو جاتے ہیں۔
تربیت کا بہت بڑاکام ہے، بہت بڑا چیلنج ہے، اس کو اگر آپ نہیں کریں گے توسارے تباہ ہو جائیں گے۔ ان کو یہ ذہن میں ڈال دیںکہ تم لوگوں کا خیال ہے کہ تم دنیا کما کے ترقی کر جاؤ گے۔ ہاں! مذہب کو چھوڑ دو، احمدیت سے انکار کر دو، پیچھے چلے جاؤ ، پھر ٹھیک ہے۔ پھر مذہب کو چھوڑ کے جو مرضی کرو۔پھر اللہ کا معاملہ ان کے ساتھ اگلے جہان میں جا کے ہو گا۔لیکن اگر یہاں دعویٰ ہے کہ ہم احمدی بھی ہیں اور پھر نمازیں بھی نہیں ، عبادت بھی نہیں، اللہ تعالیٰ کے حکموں پرعمل بھی نہیں تو پھر دنیا میں بھی سزا مل جاتی ہے اور آخرت میں بھی ملتی ہے۔
تو لوگوں کو سمجھانے کے لیے آپ کو ایسا پلان کرنا پڑے گا۔ بعض لوگ ہوتے ہیں جن کو ہلکی سی بات سے سمجھ آ جاتی ہے جبکہ بعض لوگ ہوتے ہیں جن کو تھوڑا سا گہرا ئی میں جا کرسمجھانا پڑتا ہے۔تو گروپ بنائیں کہ کسcategoryمیں کون سے لوگ آتے ہیں۔ پھر ان کے لیے پلان کریں کہ کون کون لوگ ہیں جو ان کو approachکر سکتے ہیں، صحیح طرح accessہو اور پھر ان کی تربیت ہو۔ اکیلا آدمی، سیکرٹری تربیت کچھ نہیں کر سکتا،مہتمم تربیت کچھ نہیں کر سکتا یا منتظم تربیت کچھ نہیں کر سکتا۔ اس کے لیے ہر علاقے میں ایک ٹیم بنانی پڑے گی، وہ ٹیم بنائیں۔ بہت سارے ایسے لڑکے ہیں جو اچھے بھی ہوتے ہیں، ان کو تربیت کی ٹیموں میں شامل کریں اور ان کو صحیح طرح utiliseکریں۔
ایڈیشنل مہتمم تربیت برائے رشتہ ناطہ نے عرض کیا کہ خدام کو درپیش چیلنجوں پر بات کرنے کے لیے تمام ریجنز میں والدین کے ساتھ خصوصی سیشنزکا انعقاد کیا گیا۔حضور انورنے جماعتی اداروں کے ساتھ مربوط ہم آہنگی اختیار کرنیکی اہمیت پر زور دیتے ہوئے تلقین فرمائی کہ لجنہ اماء اللہ اور مجلس انصاراللہ کیساتھ تربیت کا ایک co-ordinatedپروگرام بنائیں اور پھر سارے ملکر کام کریں تو پھرکام ہو گا۔پھر جماعتی تربیت کا شعبہ ہے وہ بھی involve ہو۔اکیلے اکیلے ہر ایک کی effortکوئی کام نہیں کر سکتی۔
بعد ازاں حضورانور نے مہتمم مال اور ایڈیشنل مہتمم مال کوہدایت فرمائی کہ صرف پیسے اکٹھے نہ کریں، تربیت بھی تو مقصد ہے۔ تربیت تو دس فیصدکی ہے اور چندہ دینے والے 73 فیصد ہیں۔پیسے اکٹھے کرنے پر آپ کا زور ہے حالانکہ نمازیں پڑھنے پر زیادہ زور ہونا چاہیے۔ اگر نمازیں پڑھنے والا بندہ ہو گا توپیسے تو آجائیں گے۔اسی لیے تو خدام کہتے ہیں کہ آپ پیسے، چندہ اکٹھا کرنے کیلئے آ جاتے ہیں، نمازوں کا کہنے کے لیے ہمارے پاس نہیں آتے۔اسی طرح ٹیمیں بنائیں جس طرح چندے کے لیےکوشش کرتے ہیں۔ ایک ڈرائیو ہوتی ہے، ہر سال دو دفعہ عشرہ منایا جاتا ہے، تو اسی طرح سال میں تربیت کے دو سے چارعشرے منائیں تا کہ ہر ایک نماز پڑھ سکے۔
مہتمم صحت جسمانی سےحضورانور نے دریافت فرمایا کہ کتنے خدام باقاعدگی سے ورزش کرتے ہیں؟ اس پر موصوف نے عرض کیا ایسے خدام کی تعداد 1503 ہے جو ورزش میں باقاعدہ ہیں۔
