اردو   हिंदी   বাংলা   ಕನ್ನಡ   മലയാളം   ଓଡ଼ିଆ   தமிழ்   తెలుగు  




.

2026-08-06

امیر المومنین حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایّدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کے ساتھ مختلف ممالک سے تعلق رکھنے والے احمدی ڈاکٹرز کے ایک وفد کی ملاقات

مجلس عرفان

(بقیہ از شمارہ نمبر (23-30)صفحہ نمبر 27

اگر strong nerves (مضبوط اعصاب) ہوں تو ذرا ذرا سی بات پر آدمی stress تو نہیں لیتا، اور جب stress ہوتا ہے تو اس کا پھر آگے دوسرا اَثر یہ ہوتا ہے کہ انسان depression میں چلا جاتا ہے۔ تو یہvicious circle ایک (شیطانی چکر) ہے، جو چلتا ہے اور یہ دنیا داروں میں بہت زیادہ چلتا ہے۔ اس لیے تو اللہ تعالیٰ نیک لوگوں کو سٹریس کم کرنے اور دل کے اطمینان کے لیے کہتا ہے کہ اَلَا بِذِکۡرِ اللّٰہِ تَطۡمَئِنُّ الۡقُلُوۡبُ یعنی دل کے اطمینان کے لیےاللہ کا ذکر کرو، اللہ کو یاد رکھو، ان چیزوں سے بچنے کی کوشش کرو تو ٹھیک ہے۔

مورخہ یکم؍فروری ۲۰۲۵ء کو امام جماعت احمدیہ حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایّدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کے ساتھ مختلف ممالک بشمول برطانیہ، امریکہ، آسٹریلیا، کینیڈا اَور جرمنی سے تعلق رکھنے والے ڈاکٹرز اور طبّی ماہرین کے تئیس (۲۳) رکنی وفد کوشرفِ ملاقات حاصل ہوا۔ یہ ملاقات اسلام آباد (ٹِلفورڈ) میں ہوئی۔

ایک شریک مجلس نے عرض کیا کہ کتاب (Invitation to Ahmadiyyat ) میں ایک حوالہ ہے کہ آخری زمانے میں اچانک موتوں کا نشان ظاہر ہوگا، اور اس میں دو وجوہات الکحل کا استعمال اور اضافی کام اور دباؤ کی وجہ سے اعصاب کی کمزوری بیان کی گئی ہیں۔ نیز دریافت کیا کہ اس بارے میں حضور انور کی کیا ہدایت ہے کہ ہم بحیثیت ڈاکٹرز، طبیب اور خدام اپنے اعصاب کو مضبوط بنانے کے لیے کس طرح کام کر سکتے ہیں؟

حضور ِانور نےاس پر الکحل کے حوالے سے ایک نئی ریسرچ کی روشنی میں بیان فرمایا کہ پہلے کہتے تھے کہ الکحل کا ایک گلاس روزانہ پی لیا کرو تو کچھ نہیں ہوتا۔ اب نئی ریسرچ چند ہفتے پہلے ہی آئی تھی اور اس میں لکھا تھا کہ ایک گلاس بھی نہیں پینا چاہیے کہ یہ بھی nerves (اعصاب) پر اثر ڈالتا ہے۔

حضور انور نے واضح فرمایا کہ خود ہی اپنی ریسرچ میںprove (ثابت) کر رہے ہیں کہ weakness of nerves (اعصاب کی کمزوری)تو ہو گئی، تو جس طرح جس طرح آگے بڑھ رہے ہیں، آخر میں ultimately ان کو کہنا پڑے گا کہ یہ چیزیں نقصان دہ ہیں اور اسی کی وجہ سے پھر stress (تناؤ) پیدا ہوتا ہے۔

حضور انور نے آخر پر توجہ دلائی کہ اگر strong nerves (مضبوط اعصاب) ہوں تو ذرا ذرا سی بات پر آدمی stress تو نہیں لیتا، اور جب stress ہوتا ہے تو اس کا پھر آگے دوسرا اَثر یہ ہوتا ہے کہ انسان depression میں چلا جاتا ہے۔تو یہvicious circle ایک (شیطانی چکر) ہے، جو چلتا ہے اور یہ دنیا داروں میں بہت زیادہ چلتا ہے۔ اس لیے تو اللہ تعالیٰ نیک لوگوں کو سٹریس کم کرنے اور دل کے اطمینان کے لیے کہتا ہے کہ اَلَا بِذِکۡرِ اللّٰہِ تَطۡمَئِنُّ الۡقُلُوۡبُ یعنی دل کے اطمینان کے لیےاللہ کا ذکر کرو، اللہ کو یاد رکھو، ان چیزوں سے بچنے کی کوشش کرو تو ٹھیک ہے۔

ایک خاتون شریکِ مجلس نے حضور انور کی خدمت میں عرض کیا کہ آج کل Xenotransplant (زینو ٹرانسپلانٹ) ، جس میں مختلف جانوروں کے اعضا ءانسانوں میں ٹرانسپلانٹ کیے جاتے ہیں، کی پھر ایک لہر آئی ہوئی ہے۔ اس بارے میں حضور انور کے کیا خیالات ہیں؟

حضور انورنے اس پر فرمایا کہ اگر انسانی زندگی بچانے کے لیے کی جاتی ہے تو بڑی اچھی بات ہے۔ لوگ کہتے ہیں کہ سؤر کا دل استعمال نہیں ہو سکتا، لیکن اس سے اگر واقعی کام ہوسکتا ہے، تو استعمال کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے۔اگر اس سے انسانی زندگی بچ سکتی ہے تو زندگی بچانے کے لیے ہر چیز جائز ہے۔ اگر سؤر کا گوشت کھانا جائز ہے تو یہاں جان بچانے کے لیے تو پھر جائز ہو ہی سکتا ہے۔یہاں وہی بات آ جاتی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ایک مثال دے کے ایک گائیڈ لائن (اصولی راہنمائی)دے دی ہے تو پھر اس کے اوپر چلیں۔ شیر کا دل لگا دیا کریں۔

ملاقات کے اختتام پرحضور انور نے الوداعی دعائیہ کلمات ادا کرتے ہوئے فرمایا کہ اچھا! پھر اللہ حافظ ہو۔

(بشکریہ الفضل 13 فروری 2025)