پیارے احبابِ جماعت احمدیہ امریکہ
السلام علیکم و رحمۃ اللہ وبرکاتہ
مجھے اس بات کی بہت خوشی ہے کہ آپ اپنا جلسہ سالانہ مورخہ ۳، ۴ اور ۵ جولائی ۲۰۲۶ء کو منعقد کر رہے ہیں۔ میری دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ آپ کے جلسہ کو عظیم الشان کامیابی سے نوازے اور اس منفرد اجتماع میں شامل ہونے والے تمام احباب بے شمار روحانی فوائد اور برکات حاصل کرنے والے ہوں۔
آپ کو یہ بات پیش نظر رکھنی چاہئے کہ جلسے میں شمولیت کا اصل مقصد یہ ہے کہ ہم اللہ تعالیٰ کا قرب حاصل کریں۔ دینی علم اور معرفت میں ترقی کریں۔ اپنی زندگیوں میں پاک تبدیلیاں پیدا کریں اور انہیں اپنی ذات کا حصہ بنائیں۔ اس عارضی دنیا کی خواہشات اور لغویات سے اپنے آپ کو بچائیں۔ تمام انسانوں کے ساتھ محبت، شفقت اور اخوت کے تعلق کو بڑھائیں۔ اپنی تمام تر استعدادوں اور صلاحیتوں کے ساتھ ان پاکیزہ مقاصد کے حصول کی کوشش کریں اور ساتھ یہ عہد بھی کریں کہ ہم اسلام کا پیغام دنیا بھر میں پھیلائیں گے۔
اس ضمن میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام فرماتے ہیں: ’’اس جلسہ کے اغراض میں سے بڑی غرض تو یہ ہے کہ تا ہر ایک مخلص کو بالمواجہ دینی فائدہ اٹھانے کا موقع ملے اور ان کے معلومات وسیع ہوں اور خدا تعالیٰ کے فضل و توفیق سے ان کی معرفت ترقی پذیر ہو۔ پھر اس کے ضمن میں یہ بھی فوائد ہیں کہ اس ملاقات سے تمام بھائیوں کا تعارف بڑھے گا اور اس جماعت کے تعلقات اخوت استحکام پذیر ہوں گے…‘‘ (اشتہار ۷؍دسمبر ۱۸۹۲ء، مجموعہ اشتہارات جلد ۱ صفحہ ۳۶۰، ایڈیشن ۲۰۱۹ء)
یہ جلسہ آپ کے تقویٰ کے معیار کو بلند کرنے کا موجب بننا چاہیے، یعنی آپ کے دلوں میں حقیقی خوفِ خدا پیدا ہو۔ درحقیقت آپ کا واحد مقصد اپنے خالق، اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل کرنا ہونا چاہیے۔ اگر ایسا نہیں تو جلسہ میں آنا بے مقصد اور بے فائدہ ہو گا۔
حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے ہمیں یہ ذمہ داری سونپی ہے کہ ہم اسلام کی صداقت اور اس کے پُرامن پیغام کو تمام دنیا میں پھیلائیں۔ افسوس کہ تبلیغ کی طرف وہ توجہ نہیں دی گئی جو دی جانی چاہیے تھی اور آپ نے اپنے ملک کے لوگوں تک اسلام اور احمدیت کا تعارف اس حد تک نہیں پہنچایا جس حد تک اب تک پہنچ جانا چاہیے تھا۔ اگر ہر احمدی اپنی ذمہ داریوں کو سنجیدگی سے لے اور تبلیغ کی ذمہ داری کی اہمیت کو سمجھے تو جماعت کا پیغام ملکی آبادی کے ایک بہت بڑے حصہ تک پہنچایا جا سکتا ہے اور اسلام کی حقیقی تصویر، نیز اس کے امن، خیر خواہی اور اعلیٰ عقائد و تعلیمات سب کے سامنے پیش کیے جا سکتے ہیں تاکہ وہ انہیں دیکھیں اور ان کی قدر کریں۔
پس لوگ قبول کریں یا نہ کریں، ہمیں اپنے اس عزم میں کبھی کمزوری نہیں دکھانی چاہیے کہ اسلام کا حقیقی پیغام دنیا کے ہر ملک کے ہر فرد تک پہنچے۔ یہی وہ عظیم کام ہے جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے ہمارے سپرد فرمایا ہے۔ اللہ تعالیٰ آپ کو اس نیک کام میں ہر لحاظ سے کامیابی عطا فرمائے۔
