اردو   हिंदी   বাংলা   ಕನ್ನಡ   മലയാളം   ଓଡ଼ିଆ   தமிழ்   తెలుగు  




.

2026-07-02

امیر المومنین حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایّدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کے ساتھ اراکین نیشنل مجلس عاملہ و صدران لجنہ اما ء اللہ سوئٹزرلینڈ کی ملاقات

(بقیہ مجلس عرفان)
ایک لجنہ ممبر نے ابتدائی اسلامی عہد کی مسلم خواتین کی مثالیں پیش کرتے ہوئے دریافت کیا کہ احمدی مسلمان خواتین کیسے حجاب اور مناسب پردے کا خیال رکھتے ہوئے خدمتِ اسلام کے لیے آگے آ سکتی ہیں؟
حضورِ انور نے اس کے جواب میں واضح فرمایا کہ بعض ایکٹیوٹیز(سرگرمیاں) ایسی ہیں، جو جوائنٹ(مشترکہ) پروگرام ہوتے ہیں، تو ان میں ہم لجنہ کو اجازت دے دیتے ہیں کہ وہ اپنے مہمانوں کو لے آئیں، لیکن جب کھانے کا وقت آتا ہے ، کیونکہ تب منہ ننگا ہو جاتا ہے اور انسان زیادہrelaxہوا ہوتا ہے ، تو اس لیےمَیں نے کہا تھا کہ کھانے کے لیے عورتوں کی علیحدہ ڈائننگ کا انتظام ہونا چاہیے۔
حضورِ انور نے فرمایا کہ ہم یہاں بھی جب کھاناکرتے ہیں تو لوکل(مقامی) لوگوں کو کہتے ہیں کہ ہم کھانے کے لیے علیحدہ جا رہے ہیں، تم نے ہمارے ساتھ آنا ہے تو آ جاؤ تو وہ بھی preferکرتے ہیں کہ چلے جائیں۔
حضورِ انور نے توجہ دلائی کہ باقی رہ گئیں پرانی مثالیں تو اگر حضرت اُمّ عمّارہ رضی الله عنہا یا دیگر نے جنگوں میں حصّہ لیا تو ان کو کوئی پہچان تو نہیں سکتا تھا۔ اب وہ ایک جنگ کا ہی قصّہ ہے کہ ایک سوار، جس کے بھائی کوقید کر لیا گیاتھااوردشمن لے کے جا رہے تھے، گھوڑے پر سوار ہے اور دائیں بائیں تلوار چلا رہا ہے۔ جو اسلامی فوج کا کمانڈر تھا، وہ کہہ رہا تھا کہ پتا نہیں یہ کون ہے کہ جو اتنی بے جگری اور بڑی ہمت سے لڑ رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ تم کون ہو؟ وہ سوار خاموش رہا، آخر جب انہوں نے بہت پوچھا تو اس نے کہا کہ مَیں ایک عورت ہوں۔ اس کا مطلب ہے کہ وہ ڈھکی ہوئی تھی، پورے حجاب ، پورےپردے اور پورےلباس میں تھی کہ پہچانی نہیں گئی کہ عورت ہے کہ مرد ؟ تب وہ لڑ رہی تھیں، جنگ میں حصّہ لے رہی تھیںتو جو بھی جو ڈریس کوڈ یا پردہ تھا ، اس کی پوری پابندی کرکے حصّہ لیتی تھیں۔تو آپ بھی اس طرح سے خدمتِ دین میں حصّہ لے سکتی ہیں۔ ہاں! بعض جگہ غیروں کے ایسے پروگرام ہوتے ہیں، جہاں وہ مسلمانوں کو بھی invite (مدعو)کرتے ہیں کہ سٹیج پرآ کے ویمن رائٹ(حقوقِ نسواں) کے متعلق کوئی تقریر کرنی ہے۔ جرمنی میں، یہاں بھی اور بھی جگہ ایسا کرتے ہیں۔ تو ہم کہتے ہیں کہ ایک تو یہ ہے کہ بالکل ینگ(نوجوان) لڑکی نہ ہو، mature(بالغ)عورت ہو اور حیادار لباس کے اندر رہ کے پردے کا جو کوڈ ہے اس کے اندر رہتے ہوئے سٹیج پر جا کے تقریر کرو، وہ ایساکرتی ہیں اور اس کالوگوں پر اثر بھی ہوتا ہے۔ ابھی کل ہی کسی نے رپورٹ دی کہ ایک عورت بھی وہاں آئی ہوئی تھی ، جوویمن رائٹ (حقوقِ نسواں) کے حق میں اور مسلمانوں کے خلاف بولتی ہے، اس نے سٹیج پر ہماری لڑکی کی تقریر سنی، غیروں کا آرگنائزڈ(منعقدہ) فنکشن تھا، تو غیروں کے سامنے وہ آ کے پھر اس کو گلے ملی اور رونے لگی کہ پہلے مَیں مخالف تھی اور اب مَیں حق میں ہوں کیونکہ مجھے تم لوگوں کی تعلیم سمجھ آ گئی ہے کہ تم لوگ خود اپنی مرضی سے پردہ یا حجاب کرتے ہو ۔
حضورِ انور نے اس بات کی اہمیت پر روشنی ڈالی کہ اگر ہم یہ کہہ دیں کہ ہم بڑے oppressed یا suppressed (مظلوم یا دباؤ کا شکار)ہیں اور پتا نہیں کہ کیا کچھ ہمارے ساتھ ظلم و زیادتی ہو رہی ہے تو پھر تو اگلا سوال اُٹھائے گا ۔اگر تم لوگ کہو کہ ہم خوشی سے پردہ کرتے ہیں ، ہمارے dress code (لباس کے قواعد و ضوابط) ہیں، ہماری حیا ہے، یہ یہ ہمارے پروٹوکول ہیں تو اس کے اندر رہتے ہوئے ہم پردہ کرتے ہیں اور اپنی خوشی سے کرتے ہیں تو پھر ان کو سمجھ آجاتی ہے۔
حضورِ انور نے فرمایا کہ تو کئی مثالیں میرے سامنے ہر روز آ جاتی ہیں، تو اس لیے منع نہیں ہے،mature (بالغ) عورتیں جا کے سٹیج پر بولتی ہیں ۔ جرمنی میں بھی بول رہی ہیں، یہاں بھی بولتی ہیں۔
آخر میں حضورِ انور نے حیا اور مکمل پردے کے ساتھ خدمتِ اسلام کے مواقع کی بابت راہنمائی کرتے ہوئے نصیحت فرمائی کہ جو پرانی مثال آپ دے رہی ہیں تو وہ بھی پوری حیا کے ساتھ بولتی تھیں۔ تو اس لیے کس نے کہا ہے کہ آپ کو opportunity نہیں ملتی، جہاں موقع میسر ہو تو صدر لجنہ کو انفارم کر کے اور اگر یہاں سے اجازت لینی ہے تو لے کے آپ سٹیج پر جا سکتی ہیں ۔ اب چند ایک عورتوں کو مَیں نےجرمنی میں مقرر کر دیا ہوا ہے کہ جایا کریں، mature ہیں، مجھے پتا ہے کہ ان کو علم بھی ہے اور سٹیج پر جا کے جماعت کا موقف اچھا پیش کر سکتی ہیں۔ یو کے میں ہیں ، وہ کر سکتی ہیں، امریکہ میں ہیں ، وہ کر دیتی ہیں تو اس طرح اَور ملکوں میں بھی آپ لوگ بھی اگر ایسی ہیں تو کر سکتی ہیں، کس نے روکا ہے؟ لیکن اجازت لینی پڑے گی۔ ایک وعدہ دینا پڑے گا کہ ہم اپنے پورے ڈریس کوڈ اور مکمل حیادار لباس کے اندر رہتے ہوئے اپنا کام کریں گی۔
ایک لجنہ ممبر نے استفسار کیا کہ جماعتی پروگراموں میں جہاں مرد اور عورتیں الگ الگ بیٹھے ہوتے ہیں ، مسجد میں اگر سیرت النبی صلی الله علیہ وسلم وغیرہ کا جلسہ ہو تو کیا لجنہ اپنی طرف سے تقریر کر سکتی ہے کہ جو مرد اپنی طرف سن سکیں؟