مہتمم خدمت خلق نے حضورانور کی خدمت میں عرض کیا کہ ان کے شعبہ کے تحت چیریٹیزکو فنڈز فراہم کیے جاتے ہیں۔ پچیس چیریٹی رنز منعقد کروائی گئیں اور اِنسے چار لاکھ کینیڈین ڈالر کی خطیر رقم بطورعطیات اکٹھی ہوئی۔ چیریٹی واکس کا بھی اہتمام کیا جاتا ہے۔ گزشتہ برس ایک چیریٹی ڈنر کا انعقاد کروایا گیا جس میں بہت سے لوگوں نے حصہ لیا تھا۔
مہتمم مقامی کو حضور انور نے فرمایا کہ نوجوانوں کو معاشرے کی برائیوں سے بچانے کے لیے ایک جامع منصوبہ بندی کی جانی چاہیے۔
معاون صدر برائے وقف نو کوحضورانورنے ہدایت فرمائی کہ واقفین نو کوخاص طور پر پیچھے پڑ کر نشوں اور گندی عادتوں سے بچانے کی کوشش کرو۔ میں نے کینیڈا میں ہی وقفِ نو کو ایک خطبہ بھی دیا تھا اس کو سامنے رکھتے ہوئے ، پوائنٹس بنا کر ہر ایک کوبار بار reminderبھیجتے رہواور ان کے دل میں ڈالو کہ آپ وقف نو ہیں، کیوں ہیں، کیا ہیں اور کس لیے ہیں۔ ان کو realise ہونا چاہیے۔
معاون صدر برائے مجلس خدا م الاحمدیہ کینیڈا اسٹوڈیوز کو حضورانورنے ہدایت فرمائی کہ آپ کے پاس کافی اچھی تعداد میں ایسے خدام موجود ہیں جو اچھے پروگرام بنانے کی صلاحیت رکھتے ہیں لہٰذاآپ کو اپنے پروگرام mta کے معیار کے بنانے کی کوشش کرنی چاہیے۔
معاون صدر برائے وصیت نے حضورانور کی خدمت میں عرض کیا کہ1645 خدام موصی ہیں۔ اس پر حضورانور نے تبصرہ فرمایا کہ نماز پڑھنے والوں سے زیادہ موصی ہیں، اس تناظر میں موصی ہونے کے بنیادی مقصد پر سوال اٹھتا ہے، پیسے اکٹھے کرنا تو اصل کام نہیں ہے۔ موصیان کو بھی عادت ڈالو کہ وہ نمازوں میں ریگولر ہوں اور قرآن کریم پڑھنے میں ریگولر ہوں اور اس کو سمجھنے میں ریگولر ہوں، یہ وصیت کا کام بھی ہے۔ صرف 1/10 حصہ دے کے بخشا تو نہیں جانا، باقی کام بھی کرنے ضروری ہیں۔ کم از کم160خدام تو شعبہ تربیت کی لسٹ میں ہونے چاہئیں جو پانچ نمازیں پڑھنے میں ریگولر ہوں۔ قائدین یہاں بیٹھے ہوئے ہیں، وہ بھی سن رہے ہیں، وہ بھی اس بات کو نوٹ کریں کہ اپنے اپنے علاقوں میں اس طرف توجہ دیں۔ حضورانور نے اس ضمن میں قائدین سے مدد لینے کی بھی ہدایت فرمائی۔
ریجنل قائد ویسٹرن کیلگری ریجن کو حضورانور نے تلقین فرمائی کہ نماز بنیادی چیز ہے لہٰذا کم از کم سَو فیصد اپنی پنجگانہ نمازوں کا باقاعدگی سے التزام کیا کریں۔
چیئرمین سوشل میڈیا کو حضورانور نے فرمایاکہ رابطہ رکھیں، چھوٹے چھوٹےpassages بنا کے سوشل میڈیا پر دیتے رہیں جو تربیتی بھی ہوں۔تربیت والوں سے بھی لیتے رہیں، ایک ایسی ٹیم بنائیں اور وہ دیتے رہیں تا کہ لوگ پڑھتے رہیں اور ساتھ ساتھ ان کی تربیت بھی ہوتی رہے۔
مہتمم تحریک جدید سے حضورانور نے دریافت فرمایا کہ تحریک جدید میں خدام الاحمدیہ کی کتنی participationہے؟ انہوں نے عرض کیا کہ گزشتہ برس تحریک جدید کے مالی قربانی کے جہاد میں5400 خدام نے حصہ لیا۔ حضورانور نے فرمایا کہ 75فیصد تحریک جدید میں شامل کر لیے حالانکہ نمازوں میں بھی کم