مزید برآں، اس زمانہ میں اللہ تعالیٰ نے ہمیں خلافت احمدیہ کی نعمت سے نوازا ہے۔ پس ہر احمدی کو اس بات پر پوری توجہ اور عزم کے ساتھ قائم رہنا چاہیے کہ وہ خلافت کا جانثار، وفادار اور اطاعت گزار رہے اور خلیفۂ وقت کے ساتھ اپنے محبت و اخلاص کے تعلق کو مسلسل بڑھاتا چلا جائے۔ اس ضمن میں ، میں آپ کو دسویں شرطِ بیعت کی طرف توجہ دلاتا ہوں، جس میں فرمایا گیا ہے: ’’یہ کہ اس عاجز سے عقد اخوت محض للہ باقرار طاعت در معروف باندھ کر اس پر تاوقت مرگ قائم رہے گا اور اس عقد اخوت میں ایسا اعلیٰ درجہ کا ہو گا کہ اس کی نظیر دنیوی رشتوں اور تعلقوں اور تمام خادمانہ حالتوں میں پائی نہ جاتی ہو۔‘‘
پس یاد رکھیں کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے ساتھ وابستگی کا جو عہد ہم نے کیا ہے، وہی عہد اسی اخلاص، وفاداری اور وابستگی کے ساتھ خلیفۂ وقت سے ہمارے تعلق میں بھی جاری رہنا چاہیے۔ یاد رکھیں کہ کامل اطاعت اور فدائیت کا یہ عہد جو ہر دنیاوی رشتے اور تعلق سے بڑھ کر ہے اور جس کا حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے اپنی جماعت کے افراد سے تقاضا فرمایا، خلافت کے ساتھ ہماری وابستگی کے بارے میں بھی اسی طرح اور اسی صورت میں جاری ہے۔ اس لیے کہ خلافت احمدیہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی روحانی جانشین ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ خلافت سے ہماری وفاداری ہی نظام جماعت کی منفرد اور امتیازی خصوصیت ہے اور اس کی خوبصورتی یہ ہے کہ یہ جماعت کے افراد کو کامل وحدت میں پرو دیتی ہے۔ یہی دراصل ہماری مسلسل ترقی کی کنجی ہے اور یہی وہ ذریعہ ہے جس سے ہم اپنی جماعت کی دائمی کامیابیوں کا مشاہدہ کرتے رہیں گے۔
علاوہ ازیں، میں آپ سب کو نصیحت کرتا ہوں کہ اپنے درمیان محبت، ہم آہنگی اور اخوت کی فضا پیدا کریں۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام فرماتے ہیں: ’’آپس میں اخوت اورمحبت کو پیدا کرو اور درندگی اور اختلاف کو چھوڑ دو۔ ہر ایک قسم کے ہزل اور تمسخر سے مطلقاً کنارہ کش ہو جاؤ کیونکہ تمسخر انسان کے دل کو صداقت سے دور کر کے کہیں کا کہیں پہنچا دیتاہے۔ آپس میں ایک دوسرے کے ساتھ عزت سے پیش آؤ۔ ہر ایک اپنے آرام پر اپنے بھائی کے آرام کو ترجیح دیوے۔ اللہ تعالیٰ سے ایک سچی صلح پیدا کرلو اور اس کی اطاعت میں واپس آجاؤ… ہر ایک آپس کے جھگڑے اور جوش اور عداوت کو درمیان میں سے اٹھا دو کہ اب وہ وقت ہے کہ تم ادنیٰ باتوں سے اعراض کر کے اہم اور عظیم الشان کاموں میں مصروف ہو جاؤ۔‘‘ (ملفوظات، جلد اوّل، صفحات ۲۶۶ تا ۲۶۸)
آخر پر میں آپ سب سے کہتا ہوں کہ اب وقت ہے کہ آپ آگے بڑھیں اور کامل عزم اور پختہ ارادہ کے ساتھ یہ عہد کریں کہ آپ ہمیشہ وہ تمام پاک تبدیلیاں پیدا کرنے کی کوشش کریں گے جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے ساتھ کیے گئے اپنے عہدِبیعت کی شرائط کو پورا کرنے کے لیے ضروری ہیں۔ اللہ تعالیٰ ہمیں اس قابل بنائے کہ ہم آپ علیہ السلام کی بیعت کی ہر شرط پر مضبوطی سے قائم رہیں۔ اگر ہم ایسا کریں گے تو ان شاء اللہ ہم دوسروں تک اسلام پہنچانے کا ذریعہ بنیں گے اور اپنے ہم وطنوں اور دنیا بھر کے لوگوں کو حقیقی اسلام کے سایہ تلے لانے والے ہوں گے۔ اللہ تعالیٰ آپ کو ان نصائح پر بہترین رنگ میں عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے اور آپ کی مخلصانہ کوششوں میں برکت ڈالے۔ اللہ تعالیٰ آپ سب پر اپنا فضل فرمائے۔
(بشکریہ الفضل 10؍ستمبر2026)