حضورِ انور نے اس پر راہنمائی فرمائی کہ جلسہ مردوں کا ہو رہا ہے، اس لیے عورتوں کواجازت دی ہوئی ہے کہ عورتیں اپنا جلسہ علیحدہ کریں۔ جیسا کہ سیرت النبی صلی الله علیہ وسلم کے جلسہ میں آپ نے اپنے عورتوں کے حقوق کے مطابق باتیں کرنی ہیں، تو سیرت میں جو عورتوں کے حقوق کے پہلو ہیں، وہ بتائیں۔
حضورِ انور نے تاکید فرمائی کہ اس لیے خیال رکھو کہ اپنے پروگرام رکھو ، اپنےفنکشن رکھو، اپنی تربیت کرو اور جو سنو اور سیکھو، وہی اپنے مردوں کو بھی جا کےبتا ؤ ۔
آخر میں حضورِ انور نےواضح فرمایا کہ باقی خلیفۂ وقت کی باتیں عورتوں کی تقریروں میں جو ہو رہی ہوتی ہیں ، وہ مردوں کو بھی پہنچ جاتی ہیں ، جو نصائح عورتوں کو کر رہے ہوتے ہیں تو وہ مردوں کو بھی ساتھ ساتھ کہہ رہے ہوتے ہیں کہ اپنی اصلاح کرو۔ اگر اصلاح کرنی ہے تووہ اصلاح کے لیے کافی ہوتا ہے ۔
حضورِ انور کی خدمتِ اقدس میں پیش کیا جانے والا اگلا سوال یہ تھا کہ اگر والدین کی رضامندی نہ ہو یا خاوند اجازت نہ دے تو کیا تب بھی وصیّت کر سکتے ہیں؟
حضورِ انور نے اس پر راہنمائی فرمائی کہ اگر تو سٹوڈنٹ ہے ، والدین سے پاکٹ منی (جیب خرچ)مل رہی ہے اور اس کے اوپر ہی وصیّت کرنی ہے تو اپنی مرضی سے کر سکتے ہیں۔ لیکن اگر بیوی ہے اور خاوند کچھ بھی نہیں دے رہا اور اس کی اپنی انکم(آمد) نہیں ہے تو پھر خاوند کی مرضی شامل کر لینی چاہیے۔
حضورِ انور نے وضاحت فرمائی کہ اگر خود کما رہی ہے تو پھر خاوند کو کہہ سکتی ہے کہ میری اپنی کمائی ہے اور میں تم سے کچھ نہیں لے رہی تو اپنی کمائی کے اوپر وصیّت کرتی ہوں۔ اگر اس کیٹگری میں آ جاتی ہے کہ جس میں اس کی وصیّت منظور ہو، تو کر سکتی ہے۔حضورِ انور نے بایں ہمہ اس امر کی جانب بھی توجہ مبذول کرائی کہ لیکن گھر کے جھگڑوں کوavoidکرنے کے لیے بہتر ہے کہ پہلے خاوند کو confidence (اعتماد) میں لے لو ، ضرور لڑنا ہے؟ پہلے ہی لڑائیاں کم ہو رہی ہیں جو مزید اضافہ کرنا ہے۔روز کوئی نہ کوئی خلع یا طلاق کا کیس آیا ہوتا ہے۔
حضورِ انور نے آخر میں اپنی اوّل الذکر فرمودہ نصیحت کا اعادہ فرمایا کہ اس لیے بہتر یہ ہے کہ گھر کے ماحول کو صاف اور پُرامن رکھو اور خاوند کو کانفیڈنس میں لے کے تو پھر وصیّت کرو۔ کہو کہ مَیں تمہارے سے کچھ نہیں لیتی، اپنی کمائی میں سے دے رہی ہوں، تمہیں اس سے کیا؟
ایک لجنہ ممبر نے اس سلسلہ میں راہنمائی طلب کی کہ کچھ والدین دوسرے ممالک کے مربیان سے آن لائن کلاس میں بچوں کو قرآنِ شریف پڑھواتے ہیں اور اس کے لیے فیس ادا کی جاتی ہے ، کیا جماعت کی طرف سے اس کی اجازت ہے؟
