.
2026-06-11
ورچول ملاقات
بقیہ ملاقات از شمارہ نمبر 4 جون 2026ء
حضورِانور نے ایک لطیفہ بھی بیان فرمایا کہ ہمارے ہاں ایک بزرگ ہوا کرتے تھے، وہ بڑی اثر و رسوخ والی سرگودھا کی نون فیملی تھی، جو politics(سیاست) میں بھی آئی اور بڑے landlord(جاگیردار) تھے۔ ان کے ایک بزرگ خلیفہ ثانی رضی الله کے زمانے میں احمدی ہو گئے، ان کی اولاد نہیں تھی، بڑھاپے میں جا کے ان کے ہاں ایک بیٹا پیدا ہوا۔ حضرت خلیفہ ثانی رضی الله عنہ کی دعا سے کہتےتھے کہ بیٹا پیدا ہوا، اس لیے اس کو ربوہ میں وہ لے آئے، شروع شروع کی بات ہے، ربوہ میں ابھی سڑکیں بھی نہیں بنی تھیں، کہیں کہیں گھر تھے اور وہاں سکول میں اس کو داخل کروا دیا۔ امیر لوگ تھے، ان کو مائیکرو بس لے کے دی ہوئی تھی کہ وہ گھر سے کار پر آیا کرتا تھا، جبکہ ربوہ میں باقیوں کے پاس ٹوٹا ہوا سائیکل بھی نہیں ہوتا تھا، سارے غریب لوگ تھے، سارے شہر میں ایک یا دو، تین کاریں تھیں۔ تو بہرحال ان کی یہ خواہش تھی کہ لڑکاکچھ پڑھ جائے اور کسی قابل بن جائے، بڑھاپے میں پیدا ہو اہے اور نیک ہو۔ میرے خاندان کے لوگوں کی طرح پولیٹکس یا برائیوں میں نہ چلا جائے۔ تو اس کو وہ ہمیشہ کہتے کہ نماز پڑھو اور جب تک ان کی زندگی رہی، مسجد مبارک بھی لے کرآیا کرتے تھے، جلد ہی فوت ہو گئے تھے اور ان کی بیوی بھی فوت ہو گئی تھیں۔ یہ بزرگ اور ان کا بیٹا، گھر بڑا تھا، لیکن اس کے باوجود دونوں ایک کمرے میں ہی سوتے تھے۔ ایک دن ان کا بیٹا نمازیں پڑھ پڑھ کے تنگ آیا ہوا تھا کہ ابّا جی روز کہتے ہیں کہ نمازیں پڑھو، نمازیں پڑھو، کیامشکل ہے؟
[قارئین کی معلومات کے لیے تحریر کیا جاتا ہے کہ ربوہ سے قریبا پینتالیس کلومیٹر کے فاصلے پر موجود سرگودھا پاکستان کے صوبہ پنجاب کا ایک مشہور زرعی اور تاریخی شہر ہے، جو اپنے اعلیٰ معیار کے کینو کی پیداوار کے لیے عالمی شہرت رکھتا ہے۔ یہ وسطی پنجاب میں واقع ہے اور اہم تعلیمی، دفاعی اور تجارتی مرکز ہے۔ یہاں یونیورسٹی آف سرگودھا سمیت کئی تعلیمی ادارے موجود ہیں، جبکہ پاکستان ایئرفورس کی اہم ’مصحف ایئر بیس‘ بھی اسی شہر میں واقع ہے۔ سرگودھا کے لوگ اپنی مہمان نوازی کے لیے مشہور ہیں اور یہ شہر اپنی زرخیز زمین اور قدرتی حسن کی وجہ سے منفرد مقام رکھتا ہے۔]
حضورِانور نے اس دوران حاضرینِ مجلس کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا کہ تم بھی بعض دفعہ کہتے ہو کہ کیا مشکل ہے کہ نمازیں پڑھو، قائد صاحب کہہ دیتے ہیں کہ نمازیں پڑھو، صدر صاحب، ابّا امّاں کہہ دیتے ہیں کہ نمازیں پڑھو۔
پھر اصل واقعہ کو جاری رکھتے ہوئے حضورِانور نے مسکراتے ہوئےفرمایا کہ خیر وہ بھی اسی طرح تھا، تو ایک دن وہ صبح اُٹھ کے کہنے لگا کہ ابّا جی مجھے رات خواب آئی ہے، حضرت مصلح موعودؓ خواب میں آئے، انہوں نے کہا ہے کہ بیٹے تم نمازیں نہ پڑھا کرو۔ تواس کے ابّا بڑے ہوشیار تھے، انہوں نے کہا کہ دیکھو ! ہم یہاں کمرے میں رہتے ہیں، میرا بیڈ دروازے کے قریب ہے اور تمہارا بیڈ دروازے کے پرلی طرف دیوار کے ساتھ دوسری طرف ہے۔ تو مصلح موعودؓ جو دروازے سے گزر کے میری چارپائی کو جمپ(پھلانگ) کر کے تمہارے پاس یہ کہنے کے لیے گئےکہ نمازیں نہ پڑھا کرو تومجھے کیوں نہ کہہ دیا۔ مجھے بھی کہہ سکتے تھے کہ نمازیں نہ پڑھا کرو، میری بھی چھٹی ہو جاتی۔ تم جھوٹی خوابیں نہ بناؤ۔ تو اس طرح بھی لوگ بعض خوابیں بنا لیتے ہیں۔یہ لطیفہ سننے کےدوران تمام شاملینِ مجلس کھل کر مسکراتے رہے اور خوب لطف اندوز ہوئے۔
حضورِانور نے متنبّہ فرمایا کہ اس لیے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ جھوٹی خوابیں نہیں گھڑنی چاہئیں اور خاص طور پر جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں منسوب کر کے کوئی جھوٹی خواب بناتا ہے تو وہ اپنے اوپر لعنت لیتا ہے۔
حضورِانور نے بایں ہمہ خوابوں کی حقیقت جاننے کے لیے حضرت مسیح موعودؑ کی معرکہ آرا تصنیف حقیقة الوحی کے ابتدائی صفحات پڑھنے کی تحریک کرتے ہوئے فرمایا کہ اس لیے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی کتاب حقیقة الوحی کتاب کے پہلے پچاس، ساٹھ صفحے پڑھو۔ میرا خیال ہے کہ اگر وہ انگلش میں translation ہو گئی ہے تو اس میں خواب کیا ہوتی ہے اور خوابوں کی حقیقت کیا ہوتی ہے، وہ ساری باتیں پتا لگ جاتی ہیں۔ تم بڑے ہو، اب تم کالج، یونیورسٹی میں جانے والے ہو، وہ پڑھو، تمہارا اِتنانالج (knowledge) ہونا چاہیے۔
مزید برآں حضورِانور نے اپنی اوّل الذکر نصیحت کا اعادہ فرمایا کہ پہلے شروع کےپچاس، ساٹھ صفحات پڑھ لو تو ٹھیک ہو جائے گا اورتمہیں پتا لگ جائے گا کہ خوابوں کا concept کیا ہے، کیا سچی خواب ہے اورکیا جھوٹی خواب ہے۔
ایک خادم نے حضورِانور سے دریافت کیا کہ ۲۰۰۵ء میں جب آپ قادیان تشریف لے گئے اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی قبر ِمبارک پر دعا کی تو اس وقت آپ کے کیا جذبات تھے؟
حضورِانور نے اس سوال کا جواب دیتے ہوئے بیان فرمایا کہ جو جذبات ہر احمدی کے ہوتے ہیں، جذبات یہی تھے کہ ہم آئے ہیں تو دعا کریں۔ جب مَیں پہلی دفعہ۱۹۹۱ء میں گیا ہوں، جو اس وقت حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی قبر پر جاکے جذبات تھے، وہی جذبات ۲۰۰۵ءمیں بھی تھے اور یہی دعا تھی کہ اللہ تعالیٰ جہاں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے درجات بلند کرے، وہاں آپؑ کی بنائی ہوئی جماعت کو ترقی بھی دے اور ہم صحیح طرح کام کرنے والے ہوں۔ تو جذبات کا اظہار تو انسان دعاؤں میں کرتا ہے، ہر ایک کی اپنی feelingہوتی ہے، بعض باتیں ایسی ہوتی ہیں، جو بیان نہیں کی جا سکتیں، لیکن جذبات میں ہوتی ہیں اور اب تو ویسے بھی اس کو بیس سال گزرنے والے ہیں۔
ملاقات کے اختتام پر تمام حاضرینِ مجلس کو از راہِ شفقت حضورِانور کے ہمراہ گروپ تصویر بنوانے اور بطورِ تبرک قلم حاصل کرنے کی سعادت بھی حاصل ہوئی۔ آخر پرحضور انور نے الوداعی دعائیہ کلمات ادا کرتے ہوئے فرمایا کہ چلو، پھر اللہ حافظ!
(بشکریہ الفضل انٹرنیشنل 30 جنوری 2026ء)
ززز