اردو   हिंदी   বাংলা   ಕನ್ನಡ   മലയാളം   ଓଡ଼ିଆ   தமிழ்   తెలుగు  




.

2026-08-06

امیر المومنین حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایّدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کے ساتھ مجلس خدام الاحمدیہ امریکہ ایسٹ ریجن کے ایک وفد کی ملاقات

نماز بذاتِ خود آپ میں نظم و ضبط قائم کرنے کا ایک ذریعہ ہے اگر آپ اپنی پنج وقتہ نماز ادا کر رہے ہیں اور اس میں باقاعدہ ہوں گے تو آپ خود تجربہ کریں گے کہ اب آپ کی زندگی منظم ہو گئی ہے

دن کا آغاز فجر کی نماز سے کریں، اس سے آپ میں باقاعدگی پیدا ہوگی، اور اسی طرح آپ جماعت کی خدمت کر سکیں گے اور اپنی زندگی میں بھی نظم و ضبط قائم کر سکیں گے

مورخہ٢٠؍ستمبر ۲۰۲۵ء ، بروز ہفتہ، امام جماعت احمدیہ حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایّدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کے ساتھ مجلس خدام الاحمدیہ امریکہ کے ایسٹ ریجن کے ایک بائیس (٢٢)رکنی وفد کو بالمشافہ شرفِ ملاقات حاصل ہوا۔ یہ ملاقات اسلام آباد (ٹِلفورڈ) میں منعقد ہوئی۔ مذکورہ وفد نے خصوصی طور پر نہایت اخلاص کے ساتھ محض حضورِانور کی اقتدا میں نمازیں ادا کرنے اور آپ کی بابرکت صحبت سے روحانی فیض حاصل کرنے کی غرض سے امریکہ سے برطانیہ کا سفر اختیار کیا۔

جب حضورِانور مجلس میں رونق افروز ہوئے تو آپ نےتمام شاملینِ مجلس کو السلام علیکم کا تحفہ عنایت فرمایا۔

پھر حضورِانور نے امیرِ قافلہ سے وفد کے قیام و طعام کے انتظامات کے بارے میں دریافت فرمایا۔ بعد ازاں ہر خادم کو فرداً فرداً اپنا تعارف پیش کرنے کی سعادت حاصل ہوئی ، جس میں اپنے نام، خاندانی پسِ منظر، تعلیمی مصروفیات اور جماعتی خدمات کا ذکر کیا گیا۔

دورانِ تعارف ایک خادم نے عرض کیا کہ وہ وقفِ نو کی بابرکت تحریک میں شامل ہے اور حافظِ قرآن بھی ہے۔ حضورانور نے دریافت فرمایا کہ کیا آپ نے پورا قرآنِ کریم حفظ کیا ہے؟ اثبات میں جواب سماعت فرمانے کے بعد حضورِانور نے اس حوالے سے مزید دریافت فرمایا کہ کیاوہ اب بھی اس کا دَور کرتا ہے یا پھر بھولنا شروع ہو گیا ہے؟ اس پر خادم نے عرض کیا کہ وہ دَور کرتا ہے۔ جس پر حضورِانور نے فرمایا کہ اسے رمضان المبارک میں تراویح پڑھانا چاہیے کیونکہ یہ حفظ کو تازہ رکھنے کا بہترین ذریعہ ہے۔

پھر ایک خادم نے حضورِانور کی خدمت اقدس میں اپنا تعارف کراتےہوئے عرض کیا کہ وہ پچھلے سال کینیڈا سے امریکہ آیا ہے اور اس وقت سول انجنیئرنگ کے پہلے سال میں تعلیم حاصل کر رہا ہے۔ اس نےمزید عرض کیا کہ ایک سال کینیڈا میں بھی پڑھائی کی تھی لیکن فیملی کے امریکہ میں ہونے کی وجہ سے اِدھر آ گیا۔

اس پر حضورِانور نے مسکراتے ہوئے تبصرہ فرمایا کہ مَیں نے تو سمجھا تھا کہ شاید ٹرمپ کی محبّت آپ کو یہاں کھینچ لائی ہے۔جس پر تمام شاملینِ مجلس بھی مسکرا دیے۔

اسی طرح حضورِانور سے شرفِ گفتگو کے دوران ایک خادم نے عرض کیا کہ وہ کالج میں بزنس کا طالب علم ہے اور ایسوسی ایٹس ڈگری حاصل کر رہا ہے، ساتھ ہی ایک کیمیکل پلانٹ میں بھی کام کرتا ہے۔