اس پر حضورِ انور نے توجہ دلائی کہ قرآنِ شریف پڑھانے والوں کو پڑھانے کے لیے فیس تو نہیں لینی چاہیے۔ وہ تو مَیں کئی دفعہ پہلے منع بھی کر چکا ہوں۔ جو لیتے ہیں ، اس کی رپورٹ کریں۔حضورِ انور نے و ضاحت فرمائی کہ باقی!اگر لوگ کسی سے اچھی قراءت ، تلفظ یا ترتیل وغیرہ سیکھنے کے لیے بچوں کو پڑھواتے ہیں تو ان کی اپنی مرضی ہے اور وہ ایسا کر سکتے ہیں۔ لیکن جہاں تک پیسے لینے کا سوال ہے تووہ غلط طریقہ ہے۔ ان سے ان کو معاوضہ نہیں لینا چاہیے، سوائے جس کو جماعت نے مقرر کیا ہو۔
اس پر سائل نے مزید استفسار کیاکہ اگر والدین کچھ خوشی سے دیں تو کیا اس کی اجازت ہے؟ جس پر حضورِ انور نے ہدایت فرمائی کہ اگر کوئی خوشی سے تحفے کے طور پر دینا چاہتا ہے، تو دے دیں، لیکن پہلے مقرر نہ کریں۔
ایک لجنہ ممبر نے ذکر کیا کہ ابھی آپ نے شعبہ تربیت کے حوالے سےفرمایا تھا کہ بچیوں سے مشورے کرنے کے بعد پروگرام بنائیں تاکہ ان کا تعلق مضبوط ہو ، وہ ان میں شامل ہوں اور ان کو دلچسپی بھی ہو۔ نیز عرض کیا کہ ہم نے اس پر بہت کام اور کوشش بھی کی ہے، لیکن ہماری presence (حاضری) اس طرح سے ہونہیں پاتی۔
حضورِ انور نے اس پر توجہ دلائی کہ بچیوں سےذاتی تعلق پیدا کریں۔ ان کا اجلاس جہاں ہوتا ہے، وہاں کوئی ایکٹیوٹیز(سرگرمیاں) ایسی بنائیں، جن میں ان کو دلچسپی ہو۔ اگر لڑکیاں پڑھی لکھی ہیں توپڑھے لکھے لوگوں کے لیے کسی ٹاپک پر کوئی سیمینار کریں اور بُک کلب بنائیں، یہاں بھی لجنہ نے بنایا ہوا ہے، ڈسکشن پروگرام بنائیں، Contemporary Issues (عصرِ حاضر کے مسائل)پر مبنی پروگرام بنائیں۔ اور دوسروں کے لیے کوئی ایسے پروگرام ، جیسا کہ کوئی چھوٹا موٹا مینا بازار ٹائپ چیز یا کچھ ایسی چیزیں کریں ، جس پر وہ آجائیں، ساتھ چھوٹا سا اجلاس بھی اور نصیحت بھی ہو جائے۔
حضورِ انور نے اس بات پر زور دیا کہ تو یہ تو دیکھ لیں کہ آپ کس قسم کے پروگرام بنا سکتی ہیں، جس میںattraction (کشش)پیدا کر سکتی ہیں۔ آہستہ آہستہ قریب لائیں تو پھر ان کوعادت پڑ جائے گی۔
حضورِ انور نےمسلسل کوشش کی اہمیت کو اُجاگر کرتے ہوئے مایوسی سے بچنے کی تلقین فرمائی کہ یہ تو آپ نے خود حالات کے مطابق سوچنا اور exploreکرنا ہوتا ہے، پھر frustrate (مایوس) ہونے کی کوئی ضرورت نہیں، کوشش کرتے جانا ہے، ہمارا کام کوشش کرنا ہے۔ اللہ میاں نے کہیں نہیں کہا کہ تم ایک جگہ اگر کامیاب نہیں ہوتے تو بیٹھ جاؤ۔ تربیت کے لیے بھی اور تبلیغ کے لیے بھی ہمارا کام کوشش کرنا اورکرتے چلے جانا ہے۔آسان رستے نہ ڈھونڈیں، مشکل راستے پرچلنا ، یہی اصل کام ہے۔