از کم اتنے شامل ہونے چاہئیں۔ مزید استفسار فرمایا کہ contributionکتنی تھی اور کیا جماعت کی تحریک جدید کی مدّ میں کُل مالی قربانی کا ایک تہائی حصہ تھی؟ انہوں نے عرض کیا کہ سات لاکھ دو ہزار کینیڈین ڈالر کی وصولی ہوئی تھی، اس پر حضورانور نے مزید دریافت فرمایا کہ جماعت کینیڈا کی کُل وصولی کتنی تھی؟ موصوف کے چالیس لاکھ کینیڈین ڈالر عرض کرنے پر حضورانور نے فرمایا کہ پھر تو ایک چوتھائی بھی نہیں ہوا نیز ہدایت فرمائی کہ جماعت کی تحریک جدید میں کُل مالی قربانی میں ہر ذیلی تنظیم خدام، انصار اور لجنہ کاکم از کم ایک ایک تہائی حصہ ہونا چاہیے۔ اس پر موصوف نے اس عزم کا اظہار کیا کہ وہ انشاءالله کوشش کریں گے۔
مہتمم صنعت و تجارت نے حضورانور کی خدمت میں عرض کیا کہ امسال وہ خدام کی skillsکو بہتر بنانے کے لیے کورسز پر توجہ دے رہے ہیں۔
حضور انور کے استفسار پرمہتمم تربیت نو مبائعین نے بتایا کہ کل116 نو مبائعین ہیں۔ حضورانور نے ہدایت فرمائی کہ انہیں اپنی سرگرمیوں اور مرکزی نظام (mainstream)میں شامل کریں نیز توجہ دلائی کہ تین سال کے بعد ان کی تربیت کو اس سطح پر پہنچ جانا چاہئے کہ جہاں پھر وہ مرکزی نظام میں شامل ہو سکیں۔
حضور انور کے استفسار پرمہتمم تعلیم نے بتایا کہ خدام کے مطالعہ کے لیےEssence of Islam سے اقتباسات خدام کے ساتھ شیئر کیے جاتے ہیں۔حضورانور نےراہنمائی فرمائی کہ collectionکر کے مختلف قسم کے اقتباسات، ایک چھوٹا سا مضمون بنا کے، پمفلٹ کی صورت میں آن لائن یا کسی طرح ان کو دے بھی دیا کریں تا کہ لوگ پڑھتے رہیں۔ مختلف passagesسوشل میڈیا کو بھی دے دئیے تاکہ وہ بھی آگے آن لائن کرتے رہیں۔ کوآرڈی نیٹ کریں۔
مہتمم تبلیغ نے عرض کیا کہ امسال 25غیر از جماعت احباب کو اسلام احمدیت قبول کرنے کی توفیق ملی جبکہ ان میں سے 21؍احباب جماعتی لٹریچر کا مطالعہ کر کے احمدی ہوئے۔
مہتمم عمومی سے حضورانور نے دریافت فرمایا کہ مسجدوں میں ڈیوٹی لگاتے ہیں؟ اس پر انہوں نے عرض کیا کہ تمام 58مساجد میں ڈیوٹی لگائی جاتی ہے۔حضور انور نے فرمایا کہ اس کے باوجود آپ کی مسجدوں میں لوگ آکے توڑ پھوڑ کر کے چلے جاتے ہیں؟ موصوف نے عرض کیا کہ ایسے ایک دو واقعات ہوئے ہیں۔
حضورانور نے صدر صاحب مجلس خدام الاحمدیہ سے فرمایا کہ آپ کو مختلف امور میں درکار راہنمائی کے حوالے سے متعلقہ ضروری معلومات فراہم کر دی گئی ہیں۔ میٹنگ کے دوران جو بھی ہدایات دی گئی ہیں اگر ان پر ہی عمل درآمد کر لیا جائے تو میں سمجھتا ہوں کہ کافی ہوگا۔ آخر پرحضورانور نے ایک مرتبہ پھر خدام کو نماز پڑھنے کی ترغیب دینے کی اہمیت کا اعادہ فرمایا۔
ملاقات کے اختتام پر حضور انورنے از راہِ شفقت علَمِ انعامی جیتنے والوں کو لوائے خدام الاحمدیہ سے نوازا اور دو مزید قائدین کو بھی مجلس خدام الاحمدیہ میں ان کی خصوصی مساعی پر اعزاز سے نوازا نیز خدام کو گروپ تصاویربنوانے کا بھی شرف بخشا۔
حضور انورنے آخر پر سب شاملین کو اللہ حافظ کہتے ہوئے السلام علیکم و رحمۃ الله و برکاتہ کہا اوراس طرح سے یہ ملاقات بخیر و خوبی انجام پذیر ہوئی۔
(بشکریہ الفضل 25اپریل 2025ء)