حضورِانور کے استفسار پر خادم نے عرض کیا کہ وہ اپنے والدین کے امریکہ آنے کے دس دن بعد پیدا ہوا تھا، اور والدہ کو پاکستان سے کینیڈا کے سفر کی خاص اجازت ملی تھی۔اس پر حضورانور نے مسکراتے ہوئے تبصرہ فرمایا کہ تم خوش قسمت ہو کہ ہوائی جہاز میں پیدا نہیں ہوئے، کیونکہ بعض اوقات بچے ہوائی سفر کے دوران ہی پیدا ہو جاتے ہیں۔

مزید برآں دورانِ ملاقات شاملینِ مجلس کو حضورانور سے مختلف نوعیت کے متفرق سوالات پیش کرنے نیز ان کے جواب کی روشنی میں حضورانور کی زبانِ مبارک سے نہایت پُرمعارف، بصیرت افروز اور قیمتی نصائح پر مشتمل راہنمائی حاصل کرنے کی سعادت بھی نصیب ہوئی۔

ایک خادم نے حضورِانور سے ذہنی صحت(mental health) کے مسائل سے نمٹنے کے حوالے سےجماعت کے کردار کی بابت راہنمائی طلب کی۔

اس پر حضورِانور نے راہنمائی فرمائی کہ Psychiatrist (ماہرِ نفسیات)کو دکھائیں، ٹریٹمنٹ کروائیں، والدین اس کی وجہ پتا کریں کہ کیا ہے؟ بعض دفعہ سکول میں bullying ہوتی ہے، اس کی وجہ سے بعض ڈپریشن میں چلے جاتے ہیں، پھر وہflare up ہو جاتا ہے، تو مینٹل ہیلتھ ایشو بن جاتا ہے۔

حضورِانور نے آخر میں اِس بات پر زور دیا کہ اُن کی ٹریٹمنٹ ہونی چاہیے، جس طرح باقی معاملات دیکھتے ہیں، parentsکو چاہیے کہ ان کو دیکھیں کہ جڑھ یا اصل وجہ کیا ہے؟ یہ تو آپ کو خود معلوم کرنی ہو گی۔

[قارئین کی معلومات کے لیے عرض ہے کہbullying (تضحیک یا بدسلوکی) ایک انگریزی اصطلاح ہے اوراس کا مفہوم یہ ہے کہ کسی کو جان بوجھ کر تنگ کرنا، اذیت دینا، تمسخر اُڑانا، ہنسی اور ٹھٹھے کا نشانہ بنانا یا تکلیف پہنچانا۔ یہ عمل جسمانی، ذہنی یا جذباتی طور پر اثر اندازہو سکتا ہے، جیسے مار پیٹ، گالیاں دینا ، کسی کو گروپ سے الگ کرنا، اس کے بارے میں افواہ پھیلانا یا جھوٹ کی تشہیر کرنایا اسے سماجی سطح پر بدنام کرنا ، سوشل میڈیا یا انٹرنیٹ پرتذلیل یا ہراساں کرناوغیرہ وغیرہ۔ اس کا بنیادی مقصد کسی کی عزتِ نفس کو مجروح کرنا، اس کی تذلیل کرنا یا اسے کمزور بنانا ہوتا ہے۔ یہ عموماً طاقت کے فرق کی وجہ سے ہوتا ہے اور اس تحقیرکے نتیجے میں متاثرہ شخص سماجی تنہائی کا شکار ہو سکتا ہےاور ساتھ ہی اسے خود اعتمادی کی کمی، ڈپریشن یا ذہنی پریشانی جیسے مسائل کا سامنا بھی ہو سکتا ہے۔ بدقسمتی سے عصرِ حاضر کے نام نہاد آزادی پسند معاشروں میں یہ رجحان تکلیف دہ حد تک رواج پا چکا ہے۔]

ایک خادم نے حضورِانور کی خدمتِ اقدس میں عرض کیا کہ امسال مجلس خدام الاحمدیہ امریکہ کا نیشنل اجتماع پہلی بار ’باغِ احمد‘ میں منعقد ہونے جا رہا ہے ۔ اس بارے میں راہنمائی کی درخواست ہے؟

اس پر حضورِانور نے زمین کے رقبے کے بارے میں دریافت فرمایا کہ کتنا حصّہ اجتماع کے لیے مختص ہے اور کتنا حصہ زرعی اراضی پر مشتمل ہے۔ حضورِانور نے توجہ دلائی کہ ایسے بڑے پیمانے کے اجتماعات کے سلسلے میں جماعت کے دیگر عملی تجربات سے فائدہ اُٹھانا چاہیے۔ نیز ہدایت فرمائی کہ وہ دیکھیں کہ مجلس خدام الاحمدیہ یوکے کس طرح زرعی زمین پر اجتماع کا انتظام کرتی ہے اور نیز حدیقۃ المہدی میں منعقد ہونے والے جلسہ سالانہ برطانیہ میں بھی شامل ہوں۔ ان اجتماعات کو دیکھنے سے انہیں عملی فہم حاصل ہوگا کہ باغِ احمد کو بہترین طور پر کس طرح استعمال کیا جا سکتا ہے۔