حضورِ انور نے اس عمومی رجحان کی بھی تردید فرمائی کہ لوگ کہہ دیتے ہیں کہ اب اس طرح کا پروگرام نہ رکھیں کہ جس میں حاضری کم ہوتی ہے۔اسی طرح ہدایت فرمائی کہ ان سے کہو کہ ہم تو پروگرام رکھیں گے، ہم نے حاضری بڑھانی ہے ، آپ لوگ آیا کریں ۔ اللہ تعالیٰ نے یہ کب کہا ہے کہ جہاں جماعت میں پچاس آدمی رہتے
ہیں اور پانچ باجماعت نماز پڑھنے آتے ہیں، اس لیے وہاں نمازیں پڑھنی بند کر دو، پھر کہو گے کہ مسجدیں بند کر دو۔ ہمارے ہاں تو بعض جگہ مسجدوں میں ظہر اورعصر پر دو سے تین آدمی ہوتے ہیں، تو کیا اس وقت نماز پڑھنی چھوڑ دیں؟ یہ تو کوئی دلیل نہیں ہے۔
ملاقات کے اختتام پر صدر صاحبہ لجنہ اما ءالله نے حضورِ انور کی خدمت میں شعبہ رشتہ ناطہ کو درپیش مشکلات کے حوالے سے راہنمائی کی درخواست کی۔
اس پر حضورِانور نے فرمایا کہ کام کریں گے، تو مشکلات ہوں گی۔یہ کہنا کہ ہمیں ہر روز حلوہ پُوری پکی پکائی مل جایا کرے، یہ نہیں ملے گی۔کام کرنا ہے، محنت کرنی پڑے گی اور حلوہ پکانے کے لیے گیہوں اُگانے سے لے کے حلوہ پکانے تک سارے پروسیس میں سے گزرنا پڑے گا۔
حضورِ انور نے اس بات پر روشنی ڈالی کہ پانچ سے دس فیصد ایسے لوگ ہوتے ہیں کہ بعض دفعہ اچھے گھروں میں رشتے ہوتے اورٹوٹ جاتے ہیں کہ یہ رشتہ competent (موزوں)نہیں، ہمیں پہلے پتا نہیں لگا تھا۔ تومَیں ان کو یہی کہا کرتا ہوں کہ پہلے تم لوگوں کو کچھ پتا نہیں لگتا، سوچ سمجھ کے اور دعا کر کے فیصلہ کرنا چاہیے۔
خود احتسابی اور اپنی کمزوریوں کا ادراک حاصل کرنے کی جانب توجہ دلاتے ہوئے حضورِ انور نے واضح فرمایا کہ باقی! پرفیکٹ تو کوئی بھی نہیں ہوتا۔ اس لیے پہلے ہی دیکھ لینا چاہیےکہ دونوں اطراف کمزوریاں بھی ہوتی ہیں اور ان کمزوریوں کے ساتھ ہی گزارہ کرنا پڑتا ہے ۔ باقی ان سے کہو کہ اگر تم لوگوں کو لڑکی میں یہ کمزوری نظر آرہی ہے یا لڑکی والوں کو لڑکے میں یہ کمزوری نظر آرہی ہے تو کیا تمہارے اندر یہ نہیں ہے؟ کمزوریاں تمہارے اندر بھی ہیں، اپنی حالت کو دیکھو، اگر اپنا جائزہ لینے کی عادت پڑ جائے تو پھر لوگوں کے عیب نظر نہیں آتے۔
اختتام پر حضورِ انور نے اس امر پر زور دیا کہ اصل میں بات یہ ہے کہ ہم اپنے آپ کو بڑا پرفیکٹ سمجھتے ہیں حالانکہ ہمارے اندر بہت سی کمزوریاں ہوتی ہیں۔ تربیت یہ ہے کہ یہ بھی روح پیدا کریں کہ اپنے حال کی بھی خبر رکھو۔ اس دنیا میں کوئی انسان بھی پرفیکٹ نہیں ہوتا ، انسانِ کامل ایک ہی پیدا ہوا اَور وہ آنحضرت صلی الله علیہ وسلم ہیں، باقی سب میں کمزوریاں ہیں ۔ اس لیے ایک دوسرے کی کمزوریوں کو نظر انداز کرو۔
آخر پرحضور انور نے الوداعی دعائیہ کلمات ادا کرتے ہوئے فرمایا کہ چلو، پھر اللہ حافظ! اور یوں یہ ملاقات بفضلہ تعالیٰ بخیر و خوبی انجام پذیر ہوئی۔
(بشکریہ الفضل انٹرنیشنل 6 فروری 2025ء)