[قارئین کی معلومات کے لیے عرض ہے کہ محض خدا تعالیٰ کے خاص فضل و کرم اور حضورِ انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کی بابرکت راہنمائی میں، مجلس خدام الاحمدیہ امریکہ کو ’باغِ احمد‘ کے نام سے موسوم اسّی ایکڑ پر مشتمل ایک وسیع و عریض قطعۂ زمین خریدنے کی سعادت نصیب ہوئی ہے۔ یہ عظیم الشان کامیابی اس لحاظ سے بھی تاریخی اور منفرد ہے کہ دنیا بھر میں کسی بھی مجلس کی جانب سے خریدی جانے والی یہ اپنی نوعیت کی پہلی زمین ہے۔یہ مقام نہ صرف آئندہ جماعتی اور ذیلی تنظیموں کی تقریبات و اجتماعات کے حوالے سے ضروریات پوری کرنے کے لیے ایک سنگِ میل ثابت ہوگا بلکہ ترقی اور وسعت کے نئے امکانات کا بھی پیش خیمہ ثابت ہو گا۔ مزید برآں یہ جگہ فلاڈیلفیا انٹرنیشنل ایئرپورٹ سے محض تیس میل کے فاصلے پر واقع ہے اور انٹر سٹیٹ ۲۹۵ سمیت اہم شاہراہوں کے قریب ہونے کے باعث آمدورفت کے اعتبار سے نہایت موزوں اور سہل اور آسان رسائی رکھتی ہے۔]

ایک خادم نے حضورِانور سے دریافت کیا کہ وہ اپنی تعلیم اور جماعتی ذمہ داریوں کو کیسے balanceکر سکتا ہے؟

اس پر حضورِانور نے اظہارِ تبسم کرتے ہوئے استفہامیہ انداز میں دریافت فرمایا کہ کون سی جماعتی ذمہ داریاں اتنی آپ پر پڑ گئی ہیں ، اس وقت آپ کیا کام کر رہے ہیں، کیا آپ کا کوئی عہدہ ہے؟

خادم کے نفی میں جواب عرض کرنے پر حضورِانور نے فرمایا کہ تو جب کوئی تمہیں عہدیداربنائے گا تو پھر کام بھی آجائے گا۔حضورِ انورنےتلقین فرمائی کہ دعا کرو کہ اللہ تعالیٰ جب کام دے تو مجھے اس کو کرنے کی بھی توفیق دے، اس کے لیے دعا کیا کرو۔ پھرحضورِ انورنے اس بات پر زور دیا کہ آپ کا بنیادی مقصد ایجوکیشن ہے، پہلے اپنی ڈگری مکمل کرو اور اپنی پڑھائی پر توجہ دو۔ حضورِ انور نےاس خادم سےدریافت فرمایا کہ مستقبل میں تم کیا بننا چاہتے ہو؟اس پر خادم نے عرض کیا کہ مَیں ان شاء اللہ Cardiac Surgeon بننا چاہتا ہوں اور مَیں واقفِ نَو بھی ہوں۔

یہ سماعت فرما کر حضورِانور نے فرمایا کہ بڑی اچھی بات ہے۔میڈیسن کےلیے تو بڑی محنت کرنی پڑتی ہے۔ پڑھائی کرواور اس میں جو ویک اینڈ پر یاduring holidaysاضافی ٹائم ہوتا ہے وہ تم جماعت کےلیے دیتے رہو۔ اگر تمہارے سپرد کوئی سائق وغیرہ کا کام کرتے ہیں،تو پھر اس میں دیکھ لو کہ کس طرح تم نے اپنے وقت کو صحیح طرحdistributeکرنا ہے۔ ویک اینڈز پر تھوڑا سا وقت دینا ہے اور اتنے زیادہ لوگ تو ہوتے ہی نہیں، تمہارے تھوڑے سے تو خدام ہیں ، ان کو اطلاع دے دو۔

حضورِانور نے آخر میں اس تلقین کا اعادہ فرمایا کہ تمہارا اصل مقصد اپنی تعلیم مکمل کرنا ہونا چاہیے۔اور اس کے ساتھ ساتھ نمازیں بھی پڑھتے رہواور دینی علم بھی حاصل کرتے رہو۔ایک واقفِ نَو ہونے کے ناطے تم پر پانچ وقت کی نمازیں ادا کرنا فرض اور ذمہ داری ہے۔( باقی آئندہ ۔۔۔)

(بشکریہ الفضل 2 اکتوبر 2025ء)